TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 5274 - کسی غلام میں اپنے حصے کو آزاد کر دینے والے یا اپنے غلام کا بعض حصہ آزاد کر دینے والے شخص کا بیان - آزادی کے احکام کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 10 of 10 in this chapter
کسی غلام میں اپنے حصے کو آزاد کر دینے والے یا اپنے غلام کا بعض حصہ آزاد کر دینے والے شخص کا بیان
۔ (۵۲۷۴)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی اَنْ مَنْ اَعْتَقَ شِرْکًا لَہٗ فِیْ مَمْلُوْکٍ فَعَلَیْہِ جَوَازُ عِتْقِہِ اِنْ کَانَ لَہٗ مَالٌ۔ (مسند أحمد: ۲۳۱۵۹)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ جس نے کسی غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا تو سارے غلام کی آزادی اس پر ہو گی، بشرطیکہ اس کے پاس مال ہو۔
5274
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۵۲۷۴) تخریج: صحیح بشاھدہ (انظر: ۲۲۷۷۸)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… اگر کوئی آدمی کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیتا ہے اور اس کے پاس مکمل غلام کو آزاد کرنے کا مال ہے تو اسی کے مال سے غلام کو آزاد کر دیا جائے گا، تاکہ وہ مکمل فضیلت حاصل کر لے۔

Related Chapters

1,506
1
Chapter: What Has Been Related About A Slave Owned By Two Men And One Of Them Frees His Portion Of Him
باب: دو آدمیوں کے درمیان مشترک غلام کا بیان جس میں سے ایک اپنے حصہ کو آزاد کر دے
Jam e Tirmazi
2
(5) CHAPTER. Whoever manumits his portion of a common slave and does not possess enough money to manumit him completely, then that slave should be helped to work without hardship to earn what will enable him to get complete freedom according to the writing (of emancipation)
اگر کسی شخص نے ساجھے کے غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دیا اور وہ نادار ہے تو دوسرے ساجھے والوں کے لیے اس سے محنت مزدوری کرائی جائے گی جیسے مکاتب سے کراتے ہیں ، اس پر سختی نہیں کی جائے گی ۔
Sahih Bukhari
3
(15) CHAPTER. It is permissible for a women to giving gifts to somebody other than her husband.
اگر عورت اپنے خاوند کے سوا اور کسی کو کچھ ہبہ کرے یا غلام لونڈی آزاد کرے اور ہبہ کے وقت اس کا خاوند موجود ہو ، تو یہ ہبہ جائز ہے
Sahih Bukhari
4
Chapter: What Has Been Related About One Who Frees His Slaves When He Dies, While He Has No Wealth Aside From Them
باب: آدمی مرتے وقت اپنے غلاموں کو آزاد کر دے
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Killed His Slave
باب: اپنے غلام کو قتل کر دینے والے شخص کا بیان
Jam e Tirmazi
6
لشکر کے بعض افراد کو اس بنا پر زائد حصہ دینے کا بیان کہ انھوں نے لڑائی لڑی یا مشکلات کو برداشت کیا
Musnad Ahmad
7
آزاد ہونے کے بعد لونڈی کو اختیار مل جانے کا بیان، جب وہ کسی غلام کی بیوی ہو
Musnad Ahmad
8
بعض صحابہ کا نبی کر یم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنے حق میں شفاعت کی درخواست کرنااور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہر اس شخص کے حق میں سفارش کرنا، جس کو اس حال میں موت آئی ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو
Musnad Ahmad
9
(7) CHAPTER. If somebody says to his slave that he is for Allah; and by that he intends to manumit him (the slave is manumitted). And the witness for manumission.
ایک شخص نے آزاد کرنے کی نیت سے اپنے غلام سے کہہ دیا کہ وہ اللہ کے لیے ہے ( تو وہ آزاد ہو گیا ) اور آزادی کے ثبوت کے لیے گواہ ( ضروری ہیں )
Sahih Bukhari
10
(14) CHAPTER. The son of some peopIe's sister is considered as belonging to the same people; and the freed slave of some people belongs to those people (who have freed him).
کسی قوم کا بھانجا یا آزاد کیا ہوا غلام بھی اسی قوم میں داخل ہوتا ہے ۔
Sahih Bukhari
11
(20) CHAPTER. The heir of the Saiba (a slave whose master frees him and tells him that nobody will be entitled to get his Wala).
سائبہ وہ غلام یا لونڈی جس کو مالک آزاد کر دے اور کہہ دے کہ تیری ولاء کا حق کسی کو نہ ملے گا کی وراثت کا بیان
Sahih Bukhari
12
(24) CHAPTER. The freed slave belongs to the people who have freed him. And the son of the sister of some people is one of them (belongs to those people).
