TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2555 - مقتدیوں کو لمبی نماز پڑھانے کے بارے میں سیّدنا معاذ بن جبل Bکا قصہ اور عذر کی وجہ سے مقتدی کا اکیلے نماز پڑھنے کا جواز - امامت کا بیان،اماموں کی صفات اور ان سے متعلقہ مزید احکام - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 5 in this chapter
مقتدیوں کو لمبی نماز پڑھانے کے بارے میں سیّدنا معاذ بن جبل Bکا قصہ اور عذر کی وجہ سے مقتدی کا اکیلے نماز پڑھنے کا جواز
۔ (۲۵۵۵)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجُ قَالَا ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ الْأَنْصَارِیَّ قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَمَعَہُ نَاضِحَانِ لَہُ وَقَدْ جَنَحَتِ الشَّمْسُ وَمُعَاذٌ یُصَلِّی الْمَغْرِبَ فَدَخَلَ مَعَہُ الصَّلَاۃَ فَاسْتَفْتَحَ مُعَاذُ الْبَقَرَۃَ أَوِ النِّسَائَ، مُحَارِبٌ الَّذِی یَشُکُّ، فَلَمَّا رَأَی الرَّجُلُ ذٰلِکَ صَلّٰی ثُمَّ خَرَجَ، قَالَ: فَبَلَغَہُ أَنَّ مُعَاذًا نَالَ مِنْہُ، قَالَ حَجَّاجٌ یَنَالُ مِنْہُ، قَالَ: فَذَکَرَ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((أَفَتَّانٌ أَنْتَ یَا مُعَاذُ؟ أَفَتَّانٌ أَنْتَ یَا مُعَاذُ؟ أَوْ فَاتِنٌ فَاتِنٌ فَاتِنٌ!؟)) وَقَالَ حَجَّاجٌ: ((أَفَاتِنٌ أَفَاتِنٌ أَفَاتِنٌ، فَلَوْلَا قَرَأْتَ {سَبِّحٍ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلٰی، وَالشَّمْسِ وَضُحَاھَا} فَصَلّٰی وَرَائَ کَ الْکَبِیْرُ وَذُوا لْحَاجَۃِ وَالضَّعِیْفُ، أَحْسِبُ مُحَارِبًا الَّذِی یَشُکُّ فِی الضَّعِیْفِ۔ (مسند احمد: ۱۴۲۳۹)
(دوسری سند)سیّدنا جابر بن عبد اللہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک انصاری آدمی آیا، اس کے ساتھ دو اونٹنیاں بھی تھیں، اُدھر سورج غروب ہوچکا تھا اور سیّدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے، اس لیے وہ بھی نماز میں شامل ہو گیا، سیّدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سورۂ بقرہ یا سورۂ نساء کی تلاوت شروع کردی، جب اس آدمی نے یہ صورتحال دیکھی تو اس نے علیحدہ نماز پڑھ لی اور چلا گیا۔جب اسے پتہ چلا کہ سیّدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے تو اس کی عیب جوئی کی (کہ وہ منافق ہے) تو اس نے یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچا دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے معاذ! کیا تو فتنہ باز ہے؟ معاذ! کیاتو فتنہ باز ہے؟ تو نے {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی} اور {وَالشَّمْسِ وَضُحَاھَا} جیسی سورتیں کیوں نہیں پڑھیں، وجہ یہ ہے کہ تیرے پیچھے بوڑھے، حاجت مند اور کمزور لوگ بھی نماز پڑھتے ہیں۔
2555
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۲۵۵۵)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الاول

Related Chapters

57
1
(48) CHAPTER. If somebody is leading the Salat (prayer) and (in the meanwhile) the first (usual) Imam comes, the Salat is valid whether the former retreats or does not retreat.
ایک شخص نے امامت شروع کر دی پھر پہلا امام آ گیا اب پہلا شخص ( مقتدیوں میں ملنے کے لیے ) پیچھے سرک گیا یا نہیں سرکا ، بہرحال اس کی نماز جائز ہو گی اس بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے
Sahih Bukhari
2
امام کا مقتدیوں کو سنانے کے لیے نماز میں اونچی آواز سے تکبیر کہنے کے جواز کا بیان اور امام کے علاوہ کسی دوسرے کا تکبیر سنانے کا حکم
Musnad Ahmad
3
صف کے پیچھے اکیلے آدمی کا نماز پڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
4
(60) CHAPTER. If the Imam prolongs the Salat (prayer) and somebody has an urgent work or need and so he leaves the congregation and offers Salat alone.
