TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نماز با جماعت کے بارے میں ابواب - نماز با جماعت کے بارے میں ابواب - Book 45 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 45 of Musnad Ahmad, with 4 chapters and 47 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

47 Hadith · 4 Chapters
اس کی فضیلت کے بارے میں منقول احادیث کا بیان
۔ (۲۴۴۰) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صَلَاۃُ الرَّجُلِ فِی جَمَاعَۃٍ تَزِیْدُ عَلٰی صَلَاتِہِ فِی بَیْتِہِ وَصَلَاتِہِ فِی سُوقِہِ بِضْعًا وَعِشْرِیْنَ دَرَجَۃً، وَذٰلِکَ أَنَّ أَحَدَکُمْ اِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوئَ ثُمَّ أَتَی الْمَسْجِدَ لَا یُرِیْدُ اِلَّا الصَّلَاۃَ، لَا یَنْہَزُہُ اِلَّا الصَّلَاۃُ لَمْ یَخْطُ خَطْوَۃً اِلَّا رُفِعَ لَہُ بِہَا دَرَجَۃٌ وَحُطَّ بِھَا عَنْہُ خَطِیْئَۃٌ حَتّٰی یَدْخُلَ الْمَسْجِدَ، فَاِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ کَانَ فِی صَلَاۃٍ مَا کَانَتِ الصَّلَاۃُ ھِیَ تَحْبِسُہُ وَالْمَلَائِکَۃُ یُصَلُّوْنَ عَلٰی أَحَدِھِمْ مَادَامَ فِیْ مَجْلِسِہِ الَّذِی صَلّٰی فِیْہِ یَقُوْلُوْنَ: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَہُ، اَللّٰہُمَّ ارْحَمْہُ، اَللّٰہُمَّ تُبْ عَلَیْہِ، مَالَمْ یُؤْذِ فِیْہِ، مَالَمْ یُحْدِثْ فِیْہِ۔ (مسند احمد: ۷۴۲۴)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی کی جماعت کے ساتھ نماز اس کی گھر والی اور بازار والی نماز سے پچیس چھبیس گنا زیادہ ہوتی ہے اور وہ اس لیے کہ جب تم میں سے کوئی وضو کرتا ہے اور اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر وہ مسجد میں آتا ہے، اس کا نماز کے علاوہ اور کوئی ارادہ نہ ہوتا، اس کو کھڑا کرنے والی نماز ہی ہوتی ہے، تو وہ جو قدم بھی اٹھاتا ہے، اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند کر دیا جاتا ہے اور ایک غلطی کو مٹادیا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ مسجد میں داخل ہوجاتا ہے۔ جب وہ مسجد میں داخل ہوجاتا ہے تو وہ نماز میں ہی رہتا ہے ، جب تک نماز اس کومسجد میں روکے رکھتی ہے اور جب تک آدمی اس جگہ میں رہتا ہے، جس میں اس نے نماز پڑھی ہوتی ہے تو فرشتے اس کے لیے دعا کرتے ہوئے یوں کہتے ہیں: اے اللہ! اس کو بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما، اے اللہ! اس کی توبہ قبول کر۔ (دعا کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے) جب تک وہ شخص کسی تکلیف نہیں دیتا یا جب تک بے وضوء نہیں ہوجاتا۔
Takhreej
(۲۴۴۰) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۴۷۷، ۶۴۷، ۲۱۱۹، ومسلم: ص ۴۵۹ (انظر: ۷۴۳۰)
2440
Sahih
اس کی فضیلت کے بارے میں منقول احادیث کا بیان