جو شخص کسی قوم کا غلام ہو آزاد کیا گیا وہ اسی قوم میں شمار ہو گا ۔ اسی طرح کسی قوم کا بھانجا بھی اسی قوم میں داخل ہوگا
Sahih Bukhari
13
Chapter: The prohibition of a manumitted slave taking anyone as a Mawla except the one who manumitted him
آزاد کیے جانے والیے کی طرف سے اپنے موالی (آزاد کرنے والوں )کےسواکسی اور کی طرف نسبت اختیار کرنا حرام ہے
Sahih Muslim
14
Chapter: Musaqah And Mu'amalah in return for a share of the fruit and crops
پھل ارو کھیتی کے کسی حصے پر پانی دینے اور کھیتی کے کام کا معاہدہ کرنا
Sahih Muslim
15
Chapter: One who frees his share in a slave
جس شخص نے ایک (مشتر کہ )غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا
Sahih Muslim
16
CHAPTER: One Who Manumits His Share Of A Slave.
باب: جو شخص غلام کا کچھ حصہ آزاد کر دے اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
17
CHAPTER: Regarding One Who Manumits Slaves Of His That Exceed One Third Of His Property.
باب: کوئی شخص اپنے غلاموں کو آزاد کرے جو تہائی مال سے زائد ہوں تو کیا حکم ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
18
CHAPTER: Regarding One Who Manumits A Slave Who Has Property.
باب: جو شخص اپنے مالدار غلام کو آزاد کرے تو مال مالک کا ہو گا ۔
Sunnan Abu Dawood
19
CHAPTER: When a man claims to belong to someone other than his master.
باب: غلام اپنے آقا کو چھوڑ کر اپنی نسبت کسی اور سے کرے تو کیسا ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
20
ساجھے کا غلام ہو اور ساجھی دار اپنا حصہ آزاد کر دے تو ایسے غلام کا حکم
Sunnan Ibn e Maja
21
جس شخص نے اپنے غلام کا مثلہ کیا (یعنی اس کا کوئی عضو کاٹ دیا) تو وہ آزاد ہو جائے گا
Sunnan Ibn e Maja
22
باب: اپنے (کسی دینی) بھائی کے پیام پر پیام دینے کی ممانعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
23
باب: عورت کا اپنے آپ کو کسی مرد کے لیے بغیر مہر کے ہبہ کر دینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
24
باب: آزادی پانے والی لونڈی کو اپنے غلام شوہر کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا اختیار ہے۔
Sunnan Nisai
25
Chapter: What Has Been Related About The One Who Gives Charity (Then) Inheriting His Charity
باب: صدقہ دینے والا اپنے صدقہ کا وارث ہو جائے تو کیسا ہے؟
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About The Reward For Freeing A Slave
باب: غلام آزاد کرنے کے ثواب کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Freeing Slaves
باب: غلام اور لونڈی آزاد کرنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: Does The Slave Recieve A Share ?
باب: مال غنیمت میں غلام کے حصے کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About The Assurance Of Protection Granted By A Woman And A Slave
باب: غلام اور عورت کو امان دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What has been Related About A Man Giving Charity Or Freeing A Slave At The Time Of His Death
باب: مرتے وقت صدقہ کرنے والے اور غلام آزاد کرنے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: Not Taking On A Trial Which One Is Not Able To Bear
باب: آدمی کو اپنے سے کسی مصیبت میں نہیں پڑنا چاہئے
Jam e Tirmazi
32
بَابُ إِعْتَاقِ الْعَبْدِ الْمُشْتَرَكِ وَشِرَاءِ الْقَرِيبِ
مشترک غلام کو آزاد کرنے ، قریبی شخص کو خریدنے اور مرض میں آزاد کرنے کا بیان
Mishkat
33
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے بعد کسی چیز میں تبدیلی کر دینے والے یا کسی چیز کو ایجاد کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
34
کسی ضرورت کی وجہ سے نمازی کا اپنے کپڑے پر سجدہ کرنے، نیز ہجوم والا شخص سجدہ کیسے کرے، اس کا بیان
Musnad Ahmad
35
دوران خطبہ باتیں کرنے سے رکے رہنے، لیکن کسی مصلحت کے لیے امام سے بات کرنے یا امام کا بات کرنے کی رخصت اور کسی معاملے کے واقع ہو جانے کی وجہ سے خطبہ منقطع کر دینے کا بیان
Musnad Ahmad
36
