أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ كَهْمَسٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ لِمَنْ شَاءَ .
It was narrated that 'Abdullah bin Mughaffal said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Between each two Adhans [1] there is a prayer, between each two Adhans there is a prayer, between each two Adhans there is a prayer, for whoever wants to do it. [1]Meaning, between the Adhan and Iqamah.
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر دو اذان ۱؎ کے درمیان ایک نماز ہے، ہر دو اذان کے درمیان ایک نماز ہے، ہر دو اذان کے درمیان ایک نماز ہے، جو چاہے اس کے لیے ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان ۱۴ (۶۲۴)، ۱۶ (۶۲۷)، صحیح مسلم/المسافرین ۵۶ (۸۳۸)، سنن ابی داود/الصلاة ۳۰۰ (۱۲۸۳)، سنن الترمذی/الصلاة ۲۲ (۱۸۵) مختصراً، سنن ابن ماجہ/إقامة ۱۱۰ (۱۱۶۲)، (تحفة الأشراف: ۹۶۵۸)، مسند احمد ۴/۸۶ و ۵/۵۴، ۵۵، ۵۷، سنن الدارمی/الصلاة ۱۴۵ (۱۴۸۰) (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: ہر دو اذان سے مراد اذان اور اقامت ہے جیسا کہ مؤلف نے ترجمۃ الباب میں اشارہ کیا ہے، اس حدیث سے مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھنے کا استحباب ثابت ہو رہا ہے، جس کے لیے دوسرے دلائل موجود ہیں «واللہ أعلم»۔
682
Sahih