TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نماز با جماعت کے بارے میں ابواب - نماز با جماعت کے بارے میں ابواب - Book 45 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 45 of Musnad Ahmad, with 4 chapters and 47 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

47 Hadith · 4 Chapters
جماعت کے بارے میں تاکید اور اس پر آمادہ کرنے کابیان
۔ (۲۴۶۰) حدثنا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّھْرِیِّ فَسُئِلَ سُفْیَانُ عَمَّنْ؟ قَالَ: ھُوَ مَحْمُوْدٌ اِنْ شَائَ اللّٰہُ أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِکٍ کَانَ رَجُلًا مَحْجُوبَ الْبَصَرِ وَاِنَّہُ ذَکَرَ لِلنَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَلتَّخَلُّفَ عَنِ الصَّلَاۃِ، قَالَ: ((ھَلْ تَسْمَعُ النِّدَائَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَلَمْ یُرَخِّصْ لَہُ۔ (مسند احمد: ۱۶۵۹۴)
محمود بن ربیع کہتے ہیں: سیّدنا عتبان بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا یک نابینا آدمی تھا، اس لیے اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نماز سے پیچھے رہ جانے کا ذکر کیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو اذان کی آواز سنتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو رخصت نہیں دی۔
Takhreej
(۲۴۶۰) تخریـج: …حدیث ضعیف لشذوذہ، فقد خالف فیہ سفیان بن عیینۃ اصحابَ الزھری فی روایتہ عن محمود بن الربیع، عن عتبان بن مالک من انہV أذن لعتبان ان یصلی فی بیتہ لما انکر بصرہ، وکانت السیول تحول بینہ وبین مسجد قومہ۔
2460
Zaeef
جماعت کے بارے میں تاکید اور اس پر آمادہ کرنے کابیان
۔ (۲۴۶۱) عَنْ أَبِی مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: ((اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلَاۃِ فَلْیَؤُمَّکُمْ أَحَدُکُمْ، وَاِذَا قَرَأَ الْاِمَامُ فَأَنْصِتُوا)) (مسند احمد: ۱۹۹۶۱)
سیّدناابوموسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں (بعض امور کی)تعلیم دی ، بیچ میں یہ بھی فرمایا تھا: جب تم نماز کے لیے اٹھو تو تم میں سے ایک آدمی امامت کروایا کرے اور جب امام قراء ت کرے تو تم خاموش رہا کرو ۔
Takhreej
(۲۴۶۱) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۴۰۴ (انظر: ۱۹۷۲۳)
2461
Sahih
جماعت کے بارے میں تاکید اور اس پر آمادہ کرنے کابیان
۔ (۲۴۶۲) عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ الْیَعْمَرِیِّ قَالَ: قَالَ لِی أَبُو الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَیْنَ مَسْکَنُکَ؟ قَالَ: قُلْتُ: فِی قَرْیَۃٍ دُوْنَ حِمْصَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَا مِنْ ثَـلَاثَۃٍ فی قَرْیَۃٍ لَا یُؤَذَّنَ وَلَا تُقَامُ فِیْہِمُ الصَّلَاۃُ اِلَّا اسْتَحْوَذَ عَلَیْھِمُ الشَّیْطَانُ، فَعَلَیْکَ بِالْجَمَاعَۃِ فَاِنَّ الذَّئْبَ یَأْکُلُ الْقَاصِیَۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۵۳)
معدان بن ابی طلحہ یعمری کہتے ہیں: سیّدناابوالدرداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے پوچھا:تیرا گھر کہاں ہے ؟ میں نے کہا: حمص سے پیچھے ایک بستی میں۔ پھر انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:یعنی: جس بستی میں تین آدمی ہوں اور اس میں نہ اذان دی جاتی ہو اور نہ نماز قائم کی جاتی ہو تو وہاں شیطان غالب آ جاتا ہے، اس لیے تم جماعت کا التزام کرو، (وگرنہ ذہن نشین کر لو کہ) بھیڑیا (ریوڑ سے) دور چلی جانے والی بکری کو کھا جاتا ہے ۔