میت کی تکفین اس کے راس المال سے کرنے، ضرورت کے وقت دو تین تین اموات کو ایک ایک کپڑے میں کفن دینے، کہ شرم والے مقامات پر پردہ ہو جائے، اور کسی دوسرے آدمی کو کفن دینے کے مستحبّ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
37
حکمران کا کسی مصلحت کی بنا پر بعض لوگوں کو دینا اور بعض کو محروم کر دینا
Musnad Ahmad
38
غلاموں کی آزادی پر زکوۃ صرف کرنا
Musnad Ahmad
39
جب مسافر (اپنے علاقے سے) باہر نکل جائے تو کب روزہ چھوڑ سکتا ہے، نیز افطار کو جائز قرار دینے والی مسافت کی مقدار کا بیان
Musnad Ahmad
40
حج کے مہینوں میں عمرہ کی ادائیگی کے جائز ہونے اور کسی رکاوٹ کی بنا پر احرام کھول دینے کا بیان
Musnad Ahmad
41
لشکر کے سریہ کو زائد حصہ دینے اور پھر ان دونوں کو غنیمت میں شریک کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
42
اس چیز کا بیان کہ جب کافر کا غلام مسلمان ہو کر ہمارے پاس آ جائے تو وہ آزاد ہو گا
Musnad Ahmad
43
غلام کو اس کے جرم کے مطابق مارنے کے جواز کا اور اس مقدار سے زائد سزا دینے پر سختی کا بیان
Musnad Ahmad
44
جس شخص نے اپنے غلام کا مثلہ کیا، یا اس پر زنا کی تہمت لگائی، جبکہ وہ بری ہو، اس کی سزا کا بیان
Musnad Ahmad
45
اللہ تعالیٰ اور اپنے مالک کی اطاعت کرنے والے غلام کے ثواب اور اس کی مخالفت کرنے والے غلام کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
46
غلام کو آزاد کرنے والے کا، یا اس پر اپنی خدمت کی شرط لگانے والے کا، محرم رشتہ کا مالک بننے والے کا اور غیر ملکیتی غلام کو آزاد کرنے والے کا بیان
Musnad Ahmad
47
تدبیر اور کسی ضرورت کے پیش نظر مُدَبّر غلام کو بیچنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
48
ادھار کی وجہ سے کسی چیز کو فروخت کرنے اور تنگدست سے کچھ قرضہ معاف کر دینے کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
49
قرض لینے کے لیے مالدار آدمی کا پیچھا کرنے اور قید کے ذریعے اس کو سزا دینے اور تنگدست کو آزاد چھوڑنے کا بیان
Musnad Ahmad
50
زمین کو اس کی بعض پیداوار کے عوض کرائے پر دینے سے منع کرنے والوں اور سونے اور چاندی کے عوض جائز سمجھنے والوں کی دلیل کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

353
Musnad Ahmad
6425
۔ (۶۴۲۵)۔ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْأِمَامِ أَحْمَدَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ کَامِلٍ الْجَحْدَرِیُّ ثَنَا الْفُضَیْلُ بْنُ سُلَیْمَانَ ثَنَا مُوْسَی بْنُ عُقْبَۃَ عَنْ اِسْحَاقَ بْنِ یَحْیَ بْنِ الْوَلِیْدِ بْنِ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ عُبَادَۃَ قَالَ: إِنَّ مِنْ قَضَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ الْمَعْدِنَ جُبَارٌ وَالْبِئْرُ جُبَارٌ وَالْعَجْمَائُ جَرْحُہَا جُبَارٌ، وَالْعَجْمَائُ: اَلْبَہِیْمَۃُ مِنَ الْأَنْعَامِ وَغَیْرِھَا، وَالْجُبَارُ: ھُوَ الْھَدْرُ وَالَّذِیْ لَا یُغَرَّمُ، (وَقَضٰی) فِی الرِّکَازِ الْخُمْسُ، (وَقَضٰی) اَنَّ تَمْرَ النَّخْلِ لِمَنْ أَبَّرَھَا اِلَّا أَنْ یَشْتَرِطُ الْمُبْتَاعُ، (وَقَضٰی) اَنَّ مَالَ الْمَمْلُوْکِ لِمَنْ بَاعَہُ اِلَّا أَنْ یَشْتَرِطُ الْمُبْتَاعُ، (وَقَضٰی) أَنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاھِرِ الْحَجَرُ، (وَقَضٰی بِِالشُّفْعَۃِ بَیْنَ الشُّرَکَائِ فِی الْاَرْضِیْنَ وَالدُّوْرِ، (وَقَضٰی) لِحَمَلِ (بِفَتْحِ الْحَائِ وَالْمِیْمِ) بْنِ مَالِکٍ الْھُذَلِیِّ بِمِیْرَاثِہِ عَنْ اِمْرَأَتِہِ الَّتِیْ قَتَلَتْہَا الْأُخْرٰی، (وَقَضٰی) فِی الْجَنِیْنِ الْمَقْتُوْلِ بِغُرَّۃٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَۃٍ، قَالَ: فَوَرِثَہَا بَعْلُہَا وَبَنُوْھَا، قَالَ: وَکَانَ لَہُ مِنْ إِمرَأَتَیْہِ کِلْتَیْہِمَا وَلَدٌ، قَالَ: فَقَالَ اَبُوْ الْقَاتِلَۃِ الْمَقْضِیُّ عَلَیْہِ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ اَغْرَمُ مَنْ لَاصَاحَ وَلا اسْتَہَلَّ وَلَا شَرِبَ وَلَا اَکَلَ فَمِثْلُ ذٰلِکَ یُطَلُّ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھٰذَا مِنَ الْکُہَّانِ۔))