۔ (۲۴۴۱) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَنْ سَرَّہُ أَنْ یَلْقَی اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ غَدًا مُسْلِمًا فَلْیُحَافِظْ عَلٰی ھٰؤُلَائِ الصَّلَوَاتِ الْمَکْتُوْبَاتِ حَیْثُ یُنَادٰی بِہِنَّ فَاِنَّھُنَّ مِنْ سُنَنِ الْھُدَی وَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ شَرَعَ لِنَبِیِّکُمْ سُنَنَ الْھُدَی، وَمَا مِنْکُمْ اِلَّا وَلَہُ مَسْجِدٌ فِی بَیْتِہِ، وَلَوْ صَلَّیْتُمْ فِی بُیُوْتِکُمْ کَمَا یُصَلِّی ھٰذَا الْمُتْخَلِّفُ فِی بَیْتِہِ لَتَرَکْتُمْ سُنَّۃَ نَبِیِّکُمْ، وَلَوْ تَرَکْتُمْ سُنَّۃَ نَبِیِّکُمْ لَضَلَلْتُمْ وَلَقَدْ رَأَیْتُنِی وَمَا یَتَخَلَّفُ عَنْہَا اِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُوْمٌ نِفَاقُہُ وَلَقَدْ رَأَیْتُ الرَّجُلَ یُہَادٰی بَیْنَ الرَّجُلَیْنِ حَتّٰی یُقَامَ فِی الصَّفِّ، وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ رَجُلٍ یَتَوَضَّأُ فَیُحْسِنُ الْوُضُوئَ ثُمَّ یَأْتِی مَسْجِدًا مِنَ الْمَسَاجِدِ، فَیَخْطُوْ خَطْوۃً اِلَّا رُفِعَ بِہَا دَرَجَۃٌ أَوْ حُطَّ بِہَا عَنْہُ خَطِیْئَۃٌ وَکُتِبَتْ لَہُ بِھَا حَسَنَۃٌ، حَتّٰی أَنْ کُنَّا لَنُقَارِبُ بَیْنَ الْخُطَا وَاِنْ فَضْلَ صَلَاۃِ الرَّجُلِ فِی جَمَاعَۃٍ عَلٰی صَلَاتِہِ وَحْدَہُ بِخَمْسٍ وَعِشْرِیْنَ دَرَجَۃً۔)) (مسند احمد: ۳۶۲۳)
سیّدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جس کو یہ بات خوش کرتی ہے کہ وہ کل اللہ تعالیٰ کو بحیثیت ِ مسلمان ملے تو اس کو چاہیے کہ وہ فرض نمازوں کی حفاظت اس مقام پر کرے جہاں ان کے لیے بلایا جاتا ہے،کیونکہ یہ ہدایت کے طریقوں میں سے ہیں اوربے شک اللہ نے اپنے نبی کے لیے ہدایت کے طریقے مقرر کیے ہیں۔تم میں سے ہر ایک کی اس کے گھر میں مسجد ہونی چاہیے اور اگر تم اپنے گھر وںمیں نماز پڑھنا شروع کر دو گے، جیسا کہ یہ پیچھے رہنے والا گھر میں نماز ادا کرتاہے تو تم اپنے نبی کی سنت کو ترک کر دو گے اور اگر تم نے اپنے نبی کی سنت چھوڑ دی تو تم گمراہ ہوجاؤ گے۔ میں نے دیکھا کہ نماز سے وہی پیچھے رہتا تھا جس کا نفاق واضح ہوتا تھا اور میں نے دیکھا کہ ایک آدمی کو دو آدمیوں کا سہارادے کر (مسجد کی طرف) لایا جاتا، یہاں تک کہ اس کو صف میںکھڑا کردیا جاتا۔رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی وضو کرتا ہے اور اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر مسجد کی طرف آتا ہے تو وہ جو قدم اٹھاتاہے، اس کے عوض اس کا ایک درجہ بلند کردیا جاتا ہے یا اس کا ایک گناہ مٹا دیا جاتاہے اور اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے۔ (ہماری صورتحال تو یہ تھی کہ ہم مسجد کی طرف آتے وقت) قریب قریب قدم رکھتے تھے(تاکہ کثرتِ قدم کی وجہ سے نیکیاں زیادہ ہوجائیں) اور بے شک آدمی کی جماعت کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز اکیلے پڑھی ہوئے نماز سے پچیس گنا زیادہ فضیلت والی ہوتی ہے۔
Takhreej
(۲۴۴۱) تخریـج: …صحیح، وھذا اسناد فیہ ابراہیم بن مسلم الھجری، وفیہ لین أخرجہ دون قولہ: ((وان فضل صلاۃ الرجل…)) ابن ماجہ: ۷۷۷، وعبد الرزاق: ۱۹۷۹، وأما قولہ: ((وان فضل صلاۃ الرجل…)) أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۲/ ۴۷۹، والبزار: ۴۵۸، وابویعلی: ۴۹۹۵، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۰۱۰۳ (انظر: ۳۵۶۴، ۳۶۲۳)
2441
Sahih
اس کی فضیلت کے بارے میں منقول احادیث کا بیان
