CHAPTER: Whoever Said That Nothing Nullifes The Prayer. - باب: نمازی کے آگے کسی بھی چیز کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی اس کے قائلین کی دلیل کا بیان ۔ - Prayer (kitab al-salat) - Sunnan Abu Dawood with Urdu and English Translation
Chapter 109 of Prayer (kitab al-salat) in Sunnan Abu Dawood. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
Narrated Abu Saeed al-Khudri: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Nothing interrupt prayer, but repulse as much as you can anyone who passes in front of you, for he is just a devil.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی، اور جہاں تک ہو سکے گزرنے والے کو دفع کرو، کیونکہ وہ شیطان ہے ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۳۹۸۹) (ضعیف) (اس کے راوی مجالد ضعیف ہیں ، اور پہلا جزء صحیح احادیث کے مخالف ہے، ہاں دوسرے حصے کے صحیح شواہد ہیں)
Abu al-Waddak said: A youth from the Quraish passed in front of Abu Saeed Al-Khudri who was praying. He repulsed him. He returned again. He then repulsed him for the third time. When he finished the prayer, he said: Nothing cuts off prayer; but the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Repulse as much as you can, for he is just a devil. Abu Dawud said: If two traditions of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم conflict, the practice of the Companions after him should be taken into consideration.
ابوالوداک کہتے ہیں کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے تھے کہ قریش کا ایک نوجوان ان کے سامنے سے گزرنے لگا، تو انہوں نے اسے دھکیل دیا، وہ پھر آیا، انہوں نے اسے پھر دھکیل دیا، اس طرح تین بار ہوا، جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے کہا: نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جہاں تک ہو سکے تم دفع کرو، کیونکہ وہ شیطان ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی دو حدیثوں میں تعارض ہو، تو وہ عمل دیکھا جائے گا جو آپ کے صحابہ کرام نے آپ کے بعد کیا ہو ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۳۹۸۹) (ضعیف) (اس سے پہلی والی حدیث ملاحظہ فرمائیں)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یہاں دو حدیثیں ایک دوسرے کے معارض تو ہیں مگر دوسری حدیث ’’نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی‘‘ ضعیف ہے، اس لیے دونوں میں تطبیق کے لیے اب کسی دوسری چیز کی ضرورت نہیں ہے، ہاں نماز ٹوٹ جانے سے مطلب باطل ہونا نہیں بلکہ خشوع و خضوع میں کمی واقع ہونا ہے، جمہور علماء نے یہی مطلب بیان کیا ہے، اور اسی معنی میں ان صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے آثار و اقوال کو لیا جائے گا جن سے یہ مروی ہے کہ ’’نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی ‘‘۔
Abdullah bin Umar said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to raise his hands opposite his shoulders when he began prayer, then he uttered takbir (Allah is most great) in the same condition, and then he bowed. And when he raised his back (head) after bowing he raised them opposite his shoulders, and said: “Allah listens to him who praises Him. ” But he did not raise his hand when he prostrated himself; he rather raised them when he uttered the takbir (Allah is most great) before bowing until his prayer is finished.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ( رفع یدین کرتے ) ، یہاں تک کہ وہ آپ کے دونوں کندھوں کے مقابل ہو جاتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم «الله أكبر» کہتے، اور وہ دونوں ہاتھ اسی طرح ہوتے، پھر رکوع کرتے، پھر جب رکوع سے اپنی پیٹھ اٹھانے کا ارادہ کرتے تو بھی ان دونوں کو اٹھاتے ( رفع یدین کرتے ) یہاں تک کہ وہ آپ کے کندھوں کے بالمقابل ہو جاتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم «سمع الله لمن حمده» کہتے، اور سجدے میں اپنے دونوں ہاتھ نہ اٹھاتے، اور رکوع سے پہلے ہر تکبیر کے وقت دونوں ہاتھ اٹھاتے، یہاں تک کہ آپ کی نماز پوری ہو جاتی۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ۶۸۱۶، ۶۹۲۸) (صحیح)
Abd al-Jabbar bin Wail (bin Hujr) said: I was a small boy and I did not understand the prayer of my father. So Wail bin Alqamah reported Wail bin Hujr as saying: I offered prayer along with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He used to raise his hands when he pronounced the takbir (Allah is most great), then pulled his garment around him, then placed his right hand on his left, and entered his hands in his garment. When he was about to bow he took his hands out of his garment, and then raised them. And when he raised his head after bowing, he raised his hands. He then prostrated himself and placed his face (forehead on the ground) between his hands. And when he raised his head after prostration, he also raised his hands until he finished his prayer. Muhammad (a narrator) said: I mentioned it to al-Hasan bin Abu al-Hasan who said: This is how the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم offered prayer; some did it and others abandoned it. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Hammam from ibn Juhadah, but he did not mention the raising of hands after he raised his head at the end of the prostration.
