CHAPTER: What A Person Should Say In His Ruku’ And Prostration. - باب: آدمی رکوع اور سجدے میں کیا کہے ؟ - Prayer (kitab al-salat) - Sunnan Abu Dawood with Urdu and English Translation
Chapter 142 of Prayer (kitab al-salat) in Sunnan Abu Dawood. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
Narrated Uqbah ibn Amir: When Glorify the name of your mighty Lord was revealed, the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Use it when bowing, and when Glorify the name of your most high Lord was revealed, he said: Use it when prostrating yourself.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب آیت کریمہ: «فسبح باسم ربك العظيم» اپنے بہت بڑے رب کے نام کی تسبیح کیا کرو ( سورۃ الواقعۃ: ۷۴ ) نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنے رکوع میں کر لو ، پھر جب «سبح اسم ربك الأعلى» اپنے بہت ہی بلند رب کے نام پاکیزگی بیان کرو ( سورۃ الاعلی: ۱ ) اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنے سجدے میں کر لو ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ۲۰ (۸۸۷)، (تحفة الأشراف: ۹۹۰۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۱۵۵)، سنن الدارمی/الصلاة ۶۹ (۱۳۴۴) (ضعیف) ( عمّہ سے مراد ایاس بن عامر ہیں جو غیر معروف ہیں، اور جن کی توثیق صرف عجلی اور ابن حبان نے کی ہے، اور یہ دونوں متساہل ہیں، ابن حجر نے ان کو صدوق لکھا ہے، حالانکہ موسی کے علاوہ ان سے کسی اور نے روایت نہیں کی ہے، امام ذھبی کہتے ہیں کہ (ليس بالقوي) یہ قوی نہیں ہیں ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود ( ۹؍۳۳۷)
Narrated Uqbah ibn Amir: The above (No 868) tradition has also been reported through a different chain of narrators by Uqbah ibn Amir to the same effect. This version adds: When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم bowed, he said: Glory and praise be to my mighty Lord three times, and when he prostrated himself, he said: Glory and praise be to my most high Lord three times. Abu Dawud said: We are afraid the addition of the word praise is not guarded.
اس طریق سے بھی عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اس میں راوی نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تو تین بار «سبحان ربي العظيم وبحمده» کہتے، اور جب سجدہ کرتے تو تین بار «سبحان ربي الأعلى وبحمده» کہتے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ «وبحمده» کا یہ اضافہ محفوظ نہ ہو ۲؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ربیع اور احمد بن یونس کی ان دونوں حدیثوں کی اسناد کے سلسلے میں اہل مصر منفرد ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ۹۹۰۹) (ضعیف) (اس کی سند میں رجل من قومه مبہم راوی ایاس ابن عامر ہیں، جو مجہول ہیں، صحیح بخاری میں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع و سجود میں«سبحانك اللهم ربنا وبحمدك» پڑھا کرتے تھے)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اس حدیث میں تسبیح تین بار پڑہنے کی بات ہے، مسند احمد، ابن ماجہ، دارقطنی، طحاوی، بزار، ابن خزیمہ ، (۶۰۴)، طبرانی (کبیر) میں سات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے تین تسبیح وارد ہے (ملاحظہ ہو: صفة صلاة النبي للألباني: 132) وضاحت: مسند احمد، طبرانی ، دارقطنی، بیہقی میں «سبحان ربي العظيم وبحمده» تین بار وارد ہے (ملاحظہ ہو: صفة صلاة النبي للألباني: 133)
Hudhaifah said that he prayed along with the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, and that he said when bowing, “Glory be to my mighty Lord, “ and when prostrated himself, “Glory be to my most high Lord, “ and when prostrated himself, “ Glory be to my most high Lord”’ when he came to a verse which spoke to mercy, he stopped and made supplication, and when he came to a verse which spoke of punishment, he stopped and sought refuge in Allah.