۔ (۲۴۴۲) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((تَفْضُلُ الصَّلَاۃُ فِی الْجَمِیْعِ صَلَاۃَ الرَّجُلِ وَحْدَہُ خَمْسًا وَعِشْرِیْنَ وَیَجْتَمِعُ مَلَائِکَۃُ اللَّیْلِ وَمَلَائِکَۃُ النَّھَارِ فِی صَلَاۃِ الْفَجْرِ۔)) ثُمَّ یَقُوْلُ أَبُو ھُرَیْرَۃَ: اِقْرَئُ وا اِنْ شِئْتُمْ {وَقُرْآنَ الْفَجْرِ اِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْہُودًا}۔ (مسند احمد: ۷۱۸۵)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جماعت میں پڑھی ہوئی نماز آدمی کے اکیلی ادا کی ہوئی نماز سے پچیس گنا زیادہ فضیلت والی ہوتی ہے اور دن رات کے فرشتے فجر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں۔ پھر سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر تم چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھو: {وَقُرْآنَ الْفَجْرِ اِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْہُودًا} یعنی: اور فجر کا قرآن، بے شک فجر کا قرآن حاضر کیا گیا ہے۔
Takhreej
(۲۴۴۲) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۶۴۸، ۴۷۱۷، ومسلم: ۶۴۹(انظر: ۷۱۸۵)
2442
Sahih
اس کی فضیلت کے بارے میں منقول احادیث کا بیان
۔ (۲۴۴۳) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَوْ أَنَّ أَحَدَکُمْ یَعْلَمُ أَنَّہُ اِذَا شَہِدَ الصَّلَاۃَ مَعِی کَانَتْ لَہُ أَعْظَمَ مِنْ شَاۃٍ سَمِیْنَۃٍ أَوْ شَاتَیْنِ لَفَعَلَ، فَمَا یُصِیْبُ مِنَ الْأَجْرِ أَفْضَلُ۔)) (مسند احمد: ۷۹۷۱)
سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرتم میں سے کوئی جان لے کہ جب وہ میرے ساتھ نماز میں حاضر ہو گا تو یہ نماز اس کے حق میں ایک یا دو موٹی موٹی بکریوں سے بہتر ہو گی تو وہ ضرور حاضر ہو گا، (یاد رکھو کہ اِس نماز میں) اسے جو اجر ملے گا، وہ اس سے بھی زیادہ ہے۔
Takhreej
(۲۴۴۳) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۶۴۴، ۲۴۲۰، ۷۲۲۴، ومسلم: ۶۵۱ (انظر: ۷۳۲۸، ۷۹۸۴)
2443
Sahih
اس کی فضیلت کے بارے میں منقول احادیث کا بیان
۔ (۲۴۴۴) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((صَلَاۃٌ فِی الْجَمِیْعِ تَزِیْدُ عَلٰی صَلَاۃِ الرَّجُلِ وَحْدَہُ سَبْعًا وَعِشْرِیْنَ)) (مسند احمد: ۴۶۷۰)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی کی باجماعت نماز، اس کی اکیلی نماز سے ستائیس گنا زیادہ افضل ہے۔
Takhreej
(۲۴۴۴) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۶۴۵، ومسلم: ۶۵۰(انظر: ۴۶۷۰، ۵۳۳۲)
2444
Sahih
اس کی فضیلت کے بارے میں منقول احادیث کا بیان
۔ (۲۴۴۵) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صَلَاۃُ الْجَمَاعَۃِ تَفْضُلُ صَلَاۃَ أَحَدِکُمْ بِسَبْعٍ وَّعِشْرِیْنَ دَرَجَۃً۔)) (مسند احمد: ۵۷۷۹)
(دوسری سند)وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جماعت کی نماز تم میں سے کسی ایک کی نماز سے ستائیس گنا زیادہ فضیلت والی ہے۔
Takhreej
(۲۴۴۵) تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الاول
2445
Sahih
اس کی فضیلت کے بارے میں منقول احادیث کا بیان
۔ (۲۴۴۶) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَفْضُلُ صَلَاۃُ الْجَمَاعَۃِ عَلَی الْوَحْدَۃِ سَبْعًا وَعِشْرِیْنَ دَرَجَۃً أَوْ خَمْسًا وَّ عِشْرِیْنَ)) (مسند احمد: ۹۸۶۰)
سیّدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: باجماعت نماز، اکیلے کی نماز پر ستائیس یا پچیس درجہ زیادہ فضیلت والی ہوتی ہے۔
Takhreej
(۲۴۴۶) تخریـج: …حدیث صحیح۔ انظر: ۱۲۸۹(۲۴۴۷) تخریـج: …اسنادہ صحیح۔ أخرجہ النسائی: ۲/ ۱۰۳ (انظر: ۲۴۲۲۱)
2446
Sahih
اس کی فضیلت کے بارے میں منقول احادیث کا بیان
۔ (۲۴۴۷) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فُضِّلَتِ الْجَمَاعَۃُ عَلٰی صَلَاۃِ الْفَذِّ خَمْسًا وَّعِشْرِیْنَ)) (مسند احمد: ۲۴۷۲۵)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اکیلے کی نماز پر جماعت کو پچیس گنا زیادہ فضیلت دی گئی ہے۔
2447
Sahih
اس کی فضیلت کے بارے میں منقول احادیث کا بیان
۔ (۲۴۴۸) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَضْلُ صَلَاۃِ الرَّجُلِ فِی الْجَمَاعَۃِ عَلٰی صَلَاتِہِ وَحْدَہُ بِضْعٌ وَّعِشْرُوْنَ دَرَجَۃً)) (مسند احمد: ۳۵۶۴)
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی کی جماعت میں نماز اس کے اکیلے نماز سے پچیس چھبیس گنا زیادہ فضیلت والی ہوتی ہے۔
Takhreej
(۲۴۴۸) تخریـج: …صحیح لغیرہ، عطاء بن السائب قد اختلط، لکنہ قد توبع أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۲/ ۴۷۹، والبزار: ۴۵۸، وابویعلی: ۴۹۹۵، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۰۱۰۳ (انظر: ۳۵۶۴)
2448
Sahih
اس کی فضیلت کے بارے میں منقول احادیث کا بیان
۔ (۲۴۴۹)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ صَلَاۃُ الْجَمْعِ تَفْضُلُ عَلٰی صَلَاۃِ الرَّجُلِ وَحْدَہُ خَمْسَۃً وَعِشْرِیْنَ ضِعْفًا کُلُّہَا مِثْلُ صَلَاتِہِ ۔ (مسند احمد: ۳۵۶۷)
(دوسری سند)بے شک اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جماعت کی نماز، اکیلے کی نماز سے پچیس گنا زیادہ فضیلت والی ہوتی ہے، ان میں سے ہر ایک اس اکیلے کی نماز کی طرح ہوتی ہے۔
Takhreej
(۲۴۴۹)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الاول
2449
Sahih
اس کی فضیلت کے بارے میں منقول احادیث کا بیان
۔ (۲۴۵۰) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((صَلَاۃُ الْجَمَاعَۃِ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاۃِ أَحَدِکُمْ وَحْدَہُ بِخَمْسَۃٍ وَعِشْرِیْنَ جَزْئً ا۔)) (مسند احمد: ۱۰۳۱۰)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جماعت کی نماز تم میں سے اکیلے کی نماز سے پچیس حصے زیادہ فضیلت والی ہوتی ہے۔
Takhreej
(۲۴۵۰) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۶۴۹، وانظر الحدیث : ۱۲۸۹ (انظر: ۱۰۱۲۱)
2450
Sahih
اس کی فضیلت کے بارے میں منقول احادیث کا بیان
۔ (۲۴۵۱) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوئَ ہُ ثُمَّ رَاحَ فَوَجدَ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا أَعْطَاہُ اللّٰہُ مِثْلَ أَجْرِ مَنْ صَلَّاھَا أَوْ حَضَرَھَا لَا یَنْقُصُ ذٰلِکَ مِنْ أُجُوْرِھِمْ شَیْئًا۔)) (مسند احمد: ۸۹۳۴)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اچھی طرح مکمل وضو کیا، پھر وہ مسجد گیا، لیکن اس نے دیکھا کہ لوگ تو نماز پڑھ چکے ہیں، اللہ اس کو اتنا اجر عطا کرے گا، جتنا کہ ان لوگوں کو دیا جو اس نماز میں حاضر ہوئے ، جبکہ ان کے اجر میں کوئی کمی بھی نہیں آئے گی ۔