، قَالَ: (وَقَضٰی) فِی الرَّحْبَۃِ تَکُوْنُ بَیْنَ الطَّرِیْقِ ثُمَّ یُرِیْدُ أَھْلُہَا الْبُنْیَانَ فِیْہِمَا فَقَضٰی اَنَّ یُتْرَکَ لِلطَّرِیْقِ فِیْہَا سَبْعَۃُ اَذْرُعٍ وَقَالَ: وَکَانَتْ تِلْکَ الطَّرِیْقُ سُمِّیَ الْمِیْتَائُ، (وَقَضٰی) فِی النَّخْلَۃِ أَوِ النَّخْلَتَیْنِ أَوِ الثَّلَاثِ فَیَخْتَلِفُوْنَ فِیْ حُقُوْقِ ذٰلِکَ فَقَضٰی أَنَّ لِکُلِّ نَخْلَۃٍ مِنْ اُوْلٰئِکَ مَبْلَغُ جَرِیْدَتِہَا حَیِّزٌ لَھَا، (وَقَضٰی) فِیْ شُرْبِ النَّخْلِ مِنَ السَّیْلِ أَنَّ الْأَعْلٰییُشْرَبُ قَبْلَ الْأَسْفَلِ وَیُتْرَکُ الْمَائُ اِلَی الْکَعْبَیْنِ ثُمَّ یُرْسَلُ الْمَائُ اِلَی الْأَسْفَلِ الَّذِیْیَلِیْہِ وَکَذٰلِکَ تَنْقَضِی الْحَوَائِطُ أَوْ یَفْنَی الْمَائُ، (وَقَضٰی) أَنَّ الْمَرْأَۃَ لَا تُعْطِی مِنْ مَالِھَا شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِ زَوْجِہَا، (وَقَضٰی) لِلْجَدَّتَیْنِ مِنِ الْمِیْرَاثِ بِالسُّدُسِ بَیْنَہُمَا بِالسَّوَائِ، (وَقَضٰی) أَنَّ مَنْ اَعْتَقَ شِرْکًا لَہُ فِیْ مَمْلُوْکٍ فَعَلَیْہِ جَوَازُ عِتْقِہِ إِنْ کَانَ لَہُ مَالٌ، (وَقَضٰی) أَنْ لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ، (وَقَضٰی) أَنَّہُ لَیْسَ لِعِرْقِ ظَالِمٍ حَقٌّ، (وَقَضٰی) بَیْنَ أَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ فِی النَّخْلِ لَا یُمْنَعُ نَقْعُ بِئْرٍ، (وَقَضٰی) بَیْنَ أَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ أَنَّہُ لَا یُمْنَعُ فَضْلُ مَائٍ لِیُمْنَعَ فَضْلُ الْکَلَائِ، (وَقَضٰی) فِیْ دِیَۃِ الْکُبْرَی الْمُغَلَّظَۃِ ثَلَاثِیْنَ ابْنَۃَ لَبُوْنٍٍ وَ ثَلَاثِیْنَ حِقَّۃً وَاَرْبَعِیْنَ خَلِفَۃً، (وَقَضٰی) فِیْ دِیَۃِ الصُّغْرٰی ثَلَاثِیْنَ ابْنَۃَ لَبُوْنٍ وَثَلَاثِیْنَ حِقَّۃً وَعِشْرِیْنَ ابْنَۃَ مَخَاضٍ وَعِشْرِیْنَ بَنِیْ مَخَاضٍ ذُکُوْرًا، ثُمَّ غَلَتِ الْاِبِلُ بَعْدَ وَفَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھَانَتِ الدَّرَاھِمُ فَقَوَّمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ إِبِلَ الْمَدِیْنَۃِ سِتَّۃَ آلافِ دِرْھَمٍ حِسَابَ اَوْ قِیَۃٍ وَنِصْفٍ لِکُلِّ بَعِیْرٍ، ثُمَّ غَلَتِ الْاِبِلُ وَھَانَتِ الْوَرِقُ فَزَادَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ اَلْفَیْنِ حِسَابَ أُوْقِیَتَیْنِ لِکُلِّ بَعِیْرٍ، ثُمَّ غَلَتِ الْأِبِلُ وَھَانَتِ الدَّرَاھِمُ فَأَتَمَّھَا عُمَرُ اثْنَیْ عَشَرَ اَلْفًا حِسَابَ ثَلَاثِ أَوَاقٍ لِکُلِّ بَعِیْرٍ، قَالَ: فَزَادَ ثُلُثُ الدِّیَۃِ فِی الشَّہْرِ الْحَرَامِ وَثُلُثٌ آخَرُ فِی الْبَلَدِ الْحَرَامِ قَالَ: فَتَمَّتْ دِیَۃُ الْحَرَمَیْنِ عِشْرِیْنَ اَلْفًا، قَالَ: فَکَانَ یُقَالُ: یُؤْخَذُ مِنْ أَھْلِ الْبَادِیَۃِ مِنْ مَاشِیَتِہِمْ لَا یُکَلَّفُوْنَ الْوَرَقَ وَلَا الذَّھَبَ، وَیُؤْخَذُ مِنْ کُلِّ قَوْمٍ مَالَھُمْ قِیْمَۃُ الْعَدْلِ مِنْ أَمْوَالِھِمْ۔ (مسند احمد: ۲۳۱۵۹)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ کان بھی رائیگاں ہے، کنواں بھی رائیگاں ہے، چوپائے کا زخم بھی رائیگاں ہے۔ عَجْمَائ سے مراد چوپایہ ہے اور جُبَار سے مراد ہدر ہو جانے والی وہ چیز ہے، جس کی چٹی نہیں بھری جاتی۔ رکاز میں پانچویں حصے کافیصلہ فرمایا۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ کھجور کے درخت کا پھل اس کاہے جس نے اس کو پیوند لگایا ہے، الا یہ کہ خریدار خریدتے وقت لینے کی شرط لگا لے۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ فروخت ہونے والے غلام کا مال بیچنے والے کی ملکیت ہوگا، الا یہ کہ خریدار سودا کرتے وقت اس کی شرط لگا لے۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ اولاد اس کی ہے، جس کے بستر پر پیدا ہوئی ہو، اور زانی کیلئے پتھر ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زمین اور گھروں میں حصہ داروں کیلئے شفعہ کرنے کا فیصلہ فرمایا۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ سیدنا حمل بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس کی بیوی کی میراث سے حصہ دیا جائے گا، جس کو اس کی دوسری بیوی نے قتل کر دیا تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پیٹ کے مقتول بچے کی دیت کا فیصلہ دیا کہ ایک لونڈییا غلام دیا جائے اور فرمایا کہ قتل ہونے والی عورت کا خاوند اور اسکے بیٹے وارث ہوں گے اور حمل بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی دونوں بیویوں سے اولاد تھی، قتل کرنے والی کے باپ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس کی چٹی کیسے بھروں، جس نے نہ توآواز نکالی، نہ چیخا، نہ پیا اور نہ کھایا۔