TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

سجدۂ شکر کا بیان - سجدۂ شکر کا بیان - سجدۂ تلاوت اور سجدۂ شکر کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 7 of سجدۂ تلاوت اور سجدۂ شکر کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 7 of 7 · 3 Hadith
۔ (۲۰۲۹) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِی رِوَایَۃٍ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَارِ جًا مِنَ الْمَسْجِدِ) فَاتَّبَعْتُہُ حَتّٰی دَخَلَ نَخْلاً فَسَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُوْدَ، حَتّٰی خِفْتُ أَوْ خَشِیْتُ أَنْ یَکُوْنَ اللّٰہُ قَدْ تَوَفَّاہُ أَوْ قَبَضَہُ، قَالَ: فَجِئْتُ أَنْظُرُ فَرَفَعَ رَأْسَہُ، فَقَالَ: ((مَالَکَ یَا عَبْدَ الرَّحْمٰنِ؟ قَالَ: فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہُ، فَقَالَ: ((إِنَّ جِبْرِیْلَ علیہ السلام قَالَ لِیْ: أَلَا أُبَشِّرُکَ؟ إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ لَکَ مَنْ صَلّٰی عَلَیْکَ صَلَّیْتُ عَلَیْہِ وَمَنْ سَلَّمَ عَلَیْکَ سَلَّمْتُ عَلَیْہِ)) (مسند احمد: ۱۶۶۲)
سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں مسجد میں داخل ہوا اور جب میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مسجد میں سے نکلتے ہوئے دیکھا، تو میں آپ کے پیچھے ہو لیا،حتیٰ کہ آپ نے کھجوروں کے ایک باغ میں داخل ہوکر سجدہ کیا اور اتنا لمبا سجدہ کیا کہ مجھے یہ خوف آنے لگا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فوت کر دیا ہے، پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھنے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب آیا، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر اٹھایا اور فرمایا: اے عبدالرحمن! تجھے کیا ہوا ہے؟ میں نے ساری بات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلا دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سن کر فرمایا: جبریل علیہ السلام نے مجھے کہا: کیا میں آپ کو یہ خوشخبری نہ دوںکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کہا ہے کہ جو آپ پر درود پڑے گا، میں اس پر رحمت نازل کروں گا اور جو آ پ پر سلام بھیجے گا، میں اس پر سلامتی نازل کروں گا۔
Takhreej
(۲۰۲۹) تخریج: حسن لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف، ابو الحویرث عبد الرحمن بن معاویۃ فیہ ضعف من قبل حفظہ، ومحمد بن جبیر لا یصح سماعہ من عبد الرحمن بن عوف۔ أخرجہ الحاکم: ۱/ ۲۲۲، والبیھقی: ۲/ ۳۷۰ (انظر: ۱۶۶۲)
2029
Sahih
۔ (۲۰۳۰) (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِالْوَاحِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَتَوَجَّہَ نَحْوَ صَدَفَتِہِ فَدَخَلَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ فَخَرَّ سَاجِدًا فَأَطَالَ السُّجُوْدَ حَتّٰی ظَنُنْتُ أَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَبَضَ نَفْسَہُ فِیْہَا، فَدَنَوْتُ مِنْہُ فَجَلَسْتُ فَرَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ: ((مَنْ ھٰذَا؟)) قُلْتُ: عَبْدُالرَّحْمٰنِ، قَالَ: ((مَاشَأْنُکَ؟)) قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! سَجَدْتَّ سَجْدَۃً خَشِیْتُ أَنْ یَکُونَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ قَدْ قَبَضَ نَفْسَکَ فِیْھَا، فَقَالَ: ((أِنَّ جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ أَتَانِیْ فَبَشَّرَنِیْ فَقَالَ: إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ: مَنْ صَلّٰی عَلَیْکَ صَلَّیْتُ عَلَیْہِ، وَمَنْ سَلَّمَ عَلَیْکَ سَلَّمْتُ عَلَیْہِ، فَسَجَدْتُّ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ شُکْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۶۶۴)
سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روایت ہے، وہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بلند کھجوروں کی طرف نکلے، ان میں داخل ہوئے اورقبلہ رخ ہو کر سجدہ میں گر پڑے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اتنا لمبا سجدہ کیاکہ مجھے تو یہ گمان ہونے لگا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح قبض کرلی ہے، بہرحال میں آپ کے قریب ہو کر بیٹھ گیا اور اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر اٹھا لیا اور فرمایا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: عبدالرحمن ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تجھے کیا ہوا ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسا سجدہ کیا ہے کہ میں ڈر گیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فوت کر دیا ہے،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بات یہ ہے کہ جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے یہ خوشخبری دی: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جو آدمی آپ کے لیے رحمت کی دعا کرے گا، میں اس پر رحمت بھیجوں گا اور جو آپ پر سلام بھیجے گا، میںبھی اس پر سلام بھیجوں گا، تو میںنے اللہ تعالیٰ کے لئے شکرانے کے طور پر سجدہ کیا۔
Takhreej
(۲۰۳۰) تخریج: حسن لغیرہ۔ أخرجہ الحاکم: ۱/ ۵۵۰، والبیھقی: ۲/ ۳۷۱ (انظر: ۱۶۶۴)
2030
Sahih
۔ (۲۰۳۱) عَنْ أَبِیْ بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ شَہِدَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتَاہُ بَشِیْرٌیُبَشِّرُہُ بِظَفَرِ جُنْدٍ لَّہُ عَلٰی عَدُوِّھِمْ وَرَأَسُہُ فِیْ حِجْرِ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَقَامَ فَخَرَّ سَاجِدًا، ثُمَّ أَنْشَأَ یُسَائِلُ الْبَشِیْرَ فَأَخْبَرَہُ فِیْمَا أَخْبَرَہُ اَنَّہُ وَلِیَ أَمْرَھُمُ امْرَأَۃٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْآنَ ھَلَکَتِ الرِّجَالُ إِذَا أَطَاعَتِ النِّسَائَ، ھَلَکَتِ الرِّجَالُ إِذَا أَطَاعَتِ النِّسَائَ۔)) ثَلَاثًا۔ (مسند احمد: ۲۰۷۲۹)
ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھا کہ ایک بشارت دینے والا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ خوشخبری دینے آیا تھا کہ آپ کا لشکر دشمن پر غالب آ گیا ہے، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سر سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی گود میں تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اٹھ کر سجدہ کی حالت میںگر گئے، پھر بشارت دینے والے سے سوال و جواب کرنے لگے، اس نے مختلف باتیں بتائیں، ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ ان کے حکومتی معاملات کی والی ایک عورت بن گئی ہے، یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب وہ مرد ہلاک ہوگئے، جو عورتوں کی اطاعت کرنے لگ گئے، وہ مرد ہلاک ہوگئے جو عورتوں کی اطاعت کرنے لگے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین دفعہ یہ ارشاد دہرایا۔
Takhreej
(۲۰۳۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف بکار بن عبد العزیز، وأبوہ عبد العزیز بن ابی بکرۃ روی عنہ جمع، وذکرہ ابن حبان والعجلی فی الثقات ، ولسجود الشکر شواھد۔ أخرجہ البزار: ۳۶۹۲، والحاکم: ۴/ ۲۹۱، وأخرج قصۃ سجود الشکر ابوداود: ۲۷۷۴، والترمذی: ۱۷۸، وابن ماجہ: ۱۳۹۴ (انظر: ۲۰۴۵۵)
Explanation
فوائد:… یہ سجدہ کسی نعمت کے حصول، مصیبت و تکلیف سے چھٹکارے اور خوشی و مسرت کے موقع پر کیا جاتا ہے۔
2031
Zaeef