TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مکہ مکرمہ میں داخل ہونے اور اس سے متعلقہ دوسرے مسائل کا بیان - مکہ مکرمہ میں داخل ہونے اور اس سے متعلقہ دوسرے مسائل کا بیان - Book 73 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 73 of Musnad Ahmad, with 12 chapters and 54 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

54 Hadith · 12 Chapters
مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے لیے غسل کرنا
۔ (۴۳۱۶) عَنْ نَافِعٍ قَالَ: کَانَ ابْنُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما إِذَا دَخَلَ أَدْنَی الْحَرَمِ أَمْسَکَ عَنِ التَّلْبِیَۃِ، فَإِذَا انْتَہٰی إِلٰی ذِی طُوًی بَاتَ فِیْہِ حَتّٰییُصْبِحَ، ثُمَّ یُصَلِّی الْغَدَاۃَ وَیَغْتَسِلُ، وَیُحَدِّثُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَیَفْعَلُہُ، ثُمَّ یَدْخُلُ مَکَّۃَ ضُحًی فَیَأْتِی الْبَیْتَ ضُحًی فَیَأْتِیْ الْبَیْتَ فَیَسْتَلِمُ الْحَجَرَ، وَیَقُوْلُ: بِاسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ، ثُمَّ یَرْمُلُ ثَلَاثَۃَ أَشْوَاطٍ، یَمْشِی مَا بَیْنَ الرُّکْنَیْنِ، فَإِذَا أَتٰی عَلَی الْحَجَرِ اسْتَلَمَہُ وَکبَرَّ، أَرْبَعَۃَ أَطْوَافٍ مَشْیًا ثُمَّ یَأْتِی الْمَقَامَ فَیُصَلِّی رَکْعَتَیْن ثُمَّ یَرْجِعُ إِلَی الْحَجَرِ فَیَسْتَلِمُہُ، ثُمَّ یَخْرُجُ إِلَی الصَّفَا مِنَ الْبَابِ الْأَعْظَمِ فَیَقُوْمُ عَلَیْہِ فَیُکَبِّرُ سَبْعَ مِرَارٍ، ثَلَاثًا یُکَبِّرُ ثُمَّ یَقُوْلُ: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ (مسند احمد: ۴۶۲۸)
۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب حرم کے قریب پہنچتے تو تلبیہ پکار نا بند کردیتے اور جب ذی طوی میں پہنچتے تو رات وہاں بسر کرتے، جب صبح ہوجاتی تو نمازِ فجر کے بعد غسل کرتے اور بیان کرتے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایسے ہی کیا کرتے تھے، اس کے بعد چاشت کے وقت مکہ میں داخلہ ہوتے، بیت اللہ میں جاکر حجر اسود کو استلام کرتے اور کہتے: بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ، پھر طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کرتے اور رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان عام رفتا ر سے چلتے، جب حجر اسود کے قریب آتے تو اس کا استلام کرتے اور اَاللّٰہُ اَکْبَرُ کہتے۔ باقی چارچکروں میں عام رفتار سے چلتے، بعد ازاں مقامِ ابراہیم کے پاس آکر دو رکعت اداکرتے، اس کے بعد پھر حجر اسود کے پاس آکر اس کا استلام کرتے، پھر بڑے دروازے کے راستہ سے صفا کی طرف جاتے، اس کے اوپر کھڑے ہوکر سات دفعہ تکبیر کہتے، ان میں سے تین بار اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہتے اور یہ دعا پڑھتے: لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ،لَہُالمُلْکُوَلَہُالْحَمْدُ،وَھُوَعَلٰی کُلِّ شَیٍ قَدِیرٌ۔
Takhreej
(۴۳۱۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۵۷۳، ۱۲۷۴، ، ومسلم: ۱۲۵۹(انظر: ۴۶۲۸)
Explanation
فوائد:… سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌حج کے موقع پر جب حرمِ مکی میں داخل ہوتے تو اس وقت سے لے کر سعی سے فارغ ہونے تک تلبیہ بند کر دیتے، لیکن جمہور اہل علم کی رائے اس سے مختلف ہے، جس کا تذکرہ پہلے ہو چکا ہے۔ مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے لیے غسل کرنا مستحب ہے، اگر کوئی آدمی ذو طوی کے راستے سے آرہا ہو تو وہ اس مقام پر غسل کرے اور اگر وہ کسی اور راستے سے آ رہا ہے تو اتنی مسافت پہلے غسل کرنا لینا چاہیے۔ ذو طوی: مکہ مکرمہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے۔ رمل: چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے اور کندھے ہلاتے ہوئے ہلکی ہلکی دوڑ لگانا ’’رمل‘‘ کہلاتا ہے۔ صرف طوافِ عمرہ یا طوافِ قدوم کے پہلے تین چکروں میں رمل کیا جاتا ہے۔ ’’سات دفعہ تکبیر کہتے‘‘ ان الفاظ کا مفہوم ایک تو وہ ہو سکتا ہے جو ترجمہ سے واضح ہے اور ایکیہ ہے کہ صفا اور مروہ کے سات چکروں میں سے ہر ایک چکر میں اللہ کی بڑھائی بیان کرتے اور پھر آگے ہر چکر میں کن الفاظ کے ساتھ یہ بڑھائی بیان کی جائے، اس کی وضاحت ہے۔ یعنی تین دفعہ اللہ اکبر اور بعد میں وہ پورے الفاظ جو حدیث میں بیان ہوئے ہیں۔ مفصل روایات میں یہ دوسری کیفیت میں تکبیرات اور توحید کا اظہار کرنے کا ذکر ہے۔ واللہ اعلم بالصواب (عبداللہ رفیق)
4316
Sahih
مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے لیے غسل کرنا
۔ (۴۳۱۷) عَنْ نَافِعٍ قَالَ: کَانَ ابْنُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما یَبِیْتُ بِذِی طُوًی فَإِذَا أَصْبَحَ اِغْتَسَلَ وَأَمَرَ مَنْ مَعَہُ أَنْ یَغْتَسِلُوْا وَیَدْخُلُ مِنَ الْعُلْیَا، فَإِذَا خَرَجَ خَرَجَ مِنَ السُّفْلٰی، وَیَزْعُمُ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَفْعَلُ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۶۴۶۲)
۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ذی طویٰ میں رات بسر کرتے، صبح ہوتی تو غسل کرتے اور جو لوگ ان کے ساتھ ہوتے انہیں بھی غسل کرنے کا حکم دیتے اور ثنیۂ علیا کی جانب سے مکہ میں داخل ہوتے، لیکن جب مکہ سے باہر جانا ہوتا تو ثنیۂ سفلٰی کے راستہ سے جاتے، پھر وہ کہا کرتے تھے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
Takhreej
(۴۳۱۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۵۷۵، ۱۵۷۶، ومسلم: ۱۲۵۸(انظر: ۶۴۶۲)
Explanation
فوائد:… ثنیۂ علیا سے مراد بالائی گھاٹی ہے، جس سے آدمی اہل مکہ کے قبرستان ’’المُعَلّٰی‘‘ کے دروازے پر جا نکلتا تھا، اس کو حجون بھی کہتے تھے، یہ انتہائی دشوار گزار گھاٹی تھی، بالترتیب سیدنا معاویہ، عبد الملک اور مہدی نے اس کو کچھ ہموار بنا کر آسان کیا، پھر۸۱۱ھ میں اس کو کچھ اور ہموار کیا گیا، بعد ازاں۸۲۰ ھـ ملک مؤید نے اس ساری گھاٹی کو ہموار کر دیا تھا۔ ثنیۂ سفلٰی،یہ گھاٹی باب شبکہ کے پاس ہے، جو شعب ِ شامیین اور شعب ِ ابن الزبیر کے قریب ہے۔
4317
Sahih
مکہ مکرمہ میں کس راستے سے اور کس وقت داخل ہوا جائے
۔ (۴۳۱۸) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا دَخَلَ مَکَّۃَ دَخَلَ مِنَ الثَّنِیَّۃِ الْعُلْیَا وَإِذَا خَرَجَ خَرَجَ مِنَ الثَّنِیَّۃِ السُّفْلٰی۔ (مسند احمد: ۴۶۲۵)
۔ سیدنا عبد اللہ ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ مکرمہ میں ثنیٔہ علیا کے راستے سے داخل ہوتے تھے اور ثنیۂ سفلٰی کے راستہ سے باہر تشریف لے جاتے تھے۔
Takhreej
(۴۳۱۸) تخریج: انظر الحدیث السابق
4318
Sahih
مکہ مکرمہ میں کس راستے سے اور کس وقت داخل ہوا جائے
۔ (۴۳۱۹) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْفَتْحِ مِنْ کَدَائٍ مِنْ أَعْلٰی مَکَّۃَ، وَدَخَلَ فِی الْعُمْرَۃِ مِنْ کُدًی۔ (مسند احمد: ۲۴۸۱۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فتح مکہ کے موقع پر مکہ مکرمہ کی بالائی جہت کَدَائ کے راستے سے اس شہر میں داخل ہوئے اور عمرہ کے موقع پر کُدی کے راستے سے داخل ہوئے۔
Takhreej
(۴۳۱۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۵۷۷، ۴۲۹۱، ومسلم: ۱۲۵۸(انظر: ۲۴۳۱۱)
Explanation
فوائد:… ’’کَدَائ‘‘ سے مراد ’’ثنیۂ علیا‘‘ اور ’’کُدی‘‘سے مراد ’’ثنیۂ سفلی‘‘ ہے، جن کا ذکر پچھلی دو احادیث میں گزر چکا ہے۔
4319
Sahih
مکہ مکرمہ میں کس راستے سے اور کس وقت داخل ہوا جائے
۔ (۴۳۱۹) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْفَتْحِ مِنْ کَدَائٍ مِنْ أَعْلٰی مَکَّۃَ، وَدَخَلَ فِی الْعُمْرَۃِ مِنْ کُدًی۔ (مسند احمد: ۲۴۸۱۵)
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فتح مکہ کے موقع پر اذخر گھاس والی گھاٹی کی طرف سے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔
Takhreej
(۴۳۲۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عبید اللہ بن ابی زیاد القداح۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الاوسط‘‘: ۴۲۸۶(انظر: ۲۶۲۳۸)
Explanation
فوائد:… اذخر گھاس والی گھاٹی سے مراد ’’ثنیۂ علیا‘‘ ہی ہے۔ امام نووی نے کہا: صحیح اور پسندیدہ مذہب یہ ہے کہ ہر محرِم کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے وقت ثنیۂ علیا والی جہت سے آئے، اگر یہ گھاٹی اس کے راستے میں نہیں پڑتی تو پھر بھی اسے اُدھر سے ہی آنا چاہیے، ہمارے محققین کییہی رائے ہے۔ (شرح المہذب) بلکہ شیخ محمد جوینی نے کہا: یہ گھاٹی مدینہ سے مکہ کے راستے پر نہیں ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جان بوجھ کر اصل راستے کو چھوڑ کر یہ جہت اختیار کی، اس لیے ہر آدمی کے اِس گھاٹی کی طرف سے آنا مستحبّ ہے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے وقت بالائی جہت والا راستہ کیوں اختیار کیا اور پھر واپسی پر راستہ بدلنے میں کیا حکمت ہے؟ اس کے بارے میں حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: راستہ بدلنے کی وجہ تو یہ ہے کہ دونوں راستوں والے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے تبرّک حاصل کریں گے، جیسا عیدین کے لیے آنے جانے کا مسئلہ تھا، اور تشریف آوری کے وقت بالائی جہت سے آنے میں حکمت یہ ہے کہ اس طرح سے آنے میں جگہ کی تعظیم ہوتی ہے اور نچلی جانب کی جہت سے نکل جانے میں اس جگہ سے جدا ہونے کی طرف اشارہ ہوتا ہے، ایک قول یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اس بالائی جہت سے داخل ہوئے تھے، جبکہ یہ بھی کہا گیا ہے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہجرت کے موقع پر اس شہر سے چھپ کر نکلے تھے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس بار چاہا کہ شہر کی بالائی جانب سے اور کھلم کھلا اور اعلانیہ طور پر داخل ہوا جائے، ایک قول یہ ہے کہ اس طرف سے آمد کی وجہ آدمی کا بیت اللہ کے سامنے رہنا ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ چونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فتح مکہ کے موقع پر اس جہت سے داخل ہوئے تھے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسی عمل کو برقرار رکھنا چاہا ہو اور اس کا سبب ابو سفیان کا یہ قول ہے، جو انھوں نے سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے کہا تھا: میں اس وقت تک مسلمان نہیں ہوں گا، جب تک گھوڑوں کو کداء سے آتا ہوا نہیں دیکھ لوں گا۔ سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌نے کہا: یہ کیسی بات ہوئی؟ انھوں نے کہا: بس میرے دل میں یہ خیال آ گیا ہے اور اللہ تعالی اِدھر سے کبھی بھی گھوڑوں کو نہیں لائے گا۔ سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌نے کہا: جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم داخل ہوئے تو میں نے ابو سفیان کو ان کی بات یاد کرائی، جبکہ سنن بیہقی کی سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی حدیث ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے فرمایا: ’’حسان نے کیسے کہا تھا؟‘‘ انھوں نے جواباً یہ شعر پڑھا: عُدِمَتْ بِنْیَتِیْ اِنْ لَّمْ تَرَوْھَا تُثِیْرُ النَّقْعَ مَطْلَعُھَا کَدَائٗ یہ سن کر آپ مسکرائے اور فرمایا: ((اُدْخُلُوْھَا مِنْ حَیْثُ قَالَ حَسَّانُ۔)) …’’وہاں سے داخل ہو، جہاں سے حسان نے کہا تھا۔‘‘ (فتح الباری: ۳/ ۵۵۹) معلوم ایسے ہوتا ہے کہ بالائی جہت سے آنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مقصد اچھی فال تھا کہ جس مقصد کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مبعوث کیا گیا تھا وہ غالب آ گیا، اب اس خطۂ زمین میں دشمنان اسلام اور ان کا نظام پست ہو گیا ہے اور اوپر سے آنے اور نیچے کو نکل جانے میں یہ اشارہ ہے کہ اس خطے کی ہر طرف یہ نظام مصطفی چھا گیا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
4320
Zaeef
مکہ مکرمہ میں کس راستے سے اور کس وقت داخل ہوا جائے
۔ (۴۳۲۱) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ مَکَّۃَ نَہَارًا۔ (مسند احمد: ۵۲۳۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ مکرمہ میں دن کے وقت داخل ہوئے تھے۔
Takhreej
(۴۳۲۱) تخریج: حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۹۴۱، والترمذی: ۸۵۴ (انظر: ۵۲۳۰)
Explanation
فوائد:… آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صرف عمرۂ جعرانہ کے موقع پر رات کو داخل ہوئے تھے اور رات کو ہی عمرہ کر کے واپس چلے گئے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دن کو تشریف لانااس اعتبار سے انتہائی مناسب تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے افعال کی اقتداء کرنا آسان ہو جائے گی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ چاہتے تھے کہ لوگ مناسک ِ حج کی تعلیم حاصل کر لیں۔
4321
Sahih
مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے وقت کی دعا
۔ (۴۳۲۲) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا دَخَلَ مَکَّۃَ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ لَا تَجْعَلْ مَنَایَانَا بِہَا، حَتّٰی تُخْرِجَنَا مِنْہَا۔)) (مسند احمد: ۴۷۷۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو یہ دعا پڑھی: اَللّٰہُمَّ لَا تَجْعَلْ مَنَایَانَا بِہَا، حَتّٰی تُخْرِجَنَا مِنْہَا۔ (یااللہ! ہماری موتیں مکہ میں نہ بنا، یہاں تک کہ تو ہم کو یہاں سے باہر لے جا۔)
Takhreej
(۴۳۲۲) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ البیھقی: ۹/ ۱۹(انظر: )
Explanation