Takhreej
(۲۴۶۲) تخریـج: …اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۵۴۷، والنسائی: ۲/ ۱۰۶ (انظر: ۲۱۷۱۰)
2462
Sahih
جماعت کے بارے میں تاکید اور اس پر آمادہ کرنے کابیان
۔ (۲۴۶۳) عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الشَّیْطَانَ ذِئْبُ الْاِنْسَانِ کَذِئْبِ الْغَنَمِ یَأْخُذُ الشَّاۃَ الْقَاصِیَۃَ وَالنَّاحِیَۃَ فَاِیَّاکُمْ وَالشِّعَابَ وَعَلَیْکُمْ بِالْجَمَاعَۃِ وَالْعَامَّۃِ وَالْمَسْجِدِ)) (مسند احمد: ۲۲۳۷۹)
سیّدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مرو ی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک شیطان انسان کے لیے اسی طرح کا بھیڑیا ہے، جیسے بکریوں کا بھیڑیا ہوتا ہے، جو دور جانے والی اور علیحدہ رہنے والی بکری کو پکڑ لیتا ہے، پس تم گھاٹیوں سے بچو اور جماعت، عام مسلمانوں اور مسجد کو لازم پکڑو ۔
Takhreej
(۲۴۶۳) تخریـج: …حسن لغیرہ، وھذا سند منقطع، العلاء بن زیاد لم یسمع من معاذ أخرجہ الطبرانی: ۲۰/ (۳۴۵)، وعبد بن حمید: ۱۱۴، وابونعیم فی ’’الحلیۃ‘‘: ۲/ ۲۵۷ (انظر: ۲۲۰۲۹)
2463
Sahih
جماعت کے بارے میں تاکید اور اس پر آمادہ کرنے کابیان
۔ (۲۴۶۴) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیَنْتَہِیَنَّ رِجَالٌ مِمَّنْ حَوْلَ الْمَسْجِدِ لَا یَشْہُدُوْنَ الْعِشَائَ الْآخِرَۃِ فِی الْجَمِیْعِ أَوْ لَأُحَرِّقَنَّ حَوْلَ بُیُوْتِہِمْ بِحُزَمِ الْحَطَبِ۔)) (مسند احمد: ۷۹۰۳)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسجد کے ارد گرد والے لوگ ضرور ضرور اس چیز سے باز آ جائیں کہ نمازِ عشاء کی جماعت میں حاضر نہ ہوں، وگرنہ میں ان کے گھروں کو جلانے کی لکڑیوں کی گٹھڑیوں کے ساتھ ضرور ضرور جلا دوں گا۔
Takhreej
(۲۴۶۴) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۶۴۴، ۲۴۲۰، ۷۲۲۴، ومسلم: ۶۵۱ (انظر: ۷۳۲۸، ۷۹۱۶، ۷۹۸۴)
2464
Sahih
جماعت کے بارے میں تاکید اور اس پر آمادہ کرنے کابیان
۔ (۲۴۶۵) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْلَا مَا فِی الْبُیُوْتِ مِنَ النِّسَائِ وَالذُّرِّیَّۃِ لَأَقَمْتُ صَلَاۃَ الْعِشَائِ وَأَمَرْتُ فِتْیَانِیْ یُحَرِّقُوْنَ مَا فِی الْبُیَوْتِ بِالنَّارِ۔)) (مسند احمد: ۸۷۸۲)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر گھروں میں عورتیں اور بچے نہ ہوتے تو میں نمازِ عشاء کھڑی کرتا اور اپنے نوجوانوں کو حکم دیتا کہ وہ گھروں میں جو کچھ ہے، اسے جلا دیں ۔
Takhreej
(۲۴۶۵) تخریـج: …حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف لضعف ابی معشر انظر الحدیث السابق: ۱۳۰۷ (انظر: ۸۷۹۶)
2465
Sahih
جماعت کے بارے میں تاکید اور اس پر آمادہ کرنے کابیان
۔ (۲۴۶۶) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَثْقَلُ الصَّلَاۃِ عَلَی الْمُنَافِقِیْنَ صَلَاۃُ الْعِشَائِ وَصَلَاۃُ الْفَجْرِ، وَلَوْ یَعْلَمُوْنَ مَا فِیْہِمَا لَأَتَوْھُمَا وَلَوْ حَبْوًا وَلَقَدْ ھَمَمْتُ أَنْ آمُرَ الْمُؤَذِّنَ فَیُؤَذِّنَ ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا یُصَلِّی بِالنَّاسِ ثُمَّ أَنْطَلِقَ مَعِی بِرِجَالٍ مَعَہُمْ حُزَمُ الْحَطَبِ اِلَی قَوْمٍ یَتَخَلَّفُوْنَ عَنِ الصَّلَاۃِ فَأُحَرِّقَ عَلَیْہِمْ بُیُوْتَھُمْ بِالنَّارِ۔)) (مسند احمد: ۹۴۸۲)
سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی روایت ہیکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عشاء اور فجر کی نمازیں منافقوں پر سب سے بھاری ہیں اور اگر یہ لوگ جان لیں کہ ان میں کتنا اجر و ثواب ہے تو یہ ضرور آئیں، اگرچہ ان کو سرینوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑے۔ میں نے ارادہ کیا ہے کہ مؤذن کو حکم دوں کہ وہ اذان کہے، پھر کسی آدمی کا حکم دوںکہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور میں خود نماز سے پیچھے رہ جانے والے لوگوں کی طرف ایسے افرادکو لے کر چلوں، جنھوں نے جلنے والی لکڑیوں کی گٹھڑیاں اٹھا رکھی ہوں، اور پھر ان کے گھروں کو آگ سے جلا دوں۔
Takhreej
(۲۴۶۶) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۶۵۷، ومسلم: ۶۵۱ (انظر: ۹۴۸۶)
2466
Sahih
جماعت کے بارے میں تاکید اور اس پر آمادہ کرنے کابیان
۔ (۲۴۶۷) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْھَادِ عَنِ ابْنِ أُمِّ مَکْتُوْمٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتَی الْمَسْجِدَ فَرَأَی فِی الْقَوْمِ رِقَّۃً، فَقَالَ: ((اِنِّی لَأَھُمَّ أَنْ أَجْعَلَ لِلنَّاسِ اِمَامًا ثُمَّ أَخْرُجَ فَـلَا أَقْدِرُ عَلٰی اِنْسَانٍ یَتَخَلَّفُ عَنِ الصَّلَاۃِ فِی بَیْتِہِ اِلَّا أَحْرَقْتُہُ عَلَیْہِ۔)) فَقَالَ ابْنُ أُمَّ مَکْتُوْمٍ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ بَیْنِی وَبَیْنَ الْمَسْجِدِ نَخْلًا وَشَجَرًا وَلَا أَقْدِرُ عَلٰی قَائِدٍ کُلَّ سَاعَۃٍ، أَیَسَعُنِی أَنْ أُصَلِّیَ فِی بَیْتِی؟ قَالَ: ((أَتَسْمَعُ الْاِقَامَۃَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَأْتِہَا۔)) (مسند احمد: ۱۵۵۷۲)
سیّدناعبد اللہ بن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں آئے اور دیکھا کہ نماز یوں میں قلت ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک میرا ارادہ یہ ہے کہ میں لوگوں کے لیے ایک امام مقرر کروں، پھر میں خود نکل جاؤں اور نماز سے پیچھے رہ جانے والے جس جس انسان پر قدرت پاؤں، اس کو اس کے گھرسمیت جلا دوں۔ سیّدنا عبد اللہ بن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول!میرے اور مسجد کے درمیان کھجوریں اور درخت ہیں اور میں ہر وقت قائد بھی نہیں ہوتا(جو مسجد میں لے آئے) ، توکیا مجھے گھر میں نماز پڑھ لینے کی رخصت ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تو اذان سنتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر تو نماز کے لیے آنا پڑے گا۔
Takhreej
(۲۴۶۷) تخریـج: …حدیث صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن خزیمۃ: ۱۴۷۹، والحاکم: ۱/ ۲۴۷، والطحاوی فی ’’شرح مشکل الآثار‘‘: ۵۰۸۷ (انظر: ۱۵۴۹۱)
2467
Sahih
جماعت کے بارے میں تاکید اور اس پر آمادہ کرنے کابیان
۔ (۲۴۶۸) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَقَدْ ھَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْیَانِیَ فَیَجْمَعُوْا حَطَبًا، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا یَؤُمُّ النَّاسَ ثُمَّ أَخَالِفَ اِلٰی رِجَالٍ یَتَخَلَّفُوْنَ عَنِ الصَّلَاۃِ فَأُحَرِّقَ عَلَیْہِمْ بُیُوتَہُمْ وَاَیْمُ اللّٰہِ! لَوْ یَعْلَمُ أَحَدُھُمْ أَنَّ لَہُ بِشُہُوْدِھَا عَرْقًا سَمِیْنًا أَوْ مِرْمَاتَیْنِ لَشَہِدَھَا وَلَوْ یَعْلَمُوْنَ مَا فِیْہَا لَأَتَوْھَا وَلَوْ حَبْوًا۔)) (مسند احمد: ۸۸۷۷)
سیّدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرا یہ ارادہ ہے کہ میں جوانوں کو جلنے والی لکڑیاں اکٹھی کرنے کا حکم دوں، پھر میں ایک آدمی کو حکم دوں وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، اور خود نماز سے پیچھے رہ جانے والے لوگوں کے پیچھے چلا جاؤں اور ان سمیت ان کے گھروں کو جلا دوں۔ اللہ کی قسم! اگر ان میں سے کسی کو یہ پتہ چل جائے کہ اسے نماز میں حاضر ہونے پر گوشت والی اچھی سی ہڈی یا دو کھر ملیں گے تو وہ ضرور آئے گی، اور اگر ان کو پتہ چل جائے کہ اس نماز میں کتنا اجر وثواب ہے تو یہ ضرور حاضر ہوں، اگرچہ ان کو سرینوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑے ۔
Takhreej
(۲۴۶۸) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۶۴۴، ۲۴۲۰، ۷۲۲۴، ومسلم: ۶۵۱ (انظر: ۷۳۲۸، ۷۹۸۴، ۸۸۹۰)
2468
Sahih
جماعت کے بارے میں تاکید اور اس پر آمادہ کرنے کابیان
۔ (۲۴۶۹) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: جَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَی الْمَسْجِدِ، وَفِی رِوَایَۃٍ: دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْجِدَ صَلَاۃَ الْعِشَائِ، فَرَآھُمْ عِزِیْنَ مُتَفَرِّقِیْنَ، قَالَ: فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِیدًا مَا رَأَیْنَاہُ غَضِبَ غَضَبًا أَشَدَّ مِنْہُ، قَالَ: ((وَاللّٰہِ! لَقَدْ ھَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا یَؤُمُّ النَّاسَ ثُمَّ أَتَتَبَّعَ ھٰؤُلَائِ الَّذِیْنَ یَتَخَلِّفُوْنَ عَنِ الصَّلَاۃِ فِی دُوْرِھِمْ فَأُحَرِّقَہَا عَلَیْہِمْ۔)) (مسند احمد: ۸۸۹۰)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز عشاء کے وقت مسجد میں تشریف لائے اور لوگوں کو علیحدہ علیحدہ گروہوں میں بیٹھے ہوئے دیکھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سخت غصے میں آگئے، ہم نے کبھی بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اتنی سخت ناراضگی میں نہیں دیکھا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں کسی آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، پھر میں ان لوگوں کے پیچھے جاؤں جو نماز سے پیچھے رہ جاتے ہیں اوران سمیت ان کے گھروں کو جلا دوں ۔
Takhreej
(۲۴۶۹) تخریـج: …انظر الحدیث السابق: ۲۴۶۸(انظر: ۸۹۰۳)
2469
Sahih
جماعت کے بارے میں تاکید اور اس پر آمادہ کرنے کابیان
۔ (۲۴۷۰) وَعَنْہُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَخَّرَ الْعِشَائَ الْآخِرَۃَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ حَتّٰی کَادَ یَذْھَبُ ثُلُثُ اللَّیْلِ أَوْ قُرابُہُ، قَالَ: ثُمَّ جَائَ وَفِی النَّاسِ رِقَّۃٌ وَھُمْ عِزُونَ فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِیْدًا، ثُمَّ قَالَ: ((لَوْ أَنَّ رَجُلًا بَدَا النَّاسَ اِلٰی عَرْقٍ أَوْ مِرْمَاتَیْنِ لَاَجَابُوا لَہُ، وَھُمْ یَتَخَلَّفُوْنَ عَنْ ھٰذِہِ الصَّلَاۃِ، لَقَدْ ھَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا فَیَتَخَلَّفَ عَلٰی أَھْلِ ھٰذِہِ الدُّوْرِ الَّذِیْنَ یَتَخَلَّفُوْنَ عَنْ ھَذِہِ الصَّلَاۃِ فَأْحَرِّقَہَا عَلَیْھِمْ بِالنِّیْرَانِ۔)) (مسند احمد: ۹۳۷۲)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک رات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عشاء کی نماز کو مؤخر کیا، حتیٰ کہ رات کا تیسرا حصہ یا اس کے قریب قریب وقت گزر گیا، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے تو لوگوں میں قلت تھی اوروہ ٹولیوں کی صورت میں بیٹھے ہوئے تھے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شدید غصے میں آگئے اور پھر فرمایا: اگر کوئی آدمی اِن لوگوں کو گوشت والی ہڈی یا دو کھروں کی طرف اپنی بستی میں بلائے تو وہ اس کی بات کو ضرور قبول کریں گے۔ یہ لوگ اِس نماز سے بھی پیچھے رہ جاتے ہیں، البتہ تحقیق میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ پیچھے رہ (نماز پڑھائے) اور میں ان گھر والوں کی طرف جاؤں جو اس نماز سے پیچھے رہ جاتے ہیں اور ان سمیت ان کے گھروں کو آگ کے ساتھ جلا دوں ۔
Takhreej
(۲۴۷۰) تخریـج: …انظر الحدیث السابق: ۱۳۱۲ (انظر: ۹۳۸۳)
2470
Sahih
جماعت کے بارے میں تاکید اور اس پر آمادہ کرنے کابیان
۔ (۲۴۷۱) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَقَدْ ھَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا فَیُصَلِّیَ بِالنَّاسٍ، ثُمَّ آمُرَ بِالنَّاسٍ لَا یُصَلُّوْنَ مَعَنَا فَتُحَرَّقَ عَلَیْھِمْ بُیُوْتُہُمْ۔)) (مسند احمد: ۳۷۴۳)
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یقینا میں نے ارادہ کیا ہے کہ ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، پھر ان لوگوں سمیت ان کے گھر جلا دینے کا حکم دوں، جو ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھتے ۔
Takhreej
(۲۴۷۱) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۶۵۲ (انظر: ۳۷۵۳، ۳۸۱۶)
2471
Sahih
جماعت کے بارے میں تاکید اور اس پر آمادہ کرنے کابیان
۔ (۲۴۷۲) عَنْ سَہْلٍ عَنْ أَبِیْہِ (یَعْنِی مُعَاذَ بْنَ أَنَسٍ الْجُہَنِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ) عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((اَلْجَفَائُ کُلُّ الْجَفَائِ وَالْکُفْرُ وَالْنِّفَاقُ مَنْ سَمِعَ مُنَادِیَ اللّٰہِ ُنَادِی بِالصَّلَاۃِ یَدْعُوا اِلَی الْفَـلَاحِ وَلَا یُجِیْبُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۱۲)
سیّدنا معاذ بن انس جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (اللہ کی رحمت سے) دوری ہے، بہت دوری ہے، کفر ہے اور نفاق ہے، اس شخص میں جو اللہ تعالیٰ کے مُنَادی کو نماز کے اذان دیتے ہوئے اور کامیابی کی طرف دعوت دیتے ہوئے سنتا ہے، لیکن اس کی بات قبول نہیں کرتا (اور نماز باجماعت کے لیے نہیں آتا) ۔
Takhreej
(۲۴۷۲) تخریـج: …اسنادہ ضعیف لضعف زبان بن فائد، وسھل بن معاذ فی روایۃ زبان عنہ، وابن لھیعۃ ضعیف أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۰/ (۳۹۴) (انظر: ۱۵۶۲۷)
2472
Zaeef
ان عذروں کا بیان جو جماعت سے پیچھے رہنے کو جائز کردیتے ہیں
۔ (۲۴۷۳) عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نَادٰی بِالصَّلَاۃِ فِی لَیْلَۃٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِیْحٍ، ثُمَّ قَالَ فِی آخِرِ نِدَائِہِ: أَلَا صَلُّوا فِی رِحَالِکُمْ أَلَا صَلُّوا فِی رِحَالِکُمْ، أَلَا صَلُّوا فِی الرِّحَالِ، فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ اِذَا کَانَتْ لَیْلَۃٌ بَارِدَۃٌ أَوْ ذَاتُ رِیْحٍ فِی السَّفَرِ أَلَا صَلُّوا فِی الرِّحَالِ۔ (مسند احمد: ۵۸۰۰)
