TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

فاضل کا مفضول کی اقتداء کرنے کے جواز کا بیان - فاضل کا مفضول کی اقتداء کرنے کے جواز کا بیان - مقتدیوں سے متعلقہ اور اقتداء کے احکام کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 6 of مقتدیوں سے متعلقہ اور اقتداء کے احکام کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 6 of 6 · 3 Hadith
۔ (۲۶۱۲) عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ: خَصْلَتَانِ لَا أَسْأَلُ عَنْہُمَا أَحَدًا مِنَ النَّاسِ، رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَلَہُمَا، صَلَاۃُ الْاِمَامِ خَلْفَ الرَّجُلِ مِنْ رَعِیَّتِہِ، وَقَدْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَلْفَ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ رَکْعَۃً مِنْ صَلَاۃٍ الصُّبْحِ وَمَسْحُ الرَّجُلِ عَلٰی خُفَّیْہِ وَقَدْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمْسَحُ عَلَی الْخُفَّیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۸۳۴۰)
سیّدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: دو خصلتیں ہیں، میں ان دونوں کے بارے میں لوگوں میں کسی سے سوال نہیں کروں گا، کیونکہ میں نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ دونوں کام کرتے ہوئے دیکھا ہے۔(۱) امام کا اپنی رعایا میں سے کسی آدمی کے پیچھے نماز پڑھنا، تحقیق میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اقتداء میں نماز فجر کی ایک رکعت پڑھی اور (۲) آدمی کا اپنے موزوں پر مسح کرنا، تحقیق میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو موزوں پر مسح کرتے دیکھا ہے۔
Takhreej
(۲۶۱۲) تخریـج: …حدیث صحیح ولہ طرق کثیرۃ، وھذا اسناد فیہ ضعف وانقطاع أخرجہ مسلم: ۲۷۴ (انظر: ۱۸۱۳۴، ۱۸۱۵۷، ۱۸۱۷۲)
2612
Sahih
۔ (۲۶۱۳) وَعَنْہُ أَیْضًا وَقَدْ سُئِلَ ھَلْ أَمَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَحَدٌ مِنْ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ غَیْرُ أَبِی بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌؟ قَالَ: نَعَمْ، کُنَّا فِی سَفَرٍ وَذَکَرَ حَدِیْثًا طَوِیْلًا فِیْہِ صِفَۃُ وُضُوْئِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَفِیْہِ: قَالَ: ثُمَّ لِحِقْنَا النَّاسَ وَقَدْ أُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ وَعَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ یَؤُمُّہُمْ وَقَدْ صَلّٰی رَکْعَۃً فَذَھَبْتُ لِأُوْذِنَہُ فَنَھَانِی فَصَلَّیْنَا الَّتِی أَدْرَکْنَا وَقَضَیْنَا الَّتِی سُبِقْنَا بِہَا۔ (مسند احمد: ۱۸۳۴۷)
سیّدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے، جبکہ ان سے سوال کیا گیا کہ کیا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے علاوہ اپنی امت میں سے کسی اور کے پیچھے نماز پڑھی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، ہم سفر میں تھے، …پھر لمبی حدیث بیان کی…، جس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے وضو کا طریقہ بھی بیان کیا، پھر انھوں نے کہا: جب ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو نماز کھڑی کی جا چکی تھی اور سیّدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ُ ان کو امامت کروا رہے تھے اور ایک رکعت پڑھا چکے تھے، میں اُن کو یہ بتلانے کے لیے آگے ہوا (کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پہنچ چکے ہیں)، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے منع کر دیا، پھر ہم نے ایک رکعت ان کے ساتھ پڑھی اور جو رہ گئی تھی، اس کو بعد میں ادا کر لیا۔
Takhreej
(۲۶۱۳) تخریـج: …انظر الحدیث السابق: ۱۴۳۱ (انظر: ۱۸۱۶۴)
2613
Sahih
۔ (۲۶۱۴) عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّہُ کَانَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی سَفَرٍ فَذَھَبَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِحَاجَتِہِ فَأَدْرَکَہُمْ وَقْتُ الصَّلَاۃٍ فَأَقَامُوا الصَّلَاۃَ فَتَقَدَّمَہُمْ عَبْدُالرَّحْمٰنِ، فَجَائَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلّٰی مَعَ النَّاسِ خَلْفَہُ رَکْعَۃً، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: ((أَصَبْتُمْ وَأَحْسَنْتُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۶۶۵)
سیّدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قضائے حاجت کے لیے چلے گئے، اُدھر نماز کا وقت ہوگیا، صحابہ نے نماز کھڑی کر دی اور عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو امامت کے لیے آگے کر دیا، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اُن کی اقتداء میں لوگوں کے ساتھ ایک رکعت پڑھی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: تحقیق تم درستگی کو پہنچے ہواور تم نے اچھا کیا ہے۔
Takhreej
(۲۶۱۴) تخریـج: …صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف، رشدین بن سعد ضعفہ احمد وابن معین وابوداود والنسائی، وابن سعد، وابوسلمۃ لم یسمع من ابیہ أخرجہ الطیالسی: ۲۲۳، والبزار: ۱۰۱۴، وابویعلی: ۸۵۳ (انظر: ۱۶۶۵)
Explanation
فوائد: …ان احادیث سے ثابت ہونے والا مسئلہ تو واضح ہے کہ امام اپنی رعایا میں سے کسی فرد کی اور فاضل مفضول کی اقتداء میں نماز پڑھ سکتا ہے۔ ہم ’’بَابُ مَا یُفْعَلُ اِذَا لَمْ یَحْضُرْ اِمَامُ الْحَیِّ‘‘ (قبیلے کے امام کی عدم موجودگی میں کیا کیا جائے، اس کا بیان) میں درج بالا حدیث کی روشنی میں یہ وضاحت کر چکے ہیں کہ اگر مقرر امام وقت پر نہ پہنچے اور بظاہر اس کے پہنچنے کے آثار نظر نہ آ رہے ہوں تو کوئی اور آدمی نماز پڑھا سکتا ہے۔ عام طورپرصحابہ کرام نما ز کا وقت ہو جانے پر نبی کریمaکا انتظار کرتے تھے، لیکن اس موقع پر انتظار نہ کرنے کی یہ وجہ نظر آ رہی ہے کہ آپa قضائے حاجت کے لیے الگ ہوئے اور آپa کے واپس آنے میں دیر ہو گئی، صحابہ نے سفر کی نزاکت کی وجہ سے زیادہ انتظار کرنا مناسبت نہ سمجھا اور سیدنا عبد الرحمن بن عوف b نے نماز پڑھا دی، آپa نے آ کر اس کام کی تائید فرمائی اور ایسی صورت میں رعایا میں سے کوئی نماز پڑھا دے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
2614
Sahih