اگر امام لمبی سورۃ شروع کر دے اور کسی کو کام ہو وہ اکیلے نماز پڑھ کر چل دے تو یہ کیسا ہے ؟
Sahih Bukhari
5
(69) CHAPTER. Can the Imam depend on the people's saying if he is in doubt (about a certain matter)?
اس بارے میں کہ اگر امام کو شک ہو جائے تو کیا مقتدیوں کی بات پر عمل کر سکتا ہے ؟
Sahih Bukhari
6
CHAPTER: On The Imam Standing In A Location Above The Level Of Congregation.
باب: امام مقتدیوں سے اونچی جگہ پر کھڑا ہو کر نماز پڑھائے تو اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
7
صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھنے کے حکم کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
8
اکیلے نماز پڑھنے والے کے لیے اذان کا بیان۔
Sunnan Nisai
9
اکیلے نماز پڑھنے والے کے لیے اقامت کا بیان۔
Sunnan Nisai
10
نماز سے سلام پھیر کر مقتدیوں کی طرف پلٹنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
11
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Prays While Another Man Is With Him
باب: آدمی اکیلا نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے ساتھ صرف ایک آدمی ہو تو مقتدی کہاں کھڑا ہو؟
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related (On the Prophet's Saying) 'When The Imam Performs Salat While Seated, then You (People) Perform Salat Seated'
باب: جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو مقتدی بھی بیٹھ کر پڑھیں
Jam e Tirmazi
13
امام کا سترہ ہی مقتدی کا سترہ ہے او ر کسی چیز کے گزر جانے سے نماز منقطع نہیں ہوتی
Musnad Ahmad
14
رسول اللہaکا باوجود نماز مکمل کرنے کے لوگوں کو ہلکی نماز پڑھانے کا بیان
Musnad Ahmad
15
نماز میں امام کا اپنا نائب بنانے کا اور نائب بنانے والے امام کے آنے کے بعد نائب کا مقتدی بن جانے کا جواز
Musnad Ahmad
16
اکیلے آدمی کا (دورانِ نماز) امامت کی طرف منتقل ہوجانے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
17
امام کا مقتدیوں سے اونچا کھڑا ہونے اور اس کے برعکس کا بیان
Musnad Ahmad
18
مقتدیوں کا ستونوں کے درمیان صف بنانے کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
19
(20) CHAPTER. The superiority of a person who learns (Islam, becomes a religious scholar) and then teaches it to others.
پڑھنے اور پڑھانے والے کی فضیلت کے بیان میں
Sahih Bukhari
20
(90) CHAPTER. The Sutra of the Imam is also a Sutra for those who are behind him.
امام کا سترہ مقتدیوں کو بھی کفایت کرتا ہے
Sahih Bukhari
21
(25) CHAPTER. If the Imam says, “Remain at your places till I return”, then wait for him.
اگر امام مقتدیوں سے کہے کہ تم لوگ اسی حالت میں ٹھہرے رہو تو جب تک وہ لوٹ کر آئے اس کا انتظار کریں ( اور اپنی حالت پر ٹھہرے رہیں )
Sahih Bukhari
22
(55) CHAPTER. If the Imam does not offer the Salat (prayer) perfectly and the followers offer it perfectly.
اگر امام اپنی نماز کو پورا نہ کرے اور مقتدی پورا کریں
Sahih Bukhari
23
(57) CHAPTER. To stand on the right side of the Imam on the same line if only two persons (counting the Imam) are offering Salat (prayer) in congregation.
جب صرف دو ہی نمازی ہوں تو مقتدی امام کے دائیں جانب اس کے برابر کھڑا ہو
Sahih Bukhari
24
(67) CHAPTER. One who repeats the Takbir (Allahu Akbar) of the Imam so that the people may hear it.
باب اس سے متعلق جو مقتدیوں کو امام کی تکبیر سنائے ۔
Sahih Bukhari
25
(80) CHAPTER. If there is a wall or a Sutra between the Imam and followers.