اس قسم کا معاملہ تو باطل اور ہدر ہو جانا چاہیے، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کاہنوں کی قافیہ بندی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس چبوترے کے بارے میں فیصلہ کیا جو راستے میں تھا اور اس کے مالکوں نے عمارت تعمیر کر نے کا ارادہ کیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ سات سات ہاتھ راستہ چھوڑ کر عمارت بنائی جائے۔ اور وہ چلنے کا عام راستہ ہو گا۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ جب لوگ ایکیا دو یا تین کھجوروں کے درختوں میں اختلاف کریں تو ہر درخت کی ٹہنیوں کی مقدار تک کی جگہ مالک کی ملکیت قرار پائے گی۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ نالوں میں بہتے ہوئے پانی سے کھجوروں کو سیراب کرتے وقت نیچے والی زمین سے پہلے اوپر والی زمین اس طرح سیراب کی جائے کہ پانی ٹخنوں تک آ جائے، پھر اس کو اس سے متصل نیچے والی زمین کی طرف چھوڑا جائے، پھر اسی طریقے سے پانی آگے کی طرف پہنچایا جائے، یہاں تک کہ باغات ختم ہو جائیںیا پانی ختم ہو جائے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ کہ عورت اپنا مال بھی خاوند کی اجازت کے بغیر نہیں دے گی۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ دو جدّات کومیراث سے چھٹا حصہ ملے گا، وہ دونوں میں برابر تقسیم ہوگا۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ جس نے مشترک غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دیا تو اگراس کے پاس مال ہواتو اسے سارا غلام آزاد کرنا ہو گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فیصلہ فرمایا (اپنے بھائی کو اس کے حق میں کمی کر دینے والا ) نقصان پہچانا اور (پہنچائی گئی اذیت سے ) زیادہ ضرر پہنچانا جائز نہیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ ظالم جڑ کا کوئی حق نہیں ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ والوں کے درمیان کھجوروں کے بارے میںیہ فیصلہ کیا کہ کنوئیں کا زائد پانی نہ روکا جائے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دیہات والوں کے درمیانیہ فیصلہ کیا کہ زائد پانی اس لیے نہ روکا جائے کہ زائد گھاس سے لوگوں کو روک دیا جائے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فیصلہ کیا دیت ِ کبری میں تیس اونٹنیاں دو دو سالوں کی، تیس تین تین سالوں کی اور چالیس حاملہ اونٹنیاں ہونی چاہئیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دیت ِ صغری میں فیصلہ کیا کہ تیس دو دو سال کی اونٹنیاں، تیس تین تین سال کی ، بیس ایک ایک سال کی اونٹنیاں اور بیس ایک ایک سال کے اونٹ ہونے چاہئیں۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے بعد جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور میں اونٹ مہنگے ہوگئے اور درہم سستے ہوگئے تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دیت کے اونٹوں کی قیمت چھ ہزار درہم مقرر کی، ایک اونٹ کی ایک اوقیہ کے برابر قیمت لگائی، بعد میں پھر جب اونٹ مہنگے ہوئے اور درہم گر گئے تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہر اونٹ کے دو دو اوقیے قیمت لگا کر دو ہزار درہم کی قیمت بڑھا دی، پھر جب تیسری مرتبہ اونٹ مہنگے ہو گئے اور درہم گر گئے تو ہر اونٹ کی تین اوقیے قیمت لگا کر بارہ ہزار درہم کر دی۔ دیت کے ایک تہائی حصے کا اضافہ حرمت والے مہینے میںکیا اور مزید ایک تہائی کا حرمت والے شہر میںکیا، ان دو حرمتوں کی دیت بیس ہزار درہم ہو گئی۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا تھا کہ دیہاتیوں سے ان کے مویشیوں میں سے دیت لی جائے، انہیں سونے اور چاندی کا پابند نہ بنایا جائے، ہر قوم کے مال سے اندازہ لگا کر وہی چیز دیت میں لی جائے، جو ان کے پاس ہے۔
Musnad Ahmad
24
