CHAPTER: Actions During The Prayer. - باب: نماز میں کون سا کام جائز اور درست ہے ؟ - Prayer (kitab al-salat) - Sunnan Abu Dawood with Urdu and English Translation
Chapter 160 of Prayer (kitab al-salat) in Sunnan Abu Dawood. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
Abu Qatadah said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was leading the people in prayer with Umamah daughter of Zainab daughter of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم (in his lap). When he prostrated, he put her down and when he got up (after prostration) he lifted her up.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور اپنی نواسی امامہ بنت زینب کو کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جاتے تو انہیں اتار دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو انہیں اٹھا لیتے تھے ۱؎۔
Narrated Abu Qatadah: We were sitting in the mosque when the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came upon us carrying Umamah daughter of Abul As ibn ar-Rabi. Her mother was Zaynab daughter of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. She (Umamah) was a child and he (the Prophet) was carrying her on his shoulder. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم led (the people) in prayer while she was on his shoulder. When he bowed he put her down and took her up when he got up. He kept on doing so until he finished his prayer.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ آپ امامہ بنت ابوالعاص بن ربیع کو اپنے کندھے اٹھائے ہوئے تھے، امامہ کی والدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا تھیں، امامہ ابھی چھوٹی بچی تھیں، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر تھیں، جب آپ رکوع کرتے تو انہیں اتار دیتے پھر جب کھڑے ہوتے تو انہیں دوبارہ اٹھا لیتے، اسی طرح کرتے ہوئے آپ نے اپنی پوری نماز ادا کی۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ۱۲۱۲۴) (صحیح)
Abu Qatadah al-Ansari said: I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم leading the people in prayer with Umamah daughter of Abu al-As on his neck (shoulder). When he prostrated, he put her down. Abu Dawud said: The narrator Makhramah did not hear from his father except one tradition.
ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کو نماز پڑھاتے ہوئے دیکھا اور آپ کی نواسی امامہ بنت ابوالعاص رضی اللہ عنہا آپ کی گردن پر سوار تھیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں جاتے تو انہیں اتار دیتے تھے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ۱۲۱۲۴) (صحیح)
Abu Qatadah, a Companion of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, said: While we were waiting for the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم for the noon or afternoon prayer, and Bilal had already called him for prayer, he came upon us with Umamah daughter of Abu al-As and daughter of his daughter on his neck. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم stood at the place of prayer and we stood behind him and she (Umamah) (all this time) was in her place. He uttered the takbir and we also uttered. When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم intended to bow, he took her and put her down, and then he bowed and prostrated till he finished his prostration. He then got up and took her and returned he to her place. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم kept on doing that in every rak’ah until he finished his prayer. May peace be upon him.
صحابی رسول ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم لوگ ظہر یا عصر میں نماز کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے اور بلال رضی اللہ عنہ آپ کو نماز کے لیے بلا چکے تھے، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تشریف لائے اور اس حال میں کہ ( آپ کی نواسی ) امامہ بنت ابوالعاص رضی اللہ عنہما جو آپ کی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا کی بیٹی تھیں آپ کی گردن پر سوار تھیں تو آپ اپنی جگہ پر کھڑے ہوئے اور ہم لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے اور وہ اپنی جگہ پر اسی طرح بیٹھی رہیں، جیسے بیٹھی تھیں، ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الله أكبر» کہا تو ہم لوگوں نے بھی «الله أكبر» کہا یہاں تک کہ جب آپ نے رکوع کرنا چاہا تو انہیں اتار کر نیچے بٹھا دیا، پھر رکوع اور سجدہ کیا، یہاں تک کہ جب آپ سجدے سے فارغ ہوئے پھر ( دوسری رکعت کے لیے ) کھڑے ہوئے تو انہیں اٹھا کر ( اپنی گردن پر ) اسی جگہ بٹھا لیا، جہاں وہ پہلے بیٹھی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر ہر رکعت میں ایسا ہی کرتے رہے یہاں تک کہ آپ نماز سے فارغ ہوئے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد أبو داود بھذا السیاق، وانظر أصلہ في رقم (۹۱۸)، (تحفة الأشراف: ۱۲۱۲۴) (ضعیف) (اس حدیث میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور انہوں نے روایت عنعنہ سے کی ہے، حدیث میں ظہر یا عصر کی تعیین ہے، نیز بلال رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے ان کے بغیر اصل حدیث صحیح ہے، جیسا کہ سابقہ حدیث میں گزرا)
Narrated Abu Hurairah: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Kill the two black things during prayer, the snake and scorpion.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز میں دونوں کالوں ( یعنی ) سانپ اور بچھو کو ( اگر دیکھو تو ) قتل کر ڈالو ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة ۱۷۰ (۳۹۰)، سنن النسائی/السھو ۱۲ (۱۲۰۳)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ۱۴۶ (۱۲۴۵)، (تحفة الأشراف: ۱۳۵۱۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۲۳۳، ۲۵۵، ۲۷۳، ۲۷۵، ۲۸۴، ۴۹۰)، سنن الدارمی/الصلاة ۱۷۸ (۱۵۴۵) (صحیح)
Narrated Aishah, Ummul Muminin: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was praying with his door bolted. I came and asked to have the door opened. He walked and opened the door for me. He then returned to his place for prayer. He (the narrator Urwah) mentioned that the door faced the qiblah.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، دروازہ بند تھا تو میں آئی اور دروازہ کھلوانا چاہا تو آپ نے ( حالت نماز میں ) چل کر میرے لیے دروازہ کھولا اور مصلی ( نماز کی جگہ ) پر واپس لوٹ گئے ۱؎۔ اور عروہ نے ذکر کیا کہ آپ کے گھر کا دروازہ قبلہ کی سمت میں تھا۔
وضاحت: ۱؎ : ان حدیثوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ضرورت کے واسطے چلنا یا دروازہ کھولنا یا لاٹھی اٹھا کر سانپ بچھو مارنا، یا بچے کو گود میں اٹھا لینا پھر بٹھا دینا، ان سب اعمال سے نماز نہیں ٹوٹتی۔