CHAPTER: The Length Of The Ruku’ And The Prostration. - باب: رکوع اور سجدے کی مقدار کا بیان ۔ - Prayer (kitab al-salat) - Sunnan Abu Dawood with Urdu and English Translation
Chapter 145 of Prayer (kitab al-salat) in Sunnan Abu Dawood. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
Saad reported that he heard his father or his uncle say ; I witnessed the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم while offering prayer. He used to stay in his bowing and his prostration as long as one uttera the words “Glory be to Allah and praise be to Him” three times.
سعدی کے والد یا چچا کہتے ہیں کہ میں نے نماز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ رکوع اور سجدہ میں اتنی دیر تک رہتے جتنی دیر میں تین بار: «سبحان الله وبحمده» کہہ سکیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۵۷۰۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۱۴۸، ۱۶۱، ۱۷۶، ۲۵۳، ۲۷۱، ۵/۶) (صحیح)
Narrated Abdullah ibn Masud: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: When one of you bows, he should say three time,: Glory be to my mighty Lord, and when he prostrates, he should say: Glory be to my most high Lord three times. This is the minimum number. Abu Dawud said: The chain of this tradition is broken. The narrator 'Awn did not see Abdullah (bin Masud).
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو اسے چاہیئے کہ تین بار: «سبحان ربي العظيم» کہے، اور یہ کم سے کم مقدار ہے، اور جب سجدہ کرے تو کم سے کم تین بار: «سبحان ربي الأعلى»کہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرسل ہے، عون نے عبداللہ رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة ۸۲ (۲۶۱)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ۲۰ (۸۹۰)، (تحفة الأشراف: ۹۵۳۰) (ضعیف) (مؤلف نے سبب بیان کر دیا ہے، یعنی عون کی ملاقات عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نہیں ہوئی )
Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: When one of you recites By the fig and the olive (Surah 95) and comes to its end Is not Allah the best judge? (verse 8), he should say: Certainly, and I am one of those who testify to that. When one recites I swear by the Day of Resurrection (Surah 75) and comes to Is not that one able to raise the dead to life? (verse 40), he should say: Certainly. And when one recites By those that are sent (Surah 77), and comes to Then in what message after that will they believe? (Surah 50), he should say: We believe in Allah. The narrator Ismail (ibn Umayyah) said: I beg to repeat (this tradition) before the Bedouin (who reported this tradition) so that I might see whether he (was mistaken). He said: My nephew, do you think that I did not remember it? I performed sixty hajj (pilgrimages); there is no hajj but I recognize the came on which I performed it.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو شخص سورۃ «والتين والزيتون» پڑھے اسے چاہیئے کہ جب اس کی آخری آیت «والتين والزيتون» پر پہنچے تو: «بلى وأنا على ذلك من الشاهدين» کہے، اور جو سورۃ «لا أقسم بيوم القيامة» پڑھے اور «أليس ذلك بقادر على أن يحيي الموتى» پر پہنچے تو «بلى» کہے، اور جو سورۃ «والمرسلات» پڑھے اور آیت«فبأى حديث بعده يؤمنون» پر پہنچے تو «آمنا بالله» کہے۔ اسماعیل کہتے ہیں: ( میں نے یہ حدیث ایک اعرابی سے سنی ) ، پھر دوبارہ اس کے پاس گیا تاکہ یہ حدیث پھر سے سنوں اور دیکھوں شاید؟ ( وہ نہ سنا سکے ) تو اس اعرابی نے کہا: میرے بھتیجے! تم سمجھتے ہو کہ مجھے یہ یاد نہیں؟ میں نے ساٹھ حج کئے ہیں اور ہر حج میں جس اونٹ پر میں چڑھا تھا اسے پہچانتا ہوں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/التفسیر ۸۳ (۳۳۴۷)، مسند احمد ۲/۲۴۹، (تحفة الأشراف: ۱۵۵۰) (ضعیف) (اس کا راوی اعرابی مبہم شخص ہے)
Narrated Anas ibn Malik: I did not offer behind anyone after the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم a prayer like the prayer offered by the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم than this youth, i. e. Umar ibn Abdul Aziz. We estimated reciting glorification ten times in his bowing, and in his prostration ten times. Abu Dawud said: Ahmad bin Salih said: I asked him (Abdullah) whether the name Manus is correct of Mabus. He replied: Abd al-Razzaq used to say Mabus, but I remember Manus (i. e. the narrator Wahb bin Manus). These are the words of Ibn Rafi. It has also been narrated by Ahmad from Saeed bin Jubair on the authority of Anas bin Malik.
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کے پیچھے ایسی نماز نہیں پڑھی جو اس نوجوان یعنی عمر بن عبدالعزیز کی نماز سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے مشابہ ہو سعید بن جبیر کہتے ہیں: تو ہم نے ان کے رکوع اور سجدہ میں دس دس مرتبہ تسبیح کہنے کا اندازہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: احمد بن صالح کا بیان ہے: میں نے عبداللہ بن ابراہیم بن عمر بن کیسان سے پوچھا: ( وہب کے والد کا نام ) مانوس ہے یا مابوس؟ تو انہوں نے کہا: عبدالرزاق تو مابوس کہتے تھے لیکن مجھے مانوس یاد ہے، یہ ابن رافع کے الفاظ ہیں اور احمد نے ( اسے «سمعت» کے بجائے «عن» سے یعنی: «عن سعيد بن جبير عن أنس بن مالك» روایت کی ہے ) ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/التطبیق ۷۶ (۱۱۳۶)، (تحفة الأشراف: ۸۵۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۱۶۲-۱۶۳) (ضعیف) (اس کی سند میں وہب بن مانوس مجہول الحال راوی ہیں)