Takhreej
(۲۴۵۱) تخریـج: …اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۵۶۴ (انظر: ۸۹۴۷)
2451
Sahih
فجر اور عشاء کی جماعتوں میں حاضر ہونے کی ترغیب کا بیان
۔ (۲۴۵۲) عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ صَلَّی الْعِشَائَ فِی جَمَاعَۃٍ فَہُوَ کَمَنْ قَامَ نِصْفَ اللَّیْلِ، وَمَنْ صَلَّی الصُّبْحَ فِی جَمَاعَۃٍ فَہُوَ کَمَنْ قَامَ اللَّیْلَ کُلَّہُ۔)) (مسند احمد: ۴۰۹)
سیّدناعثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے عشاء کی نماز باجماعت ادا کی، پس وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے آدھی رات قیام کیا اور جس نے صبح کی نماز باجماعت پڑھی، وہ اس شخص کی طرح ہے، جس نے ساری رات قیام کیا۔
Takhreej
(۲۴۵۲) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۶۵۶ (انظر: ۴۰۸، ۴۰۹)
2452
Sahih
فجر اور عشاء کی جماعتوں میں حاضر ہونے کی ترغیب کا بیان
۔ (۲۴۵۳) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَوْ أَنَّ النَّاسَ یَعْلَمُوْنَ مَا فِی صَلَاۃِ الْعَتَمَۃِ وَصَلَاۃِ الصُّبْحِ لَأَتَوْھُمَا وَلَوْ حَبْوًا۔)) (مسند احمد: ۲۵۰۱۱)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ عشاء اور صبح کی نمازوں میں کتنا (اجر و ثواب) ہے، تو وہ ان کو ادا کرنے کے لیے ضرور آئیں، اگرچہ انھیں سرین کے بل گھسٹ کر آنا پڑے ۔
Takhreej
(۲۴۵۳) تخریـج: …اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۷۹۶، والنسائی فی ’’الکبری‘‘: ۳۸۶، وابن ابی شیبۃ: ۱/ ۳۳۲ (انظر: ۲۴۵۰۶)
2453
Sahih
فجر اور عشاء کی جماعتوں میں حاضر ہونے کی ترغیب کا بیان
۔ (۲۴۵۴) عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصُّبْحَ فَقَالَ: ((شَاھِدٌ فُلَانٌ؟)) فَقَالُوا: لَا، فَقَالَ: ((شَاھِدٌ فُلَانٌ؟)) فَقَالُوا: لَا، فَقَالَ: ((شَاھِدٌ فُلَانٌ؟)) فَقَالُوا: لَا، فَقَالَ: ((اِنَّ ھَاتَیْنِ الصَّلَاتَیْنِ مِنْ أَثْقَلِ الصَّلَوَاتِ عَلَی الْمُنَافِقِیْنَ وَلَوْ یَعْلَمُوْنَ مَا فِیْہِمَا لَأَتَوْھُمَا وَلَوْ حَبْوًا، وَالصَّفُّ الْمُقَدَّمُ عَلٰی مِثْلِ صَفِّ الْمَلَائِکَۃِ وَلَوْ تَعْلَمُوْنَ فَضِیْلَتَہُ لَابْتَدَرْتُمُوْہُ وَصَلَاۃُ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلَیْنِ أَزْکٰی مِنْ صَلَاتِہِ مَعَ رَجُلٍ، وَمَا کَانَ أَکْثَرَ فَہُوَ أَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۸۷)
سیّدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی اور پھر فرمایا: فلاں آدمی حاضر ہے؟ لوگوںنے کہا: نہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فلاں آدمی حاضر ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: فلاں آدمی موجود ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک یہ دو (عشا اور فجر کی) نمازیں منافقین پر بڑی بوجھل ہیں، اگر وہ جان لیں ان دونوں کا اجر کیاہے تو وہ ان کی ادائیگی کے لیے ضرور آئیں، اگرچہ انھیں سرین کے بل گھسٹ کر آنا پڑے۔ اور پہلی صف فرشتوں کی صف کی طرح ہے اور اگر تم اس کی فضیلت کو جان لو تو تم ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو اور آدمی کی دو افراد کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز ایک آدمی کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز سے زیادہ پاکیزہ (یعنی زیادہ ثواب والی) ہے، اسی طرح جتنے آدمی زیادہ ہوں گے، وہ نماز اتنی زیادہ اللہ کو محبوب ہو گی ۔