فوائد:… یہ دعا صرف وہ لوگ کر سکتے تھے، جنھوں نے اللہ تعالی کے لیے مکہ مکرمہ سے ہجرت کی تھی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی ذات سمیت مہاجرین کے گروہ کو مراد لے رہے ہیں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کییا کسی مہاجر کی وفات مکہ میں ہو، تاکہ ہجرت کا شرف باقی رہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس بنا پر سیدنا سعد بن خولہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ پر اظہارِ غم کرتے تھے کہ مکہ مکرمہ میں انتقال کر گئے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اَللّٰھُمَّ اَمْضِ لِاَصْحَابِیْ ھِجْرَتَھُمْ، وَلَا تَرُدَّھُمْ عَلٰی اَعْقَابِھِمْ، لٰکِنَّ الْبَائِسَ سَعْدُ بْنُ خَوْلَۃَ۔)) …’’اے اللہ!میرے صحابہ کے لیے ان کی ہجرت کو نافذ کر دے اور ان کو ان کی ایڑیوں کے بل نہ لوٹا دے، لیکن بے چارہ سعد بن خولہ۔‘‘ (صحیح بخاری: ۳۹۳۶، مسلم: ۱۶۲۸) خانہ کعبہ کو دیکھ کر جو مخصوص دعائیں پڑھی جاتی ہیں، ان کی سندیں ضعیف ہیں، مثلا: مکحول کہتے ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے اور بیت اللہ کو دیکھتے تو ہاتھ اٹھاتے اور اللہ اکبر کہتے اور پھریہ دعا پڑھتے: ((اَللّٰھُمَّ اَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلَامُ فَحَیِّنَا رَبَّنَا بِالسَّلَامِ، اَللّٰھُمَّ زِدْ ھٰذَا الْبَیْتَ تَشْرِیْفًا وَ تَعْظِیْمًا وَمَھَابَۃً وَزِدْ مَنْ حَجَّہٗاَوِاعْتَمَرَہٗتَکْرِیْمًا وَ تَشْرِیْفًا وَتَعْظِیْمًا وَبِرًّا)) (سنن بیقہی، اس کی سند مرسل معضل ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے)سیدنا حذیفہ بن اسید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کہتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب بیت اللہ کی طرف دیکھا تو فرمایا: ((اَللّٰھُمَّ زِدْ بَیْتَکَ ھٰذَا تَشْرِیْفًا وَتَکْرِیْمًا وَ بِرًّا وَمَھَابَۃً۔)) (معجم کبیر، معجم اوسط، اس میں عاصم بن سلیمان کوزی راوی متروک ہے۔) سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((تُرْفَعُ الْاَیْدِیْ فِیْ الدُّعَائِ لِاِسْتِقْبَالِ الْبَیْتِ۔)) … ’’بیت اللہ کے سامنے آتے وقت ہاتھ اٹھا کر دعا کی جائے۔‘‘ (سنن سعید بن منصور، سنن بیہقی، اس میں عبد اللہ بن عبد الرحمن بن ابو لیلی ضعیف ہے) سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے یہ سوال کیا گیا کیا آدمی بیت اللہ کو دیکھ کر ہاتھ اٹھائے گا، انھوں نے کہا: جب ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حج کیا تو ہم اس طرح کرتے تھے۔ (جامع ترمذی: ۸۵۵، لیکنیہ حدیث بھی ضعیف ہے) لوگوں کو چاہیے کہ وہ مکہ مکرمہ یا کسی دوسرے شہر اور بستی میں داخل ہونے سے پہلے درج ذیل عام حدیث پر عمل کرتے ہوئے اس میں مذکورہ دعا پڑھ لیں۔ سیدنا صہیب سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب کوئی ایسی بستی دیکھتے، جس میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتے تو اس کو دیکھ کر یہ دعا پڑھتے: ((اَللّٰھُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا اَظْلَلْنَ، وَرَبَّ الْاَرْضِیْنَ السَّبْعِ وَمَا اَقْلَلْنَ، وَرَبَّ الشَّیَاطِیْنِ وَمَا اَضْلَلْنَ وَرَبَّ الرِّیَاحِ وَمَا ذَرَیْنَ، اَسْأَلُکَ خَیْرَ ھٰذِہِ الْقَرْیَۃِ وَخَیْرَ اَھْلِھَا وَخَیْرَ مَا فِیْھَا، وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّھَا، وَشَرِّ اَھْلِھَا وَ شَرِّ مَا فِیْھَا))… (مستدرک حاکم: ۱/ ۶۱۴) ’’اے اللہ! اے ساتوں آسمانوں کے ربّ اور ان چیزوں کے ربّ جن پر انھوں نے سایہ کیا ہوا ہے! اے ساتوں زمینوں کے رب اور ان چیزوں کے ربّ جن کو انھوں نے اٹھایا ہوا ہے! اے شیطانوں کے ربّ اور ان چیزوں کے ربّ جن کو انھوں نے گمراہ کیا! اے ہواؤں کے ربّ اور ان چیزوں کے ربّ جن کو انھوں نے اڑایا! میں تجھ سے اس بستی کی خیر اور اس میں رہنے والوں کی خیر اور اس چیز کی خیر کا سوال کرتا ہوں جو اس بستی میں ہے اور تجھ سے اس بستی کے شرّ اور اس کے رہنے والوں کے شرّ اور اس چیز کے شرّ سے جو اس میں ہے، کی پناہ طلب کرتا ہوں۔‘‘
4322
Sahih
طواف کے لئے طہارت اور سترہ کا بیان
۔ (۴۳۲۳) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما رَفَعَہُ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ النُّفَسَائَ وَالْحَائِضَ تَغْتَسِلُ وَتُحْرِمُ وَتَقْضِی الْمَنَاسِکَ کُلَّہَا، غَیْرَ أَنْ لَا تَطُوْفَ بِالْبَیْتِ حَتّٰی تَطْہُرَ۔)) (مسند احمد: ۳۴۳۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نفاس اور حیض والی خواتین غسل کرکے احرام باندھ لیں اور تمام مناسک ادا کریں، البتہ جب تک پاک نہ ہو جائیں، بیت اللہ کا طواف نہ کریں۔
