TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ان اذکار میں سے کی جانے والی دعاؤں کا بیان - ان اذکار میں سے کی جانے والی دعاؤں کا بیان - نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 4 · 7 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۱۸۵۴) عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ فِیْ دُبُرِ صَلاَتِہِ: ((اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ أَنَاشَہِیْدٌ أَنَّکَ أَنْتَ الرَّبُّ وَحْدَکَ لاَشَرِیْکَ لَکَ (قَالَ أِبْرَاھِیْمُ مَرَّتَیْنِ )رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ، أَنَا شَہِیْدٌ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُوْلُکَ، رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ، أَنَا شَہِیْدٌ أَنَّ العِبَادَ کُلَّہُمْ إِخْوَۃٌ، اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ! اِجْعَلْنِیْ مُخْلِصًا لَکَ وَأَھْلِیْ فِیْ کُلِّ سَاعَۃٍ مِنَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، ذَاالْجَلاَلِ وَالْإِکْرَامِ! اِسْمَعْ وَاسْتَجِبْ، اَللّٰہُ الْأَکْبَرُ الْأَکْبَرُ نُوْرُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ، اَللّٰہُ الْأَکْبَرُ الْأَ کْبَرُ حَسْبِیَ اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ، اَللّٰہُ الْأَ کْبَرُ الْأَ کْبَرُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۵۰۸)
سیدنازید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی نماز کے بعد یہ دعا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ أَنَاشَہِیْدٌ أَنَّکَ أَنْتَ الرَّبُّ وَحْدَکَ لاَشَرِیْکَ لَکَ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ، أَنَا شَہِیْدٌ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُوْلُکَ، رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ، أَنَا شَہِیْدٌ أَنَّ العِبَادَ کُلَّہُمْ إِخْوَۃٌ، اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ! اِجْعَلْنِیْ مُخْلِصًا لَکَ وَأَھْلِیْ فِیْ کُلِّ سَاعَۃٍ مِنَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، ذَاالْجَلاَلِ وَالْإِکْرَامِ! اِسْمَعْ وَاسْتَجِبْ، اَللّٰہُ الْأَکْبَرُ الْأَکْبَرُ نُوْرُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ، اَللّٰہُ الْأَکْبَرُ الْأَ کْبَرُ حَسْبِیَ اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ، اَللّٰہُ الْأَ کْبَرُ الْأَ کْبَرُ۔ (اے اللہ! ہمارے رب اور ہرچیز کے رب میںگواہ ہوں کہ تو ہی اکیلا رب ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، اے ہمارے رب اور ہر چیز کے رب! میں گواہ ہوں کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیرے بندے اور رسول ہیں، اے ہمارے رب اور ہر چیز کے رب! میں گواہ ہوں کہ سارے بندے بھائی بھائی ہیں، اے اللہ! ہمارے رب اور ہر چیز کے رب! مجھے اور میرے اہل کو دنیا و آخرت کی ہر گھڑی میں اپنے لئے مخلص بنادے، اے جلال و اکرام والے! سن لے اور قبول کرلے، اللہ سب سے بڑا ہے، سب سے بڑا ہے، آسمانوں اور زمین کا نور ہے اللہ سب سے بڑا ہے، سب سے بڑا ہے، مجھے اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے، اللہ سب سے بڑاہے، سب سے بڑا ہے۔)
Takhreej
(۱۸۵۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف داود الطفاوی، ولجھالۃ ابی مسلم البجلی۔ أخرجہ ابوداود: ۱۵۰۸ (انظر: ۱۹۲۹۳)
1854
Zaeef
۔ (۱۸۵۵) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا الْمُقْرِیُٔ حَدَّثَنَا حَیْوَۃُ قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَۃَ بْنَ مُسْلِمٍ التُّجِیْبِیَّیَقُوْلُ حَدَّثَنِیْ أَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْحُبَلِیُّ عَنْ الصُّنَابِحِیِّ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَخَذَ بِیَدِہٖیَوْمًا ثُمَّ قَالَ: ((یَامُعَاذُ! إِنِّیْ لَأُحِبُّکَ۔)) فَقَالَ لَہُ مُعَاذٌ: بِأَبِیْ أَنْتَ وَأَمِّیْیَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَأَنا أُحِبُّکَ، قَالَ: ((أُوْصِیْکَیَامُعَاذُ! لَاتَدَعَنَّ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلاَۃٍ (وَفِی رَوَایَۃٍ فِی کُلِّ صَلاَۃٍ) أَنْ تَقُوْلَ اَللّٰھُمَّ أَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ۔)) قَالَ: وَأَوْصٰی بِذٰلِکَ مُعَاذٌ الصُّنَابِحِیَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، وَأَوْصٰی أَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عُقْبَۃَ بْنَ مُسْلِمٍ۔ (مسند احمد: ۲۲۴۷۰)
سیدنامعاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دن ان کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: اے معاذ! یقینا میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اے اللہ کے رسول! میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے معاذ! میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ تو ہر نماز میں یہ دعا پڑھنا ہر گز نہ چھوڑنا: اَللّٰھُمَّ أَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ۔ (اے اللہ! اپنا ذکر، شکر اور اچھے انداز میں عبادت کرنے پر میری مدد فرما)۔ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ابو عبد الرحمن صنابحی کو اور انھوں عقبہ بن مسلم کو یہی نصیحت کی۔
Takhreej
(۱۸۵۵) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۱۵۲۲، والنسائی: ۳/ ۵۳ (انظر: ۲۲۱۱۹)
Explanation
فوائد:… باب نماز میں جامع منقول دعاؤں کا بیان کے آخر مین یہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ یہ دعا سلام سے پہلے پڑھنی چاہیے۔
1855
Sahih
۔ (۱۸۵۶) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَتُحِبُّوْنَ أَنْ تَجْتَہِدُوْا فِی الدُّعَائِ؟ قُوْلُوْا اَللّٰہُمَّ أَعِنَّا عَلٰی شُکْرِکَ وَذِکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ۔)) (مسند احمد: ۷۹۶۹)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم چاہتے ہو کہ پوری کوشش کے ساتھ دعا کیا کرو؟ تو پھر اس طرح کہا کرو: اَللّٰہُمَّ أَعِنَّا عَلٰی شُکْرِکَ وَذِکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ۔ (اے اللہ!اپنے شکر، ذکر اور اچھی عبادت کرنے پر ہماری مدد فرما )۔
Takhreej
(۱۸۵۶) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابو نعیم: ۹/ ۲۲۳، والحاکم: ۱/ ۴۴۹ (انظر: ۷۹۸۲)
1856
Sahih
۔ (۱۸۵۷) عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْلُ إِذَا صَلَّی الصُّبْحَ حِیْنَیُسَلِّمُ: ((اَللّٰہُمَ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ عِلْمًا نَافِعًا وَرِزْقًا وَاسِعًا (وَفِیْ رِوَایَۃٍ طَیِّبًا) وَعَمَلاً مُتَقَبَّلًا۔)) (مسند احمد: ۲۷۲۶۷)
سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب صبح کی نماز سے سلام پھیرتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہُمَ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ عِلْمًا نَافِعًا وَّرِزْقًا وَاسِعًا وَّعَمَلاً مُتَقَبَّلًا۔ (اے اللہ! بلاشبہ میں تجھ سے نفع دینے والے علم، وسیع رزق اور قبول ہونے والے عمل کا سوال کرتا ہوں)۔ ایک روایت میں وَاسِعًا کی بجائے طَیِّبًا کے الفاظ ہیں۔
Takhreej
(۱۸۵۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، لابھام مولی ام سلمۃ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۹۲۵، والطیالسی: ۱۶۰۵ (انظر: ۲۶۶۰۲)
1857
Zaeef
۔ (۱۸۵۸) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فِیْ صِفَۃِ صَلاَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَإِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلاَۃِ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ مِنِّیْ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لاَ إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ۔)) (مسند احمد: ۷۲۹)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کا طریقہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز سے سلام پھیرا تو یہ دعا پڑھی: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ مِنِّیْ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لاَ إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ۔ (اے اللہ! میرے لیے بخش دے وہ (گناہ) جو میں نے پہلے کیے اور جو بعد میں کیے اور جو مخفی انداز میں کیے اور جو اعلانیہ کے یاور جو میں نے زیادتی کی اور وہ جن کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، تو ہی آگے کرنے والا اور پیچھے کرنے والا ہے، نہیں ہے کوئی معبودِ برحق مگر توہی)۔
Takhreej
(۱۸۵۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۷۷۱ (انظر: ۷۲۹)
Explanation
فوائد:… صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ثُمَّ یَکُوْنُ مِنْ آخِرِ مَا یَقُوْلُ بَیْنَ التَّشَھُّدِ وَالتَّسْلِیْمِ۔ یعنی: پھر آخری (دعا) جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشہد اور سلام کے مابین پڑھتے تھے، (وہ یہ ہوتی تھی)۔
1858
Sahih
۔ (۱۸۵۹) عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ حَسَّانَ الْکِنَانِیِّ أَنَّ مُسْلِمَ بْنَ الْحَارِثِ التَّمِیْمِیَّ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا صَلَّیْتَ الصُّبْحَ فَقُلْ قَبْلَ أَنْ تُکَلِّمَ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ: اَللّٰھُمَّ أَجِرْنِیْ مِنَ النَّاِر سَبْعَ مَرَّاتٍ، فَإِنَّکَ إِنْ مُتَّ مِنْ یَوْمِکَ ذٰلِکَ کَتَبَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَکَ جِوَارًا مِنَ النَّارِ، وَإِذَاصَلَیْتَ الْمَغْرِبَ فَقُلْ قَبْلَ أَنْ تُکَلِّمُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ: اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ الْجَنَّۃَ، اَللّٰہُمَّ أَجِرْنِی مِنَ النَّارِ سَبْعَ مَرَّاتٍ فَإِنَّکَ إِنْ مُتَّ مِنْ لَیْلَتِکَ تِلْکَ کَتَبَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَ لَکَ جِوَارًا مِنَ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۲۱۸)
سیدنا حارث تمیمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: جب تو صبح کی نماز پڑھے تو کسی آدمی سے کوئی بات کرنے سے پہلے سات مرتبہ یہ دعا پڑھ: اَللّٰہُمَّ أَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ (اے اللہ! مجھے آگ سے بچا۔) پس اگر تو اس دن میں فوت ہوگیا تو اللہ تعالیٰ تیرے لئے آگ سے بچاؤ لکھ دے گا اور اسی طرح جب تو مغرب کی نماز پڑھے تو کسی آدمی سے کوئی بات کرنے سے پہلے سات مرتبہ یہ دعا پڑھ: اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ الْجَنَّۃَ، اَللّٰہُمَّ أَجِرْنِی مِنَ النَّارِ (اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ! مجھے آگ سے بچالے۔)پس اگر تو اس رات کو ہوگیا تو اللہ تعالیٰ تیرے لئے آگ سے بچاؤ لکھ دے گا۔
Takhreej
(۱۸۵۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، مسلم بن الحارث جھلہ الدارقطنی، ولم یؤثر توثیقہ عن غیر ابن حبان۔ أخرجہ ابوداود: ۵۰۸۰ (انظر: ۱۸۰۵۴)
1859
Zaeef
۔ (۱۸۶۰) عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُعَلِّمُنَا کَلِمَاتٍ نَدْعُوْ بِہِنَّ فِیْ صَلاَتِنَا أَوْ قَالَ فِیْ دُبُرِ صَلاَتِنَا ((اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ أَسْأَلُکَ الثُّبَاتَ فِی الْأَمْرِ وَأَسْأَلُکَ عَزِیْمَۃَ الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُکَ شُکْرَ نِعْمَتِکَ، وَحُسْنَ عِبَادَتِکَ، وَأَسْأَلُکَ قَلْبًا سَلِیْمًا وَلِسَانًا صَادِقًا، وَأَسْتَغْفِرُکَ لِمَا تَعْلَمُ وَأَسْأَلُکَ مِنْ خَیْرِ مَا تَعْلَمُ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۶۳)
سیدناشداد بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں نماز میںیا نماز کے آخر میں پڑھنے کے لیے چند کلمات کی تعلیم دیتے تھے، وہ کلمات یہ ہیں: اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ أَسْأَلُکَ الثُّبَاتَ فِی الْأَمْرِ وَأَسْأَلُکَ عَزِیْمَۃَ الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُکَ شُکْرَ نِعْمَتِکَ، وَحُسْنَ عِبَادَتِکَ، وَأَسْأَلُکَ قَلْبًا سَلِیْمًا وَلِسَانًا صَادِقًا، وَأَسْتَغْفِرُکَ لِمَا تَعْلَمُ وَأَسْأَلُکَ مِنْ خَیْرِ مَا تَعْلَمُ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ۔ (اے اللہ بلاشبہ میں تجھ سے ہر معاملہ میں ثابت قدمی کا سوال کرتا ہوں،میں تجھ سے بھلائی کی پختگی کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے تیری نعمت کے شکر ادا کرنے کا اور اچھے انداز میں تیری عبادت کرنے کا سوال کرتا ہوں، میںتجھ سے سالم دل اور سچی زبان کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے ان (گناہوں کی) کی بخشش کا سوال کرتا ہوں جن کو تو جانتا ہے، میں تجھ سے ہر اس خیر کا سوال کرتا ہوں، جس کو تو جانتا ہے اور میں تجھ سے ہر اس شرّ سے پناہ چاہتا ہوں، جس کو تو جانتا ہے)۔
Takhreej
(۱۸۶۰) تخریج: حسن بطرقہ۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۰/ ۲۷۱، وابن حبان: ۹۳۵، والطبرانی: ۷۱۵۷ (انظر: ۱۷۱۱۴، ۱۷۱۳۳)
Explanation
فوائد:… یہ دعا تو سلام سے پہلے کرنی چاہیے، جیسا کہ فی صلاتنا کے الفاظ سے واضح ہو رہا ہے۔
1860
Sahih