Takhreej
(۲۴۵۴) تخریـج: …حدیث حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۵۵۴، والنسائی: ۲/ ۱۰۴ (انظر: ۲۱۲۶۵)
2454
Sahih
فجر اور عشاء کی جماعتوں میں حاضر ہونے کی ترغیب کا بیان
۔ (۲۴۵۵)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْفَجْرَ فَلَمَّا صَلّٰی قَالَ: ((شَاھِدٌ فُلَانٌ؟)) فَسَکَتَ الْقَوْمُ، قَالُوا نَعَمْ، وَلَمْ یَحْضُرْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ أَثْقَلَ الصَّلَاۃِ عَلَی الْمُنَافِقِیْنَ صَلَاۃُ الْعِشَائِ وَالْفَجْرِ (فَذَکَرَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ وَفِیْہِ) اِنَّ صَلَاتَکَ مَعَ رَجُلَیْنِ أَزْکٰی مِنْ صَلَاتِکَ مَعَ رَجُلٍ، وَصَلَاتُکَ مَعَ رَجُلٍ أَزْکٰی مِنْ صَلَاتِکَ وَحْدَکَ، وَمَا کَثُرَ فَہُوَ اَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۸۸)
(دوسری سند) انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز فجر پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا: فلاں شخص موجود ہے؟ لوگ خاموش رہے ، پھر بعض نے کہا: جی ہاں، وہ حاضر نہیں ہے۔پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک منافقوں پر فجر اور عشاء سب سے بھاری نمازیں ہیں، ( پھر سابقہ روایت کی طرح باتیں ذکر کیں)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک تیری دو آدمیوں کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز ایک آدمی کے ساتھ ادا کی ہوئی نمازسے زیادہ پاکیزہ ہے اور تیری ایک آدمی کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز اکیلی ادا کی ہوئی نماز سے زیادہ پاکیزہ ہے، اور جتنے لوگ زیادہ ہوں گے، تو وہ اتنا ہی اللہ کو زیادہ محبوب ہے۔
Takhreej
(۲۴۵۵)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الاول
2455
Sahih
فجر اور عشاء کی جماعتوں میں حاضر ہونے کی ترغیب کا بیان
۔ (۲۴۵۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃ الْفَجْرِ، فَلَمَّا قَضَی الصَّلَاۃَ رَأَی مِنْ أَھْلِ الْمَسْجِدِ قِلَّۃً، فَقَالَ: ((شَاھِدٌ فُلَانٌ؟)) قُلْنَا: نَعَمْ، حَتّٰی عَدَّ ثَـلَاثَۃَ نَفَرٍ، فَقَالَ: ((اِنَّہُ لَیْسَ مِنْ صَلَاۃٍ أَثْقَلَ عَلَی الْمُنَافِقِیْنَ مِنْ صَلَاۃِ الْعِشَائِ الْآخِرَۃِ وَمِنْ صَلَاۃِ الْفَجْرِ۔)) وَذَکَرَ الْحَدِیْثَ بِطُوْلِہِ۔ (مسند احمد: ۲۱۵۹۵)
(تیسری سند)انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ نمازیوں میں کچھ کمی ہے، پھر پوچھا: فلاں آدمی حاضر ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں، حتیٰ کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین آدمیوں کے متعلق پوچھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک منافقوں پر عشاء اور فجر کی نماز سے کوئی نماز زیادہ بھاری نہیں ہے۔ (پھر اوپر والی پوری حدیث ذکر کی)۔
Takhreej