جب امام اور مقتدیوں کے درمیان کوئی دیوار حائل ہو یا پردہ ہو ( تو کچھ قباحت نہیں )
Sahih Bukhari
26
(95) CHAPTER. Recitation of the Quran (Surat Al-Fatiha) is compulsory for the Imam and the followers, at home and on journey, in all As-Salat (the prayers) whether the recitation is done silently or aloud.
امام اور مقتدی کے لیے قرآت کا واجب ہونا ، حضر اور سفر ہر حالت میں ، سری اور جہری سب نمازوں میں
Sahih Bukhari
27
(109) CHAPTER. (In a quiet prayer) if the Imam recites a Verse or so audibly.
اگر امام سری نماز میں کوئی آیت پکار کر پڑھ دے کہ مقتدی سن لیں ، تو کوئی قباحت نہیں
Sahih Bukhari
28
(153) CHAPTER. To finish the Salat (prayer) with Taslim along with the Imam.
اس بارے میں کہ امام کے سلام پھیرتے ہی مقتدی کو بھی سلام پھیرنا چاہیے
Sahih Bukhari
29
Chapter: If The Imam Experiences An Excuse, From Illness, Or Travelling, Etc. He May Appoint Someone Else To Lead The People In Prayer; The One Who Offers Prayer Behind The Imam Sitting Because He Is Unable To Stand Must Stand If He Is Able To Do So; And The Abrogation Of Sitting Behind A Sitting Imam For Those Who Are Able To Stand
۔ جب امام کو مرض، سفر یا کسی اور وجہ سے عذر پیش آ جائے تو لوگوں میں سے کسی کو نماز پڑھانے کے لیے اپنا جانشیں (خلیفہ) مقرر کرنا ا
Sahih Muslim
30
Chapter: The Command To The Imam To Make The Prayer Brief But Complete
اماموں کو ہلکی (لیکن) مکمل صورت میں نماز پڑھانے کا حکم
Sahih Muslim
31
Chapter: It is disliked to delay the prayers beyond their proper times, and what a person should do if the Imam delays the prayer
۔ نماز کو اس کے سب سے بہتر وقت سے مؤخر کرنا مکروہ ہے اور اگر امام نماز میں تاخیر کر دے تو مقتدی کو کیا کرنا چاہیے
Sahih Muslim
32
Chapter: Concession allowing one to not attend the congregation if there is an excuse
عذر کی صورت میں نماز سے پیچھے رہ جانے (اکیلے پڑھ لینے )کی اجازت
Sahih Muslim
33
CHAPTER: On Someone Having Prayed And Then Leading Others For That Prayer.
باب: امام کے بیٹھ کر نماز پڑھانے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
34
CHAPTER: The Imam Should Turn Around After The Taslim.
باب: سلام پھیرنے کے بعد امام کے ( مقتدیوں کی طرف ) مڑنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
35
CHAPTER: The One Behind The Imam Has Been Commanded To Follow The Imam.
باب: مقتدیوں کو حکم ہے کہ وہ امام کی اتباع کریں ۔
Sunnan Abu Dawood
36
CHAPTER: The Sutrah Of The Imam Acts As A Sutrah For Those behind Him.
باب: امام کا سترہ مقتدیوں کے لیے بھی سترہ ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
37
مقتدی کا امام کی نماز سے نکل جانے اور جا کر مسجد کے ایک گوشے میں اپنی نماز پڑھ لینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
38
امام بیٹھ کر نماز پڑھتا ہو تو مقتدی بھی بیٹھ کر نماز پڑھیں۔
Sunnan Nisai
39
سلام پھیرنے اور مقتدیوں کی طرف پلٹنے کے درمیان امام کی بیٹھک کا بیان۔
Sunnan Nisai
40
بَابُ مَا عَلَى الْمَأْمُومِ مِنَ الْمُتَابَعَةِ وَحُكْمِ الْمَسْبُوق
مقتدی کے لیے امام کی متابعت اور مسبوق کے حکم کا بیان
Mishkat
41
مقتدی کی قراء ت اور جب اپنے امام کو سنے تو اس کے خاموش ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
42
امام اور ایک مقتدی کے ساتھ جماعت کا منعقد ہو جانا، برابر ہے کہ وہ مقتدی مرد ہو یا عورت ہو یا بچہ
Musnad Ahmad
43
مقتدی کا امام کی اقتدا اس حال میں کرنا کہ ان دونوں کے درمیان کوئی چیز حائل ہو
Musnad Ahmad
44
(52) CHAPTER. When should those who are behind the Imam prostrate?