Takhreej
(۴۳۲۳) تخریج: حسن لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۷۴۴، والترمذی: ۹۴۵(انظر: ۳۴۳۵)
4323
Sahih
طواف کے لئے طہارت اور سترہ کا بیان
۔ (۴۳۲۴) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْحَائِضُ تَقْضِی الْمَنَاسِکَ کُلَّہَا إِلَّا الطَّوَافَ بِالْبَیْتِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۵۶۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حائضہ عورت بیت اللہ کے طواف کے علاوہ باقی تمام حج کے افعال ادا کرے گی۔
Takhreej
(۴۳۲۴) تخریج: حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف ۔ أخرجہ الترمذی: ۹۴۵ (انظر: ۲۵۰۵۵)
4324
Sahih
طواف کے لئے طہارت اور سترہ کا بیان
۔ (۴۳۲۵) عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ الْقَاسِمِ َعْن أَبِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہَا، وَحَاضَتْ بِسَرِفَ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَ مَکَّۃَ: ((اِقْضِی مَا یَقْضِی الْحَاجُّ، غَیْرَ أَنْ لَا تَطُوْفِی بِالْبَیْتِ…۔)) الْحَدِیْثِ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۱۰)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے سرف مقام پر حائضہ ہو گئیں تھیں تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا تھا: تم وہ سارے امور ادا کرو،جو دوسرے حاجی لوگ ادا کریں گے، البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔
Takhreej
(۴۳۲۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۹۴، ۵۵۴۸، ۵۵۵۹، ومسلم: ۱۲۱۱(انظر: ۲۴۱۰۹)
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ حیض اور نفاس والی خواتین طواف نہیں کر سکتیں۔
4325
Sahih
طواف کے لئے طہارت اور سترہ کا بیان
۔ (۴۳۲۶) عَنْ زَیْدِ بْنِ یُثَیْعٍ، عَنْ أَبِی بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَہُ بِبَرَائَ ۃٍ لِأَھْلِ مَکَّۃَ: ((لَا یَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِکٌ وَلَا یَطُوْفُ بِالْبَیْتِ عُرْیَانٌ وَلَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَۃٌ۔)) الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۴)
۔ سیدنا ابوبکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں سورۂ براء ۃ والی آیات دے کر اہلِ مکہ کی طرف بھیجا تاکہ وہ وہاں یہ اعلان کردیں کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک نہ حج کر سکے گا، نہ کوئی آدمی برہنہ حالت میں بیت اللہ کا طواف کرے گا اور جنت میں صرف مسلمان ہی کو داخل ہوگا۔
Takhreej
(۴۳۲۶) اسنادہ ضعیف، زید بن یثیع فی عداد المجھولین، ثم ھو منقطع بین زید وابی بکر، لکن ثبت ھذا اللفظ المذکور من حدیث علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عند الامام احمد والامام الترمذی۔ أخرجہ ابو یعلی: ۱۰۴(انظر: ۴)
Explanation
فوائد:… سورۂ توبہ کی تفسیر میں آخری حدیث پر بحث کی جائے گی۔ طواف سے متعلقہ مزید دو احادیث اور ان کی فقہ: سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اَلطَّوَافُ حَوْلَ الْبَیْتِ مِثْلُ الصَّلَاۃِ، اِلَّا اَنَّکُمْ تَتَکَلَّمُوْنَ فِیْہِ، فَمَنْ تَکَلَّمَ فَـلَا یَتَکَلَّمَنَّ اِلَّا بِخَیْرٍ۔)) …’’بیت اللہ کے ارد گرد طواف نماز کی طرح ہے، البتہ تم اس میں باتیں کرسکتے ہو، لیکن جو آدمی بات کرے، وہ خیر والی بات کرے۔‘‘ (ترمذی: ۹۶۰) ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اَلطَّوَافُ بِالْبَیْتِ صَلَاۃٌ فَاَقِلُّوْا مِنَ الْکَلَامِ۔)) …’’بیت اللہ کا طواف نماز ہے، پس اس میں کم کلام کیا کرو۔‘‘ (سنن نسائی: ۲۹۲۲) امام مالک، امام شافعی اور امام احمد سمیت جمہور اہل علم نے ان احادیث کی روشنی میں کہا ہے کہ چونکہ طواف نماز ہے، اس لیےیہ وضو کے بغیر درست نہیں ہو گا، امام ابوحنیفہ کی رائے یہ ہے کہ وضو، طواف کے لیے شرط نہیں ہے۔ اگر احتیاطاً وضو کر لیا جائے تو مناسب ہو گا، وگرنہ مذکورہ بالا احادیث وضو کے شرط ہونے کے بارے میں واضح نہیں ہیں، کیونکہ کسی چیز کو نماز کہنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ نماز کے تمام احکام و مسائل اور شروط و قیود کا مصداق بن جائے گی، مثلا طواف کے دوران یہ امور جائز ہیں: نقل و حرکت کرنا، اِدھر اُدھر دیکھنا، باتیں کرنا، قبلہ رخ نہ ہونا، طواف میں انقطاع پیدا کر دینا، بلکہ کچھ چکروں کے بعد کہیں چلے جانا اور واپس آ کر مکمل کرنا، طواف قدوم میں کندھا ننگے رکھنا۔ جبکہ اِن امور میں سے کوئی چیز بھی نماز میں جائز نہیں ہے، اور نماز کے تکبیرِ تحریمہ سے لے کر سلام تک کے تمام ارکان، فرائض اور مستحبّات میں سے کوئی چیز طواف کے اندر نہیں ہے، مثلارفع الیدین، قراء ت، رکوع، سجدہ، تشہد، درود وغیرہ۔ اگر ان تمام امور میں طواف اور نماز میںکوئی مماثلت اور مشابہت نہیں ہے تو مذکورہ بالا احادیث کی روشنی میں وضو کی شرط کیسے لگائی جا سکتی ہے، اس بات کو تسلیم کرنا تو ضروری ہے کہ طواف بھی ایک قسم کی نماز ہے، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ نماز والی شرطیں طواف کرنے والے پر بھی عائد کر دی جائیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔
4326
Zaeef
طوافِ قدوم اور اس میں رمل اور اضطباع کا بیان
۔ (۴۳۲۷) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابُہٗ،وَقَدْوَھَنَتْہُمْحُمّٰییَثْرِبَ قَالَ: فَقَالَ الْمُشْرِکُوْنَ: إِنَّہُ یَقْدَمُ عَلَیْکُمْ قَوْمٌ قَدْ وَھَنَتْہُمُ الْحُمّٰی، قَالَ: فَأَطْلَعَ اللّٰہُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی ذَلِکَ، فَأَمَرَ أَصْحَابَہٗأَنْیَرْمُلُوْا، وَقَعَدَ الْمُشْرِکُوْنَ نَاحِیَۃَ الْحِجْرِ، یَنْظُرُوْنَ إِلَیْہِمْ فَرَمَلُوْا وَمَشَوْا مَا بَیْنَ الرُّکْنَیْنِ، قَالَ: فََقَالَ الْمُشْرِکُوْنَ: ھٰؤُلَائِ الَّذِیْنَ تَزْعُمُوْنَ أَنَّ الْحُمّٰی وَھَنَتْہُمُ، ھٰؤُلَائِ أَقْوٰی مِنْ کَذَا وَکَذَا، ذَکَرُوْا قَوْلَہُمْ، قَالَ ابْنُ عَباَّسٍ: فَلَمْ یَمْنَعْہُ أَنْ یَأْمُرَھُمْ أَنْ یَرْمُلُوْا الْأَشْوَاطَ کُلَّہَا إِلَّا إِبْقَائٌ عَلَیْہِمْ۔ (مسند احمد: ۲۶۳۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ کرام مکہ مکرمہ تشریف لائے، یثرب کے بخار کی وجہ سے یہ لوگ کمزور ہوچکے تھے، مشرکین آپس میں یہ باتیں کرنے لگے کہ ان کے پاس ایسے لوگ آرہے ہیں جن کو بخار نے لاغر اور کمزور کردیا ہے، اُدھر اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ان کی اس بات سے آگاہ کردیا، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ طواف میں رمل کریں، مشرکین حطیم کی طرف بیٹھے ان کو دیکھ رہے تھے، پس مسلمانوں نے طواف میں رمل کیا، البتہ رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان عام رفتار سے چلے، ان کو دیکھ کر مشرک لوگ کہنے لگے: یہ ہیں وہ لوگ جن کے متعلق تم کہتے تھے کہ انہیں بخار نے لاغر کردیا ہے، یہ تو بڑے طاقت ور ہیں۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ پر شفقت کرتے ہوئے تمام چکروں میں رمل کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔
Takhreej
(۴۳۲۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۶۰۲، ۴۲۵۶، ومسلم: ۱۲۶۶(انظر: ۲۶۳۹)
Explanation
فوائد:… یہ عمرۂ قضا کا واقعہ ہے اور ہجرت کے بعد بیت اللہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پہلی آمد کا موقع تھا۔ حجر اسود سے رکن یمانی تک رمل کیا جاتا ہے اور رکن یمانی سے حجر اسود کے مابین عام چال چلی جاتی ہے، اس کی وجہ یہ تھی کہ مشرکین حطیم کی طرف بیٹھے تھے، اس لیے جب مسلمان اِن دو کونوں کے مابین عام چال چلتے تھے تو وہ اِن کو نہیں دیکھ پاتے تھے۔ سنن ابو داود کی روایت کے الفاظ یوں ہیں: ((وَکَانُوْا اِذَا بَلَغُوْا الرُّکْنَ الْیَمَانِیَّ وَتَغَیَّبُوْا مَشَوْا ثُمَّ یَطَّلِعُوْنیَرْمُلُوْنَ)) … جب صحابۂ کرام رکن یمانی تک پہنچتے اور مشرکوں سے چھپ جاتے تو عام چال چلنا شروع کر دیتے، پھر جب (حجر اسود کے بعد) ان کے سامنے آتے تو رمل شروع کر دیتے۔ کعبہ کی عمارت درج ذیل چار کونوں پر مشتمل ہے: (۱) حجر اسود، (۲) رکن یمانی، (۳) رکن شامی اور (۴) رکن عراقی۔ اول الذکر دو کو ’’رکنینیمانیین‘‘ اور مؤخر الذکر دو کو ’’رکنین شامیین‘‘ کہتے ہیں، شامی ارکان کی طرف حطیم ہے۔ اگرچہ رمل کا سبب یہ تھا کہ مسلمان، مشرکوں کے سامنے اپنی قوت کا اظہار کریں اور بعد میں یہ سبب زائل ہو گیا، لیکن رمل کو بطورِ سنت برقرار رکھا گیا، جیسا کہ اگلی روایات سے معلوم ہو گا۔
4327
Sahih
طوافِ قدوم اور اس میں رمل اور اضطباع کا بیان
