TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے لیے غسل کرنا - مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے لیے غسل کرنا - مکہ مکرمہ میں داخل ہونے اور اس سے متعلقہ دوسرے مسائل کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of مکہ مکرمہ میں داخل ہونے اور اس سے متعلقہ دوسرے مسائل کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 12 · 2 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۴۳۱۶) عَنْ نَافِعٍ قَالَ: کَانَ ابْنُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما إِذَا دَخَلَ أَدْنَی الْحَرَمِ أَمْسَکَ عَنِ التَّلْبِیَۃِ، فَإِذَا انْتَہٰی إِلٰی ذِی طُوًی بَاتَ فِیْہِ حَتّٰییُصْبِحَ، ثُمَّ یُصَلِّی الْغَدَاۃَ وَیَغْتَسِلُ، وَیُحَدِّثُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَیَفْعَلُہُ، ثُمَّ یَدْخُلُ مَکَّۃَ ضُحًی فَیَأْتِی الْبَیْتَ ضُحًی فَیَأْتِیْ الْبَیْتَ فَیَسْتَلِمُ الْحَجَرَ، وَیَقُوْلُ: بِاسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ، ثُمَّ یَرْمُلُ ثَلَاثَۃَ أَشْوَاطٍ، یَمْشِی مَا بَیْنَ الرُّکْنَیْنِ، فَإِذَا أَتٰی عَلَی الْحَجَرِ اسْتَلَمَہُ وَکبَرَّ، أَرْبَعَۃَ أَطْوَافٍ مَشْیًا ثُمَّ یَأْتِی الْمَقَامَ فَیُصَلِّی رَکْعَتَیْن ثُمَّ یَرْجِعُ إِلَی الْحَجَرِ فَیَسْتَلِمُہُ، ثُمَّ یَخْرُجُ إِلَی الصَّفَا مِنَ الْبَابِ الْأَعْظَمِ فَیَقُوْمُ عَلَیْہِ فَیُکَبِّرُ سَبْعَ مِرَارٍ، ثَلَاثًا یُکَبِّرُ ثُمَّ یَقُوْلُ: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ (مسند احمد: ۴۶۲۸)
۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب حرم کے قریب پہنچتے تو تلبیہ پکار نا بند کردیتے اور جب ذی طوی میں پہنچتے تو رات وہاں بسر کرتے، جب صبح ہوجاتی تو نمازِ فجر کے بعد غسل کرتے اور بیان کرتے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایسے ہی کیا کرتے تھے، اس کے بعد چاشت کے وقت مکہ میں داخلہ ہوتے، بیت اللہ میں جاکر حجر اسود کو استلام کرتے اور کہتے: بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ، پھر طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کرتے اور رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان عام رفتا ر سے چلتے، جب حجر اسود کے قریب آتے تو اس کا استلام کرتے اور اَاللّٰہُ اَکْبَرُ کہتے۔ باقی چارچکروں میں عام رفتار سے چلتے، بعد ازاں مقامِ ابراہیم کے پاس آکر دو رکعت اداکرتے، اس کے بعد پھر حجر اسود کے پاس آکر اس کا استلام کرتے، پھر بڑے دروازے کے راستہ سے صفا کی طرف جاتے، اس کے اوپر کھڑے ہوکر سات دفعہ تکبیر کہتے، ان میں سے تین بار اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہتے اور یہ دعا پڑھتے: لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ،لَہُالمُلْکُوَلَہُالْحَمْدُ،وَھُوَعَلٰی کُلِّ شَیٍ قَدِیرٌ۔
Takhreej
(۴۳۱۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۵۷۳، ۱۲۷۴، ، ومسلم: ۱۲۵۹(انظر: ۴۶۲۸)
Explanation
فوائد:… سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌حج کے موقع پر جب حرمِ مکی میں داخل ہوتے تو اس وقت سے لے کر سعی سے فارغ ہونے تک تلبیہ بند کر دیتے، لیکن جمہور اہل علم کی رائے اس سے مختلف ہے، جس کا تذکرہ پہلے ہو چکا ہے۔ مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے لیے غسل کرنا مستحب ہے، اگر کوئی آدمی ذو طوی کے راستے سے آرہا ہو تو وہ اس مقام پر غسل کرے اور اگر وہ کسی اور راستے سے آ رہا ہے تو اتنی مسافت پہلے غسل کرنا لینا چاہیے۔ ذو طوی: مکہ مکرمہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے۔ رمل: چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے اور کندھے ہلاتے ہوئے ہلکی ہلکی دوڑ لگانا ’’رمل‘‘ کہلاتا ہے۔ صرف طوافِ عمرہ یا طوافِ قدوم کے پہلے تین چکروں میں رمل کیا جاتا ہے۔ ’’سات دفعہ تکبیر کہتے‘‘ ان الفاظ کا مفہوم ایک تو وہ ہو سکتا ہے جو ترجمہ سے واضح ہے اور ایکیہ ہے کہ صفا اور مروہ کے سات چکروں میں سے ہر ایک چکر میں اللہ کی بڑھائی بیان کرتے اور پھر آگے ہر چکر میں کن الفاظ کے ساتھ یہ بڑھائی بیان کی جائے، اس کی وضاحت ہے۔ یعنی تین دفعہ اللہ اکبر اور بعد میں وہ پورے الفاظ جو حدیث میں بیان ہوئے ہیں۔ مفصل روایات میں یہ دوسری کیفیت میں تکبیرات اور توحید کا اظہار کرنے کا ذکر ہے۔ واللہ اعلم بالصواب (عبداللہ رفیق)
4316
Sahih
۔ (۴۳۱۷) عَنْ نَافِعٍ قَالَ: کَانَ ابْنُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما یَبِیْتُ بِذِی طُوًی فَإِذَا أَصْبَحَ اِغْتَسَلَ وَأَمَرَ مَنْ مَعَہُ أَنْ یَغْتَسِلُوْا وَیَدْخُلُ مِنَ الْعُلْیَا، فَإِذَا خَرَجَ خَرَجَ مِنَ السُّفْلٰی، وَیَزْعُمُ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَفْعَلُ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۶۴۶۲)
۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ذی طویٰ میں رات بسر کرتے، صبح ہوتی تو غسل کرتے اور جو لوگ ان کے ساتھ ہوتے انہیں بھی غسل کرنے کا حکم دیتے اور ثنیۂ علیا کی جانب سے مکہ میں داخل ہوتے، لیکن جب مکہ سے باہر جانا ہوتا تو ثنیۂ سفلٰی کے راستہ سے جاتے، پھر وہ کہا کرتے تھے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
Takhreej
(۴۳۱۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۵۷۵، ۱۵۷۶، ومسلم: ۱۲۵۸(انظر: ۶۴۶۲)
Explanation
فوائد:… ثنیۂ علیا سے مراد بالائی گھاٹی ہے، جس سے آدمی اہل مکہ کے قبرستان ’’المُعَلّٰی‘‘ کے دروازے پر جا نکلتا تھا، اس کو حجون بھی کہتے تھے، یہ انتہائی دشوار گزار گھاٹی تھی، بالترتیب سیدنا معاویہ، عبد الملک اور مہدی نے اس کو کچھ ہموار بنا کر آسان کیا، پھر۸۱۱ھ میں اس کو کچھ اور ہموار کیا گیا، بعد ازاں۸۲۰ ھـ ملک مؤید نے اس ساری گھاٹی کو ہموار کر دیا تھا۔ ثنیۂ سفلٰی،یہ گھاٹی باب شبکہ کے پاس ہے، جو شعب ِ شامیین اور شعب ِ ابن الزبیر کے قریب ہے۔
4317
Sahih

Chapters

12
01
مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے لیے غسل کرنا
2 Hadith
02
مکہ مکرمہ میں کس راستے سے اور کس وقت داخل ہوا جائے
4 Hadith
03
مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے وقت کی دعا
1 Hadith
04
طواف کے لئے طہارت اور سترہ کا بیان
4 Hadith
05
طوافِ قدوم اور اس میں رمل اور اضطباع کا بیان
11 Hadith
06
طواف، رکن یمانی،حجراسود اور مقامِ ابراہیم کی فضیلت
7 Hadith
07
حجراسود اور رکن یمانی کا استلام کرنے اور دوسرے دو کونوں کا استلام نہ کرنے کا بیان
6 Hadith
08
حجراسود کا استلام کرنے،اس کو بوسہ دینے اوراس وقت کی دعا کا بیان، نیز ہجوم والا بندہ کیا کرے، اس چیز کا بیان
5 Hadith
09
بیت اللہ کے تمام کونوں کا استلام کرنا
2 Hadith
10
اس امر کا بیان کہ کسی عذر اور ضرورت کی بنا پر اونٹ وغیرہ پر طواف اور چھڑی وغیرہ کے ساتھ حجر اسود کا استلام کیا جا سکتا ہے
6 Hadith
11
اس امر کا بیان کہ طواف کرنے والاآدمی حطیم کے باہر سے طواف کرے، تاکہ ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں کے مطابق پورے بیت اللہ کا طواف ہوسکے
3 Hadith
12
ہر وقت میں طواف کے جائز ہونے کا اور بعض اوقات میں اس کو مکروہ سمجھنے والوں کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.