امام کے پیچھے مقتدی کب سجدہ کریں ؟
Sahih Bukhari
45
(113) CHAPTER. Saying of Amin aloud by the followers.
مقتدی کا آمین بلند آواز سے کہنا
Sahih Bukhari
46
(124) CHAPTER. What the Imam and the followers say on raising their heads from bowing.
امام اور مقتدی رکوع سے سر اٹھانے پر کیا کہیں ؟
Sahih Bukhari
47
(135) CHAPTER. Travelling alone.
اکیلے سفر کرنا
Sahih Bukhari
48
(2) CHAPTER. The Prophet (p.b.u.h.) sent Az-Zubair alone to get information regarding the enemy.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زبیر رضیاللہعنہ کو اکیلے کافروں کی خبر لانے کے لیے بھیجنا
Sahih Bukhari
49
Chapter: Prohibiting The Follower From Reciting Aloud Behind An Imam
مقتدی کو امام کے پیچھے بلند آواز سے قراءت کرنے کی ممانعت
Sahih Muslim
50
Chapter: Following The Imam
مقتدی کی طرف سے امام کی اقتدا
Sahih Muslim
No related chapter matched that.

Related Hadith

298
Musnad Ahmad
663
۔ (۶۶۳)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُرَیْجُ بْنُ نُعْمَانَ قَالَ: ثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ وَہْبٍ الْمِصْرِیُّ عَنْ عَمْرٍوبْنِ الْحَارِثِ بْنِ یَعْقُوبَ الْأَنْصَارِیِّ أَنَّ حِبَّانَ بْنَ وَاسِعٍ الْأَنْصَارِیَّ حَدَّثَہُ أَنَّہُ سَمِعَ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ زَیْدِ بْنِ عَاصِمٍ الْمَازِنِیَّ یَذْکُرُ أَ نَّہُ رَاٰی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ ثَـلَاثًا وَیَدَہُ الْیُمْنٰی ثَـلَاثًا وَالْأُخْرٰی ثَـلَاثًا وَمَسَحَ رَأْسَہُ بِمَائٍ غَیْرِ فَضْلِ یَدِہِ وَغَسَلَ رِجْلَیْہِ حَتّٰی أَنْقَاہُمَا۔ (مسند أحمد: ۱۶۵۸۱)
سیدنا عبد اللہ بن زید بن عاصمؓ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اس طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا، پھر تین بار چہرہ دھویا، اس کے بعد دایاں بازو تین بار اور پھر بایاں باز تین مرتبہ دھویا، پھر سر کا مسح اس پانی سے کیا جو ہاتھوں سے بچا ہوا نہیں تھا، پھر دونوں پاؤں کو دھویا، یہاں تک کہ ان کو صاف کر دیا۔
Musnad Ahmad
2128
۔ (۲۱۲۸) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَمْرِوبْنِ مُرَّۃَ عَنْ أَبِیْ حَمْزَۃَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَبْسٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ أَنَّہُ صَلّٰی مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ اللَّیْلِ، فَلَمَّا دَخَلَ فِی الصَّلَاۃِ قَالَ: ((اَللّٰہُ أَکْبَرُ ذُوا الْمَلَکُوْتِ وَالْجَبْرُوْتِ وَالْکِبْرِیَائِ وَالْعَظْمَۃِ۔)) قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ الْبَقَرَۃَ ثُمَّ رَکَعَ وَکَانَ رُکُوْعُہٗنَحْوًامِنْقِیَامِہِ وَکَانَ یَقُوْلُ: ((سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ)) ثُمَّ رَفَعَ َرَأَسَہُ فَکَانَ قِیَامُہُ نَحْوًا مِنْ رُکُوْعِہِ، وَکَانَ یَقُوْلُ: ((لِرَبِّیَ اَلْحَمْدُ، لِرَبِّیَ الْحَمْدُ)) ثُمَّ سَجَدَ فَکَانَ سُجُوْدُہٗ نَحْوًا مِنَ قِیَامِہِ، وَکَانَ یَقُوْلُ: ((سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلٰی، سُبْحَانَ رَبِیَ الْأَعَلٰی)) ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَکَانَ مَا بَیْنَ السَّجْدَتَیْنَ نَحْوًا مِنَ السُّجُوْدِ، وَکَانَ یَقُوْلُ: ((رَبِّ اغْفِرْلِیْ، رَبِّ اغْفِرْلِیْ)) قَالَ حَتّٰی قَرَأَ الْبَقَرَۃَ وَآلَ عِمْرَانَ وَالنِّسَائَ وَالْمَائِدَۃَ أَوِ الْأَنْعَامَ شُعْبَۃُ الَّذِییَشُکُّ فِی الْمَائِدَۃِ وَالْأَنْعَامِ۔ (مسند احمد: ۲۳۷۶۷)
سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رات کی نماز پڑھی، جب آپ نماز میںداخل ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دعا پڑھی: اَللّٰہُ أَکْبَرُ ذُوا الْمَلَکُوْتِ وَالْجَبْرُوْتِ وَالْکِبْرِیَائِ وَالْعَظْمَۃِ (اللہ سب سے بڑا ہے، جو بادشاہی، قہر، بڑائی اور عظمت والا ہے۔ )، پھر آپ نے سورہ ٔ بقرہ کی تلاوت کی، اس کے بعد رکوع کیا اور آپ کا رکوع آپ کے قیام جتناتھا، آپ رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ کہتے رہے، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا تو آپ کا یہ قومہ آپ کے رکوع کے برابر تھا، آپ اس میں لِرَبِّیَ الْحَمْدُ لِرَبِّیَ الْحَمْدُ کہتے رہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سجدہ کیا اور آپ کا سجدہ آپ کے قیام کے برابر تھا،آپ سجدے میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلٰی، سُبْحَانَ رَبِیَ الْأَعَلٰی کہتے رہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر اٹھایا اور جلسہ میں بیٹھ گئے، یہ جلسہ سجدے کے برابر تھا، اس جلسہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَبِّ اغْفِرْلِیْ رَبِّ اغْفِرْلِی کہتے رہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس نماز میں سورۂ بقرۃ، سورۂ آل عمران، سورۂ نساء اور سورۂ مائدہ یا سورۂ انعام کی تلاوت کر دی، آخری دو سورتوں میں راویٔ حدیث امام شعبہ کو شک ہوا۔
Musnad Ahmad
508
۔ (۵۰۸)۔عَنْ رَافِعٍِ بْنِ أَبِی اِسْحٰقَ مَوْلٰی أَبِیْ طََلْحَۃَ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا أَیُوْبَ الْأَنْصَارِیَّؓ یَقُوْلُ وَھُوَ بِمِصْرَ: مَا أَدْرِیْ کَیْفَ أَصْنَعُ بِہٰذِہِ الْکَرَایِیْسِ؟ یَعْنِیْ الْکُنُفَ، وَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِذَا ذَہَبَ أَحَدُکُمْ اِلَی الْغَائِطِ أَوِ الْبَوْلِ فَلَا یَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَۃَ وَلَا یَسْتَدْبِرْہَا۔)) (مسند أحمد: ۲۳۹۱۱)
سیدنا ابو ایوب انصاری ؓ کہتے ہیں، جبکہ وہ مصر میں تھے: میں نہیں جانتا کہ میں ان طہارت خانوں کو کیسے استعمال کروں، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا ہے: جب کوئی پیشاب یا پائخانہ کرنے کے لیے جائے تو وہ قبلہ کی طرف منہ کرے اور نہ پیٹھ۔
Musnad Ahmad
669
۔ (۶۶۹)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ قَالَ: ثَنَا عَمْرُو بْنُ یَحْیٰی ابْنِ عُمَارَۃَ بْنِ أَبِی حَسَنٍ الْمَازِنِیُّ الْأَنْصَارِیُّ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بِْن زَیْدٍ ؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ، قَالَ سُفْیَانُ: ثَنَا یَحْیَ بْنُ سَعِیْدٍ عَنْ عَمْرٍو بْنِ یَحْیٰ مُنْذُ أَرْبَع وَ سَبْعِیْنَ سَنَۃً وَسَأَلْتُہُ بَعْدَ ذَالِکَ بِقَلِیْلٍ وَکَانَ یَحْیٰی أَکْبَرَ مِنْہُ، قَالَ سُفْیَانُ: سَمِعْتُ مِنْہُ ثَلَاثَۃَ أَحَادِیْثَ، فَغَسَلَ یَدَیْہِ مَرَّتَیْنِ وَوَجْہَہُ ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِہِ مَرَّتَیْنِ، قَالَ أَبِیْ: سَمِعْتُہُ مِنْ سُفْیَانَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ یَقُولُ: غَسَلَ رِجْلَیْہِ مَرَّتَیْنِ، وَقَالَ مَرَّۃً: مَسَحَ بِرَأْسِہِ مَرَّۃً، وَقَالَ مَرَّتَیْنِ: مَسَحَ بِرَأْسِہِ مَرَّتَیْنِ۔ (مسند أحمد: ۱۶۵۶۶)