(۲۴۵۶) تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الاول
2456
Sahih
فجر اور عشاء کی جماعتوں میں حاضر ہونے کی ترغیب کا بیان
۔ (۲۴۵۷) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَوْ یَعْلَمُ الْمُتَخَلِّفُوْنَ عَنْ صَلَاۃِ الْعِشَائِ وَصَلَاۃِ الْغَدَاۃِ مَا لَھُمْ فِیْھِمَا لَأَتَوْھُمَا وَلَوْ حَبْوًا)) (مسند احمد: ۱۲۵۶۱)
سیّدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر فجر اور عشاء کی نمازوں سے پیچھے رہنے والے جان لیں کہ ان کے لیے ان دونوں میں کتنا اجر و ثواب ہے تو وہ مسجد میں ضرور آئیں اگر چہ ان کو سرینوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑے۔
Takhreej
(۲۴۵۷) تخریـج: …صحیح لغیرہ۔
2457
Sahih
جماعت کے بارے میں تاکید اور اس پر آمادہ کرنے کابیان
۔ (۲۴۵۸) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَتَی ابْنُ أُمِّ مَکْتُوْمٍ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَنْزِلِی شَاسِعٌ وَأَنَا مَکْفُوْفُ الْبَصَرِ وَأَنَا أَسْمَعُ الْأَذَانَ، قَالَ: ((فَاِنْ سَمِعْتَ الْأَذَانَ فَأَجِبْ وَلَوْ حَبْوًا أَوْ زَحْفًا۔)) (مسند احمد: ۱۵۰۱۱)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیّدنا ابن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا:اے اللہ کے رسول! میرا گھر مسجد سے دور ہے، جبکہ میں نابینا بھی ہوں اور اذان بھی سنتاہوں (تو کیا میں گھر میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو اذان سنتا ہے تو اس کا جواب دیا کر، اگرچہ تجھے سرین کے بل گھسٹ کر یا کولہوں کے بل سرک کر آنا پڑے ۔
Takhreej
(۲۴۵۸) تخریـج: …اسنادہ ضعیف، عیسی بن جاریۃ، قال ابن معین: لیس بذاک عندہ مناکیر، وقال ابوداود: منکر الحدیث أخرجہ عبد بن حمید: ۱۱۴۸، وابویعلی: ۱۸۰۳، وابن حبان: ۲۰۶۳، والطبرانی فی ’’الاوسط‘‘: ۳۷۳۸ ۔ وقد روی ھذا الحدیث عن ابن ام مکتوم نفسہ، سیأتی برقم: ۱۳۰۲(انظر: ۱۴۹۴۸)
2458
Zaeef
جماعت کے بارے میں تاکید اور اس پر آمادہ کرنے کابیان
۔ (۲۴۵۹) عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمِّ مَکْتُوْمٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جِئْتُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کُنْتُ ضَرِیْرًا شَاسِعَ الدَّارِ وَلِی قَائِدٌ لَا یُلَائِمُنِیْ فَہَلْ تَجِدُ لِی رُخْصَۃً أَنْ أُصَلِّیَ فِی بَیْتِی؟ قَالَ: ((أَتَسْمَعُ النِّدَائَ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((مَا أَجِدُلَکَ رُخْصَۃً۔)) (مسند احمد: ۱۵۵۷۱)
سیّدنا عمرو بن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیااور کہا: اے اللہ کے رسول!میں نابینا ہوں اور میرا گھر بھی مسجد سے دور ہے اور میرا ایک قائد تو ہے لیکن وہ میری موافقت نہیں کرتا تو کیا مجھے گھر میں نماز پڑھنے کی رخصت دیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تم اذان کی آواز سنتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تب میں تیرے لیے کوئی رخصت نہیں پاتا ۔
Takhreej
(۲۴۵۹) تخریـج: …حدیث صحیح لغیرہ، وھذا اسناد منقطع، ابو رزین مسعود بن مالک لم یسمع من ابن ام مکتوم أخرجہ ابوداود: ۵۵۲، وابن ماجہ: ۷۹۲ (انظر: ۱۵۴۹۰)
2459
Sahih