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، جب آپ نے تکبیر ( تحریمہ ) کہی تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو پکڑا، اور انہیں اپنے کپڑے میں داخل کر لیا، جب آپ نے رکوع کا ارادہ کیا تو اپنے دونوں ہاتھ ( چادر سے ) نکالے پھر رفع یدین کیا، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھانے کا ارادہ کیا تو رفع یدین کیا، پھر سجدہ کیا اور اپنی پیشانی کو دونوں ہتھیلیوں کے بیچ میں رکھا، اور جب سجدے سے اپنا سر اٹھایا تو رفع یدین ۱؎ کیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو گئے۔ محمد کہتے ہیں: میں نے حسن بصری سے اس کا ذکر کیا، تو انہوں نے کہا: یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے، کرنے والوں نے ایسا ہی کیا اور چھوڑنے والوں نے اسے چھوڑ دیا۔ أبوداود کہتے ہیں: اس حدیث کو ہمام نے بھی ابن جحادہ سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے سجدے سے اٹھتے وقت رفع یدین کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة ۱۵ (۴۰۱)، (تحفة الأشراف: ۱۱۷۷۴، ۱۱۷۸۸)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الافتتاح ۱۱ (۸۹۰)، الافتتاح ۱۳۹ (۱۱۰۳)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ۳ (۸۱۰)، مسند احمد (۴/۳۱۷، ۳۱۸)، سنن الدارمی/الصلاة ۳۵ (۱۲۱۷)، ۹۲ (۱۳۹۷) (ولیس عند أحد ذکر رفع الیدین مع الرفع من السجود) (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : مؤلف کے سوا کسی کے یہاں بھی سجدے سے اٹھتے وقت رفع یدین کا ذکر نہیں ہے، اکثر علماء کے نزدیک مؤلف کی یہ روایت منسوخ ہے۔
Wail bin Hujr said that he saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم raise his hands when he uttered the takbir (Allah is most great).
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رفع یدین کیا یہاں تک کہ آپ کے دونوں ہاتھ دونوں مونڈھوں کے بالمقابل ہوئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں انگوٹھے دونوں کانوں کے بالمقابل ہوئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الله أكبر» کہا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۱۷۶۱) (ضعیف) (عبدالجبار کی اپنے والد سے روایت ثابت نہیں ہے، نیز«کبر» کا لفظ منکر ہے، کیونکہ تکبیر رفع الیدین کے پہلے ہوگی یا ساتھ میں، رفع الیدین کے بعد نہیں جیسا کہ اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے)
Wail bin Hujr said: He saw that when the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم stood up to pray he raised his hands till they were in front of his shoulders and placed his thumbs opposite his ears; then he uttered the Takbir (Allah is most great).
عبدالجبار بن وائل کہتے ہیں: مجھ سے میرے گھر والوں نے بیان کیا کہ میرے والد نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکبیر کے ساتھ اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۱۷۹۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۳۱۶) (صحیح)
Narrated Wail ibn Hujr: I purposely looked at the prayer of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, how he offered it. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم stood up, faced the direction of the qiblah and uttered the takbir (Allah is most great) and then raised his hands in front of his ears, then placed his right hand on his left (catching each other). When he was about to bow, he raised them in the same manner. He then placed his hands on his knees. When he raised his head after bowing, he raised them in the like manner. When he prostrated himself he placed his forehead between his hands. He then sat down and spread his left foot and placed his left hand on his left thigh, and kept his right elbow aloof from his right thigh. He closed his two fingers and made a circle (with the fingers). I (Asim ibn Kulayb) saw him (Bishr ibn al-Mufaddal) say in this manner. Bishr made the circle with the thumb and the middle finger and pointed with the forefinger.
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز دیکھوں گا کہ آپ کس طرح نماز ادا کرتے ہیں؟ ( میں نے دیکھا ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رخ کھڑے ہوئے اور آپ نے اللہ اکبر کہا، پھر دونوں ہاتھوں کو اٹھایا یہاں تک کہ وہ دونوں کانوں کے بالمقابل ہو گئے، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے اپنے بائیں ہاتھ کو پکڑا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کا ارادہ کیا تو بھی اسی طرح ہاتھوں کو اٹھایا، پھر دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے، پھر رکوع سے سر اٹھاتے وقت بھی انہیں اسی طرح اٹھایا، پھر جب سجدہ کیا تو اپنے سر کو اپنے دونوں ہاتھوں کے بیچ اس جگہ پہ رکھا، پھر بیٹھے تو اپنا بایاں پیر بچھایا، اور بائیں ہاتھ کو اپنی بائیں ران پر رکھا، اور اپنی داہنی کہنی کو داہنی ران سے جدا رکھا اور دونوں انگلیوں ( خنصر، بنصر ) کو بند کر لیا اور دائرہ بنا لیا ( یعنی بیچ کی انگلی اور انگوٹھے سے ) ۔ بشر بن مفضل بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے شیخ عاصم بن کلیب کو دیکھا وہ اسی طرح کرتے تھے، اور بشر نے انگوٹھے اور بیچ کی انگلی کا دائرہ بنایا اور انگشت شہادت سے اشارہ کیا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/ الافتتاح ۱۱ (۸۹۰)، سنن ابن ماجہ/ إقامة الصلاة ۳ (۸۱۰)، (تحفة الأشراف: ۱۱۷۸۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۳۱۶، ۳۱۷، ۳۱۸، ۳۱۹) (صحیح) ویأتی ہذا الحدیث عند المؤلف برقم (۹۵۷)
The above tradition has been transmitted by Asim bin Kulaib through a different chain of narrators and to the same effect. This version has: “He then placed his right hand on the back of his left palm and his wrist and forearm. ” This also adds: “I then came back afterwards in a season when it was severe cold. I saw the people putting on heavy clothes moving their hands under the clothes (i. e. raised their hands before and after bowing). ”
عاصم بن کلیب نے اس سند سے بھی اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے، اس میں یہ ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ بائیں ہتھیلی کی پشت پہنچے اور کلائی پر رکھا، اس میں یہ بھی ہے کہ پھر میں سخت سردی کے زمانہ میں آیا تو میں نے لوگوں کو بہت زیادہ کپڑے پہنے ہوئے دیکھا، ان کے ہاتھ کپڑوں کے اندر ہلتے تھے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ۱۱۷۸۱) (صحیح)