۔ (۴۳۲۸) عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: رَمَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثَلَاثَۃَ أَشْوَاطٍ بِالْبَیْتِ إِذَا انْتَہٰی إِلَی الرُّکْنِ الْیَمَانِیِّ مَشٰی حَتّٰییَأْتِیَ الْحَجَرَ ثُمَّ یَرْمُلُ، وَمَشٰی أَرْبَعَۃَ أَشْوَاطٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَکَانَتْ سُنَّۃً، (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ) قَالَ أَبُوْ الْطُّفَیْلِ: وَأَخْبَرْنِی ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَلَ ذَالِکَ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ۔ (مسند احمد: ۲۲۲۰)
۔ ابوطفیل سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیت اللہ کے طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کیا، جب آپ رکن یمانی کے پاس پہنچتے تو حجر اسود تک عام رفتار سے چلتے، اس کے بعد پھر رمل کرتے اور باقی چار چکروں میں آپ عام رفتار سے چلے۔پھر سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: اس طرح یہ رمل سنت ہے اور یہ حجۃ الوداع کا واقعہ تھا۔
Takhreej
(۴۳۲۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۲۶۴(انظر: ۲۲۲۰)
Explanation
فوائد:… جن اسباب کی بنا پر رمل کی ابتداء ہوئی تھی، وہ حجۃ الوداع کے موقع پر مفقود تھے، لیکن رمل کا حکم مستقل سنت کی حیثیت اختیار کر جانے کی وجہ سے باقی رہے گا۔
4328
Sahih
طوافِ قدوم اور اس میں رمل اور اضطباع کا بیان
۔ (۴۳۲۹) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم طَافَ سَبْعًا وَطَافَ سَعْیًا، وَإِنَّمَا سَعٰی أَحَبَّ أَنْ یُرِیَ النَّاسَ قُوَّتَہُ۔ (مسند احمد: ۲۸۲۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیت اللہ کے گرد سات چکر لگائے اور (پہلے تین چکر) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوڑ کر پورے کیے، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو اپنی قوت دکھائیں۔
Takhreej
(۴۳۲۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۲۶۴(انظر: ۲۲۲۰)
4329
Sahih
طوافِ قدوم اور اس میں رمل اور اضطباع کا بیان
۔ (۴۳۳۰) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: رَمَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی حَجَّتِہِ وَفِی عُمَرِہِ کُلِّہَا وَأَبُوْ بَکْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَالْخُلَفَائُ۔ (مسند احمد:۱۹۷۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے حج اور تمام عمروں کے طواف میں اور سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان اور باقی خلفاء نے رمل کیا۔
Takhreej
(۴۳۳۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط البخاری ۔ أخرجہ ابو یعلی: ۲۴۹۲، وابن ابی شیبۃ: ص ۴۰۷(انظر: ۱۹۷۲)
4330
Sahih
طوافِ قدوم اور اس میں رمل اور اضطباع کا بیان
۔ (۴۳۳۱) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا طَافَ الطَّوَافَ الْأَوَّلَ خَبَّ ثَلَاثًا وَمَشٰی أَرْبَعًا وَکَانَ یَسْعٰی بِبَطْنِ الْمَسِیْلِ إِذَا طَافَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ۔ (مسند احمد: ۵۷۳۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب پہلا طواف (یعنی طواف قدوم) کرتے تو ابتدائی تین چکروں میں رمل کرتے اور باقی چارچکروں میں عام رفتار سے چلتے اور صفا ومروہ کی سعی کرتے وقت وادی کے درمیان میں دوڑتے تھے۔
Takhreej
(۴۳۳۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۶۴۴، ومسلم: ۱۲۶۱(انظر: ۵۷۳۷)
4331
Sahih
طوافِ قدوم اور اس میں رمل اور اضطباع کا بیان
۔ (۴۳۳۲) عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّہُ کَانَ یَرْمُلُ ثَلَاثًا وَیَمْشِی أَرْبَعًا وَیَزْعُمُ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَفْعَلُہُ وَکَانَ یَمْشِی مَا بَیْنَ الرُّکْنَیْنِ، قَالَ: إِنَّمَا کَانَ یَمْشِی مَا بَیْنَہُمَا لَیَکُوْنَ أَیْسَرَ لِاسْتِلَامِہِ۔ (مسند احمد: ۴۶۱۸)
۔ نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کرتے اور باقی چکروں میں عام رفتار چلتے اور یہ کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی ایسے ہی کیاکرتے تھے۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رکن یمانی اور حجر اسود کے مابین عام رفتا ر سے چلا کرتے تھے، جناب نافع نے کہا: وہ ان دو کے درمیان اس لیے چلتے تھے، تاکہ حجر اسود کا استلام کرنے میں آسانی ہو۔
Takhreej
(۴۳۳۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۶۱۷، ومسلم: ۱۲۶۱ (انظر: ۴۶۱۸)
Explanation