۔ (۲۴)۔عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ؓعَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ شَہِدَ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ وَ أَنَّ عِیْسٰی عَبْدُاللّٰہِ وَ رَسُوْلُہُ وَ کَلِمَتُہُ أَلْقَاہَا إِلٰی مَرْیَمَ وَ رُوْحٌ مِنْہُ وَ أَنَّ الْجَنَّۃَ حَقٌّ وَالنَّارَ حَقٌّ، أَدْخَلَہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی الْجَنَّۃَ عَلَی مَا کَانَ مِنَ عَمَلٍ، (وَفِی رِوَایَۃٍ:) أَدْخَلَہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی الْجَنَّۃَ مِنْ أَبْوَابِہَا الثَّمَانِیَۃِ مِنْ أَیِّہَا شَائَ دَخَلَ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۰۵۱)
سیدنا عبادہ بن صامتؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو شخص یہ گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور یہ کہ عیسیؑ، اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کا کلمہ ہیں، جو اس نے حضرت مریم علیہا السلام کی طرف ڈالا اور وہ اس کی طرف سے روح ہیں، اور یہ کہ جنت حق ہے اور جہنم حق ہے تو اس شخص کا عمل جیسا مرضی ہو، اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا، ایک روایت میں ہے: وہ جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس دروازے سے چاہے گا، اللہ تعالیٰ اس کو اسی دروازے سے داخل کرے گا۔
Musnad Ahmad
208
۔ (۲۰۸)۔عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الْوَلِیْدِ بْنِ عُبَادَۃَ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی عُبَادَۃَ (یَعْنِی بْنَ الصَّامِتِؓ) وَھُوَ مَرِیْضٌ أَتَخَایَلُ فِیْہِ الْمَوْتَ فَقُلْتُ: یَا أَبَتَاہُ! أَوْصِنِیْ وَاجْتَہِدْ لِیْ فَقَالَ: أَجْلِسُوْنِیْ، قَالَ: یَا بُنَیَّ! اِنَّکَ لَنْ تَطْعَمَ طَعْمَ الْاِیْمَانِ وَلَمْ تَبْلُغْ حَقِیْقَۃَ الْعِلْمِ بِاللّٰہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی حَتَّی تُؤْمِنَ بِالْقَدْرِ خَیْرِہِ وَ شَرِّہِ، قَالَ: قُلْتُ: یَا أَبَتَاہُ! فَکَیْفَ لِیْ أَنْ أَعْلَمَ مَا خَیْرُ الْقَدْرِ وَ شَرُّہُ؟ قَالَ: تَعْلَمُ أَنَّ مَا أَخْطَأَکَ لَمْ یَکُنْ لِیُصِیْبَکَ وَمَا أَصَابَکَ لَمْ یَکُنْ لِیُخْطِئَکَ، یَا بُنَیَّ! اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اَوَّلَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی الْقَلْمُ، ثُمَّ قَالَ: اکْتُبْ! فَجَرَی فِیْ تِلْکَ السَّاعَۃِ بِمَا ہُوَ کَائِنٌ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) یَا بُنَیَّ! اِنْ مِتَّ وَلَسْتَ عَلَی ذٰلِکَ دَخَلْتَ النَّارَ۔ (مسند أحمد: ۲۳۰۸۱)
ولید بن عبادہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبادہ بن صامت ؓ کے پاس گیا، جبکہ وہ بیمار تھے اور میرا خیال تھا کہ اس بیماری میں ان کی موت واقع ہو جائے گی، پس میں نے کہا: ابا جان! کوئی وصیت کر دو اور میرے لیے کوشش کرو۔ انھوں نے کہا: مجھے بٹھاؤ، پھر انھوں نے کہا: میرے پیارے بیٹے! تو اس وقت تک نہ ایمان کا ذائقہ نہیں چکھ سکتا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کی حقیقت کو پہنچ سکتا ہے، جب تک تو اچھی اور بری تقدیر پر ایمان نہیںلائے گا۔ میں نے کہا: ابا جان! میں یہ کیسے جان سکتا ہوں کہ اچھی اور بری تقدیر کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جان لے کہ جو چیز تجھ سے تجاوز کر جانے والی ہے، وہ تجھے لاحق نہیں ہو سکتی اور جو چیز تجھے لاحق ہونے والی ہے، وہ تجھ سے تجاوز نہیں کر سکتی۔ اے میرے پیارے بیٹے! میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بیشک اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو سب سے پہلے پیدا کیا، وہ قلم ہے، پھر اس نے اسے کہا: تو لکھ، پس وہ چل پڑی اور قیامت تک وقوع پذیر ہونے والے امور لکھ دیئے۔ اے میرے بیٹے! اگر تو اس عقیدے کے بغیر مر گیا تو تو جہنم میں داخل ہو گا۔
Musnad Ahmad
209
۔ (۲۰۹)۔عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِؓ أَنَّ رَجُلًا أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! أَیُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((اَلْاِیْمَانُ بِاللّٰہِ وَ تَصْدِیْقٌ بِہِ وَجِہَادٌ فِیْ سَبِیْلِہِ۔)) قَالَ: أُرِیْدُ أَہْوَنَ مِنْ ذٰلِکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((السَّمَاحَۃُ وَالصَّبْرُ۔)) قَالَ: أُرِیْدُ أَہْوَنَ مِنْ ذٰلِکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((لَا تَتَّہِمِ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی فِیْ شَیْئٍ قَضٰی لَکَ بِہِ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۰۹۴)