سیدنا عبد اللہ بن زیدؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا، امام سفیان نے کہا: چوہتر برس ہو گئے ہیں کہ یحییٰ بن سعید نے مجھے یہ حدیث بیان کی تھی، اس کے کچھ عرصہ بعد بھی میں نے ان سے سوال کیا تھا اور یحییٰ ان سے بڑے تھے۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے ان سے تین احادیث سنی تھیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنے ہاتھوں کو دو مرتبہ اور چہرے کو تین مرتبہ دھویا اور دو بار سر کا مسح کیا۔ امام احمد کہتے ہیں: میں نے سفیان سے یہ حدیث تین مرتبہ سنی، وہ کہتے تھے: پاؤں کو دو مرتبہ دھویا، لیکن ایک دفعہ یوں بیان کیا کہ سر کا ایک دفعہ مسح کیا اور دو مرتبہ یوں بیان کیا کہ سر کا دو دفعہ مسح کیا۔
Musnad Ahmad
715
۔ (۷۱۵)۔عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیٰی بْنِ حِبَّانَ الْأَنْصَارِیِّ ثُمَّ الْمَازِنِیِّ مَازِنِ بَنِی النَّجَّارِ عَنْ عُبَیْدِاللّٰہِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ: قُلْتُ لَہُ: أَرَأَیْتَ وُضُوئَ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ لِکُلِّ صَلَاۃٍ طَاہِرًا کَانَ أَوْ غَیْرَ طَاہِرٍ عَمَّ ہُوَ؟ فَقَالَ: حَدَّثَتْہُ أَسْمَائُ بِنْتُ زَیْدِ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ حَنْظَلَۃَ بْنِ أَبِیْ عَامِرِ بْنِ الْغَسِیْلِ حَدَّثَہَا أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ أُمِرَ بِالْوُضُوئِ لِکُلِّ صَلَاۃٍ طَاہِرًا کَانَ أَوْ غَیْرَ طَاہِرٍ، فَلَمَّا شَقَّ ذَالِکَ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُمِرَ بِالسِّوَاکِ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ وَوُضِعَ عَنْہُ الْوُضُوئُ الَّا مِنْ حَدَثٍ، قَالَ: فَکَانَ عَبْدُاللّٰہِ یَرٰی أَنَّ بِہِ قُوَّۃً عَلٰی ذَالِکَ کَانَ یَفْعَلُہُ حَتّٰی مَاتَ۔ (مسند أحمد: ۲۲۳۰۶)
عبید اللہ بن عبد اللہ بن عمر کہتے ہیں: میں نے اس سے پوچھا کہ اس بارے میں تیرا خیال ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ باوضو ہوں یا بے وضو، وہ ہر نماز کے لیے وضو کرتے ہیں، ایسے کیوں ہے؟ اس نے کہا: سیدہ اسماءؓ نے ان کو بیان کیاکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ باوضو ہوتے یا بے وضو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا حکم دیا گیا تھا، لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر یہ حکم گراں گزرا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ہر نماز کے لیے مسواک کا حکم دے دیا گیا اور وضو کی رخصت دے دی گئی، الا یہ کہ بے وضو ہوں۔ تو سیدنا عبد اللہؓ یہ سمجھتے تھے کہ ان میں ہر نماز کے وضو کرنے کی طاقت ہے، اس لیے وہ اسی طرح عمل کرتے رہے، یہاں تک کہ فوت ہو گئے۔
Musnad Ahmad
784