فوائد:… امام نافع کے نزدیک رکن یمانی سے حجر اسود تک عام چال چلنے کی وجہ حجر اسود کا استلام کرنے میں آسانی پیدا کرنا ہے، یہ جنابِ نافع کا ذاتی فہم ہے، یہاں عام چال چلنے کی وجہ مشرکوں سے اوجھل ہو جانا تھا، جیسا کہ اس باب کی پہلی حدیث میں وضاحت ہو چکی ہے۔
4332
Sahih
طوافِ قدوم اور اس میں رمل اور اضطباع کا بیان
۔ (۴۳۳۳) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ إِلَی الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ۔ (مسند احمد: ۶۰۴۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجراسود سے حجراسود تک رمل کیا۔
Takhreej
(۴۳۳۳) تخریج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجر اسود سے لے کر حجر اسود تک تین چکروں میں ’’رمل‘‘ کیا اور چار چکروں میں عام چال چلتے رہے۔ (مسلم)عمرۂ قضاء کے موقع پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے طوافِ قدوم کے پہلے تین چکروں میں حجر اسود سے رکن یمانی تک رمل کیا تھا، لیکن حجۃ الوداع کے موقع پر حجر اسود سے حجر اسود تک، یعنی پورے چکر میں رمل کیا، جیسا کہ اِس حدیثسے معلوم ہوتا ہے۔امام مبارکپوری ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کی حدیث والا عمل عمرۂ قضاء کے موقع پر۷ھ میں پیش آیا، جبکہ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کی حدیث والا عمل ۱۰ ھ میں پیش آیا، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آخری عمل کو لیا جائے گا اور پہلے والے عمل کو منسوخ سمجھا جائے گا۔ (تحفۃ الاحوذی: ۲/ ۹۲) خلاصۂ کلام یہ ہے کہ پہلے تین چکروں میں مکمل رمل کیا جائے گا۔
4333
Sahih
طوافِ قدوم اور اس میں رمل اور اضطباع کا بیان
۔ (۴۳۳۴) عَنْ یَعْلَی بْنِ أُمَیَّہَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: إِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا قَدِمَ طَافَ بِالْبَیْتِ وَھُوَمُضْطَبِعٌ بِبُرْدٍ لَہُ حَضْرَمِیٍّ۔ (مسند احمد: ۱۸۱۲۰)
۔ سیدنایعلی بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب مکہ مکرمہ تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حضرمی چادر سے اضطباع کیا ہوا تھا۔
Takhreej
(۴۳۳۴) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۸۸۳(انظر: ۱۷۹۵۶)
Explanation
فوائد:… اضطباع کا معنییہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ چادر اس طرح لپیٹی ہوئی تھی کہ آپ کا دایاں کندھا برہنہ تھا، طوافِ قدوم کے ساتوں چکروں میں اضطباع کیا جاتا ہے۔
4334
Sahih
طوافِ قدوم اور اس میں رمل اور اضطباع کا بیان
۔ (۴۳۳۵) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابَہُ اعْتَمَرُوْا مِنْ جِعْرَانَۃَ فَاضْطَبَعُوْا أَرْدِیَتَہُمْ تَحْتَ آَبَاطِہِمْ (وَفِیْ لَفْظٍ) جَعَلُوْا أَرْدِیَتَہُمْ وَقَذَفُوْہَا عَلٰی عَوَاتِقِہِمُ الْیُسْرٰی۔ (مسند احمد: ۲۷۹۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ نے جعرانہ سے عمرہ کیا تو انہوں نے اس طرح اضطباع کیا ہوا تھا کہ انھوں نے (دائیں کندھوں کی) بغلوں سے چادروں کو گزار کر بائیں کندھے پر ڈالا ہوا تھا۔
Takhreej
(۴۳۳۵) تخریج: اسنادہ قوی علی شرط مسلم ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۸۸۴، ۱۸۹۰(انظر: ۲۷۹۲)
4335
Sahih

Chapters

12
01
مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے لیے غسل کرنا
2 Hadith
02
مکہ مکرمہ میں کس راستے سے اور کس وقت داخل ہوا جائے
4 Hadith
03
مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے وقت کی دعا
1 Hadith
04
طواف کے لئے طہارت اور سترہ کا بیان
4 Hadith
05
طوافِ قدوم اور اس میں رمل اور اضطباع کا بیان
11 Hadith
06
طواف، رکن یمانی،حجراسود اور مقامِ ابراہیم کی فضیلت
7 Hadith
07
حجراسود اور رکن یمانی کا استلام کرنے اور دوسرے دو کونوں کا استلام نہ کرنے کا بیان
6 Hadith
08
حجراسود کا استلام کرنے،اس کو بوسہ دینے اوراس وقت کی دعا کا بیان، نیز ہجوم والا بندہ کیا کرے، اس چیز کا بیان
5 Hadith
09
بیت اللہ کے تمام کونوں کا استلام کرنا
2 Hadith
10
اس امر کا بیان کہ کسی عذر اور ضرورت کی بنا پر اونٹ وغیرہ پر طواف اور چھڑی وغیرہ کے ساتھ حجر اسود کا استلام کیا جا سکتا ہے
6 Hadith
11
اس امر کا بیان کہ طواف کرنے والاآدمی حطیم کے باہر سے طواف کرے، تاکہ ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں کے مطابق پورے بیت اللہ کا طواف ہوسکے
3 Hadith
12
ہر وقت میں طواف کے جائز ہونے کا اور بعض اوقات میں اس کو مکروہ سمجھنے والوں کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.