سیدنا عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے نبی! کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا، اس کی تصدیق کرنا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا ارادہ تو اس سے آسان عمل کا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: صبر وسماحت۔ لیکن اس نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! میرا ارادہ تو اس سے ہلکے عمل کا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو پھر اللہ تعالیٰ تیرے بارے میں جو فیصلہ کر دے، اس میں اس کو متّہم نہ ٹھہرانا، (یعنی اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی ہو جانا)۔
Musnad Ahmad
239
۔ (۲۳۹)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا ہٰرُوْنَ ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِیْ مَالِکُ بْنُ الْخَیْرِ الزِیَادِیُّ عَنْ أَبِیْ قَبِیْلِ نِ الْمَعَافِرِیِّ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ(ؓ) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْسَ مِنْ أُمَّتِیْ مَنْ لَمْ یُجِلَّ کَبِیْرَنَا وَ یَرْحَمْ صَغِیْرَنَا وَ یَعْرِفْ لِعَالِمِنَا۔)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: وَسَمِعْتُہُ أَنَا مِنْ ہَارُوْنَ۔ (مسند أحمد: ۲۳۱۳۵)
سیدنا عباد ہ بن صامت ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ آدمی میری امت میں سے نہیں ہے، جو ہمارے بڑوں کی تعظیم نہیں کرتا، چھوٹوںپر رحم نہیں کرتا اور ہمارے اہل علم کا حق نہیں پہنچانتا۔
Musnad Ahmad
1091
۔ (۱۰۹۱)۔عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ فِیْہِ اِلٰی فِیَّ: لَا أَقُوْلُ حَدَّثَنِیْ فَلَانٌ وَلَا فَلَانٌ: ((خَمْسُ صَلَوَاتٍ اِفْتَرَضَہُنَّ اللّٰہُ عَلٰی عِبَادِہِ فَمَنْ لَقِیَہُ بِہِنَّ لَمْ یُضَیِّعْ مِنْہُنَّ شَیْئًا لَقِیَہُ وَلَہُ عِنْدَہُ عَہْدٌ یُدْخِلُہُ بِہِ الْجَنَّۃَ، وَمَنْ لَقِیَہُ وَقَدِ انْتَقَصَ مِنْہُنَّ شَیْئًا اِسْتِخْفَافًا بِحَقِّہِنَّ لَقِیَہُ وَلَا عَہْدَ لَہُ، اِنْ شَائَ عَذَّبَہُ وَاِنْ شَائَ غَفَرَ لَہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۱۳۲)
سیدنا عبادہ بن صامتؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنے منہ مبارک سے میرے منہ کی طرف ارشاد فرمایا، میں یہ نہیں کہتا کہ فلاں فلاں نے مجھے بیان کیا ہے، بہرحال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پانچ نمازیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے اُن کو اپنے بندوں پر فرض کیاہے، جو بندہ اس حال میں اللہ تعالیٰ کو ملا کہ اس نے نمازوں میں سے کسی چیز کو ضائع نہیں کیا، تو وہ اس کو اس حال میں ملے گا کہ اس کے حق میں اللہ تعالیٰ کے ہاں معاہدہ ہو گا، اس کے ذریعے وہ اس کو جنت میں داخل کرے گا اور جو آدمی اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ اس نے اِن نمازوں کے حق کو ہلکا سمجھ کر ان میں کوئی کمی کر رکھی ہو گی، تو وہ اُس کو اس حال میں ملے گا کہ اس کے لیے کوئی معاہدہ نہیں ہو گا، اگر اللہ نے چاہا تو اس کو عذاب دے گا اور چاہا تو بخش دے گا۔
Musnad Ahmad
4800
۔ (۴۸۰۰)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ۔ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَلَیْکُمْ بِالْجِھَادِ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی فَإِنَّہُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ یُذْھِبُ اللّٰہُ بِہِ الْھَمَّ وَالْغَمَّ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۰۹۶)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم جہاد فی سبیل اللہ کا اہتمام کرو، کیونکہ یہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے رنج اور غم ختم کر دیتا ہے۔
Musnad Ahmad
4837