۔ (۷۸۴)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔قَالَ عَبْدُاللّٰہِ: وَجَدتُّ فِی کِتَابِ أَبِیْ بَخَطِّ یَدِہِ، ثَنَا أَبُوالْیَمَانِ قَالَ: أَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ: أَخْبَرَنِیْ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ أَبِیْ بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ الْأَنْصَارِیُّ أَ نَّہُ سَمِعَ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ یَقُولُ:ذَکَرَ مَرْوَانُ فِی اِمَارَتِہِ عَلٰی الْمَدِیْنَۃِ أَنَّہُ یُتَوَضَّأُ مِنْ مَسِّ الذَّکَرِ اِذَا أَفْضَی الرَّجُلُ بِیَدِہِ، فَأَنْکَرْتُ ذَالِکَ عَلَیْہِ، فَقُلْتُ: لَا وُضُوئَ عَلٰی مَنْ مَسَّہُ، فَقَالَ مَرْوَانُ: أَخْبَرَتْنِیْ بُسْرَۃُ بِنْتُ صَفْوَانَ أَنَّہَا سَمِعَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَذْکُرُ مَا یُتَوَضَّأُ مِنْہُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((وَیُتَوَضَّأُ مِن مَسِّ الذَّکَرِ۔)) قَالَ عُرْوَۃُ: فَلَمْ أَزَلْ أُمَارِیْ مَرْوَانَ حَتّٰی دَعَا رَجُلًا مِنْ حَرَسِہِ فَأَرْسَلَہُ اِلٰی بُسْرَۃَ یَسْأَلُہَا عَمَّا حَدَّثَتْ مِنْ ذَالِکَ، فَأَرْسَلَتْ اِلَیْہِ بُسْرَۃُ بِمِثْلِ الَّذِیْ حَدَّثَنِیْ عَنْہَا مَرْوَانُ۔ (مسند أحمد: ۲۷۸۳۸م)
عروہ بن زبیر کہتے ہے: جب مروان مدینہ منورہ پر حکمران تھا، اس دوران اس نے ذکر کیا کہ جب کوئی آدمی اپنا ہاتھ شرمگاہ کو لگا دے گا تو وہ وضو کرے گا، لیکن میں نے اس کی اس بات کا انکار کیا اور کہا کہ شرمگاہ کوچھونے والے پر کوئی وضو نہیں ہے۔ مروان نے کہا: سیدہ بسرہ ؓ نے مجھے بیان کیا ہے کہ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو نواقضِ وضو ذکر کرتے ہوئے سنا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے یہ بھی فرمایا تھا: شرمگاہ کو چھونے سے وضو کیا جائے گا۔ لیکن مروان سے میرا مجادلَہُ جاری رہا، یہاں تک کہ اس نے اپنے محافظوں میں سے ایک آدمی کو بلا کر اسے سیدہ بسرہؓکی طرف بھیجا تاکہ وہ اس سے اس حدیث کے بارے میں پوچھ کر آئیں، جو اس نے اس (مروان) کو بیان کی تھی، سیدہ بسرہ ؓ نے جواباً وہی حدیث ذکر کی،جو مروان نے مجھے ان کے واسطے سے بیان کی تھی۔
Musnad Ahmad
1453
۔ (۱۴۵۳) عَنْ إِبْرَاھِیْمَ بْنِ أَبِیْ عَبْلَۃَ قَالَ: رَأَیْتُ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ أُمِّ حَرَامٍ الْأَنْصَارِیَّ وَقَدْ صَلّٰی مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْقِبْلَتَیْنِ وَعَلَیْہِ ثَوْبُ خَزٍّ أَغْبَرُ وَأَشَارَ إِبْرَاہِیْمُ بِیَدِہِ إِلٰی مَنْکِبَیْہِ فَظَنَّ کَثِیْرٌ أَنَّہُ رِدَائُہُ۔ (مسند احمد: ۱۸۲۱۳)
ابراہیم بن ابی عبلہ کہتے ہیں: میں نے سیّدناعبد اللہ بن ام حرام انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا،انہوںنے اپنے اوپر گندمی رنگ کا اونی ریشمی کپڑا لیے ہوئے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی۔ ابراہیم نے اپنے ہاتھ سے کندھوں کی طرف اشارہ کیا، جس سے کثیر بن مروان نے سمجھا کہ وہ چادر مراد لے رہے ہیں۔
Musnad Ahmad
1454
۔ (۱۴۵۴) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ رَأَیْتُ أَبَاأُبِیٍّ الْأَنْصَارِیَّ وَھُوَ اِبْنُ أَبِیْ حَرَامٍ الْأَنْصَارِیِّ اَخْبَرَنِیْ أَ نَّہُ صَلّٰی مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْقِبْلَتَیْنِ جَمِیْعًا وَعَلَیْہِ کِسَائُ خَزٍّ أَغْبَرُ (مسند احمد: ۱۸۲۱۳)