جناب ِنافع کہتے ہیں: سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سردی اور ہوا والی ایک رات کو نماز کے لیے اذان کہی، اور انہوں نے اذان کے آخر میں کہا: خبر دار! اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو، خبر دار! اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو،خبر دار! اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔ پھر انھوں نے بیان کیا کہ جب سفر میں رات ٹھنڈی یا ہوا والی ہوتی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مؤذن کو حکم دیتے کہ وہ یہ بھی کہا کرے: خبردار! اپنے اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔
Takhreej
(۲۴۷۳) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۶۳۲، ومسلم: ۶۹۷ (انظر: ۵۱۵۱، ۵۸۰۰)
2473
Sahih
ان عذروں کا بیان جو جماعت سے پیچھے رہنے کو جائز کردیتے ہیں
۔ (۲۴۷۴) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: نَادَی ابْنُ عُمَرَ بِالصَّلَاۃِ بِضَجْنَانَ ثُمَّ نَادٰی أَنْ صَلُّوا فِی رِحَالِکُمْ، ثُمَّ حَدَّثَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ کَانَ یَأْمُرُ الْمُنَادِیَ فَیُنَادِیْ بِالصَّلَاۃِ، ثُمَّ یُنَادِی أَنْ صَلُّوا فِی رِحَالِکُمْ فِی اللَّیْلَۃِ الْبَارِدَۃِ وَفِی اللَّیْلَۃِ الْمَطِیْرَۃِ فِی السَّفَرِ ۔ (مسند احمد: ۴۴۷۸)
(دوسری سند)وہ کہتے ہیں: سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ضجنان (نامی مقام یا پہاڑ) پر نماز کے لیے اذان کہی، پھر یہ آواز دی: اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو۔ پھر انھوں نے بیان کیا کہ جب سفر میں سردی یا بارش والی رات ہوتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مؤذن کو حکم دیتے کہ وہ اذان دے اور پھر یہ آواز دے: اپنے اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔
Takhreej
(۲۴۷۴) تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۴۴۷۸)
2474
Sahih
ان عذروں کا بیان جو جماعت سے پیچھے رہنے کو جائز کردیتے ہیں
۔ (۲۴۷۵) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی سَفَرٍ فَمُطِرْنَا، قَالَ: ((لِیُصَلِّ مَنْ شَائَ مِنْکُمْ فِی رَحْلِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۹۹)
سیّدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے، (راستے میں) بارش برسنے لگی، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو چاہتا ہے ، اپنے خیمے میں نماز پڑھ لے ۔
Takhreej
(۲۴۷۵) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۶۹۸ (انظر: ۱۴۳۴۷)
2475
Sahih
ان عذروں کا بیان جو جماعت سے پیچھے رہنے کو جائز کردیتے ہیں
۔ (۲۴۷۶) عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَہُ مُؤَذِّنُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: نَادٰی مُنَادِیْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی یَوْمٍ مَطِیْرٍ: أَلَا صَلُّوا فِی الرِّحَالِ۔ (مسند احمد: ۱۹۲۵۰)
ایک مؤذنِ رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مؤذن نے بارش والے دن یہ آواز بھی دی: خبر دار! اپنے اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔
Takhreej
(۲۴۷۶) تخریـج: …أخرجہ النسائی: ۲/ ۱۴(انظر: ۱۵۴۳۳، ۱۹۰۴۱)
2476
Sahih
ان عذروں کا بیان جو جماعت سے پیچھے رہنے کو جائز کردیتے ہیں
۔ (۲۴۷۷) عَنْ نُعَیْمِ بْنِ النَّحَّامِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: نُودِیَ بِا لصُّبْحِ فِی یَوْمٍ بَارِدٍ وَأَنَا فِی مِرْطِ امْرَأَتِی، فَقُلْتُ: لَیْتَ الْمُنَادِیَ قَالَ: مَنْ قَعَدَ فَـلَا حَرَجَ عَلَیْہِ، فَنَادٰی مُنَادِیْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی آخِرٍ أَذَانِہِ: وَمَنْ قَعَدَ فَـلَا حَرَجَ عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۸۰۹۹)
سیّدنا نعیم بن نحام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سردی والا دن تھا اور میں اپنی بیوی کی چادر میں لیٹا ہوا تھا، اتنے میں فجر کی اذان ہونے لگی، میں نے کہا: کاش اذان کہنے والا یہ بھی کہہ دے: جو (نماز کے لیے) نہ آئے اس پر کوئی حرج نہیں ہے۔ ایسے ہی ہوا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مؤذن نے اذان کے آخر میں کہا: جو نہ آئے، اس پر کوئی حرج نہیں ہے۔
Takhreej
(۲۴۷۷) تخریـج: …اسنادہ ضعیف، اسماعیل بن عیاش ضعیف فی روایتہ عن غیر الشامیین، وشیخہ ھنا یحیی بن سعید الانصاری مدنی أخرجہ البیھقی: ۱/ ۳۹۸، وابن ابی عاصم: ۷۵۹، وابن قانع: ۳/ ۱۵۲(انظر: ۱۷۹۳۴)
2477
Zaeef
ان عذروں کا بیان جو جماعت سے پیچھے رہنے کو جائز کردیتے ہیں
۔ (۲۴۷۸) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ مُؤَذِّنَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی لَیْلَۃٍ بَارِدَۃٍ وَأَنَا فِی لِحَافِی فَتَمَنَّیْتُ أَنْ یَقُوْلَ: صَلُّوا فِی رِحَالِکُمْ، فَلَمَّا بَلَغَ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، قَالَ: صَلُّوا فِی رِحَالِکُمْ، ثُمَّ سَأَلْتُ عَنْھَا فَاِذَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ أَمَرَہٗ بِذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۸۰۹۸)
(دوسری سند)وہ کہتے ہیں: ایک ٹھنڈی رات تھی اور میں اپنے لحاف میں لیٹا ہوا تھا، اتنے میں میںنے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنا، مجھ میں یہ تمنا پیدا ہوئی کہ کاش مؤذن یہ کہہ دے: اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو۔ (ایسے ہی ہوا اور جب) حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ تک پہنچا تو اس نے کہا: اپنی رہائش گاہوں پر ہی نماز پڑھ لو، پھر جب میں نے ان (زائد) الفاظ کے بارے میں دریافت کیا تو پتہ چلا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے حکم دیا تھا۔
Takhreej
(۲۴۷۸) تخریـج: …حدیث حسن، وھذا اسناد ضعیف لابھام الراوی عن نعیم بن النحام أخرجہ عبد الرزاق: ۱۹۲۷(انظر: ۱۷۹۳۳)
2478
Sahih
ان عذروں کا بیان جو جماعت سے پیچھے رہنے کو جائز کردیتے ہیں
۔ (۲۴۷۹) عَنْ سَمْرَۃَ بْنِ جُنْدُبِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ یَوْمَ حُنَیْنٍ فِی یَوْمٍ مَطِیْرٍ: ((الصَّلَاۃُ فِی الرِّجَالِ)) (مسند احمد: ۲۰۳۵۲)
’سیّدناسمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حنین والے روز، بارش والے دن فرمایا: خیموں میں ہی نماز پڑھ لو ۔
Takhreej
(۲۴۷۹) تخریـج: …صحیح لغیرہ۔ أخرجہ الطبرانی: ۶۹۹۹، والطیالسی: ۹۰۷، والبزار: ۴۶۵ (انظر: ۲۰۰۹۲، ۲۰۱۷۰)
2479
Sahih