حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُنَا فِي مَجْلِسِ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَزَالُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مُقْبِلًا عَلَى الْعَبْدِ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ مَا لَمْ يَلْتَفِتْ، فَإِذَا الْتَفَتَ انْصَرَفَ عَنْهُ .
Narrated Abu Dharr: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Allah, the Most High, continues to turn favourably towards a servant while he is engaged in prayer as long as he does not look to the side (by turning the neck), but if he does so, He turns away from him.
ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: اللہ تعالیٰ حالت نماز میں بندے پر اس وقت تک متوجہ رہتا ہے جب تک کہ وہ ادھر ادھر نہیں دیکھتا ہے، پھر جب وہ ادھر ادھر دیکھنے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے منہ پھیر لیتا ہے ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/السھو ۱۰ (۱۱۹۶)، (تحفة الأشراف: ۱۱۹۹۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۱۷۲)، سنن الدارمی/الصلاة ۱۳۴ (۱۴۶۳) (حسن) (اس کے راوی ابو الأحوص لین الحدیث ہیں ، بعض لوگوں کے نزدیک مجہول ہیں، لیکن شاہد کی وجہ سے یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ۸۴۳/م، وصحیح الترغیب: ۵۵۲-۵۵۴)
909
Sahih