TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نماز با جماعت کے بارے میں ابواب - نماز با جماعت کے بارے میں ابواب - Book 45 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 45 of Musnad Ahmad, with 4 chapters and 47 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

47 Hadith · 4 Chapters
ان عذروں کا بیان جو جماعت سے پیچھے رہنے کو جائز کردیتے ہیں
۔ (۲۴۸۰) عَنْ أَبِی الْمَلِیْحِ بْنِ أُسَامَۃَ قَالَ: خَرَجْتُ اِلَی الْمَسْجِدِ فِی لَیْلَۃٍ مَطِیْرَۃٍ، فَلَمَّا رَجَعْتُ اِسْتَفْتَحْتُ، فَقَالَ أَبِی: مَنْ ھٰذَا؟ قَالُوْا: أَبُو الْمَلِیْحِ، قَالَ: لَقَدْ رَأَیْتُنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زَمَنَ الْحُدَیْبِیَۃِ وَأَصَابَتْنَا سَمَائٌ لَمْ تَبُلَّ أَسافِلُ نِعَالِنَا، فَنَادَی مُنَادِی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ صَلُّوا فِی رِحَالِکُمْ۔ (مسند احمد: ۲۰۹۸۳)
ابوملیح بن اسامہ کہتے ہیں:بارش والی رات کو میں مسجد کی طرف گیا، (نمازِ عشاء پڑھ کر) واپس آیا اور دروازہ کھولنے کو کہا۔ میرے ابو جان نے کہا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ ابو ملیح ہے۔ انھوں نے کہا: ہم حدیبیہ کے موقع رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، ہم نے دیکھا کہ (ہلکی سی) بارش ہوئی، اس سے ہمارے جوتوں کے نچلے والے حصے بھی نہیں بھیگے تھے۔ لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مؤذن نے کہا: اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔
Takhreej
(۲۴۸۰) تخریـج: …اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۹۳۶ (انظر: ۲۰۷۰۷)
2480
Sahih
ان عذروں کا بیان جو جماعت سے پیچھے رہنے کو جائز کردیتے ہیں
۔ (۲۴۸۱)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانِ) عَنْ أَبِیْہِ أَنَّ یَوْمَ حُنَیْنٍ کَانَ مَطِیْرًا، قَالَ: فَأَمَرَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُنَادِیَہُ اَنِِ الصَّلَاۃُ فِی الرِّحَالِ۔ (مسند احمد: ۲۰۹۷۶)
(دوسری سند) وہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں: کہ حنین کے دن بارش تھی، اس لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے مؤذن کوحکم دیا کہ وہ یہ کہے کہ خیموں میں ہی نماز ہو گی۔
Takhreej
(۲۴۸۱)تخریـج: …اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۱۰۵۷(انظر: ۲۰۷۰۰)
2481
Sahih
ان عذروں کا بیان جو جماعت سے پیچھے رہنے کو جائز کردیتے ہیں
۔ (۲۴۸۲) حدثنا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا ابْنُ أَبِی عَدِیٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ أَظُنُّہُ رَفَعَہُ قَالَ: أَمَرَ مُنَادِیًا فَنَادٰی فِی یَوْمٍ مَطِیْرٍ أَنْ صَلُّوا فِی رِحَالِکُمْ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۳)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بارش والے دن مؤذن کو حکم دیاکہ وہ کہے: اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔
Takhreej
(۲۴۸۲) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۶۱۶، ۶۶۸، ۹۰۱، ومسلم: ۶۹۹(انظر: ۲۵۰۳)
2482
Sahih
ان عذروں کا بیان جو جماعت سے پیچھے رہنے کو جائز کردیتے ہیں
۔ (۲۴۸۳) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا وُضِعَ الْعَشَائُ وَأُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ فَابْدَؤُا بِالْعَشَائِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۶۲۱)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب شام کا کھانا پیش کر دیا جائے اور اُدھر نماز کی اقامت بھی کہہ دی جائے تو پہلے کھانا کھا لیا کرو ۔
Takhreej
(۲۴۸۳) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۵۴۶۵، ومسلم: ۵۵۸ (انظر: ۲۴۱۲۰)
2483
Sahih
ان عذروں کا بیان جو جماعت سے پیچھے رہنے کو جائز کردیتے ہیں
۔ (۲۴۸۴) عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا حَضَرَا الْعَشَائُ وَحَضَرَتِ الصَّلَاۃُ فَابْدَئُوْا بِالْعَشَائِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۳۲)
سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب رات کا کھانا پیش کر دیا جائے اور نماز کا وقت بھی ہو جائے تو پہلے کھانا کھا لیا کرو ۔
Takhreej
(۲۴۸۴) تخریـج: …حدیث صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۲/ ۴۲۰، وابویعلی: ۶۹۹۳، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۳/ (۶۶۰)، والطحاوی فی ’’شرح مشکل الآثار‘‘: ۱۹۸۵ (انظر: ۲۶۴۹۹)
2484
Sahih
ان عذروں کا بیان جو جماعت سے پیچھے رہنے کو جائز کردیتے ہیں
۔ (۲۴۸۵) عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا وُضِعَ الْعَشَائُ وَأُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ فَابْدَئُوْا بِالْعَشَائِ۔)) قَالَ: وَلَقَدْ تَعَشَّی ابْنُ عُمَرَ مَرَّۃً وَھُوَ یَسْمَعُ قِرَائَ ۃَ الْاِمَامِ۔ (مسند احمد: ۵۸۰۶)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب شام کا کھانا رکھ دیا جائے اور اُدھر نماز بھی کھڑی کردی جائے تو پہلے کھانا کھا لیا کرو۔ نافع کہتے ہیں: ایک دفعہ سیّدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ شام کا کھانا کھا رہے تھے او روہ امام کی قراء ت سن رہے تھے۔
Takhreej
(۲۴۸۵) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۵۴۶۴، ومسلم: ۵۵۹ (انظر: ۵۸۰۶)
2485
Sahih
ان عذروں کا بیان جو جماعت سے پیچھے رہنے کو جائز کردیتے ہیں
۔ (۲۴۸۶) عَنْ مَوْھُوبِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ أَزْھَرَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ کَانَ یُخَالِفُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِالْعَزِیْزِ، فَقَالَ لَہُ عُمَرُ: مَا یَحْمِلُکَ عَلٰی ھٰذَا؟ فَقَالَ: اِنِّی رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی صَلَاۃً مَتٰی تُوَافِقُہَا أُصَلِّیْ مَعَکَ وَمَتٰی تُخَالِفُہَا أُصَلِّی وَأَنْقَلِبُ اِلَی أَھْلِی۔ (مسند احمد: ۱۲۵۱۳)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، عمر بن عبد العزیز k (کی نماز سے) پیچھے رہتے تھے، (یعنی وہ ان کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے تھے، ایک دن) عمر بن عبد العزیز نے ان سے پوچھا: تجھے کون سی چیز ایسا کرنے پر آمادہ کرتی ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، جب تم اس نماز کی موافقت کرتے ہو تو میں تمہارے ساتھ پڑھ لیتا ہوں، لیکن جب تم اس کی مخالفت کرتے ہو تو میں (وقت پر) نماز ادا کر کے اپنے گھر چلا جاتا ہوں۔
Takhreej
(۲۴۸۶) تخریـج: …اسنادہ ضعیف، موھوب بن عبد الرحمن بن ازھر القرشی فی عداد المجھولین (انظر: ۱۲۴۸۵)
2486
Zaeef