TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

وضو کرنے والے کا تیمم کرنے والے کی اقتدا کرنے کے جواز کا بیان - وضو کرنے والے کا تیمم کرنے والے کی اقتدا کرنے کے جواز کا بیان - مقتدیوں سے متعلقہ اور اقتداء کے احکام کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of مقتدیوں سے متعلقہ اور اقتداء کے احکام کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 6 · 1 Hadith
۔ (۲۶۰۶) عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ: لَمَّا بَعَثَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَامَ ذَاتِ السَّلَاسِلِ قَالَ: اِحْتَلَمْتُ فِی لَیْلَۃٍ بَارِدَۃٍ شَدِیْدَۃِ الْبَرْدِ فَأَشْفَقْتُ اِنِ اغْتَسلْتُ أَنْ أَھْلِکَ فَتَیَمَّمْتُ ثُمَّ صَلَّیْتُ بِأَصْحَابِی صَلَاۃَ الصُّبْحِ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہُ، فَقَالَ: یَا عَمْرُو! صَلَّیْتَ بِأَصْحَابِکَ وَأَنْتَ جُنُبٌ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ احْتَلَمْتُ فِی لَیْلَۃٍ بَارِدَۃٍ شَدِیْدَۃِ الْبَرْدِ فَأَشْفَقْتُ اِنِ اغْتَسَلْتُ أَنْ أَھْلِکَ وَذَکَرْتُ قَوْلَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ {وَلَا تَقْتُلُوْا أَنْفُسَکُمْ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیْمًا} فَتَیَمَّمْتُ ثُمَّ صَلَّیْتُ فَضَحِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَمْ یَقُلْ شَیْئًا۔ (مسند احمد: ۱۷۹۶۵)
سیّدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ذات السلاسل والے سال بھیجا تو سخت سردی والی رات کو مجھے احتلام ہو گیا،مجھے یہ خطرہ تھا کہ اگر میں نے غسل کیا تو مر جاؤں گا، اس لیے میں نے تیمم کیااور اپنے ساتھیوں کو نمازِ فجر پڑھائی۔ جب ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے تو میں نے یہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلائی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عمرو! تو نے اپنے ساتھیوں کو جنابت کی حالت میں ہی نماز پڑھا دی؟ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! مجھے احتلام ہو گیا تھا اور سخت سردی والی رات تھی، مجھے یہ ڈر ہونے لگے کہ اگر میں نے غسل کیا تو مر جاؤں گا، جبکہ مجھے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی یاد آ رہا تھا: اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہمیشہ سے بہت رحم کرنے والا ہے۔ اس لیے میں نے تیمم کر کے نماز پڑھا دی، یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرا پڑے اور کچھ نہ کہا:
Takhreej
(۲۶۰۶) تخریـج: …حدیث صحیح، وھذا اسناد فیہ عبد اللہ بن لھیعۃ أخرجہ ابوداود: ۳۳۴ (انظر: ۱۷۸۱۲)
2606
Sahih