۔ (۴۸۳۷)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، عَنْ أُمِّ حَرَامٍ أَنَّہَا قَالَتْ: بَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَائِلًا فِی بَیْتِی إِذِ اسْتَیْقَظَ وَہُوَ یَضْحَکُ، فَقُلْتُ: بِأَبِی وَأُمِّی أَنْتَ مَا یُضْحِکُکَ؟ فَقَالَ: ((عُرِضَ عَلَیَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِی یَرْکَبُونَ ظَہْرَ ہٰذَا الْبَحْرِ کَالْمُلُوکِ عَلَی الْأَسِرَّۃِ۔)) فَقُلْتُ: اُدْعُ اللّٰہَ أَنْ یَجْعَلَنِی مِنْہُمْ، قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اجْعَلْہَا مِنْہُمْ۔)) ثُمَّ نَامَ أَیْضًا فَاسْتَیْقَظَ وَہُوَ یَضْحَکُ فَقُلْتُ: بِأَبِی وَأُمِّی مَا یُضْحِکُکَ؟ قَالَ: ((عُرِضَ عَلَیَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِی یَرْکَبُونَ ہٰذَا الْبَحْرَ کَالْمُلُوکِ عَلَی الْأَسِرَّۃِ۔)) فَقُلْتُ: اُدْعُ اللّٰہَ أَنْ یَجْعَلَنِی مِنْہُمْ، قَالَ: ((أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِینَ۔)) فَغَزَتْ مَعَ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ وَکَانَ زَوْجَہَا فَوَقَصَتْہَا بَغْلَۃٌ لَہَا شَہْبَائُ فَوَقَعَتْ فَمَاتَتْ۔ (مسند أحمد: ۲۷۵۷۲)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ ام حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے گھر میں قیلولہ کر رہے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیدار ہوئے تو آپ مسکرا رہے تھے، میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ اس سمندر پر سوار ہو رہے ہیں، وہ بادشاہوں کی طرح تختوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے ان میں سے بنا دے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو اس کو ان میں سے بنا دے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پھر سو گئے اور جب بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے، میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے امت کے کچھ لوگ مجھ پر پیش کیے گئے، وہ اس سمندر پر سوار ہو رہے ہیں اور ایسے لگ رہا ہے کہ وہ تختوں پر بیٹھے ہوئے بادشاہ ہیں۔ میں نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان میں سے بنا دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اوّلین لوگوں میں سے ہو۔ پھر سیدہ ام حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اپنے خاوند سیدنا عبادہ بن صامت کے ساتھ اس غزوے کے لیے نکلیں، سیاہی ملی ہوئی سفید رنگ کی خچر نے ان کو اس طرح گرایا کہ ان کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گئیں۔
Musnad Ahmad
4838
۔ (۴۸۳۸)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَارِیُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُولُ: اِتَّکَأَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدَ ابْنَۃِ مِلْحَانَ، قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَہُ فَضَحِکَ، فَقَالَتْ: مِمَّ ضَحِکْتَ؟ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((مِنْ أُنَاسٍ مِنْ أُمَّتِی یَرْکَبُونَ ہٰذَا الْبَحْرَ الْأَخْضَرَ غُزَاۃً فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، مَثَلُہُمْ کَمَثَلِ الْمُلُوکِ عَلَی الْأَسِرَّۃِ۔)) قَالَتْ: اُدْعُ اللّٰہَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَنْ یَجْعَلَنِی مِنْہُمْ، فَقَالَ: ((اللّٰہُمَّ اجْعَلْہَا مِنْہُمْ۔)) فَنَکَحَتْ عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ قَالَ: فَرَکِبَتْ فِی الْبَحْرِ مَعَ ابْنِہَا قَرَظَۃَ حَتّٰی إِذَا ہِیَ قَفَلَتْ رَکِبَتْ دَابَّۃً لَہَا بِالسَّاحِلِ، فَوَقَصَتْ بِہَا فَسَقَطَتْ فَمَاتَتَْ۔ (مسند أحمد: ۱۳۸۲۶)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بنت ِ ملحان کے پاس ٹیک لگائی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسکراتے ہوئے سر مبارک اٹھایا، سیدہ بنت ِ ملحان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ انھوں نے کہا: میری امت کے کچھ لوگ ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے اس سبز سمندر پر سوار ہو رہے ہیں، ان کی مثال تختوں پر بیٹھے ہوئے بادشاہوں کی سی ہے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان میں سے بنا دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو اس کو ان میں سے بنا دے۔ پھر اس خاتون نے سیدہ عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے شادی کر لی اور اپنے بیٹے قرظہ کے ساتھ سمندری سفر شروع کیا، واپسی پر جب وہ ساحل کے پاس اپنی ایک سواری پر سوار ہوئی تو اس نے اس کو یوں گرایا کہ اس کی گردن ٹوٹ گئی، سو وہ گری اور فوت ہو گئی۔