جماعت کے بارے میں تاکید اور اس پر آمادہ کرنے کابیان
۔ (۲۴۶۰) حدثنا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّھْرِیِّ فَسُئِلَ سُفْیَانُ عَمَّنْ؟ قَالَ: ھُوَ مَحْمُوْدٌ اِنْ شَائَ اللّٰہُ أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِکٍ کَانَ رَجُلًا مَحْجُوبَ الْبَصَرِ وَاِنَّہُ ذَکَرَ لِلنَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَلتَّخَلُّفَ عَنِ الصَّلَاۃِ، قَالَ: ((ھَلْ تَسْمَعُ النِّدَائَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَلَمْ یُرَخِّصْ لَہُ۔ (مسند احمد: ۱۶۵۹۴)
محمود بن ربیع کہتے ہیں: سیّدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہا یک نابینا آدمی تھا، اس لیے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نماز سے پیچھے رہ جانے کا ذکر کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اذان کی آواز سنتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو رخصت نہیں دی۔
Takhreej
(۲۴۶۰) تخریـج: …حدیث ضعیف لشذوذہ، فقد خالف فیہ سفیان بن عیینۃ اصحابَ الزھری فی روایتہ عن محمود بن الربیع، عن عتبان بن مالک من انہV أذن لعتبان ان یصلی فی بیتہ لما انکر بصرہ، وکانت السیول تحول بینہ وبین مسجد قومہ۔
2460
Zaeef