شعبہ کہتے ہیں: میں نے سلیمان سے کہا کہ جب میں نماز میں خوف دلانے والی آیت سے گزروں تو کیا میں دعا مانگوں؟ تو انہوں نے مجھ سے وہ حدیث بیان کی، جسے انہوں نے سعد بن عبیدہ سے، سعید نے مستورد سے، مستورد نے صلہ بن زفر سے اور صلہ بن زفر نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں «سبحان ربي العظيم» کہتے تھے، اور اپنے سجدوں میں «سبحان ربي الأعلى» کہتے تھے، اور رحمت کی کوئی آیت ایسی نہیں گزری جہاں آپ نہ ٹھہرے ہوں، اور اللہ سے سوال نہ کیا ہو، اور عذاب کی کوئی آیت ایسی نہیں گزری جہاں آپ نہ ٹھہرے ہوں اور عذاب سے پناہ نہ مانگی ہو۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین ۲۷ (۷۷۲)، سنن الترمذی/الصلاة ۸۲ (۲۶۲)، سنن النسائی/الافتتاح ۷۷ (۱۰۰۷)، والتطبیق ۷۴ (۱۱۳۴)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ۲۰ (۸۹۷)، ۱۷۹(۱۳۵۱)، (تحفة الأشراف: ۳۳۵۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۳۸۲، ۳۸۴، ۳۹۴، ۳۹۷)، سنن الدارمی/الصلاة ۶۹(۱۳۴۵) (صحیح)
Narrated Awf ibn Malik al-Ashjai: I stood up to pray along with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم; he got up and recited Surat al-Baqarah (Surah 2). When he came to a verse which spoke of mercy, he stopped and made supplication, and when he came to verse which spoke of punishment, he stopped and sought refuge in Allah, then he bowed and paused as long as he stood (reciting Surah al-Baqarah), and said while bowing, Glory be to the Possessor of greatness, the Kingdom, grandeur and majesty. : Then he prostrated himself and paused as long as he stood up and recited Surat Aal Imran (Surah 3) and then recited many surahs one after another.
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( نماز پڑھنے کے لیے ) کھڑا ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے سورۃ البقرہ پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی رحمت والی آیت سے نہیں گزرتے مگر وہاں ٹھہرتے اور سوال کرتے، اور کسی عذاب والی آیت سے نہیں گزرتے مگر وہاں ٹھہرتے اور اس سے پناہ مانگتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قیام کے بقدر لمبا رکوع کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع میں: «سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة» پڑھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قیام کے بقدر لمبا سجدہ کیا، سجدے میں بھی آپ نے وہی دعا پڑھی، جو رکوع میں پڑھی تھی پھر اس کے بعد کھڑے ہوئے اور سورۃ آل عمران پڑھی، پھر ( بقیہ رکعتوں میں ) ایک ایک سورۃ پڑھی۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/التطبیق ۷۳ (۱۱۳۸)، سنن الترمذی/الشمائل (۳۱۳)، (تحفة الأشراف: ۱۰۹۱۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۲۴) (صحیح)
Narrated Hudhayfah: Hudhayfah saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم praying at night. He said: Allah is most great three times, Possessor of kingdom, grandeur, greatness and majesty. He then began (his prayer) and recited Surah al-Baqarah; then he bowed and he paused in bowing as long as he stood up; he said while bowing, Glory be to my mighty Lord, Glory be to my mighty Lord ; then he raised his head, after bowing: then he stood up and he paused as long as he paused in bowing and said, Praise be to my Lord ; then he prostrated and paused in prostration as long as he paused in the standing position; he said while prostrating: Glory be to my most high Lord ; then he raised his head after prostration, and sat as long as he prostrated, and said while sitting: O my Lord forgive me. He offered four rak'ahs of prayer and recited in them Surah al-Baqarah, Aal Imran, an-Nisa, al-Ma'idah, or al-An'am. The narrator Shubah doubted.
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ تین بار «الله اكبر» ، اور ( ایک بار ) «ذو الملكوت والجبروت والكبرياء والعظمة» کہہ رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآت شروع کی تو سورۃ البقرہ کی قرآت کی، پھر رکوع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع قریب قریب آپ کے قیام کے برابر رہا اور آپ اپنے رکوع میں«سبحان ربي العظيم سبحان ربي العظيم» کہہ رہے تھے، پھر رکوع سے سر اٹھایا ( اور کھڑے رہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام آپ کے رکوع کے قریب قریب رہا اور آپ اس درمیان «لربي الحمد» کہہ رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو آپ کا سجدہ آپ کے قیام کے برابر رہا، اور آپ سجدہ میں «سبحان ربي الأعلى» کہہ رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سے اپنا سر اٹھایا اور دونوں سجدوں کے درمیان اتنی دیر تک بیٹھے رہے جتنی دیر تک سجدے میں رہے تھے، اور اس درمیان «رب اغفر لي رب اغفر لي» کہہ رہے تھے، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار رکعتیں ادا کیں اور ان میں بقرہ، آل عمران، نساء اور مائدہ یا انعام پڑھی۔ یہ شک شعبہ کو ہوا ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی /الشمائل ۳۹ (۲۷۵)، سنن النسائی/التطبیق ۲۵ (۱۰۷۰)، ۸۶ (۱۱۴۶)، (تحفة الأشراف: ۳۳۹۵) (صحیح) (حدیث نمبر ( ۸۷۱) سے تقویت پاکر یہ حدیث بھی صحیح ہے ، ورنہ خود اس کی سند میں ایک مبہم راوی رجل بن بنی عبس ہیں)