(دوسری سند)میں نے ابو اُبَیّ انصاری کو دیکھا، انھوں نے مجھے بیان کیا کہ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ دو قبلوں کی طرف نماز پڑھی، جبکہ اس نے اپنے اوپر گندمی رنگ کی اونی ریشمی چادر لی ہوئی تھی۔
Musnad Ahmad
1756
۔ (۱۷۵۶) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا اِبْنُ أَبِیْ عَدِیٍّ عَنْ سَعِیْدٍ وَابْنِ جَعْفَرٍ ثَنَا سَعِیْدٌ الْمَعْنٰی عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ نَّبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتَاہُ رِعْلٌ وَذَکْوَانُ وَعُصَیَّۃُ وَبَنُو لِحْیَانَ فَزَعَمُوْا أَنَّہُمْ قَدْأَسْلَمُوْا فَاسْتَمَدُّوْہُ عَلٰی قَوْمِہِمْ فَأَمَدَّھُمْ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَئِذٍ بِسَبْعِیْنَ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ أَنَسٌ کُنَّا نُسَمِّیْہِمْ فِیْ زَمَانِہِمُ الْقُرَّائَ، کَانَوا یَحْتَطِبُوْنَ بِالنَّھَارِ وَیُصَلُّوْنَ بِاللَّیْلِ، فَانْطَلَقُوْا بِہِمْ حَتّٰی إِذَا أَتَوْا بِئْرَ مَعُوْنَۃَ غَدَرُوْا بِہِمْ فَقَتَلُوْھُمْ، فَقَنَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَہْرًا فِیْ صَلاَۃِ الصُّبْحِ یَدْعُوْا عَلٰی ھٰذِہِ الْأَحْیَائِ رِعْلٍ وَ ذَکْوَانَ وَعُصَیَّۃَ وَبَنِیْ لِحْیَانَ قَالَ قَتَادَۃَ وَحَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّہُمْ قَرَأُوْا بِہِ قُرْآنًا وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِیْ حَدِیْثِہِ إِنَّا قَرَأْنَا بِہِمْ قُرْآنًا: بَلِّغُوْا عَنَّا قَوْمَنَا أَنَّا قَدْ لَقِیْنَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَرْضَانَا۔ ثُمَّ رُفِعَ ذٰلِکَ بَعْدُ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ ثُمَّ نُسِخَ ذٰلِکَ أَوْ رُفِعَ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۸۷)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرے ہیں کہ رعل، ذکوان، عصیہ اوربنو لحیان قبیلے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور یہ باور کرایا کہ وہ مسلمان ہوگئے ہیں، پھر انہوں نے اپنی قوم کے خلاف آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مدد مانگی،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انصار کے ستر آدمیوں کے ساتھ ان کی مدد کی، ہم اس زمانہ میں ان کو قراء کا نام دیتے تھے، کیونکہیہ د ن کو لکڑیاں جمع کرتے اور رات کو نماز پڑھتے تھے، وہ قبیلوں والے ان کو لے کر چلے گئے، جب وہ جب بئرِ معونہ کے پاس پہنچے تو انھوں نے دھوکہ کیا اور ان (ستر صحابہ) کو قتل کردیا، اس لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صبج کی نماز میں ایک مہینہ قنوت کی، جس میں آپ ان قبائل رعل، ذکوان، عصیہ، اور بنولحیان پر بد دعا کرتے تھے۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ لوگوں نے اس واقعہ کے بارے میں قرآن پڑھا، ابن جعفر کی روایت کے مطابق وہ یہ آیت تھی: {بَلِّغُوْا عَنَّا قَوْمَنَا أَنَّا قَدْ لَقِیْنَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَرْضَانَا } یعنی: ہماری طرف سے ہماری قوم کو یہ بات پہنچا دو کہ ہم اپنے ربّ کو جا ملے ہیں، پس وہ خود بھی ہم سے راضی ہو گیا ہے اور ہم کو بھی راضی کر دیا ہے پھر یہ آیت منسوخ ہو گئی تھی۔