TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

آزادی کے احکام کے ابواب - آزادی کے احکام کے ابواب - Book 81 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 81 of Musnad Ahmad, with 6 chapters and 32 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

32 Hadith · 6 Chapters
غلام کو آزاد کرنے والے کا، یا اس پر اپنی خدمت کی شرط لگانے والے کا، محرم رشتہ کا مالک بننے والے کا اور غیر ملکیتی غلام کو آزاد کرنے والے کا بیان
۔ (۵۲۶۱)۔ عَنْ سَفِیْنَۃَ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ: اَعْتَقَتْنِیْ اُمُّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا وَاشْتَرَطَتْ عَلَیَّ اَنْ اَخْدَمَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا عَاشَ۔ (مسند أحمد: ۲۲۲۷۲)
۔ سیدنا ابو عبد الرحمن سفینہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے مجھے آزاد کیا، لیکن شرط یہ لگائی کہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت کروں گا، جب تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بقید ِ حیات رہے۔
Takhreej
(۵۲۶۱) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۳۹۳۲، وابن ماجہ: ۲۵۲۶(انظر: ۲۱۹۲۷)
Explanation
فوائد:… ابو داود کی روایت میں یہ بات زائد بھی ہے، سیدنا سفینہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے کہا: وَإِنْ لَمْ تَشْتَرِطِی عَلَیَّ مَا فَارَقْتُ رَسُولَ اللَّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا عِشْتُ فَأَعْتَقَتْنِی وَاشْتَرَطَتْ عَلَیَّ۔ اگر تم مجھ پریہ شرط نہ لگاؤ، تب بھی جب تک میں زندہ رہوں گا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جدا نہیںہوں گا، پھر انھوں نے مجھے آزاد کر دیا اور مجھ پر یہ شرط بھی لگائی۔
5261
Sahih
غلام کو آزاد کرنے والے کا، یا اس پر اپنی خدمت کی شرط لگانے والے کا، محرم رشتہ کا مالک بننے والے کا اور غیر ملکیتی غلام کو آزاد کرنے والے کا بیان
۔ (۵۲۶۲)۔ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ رَفَعَہٗ قَالَ: ((مَنْ مَلَکَ ذَا رَحِمٍ فَھُوَ حُرٌّ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۴۲۹)
۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مَحرم رشتہ دار کا مالک بنا، وہ آزاد ہو جائے گا۔
Takhreej
(۵۲۶۲) صحیح لغیرہ، أخرجہ أبوداود: ۴۹۴۹،والترمذی: ۱۳۶۵، وابن ماجہ: ۲۵۲۴(انظر: ۲۰۱۶۷)
5262
Sahih
غلام کو آزاد کرنے والے کا، یا اس پر اپنی خدمت کی شرط لگانے والے کا، محرم رشتہ کا مالک بننے والے کا اور غیر ملکیتی غلام کو آزاد کرنے والے کا بیان
۔ (۵۲۶۲م)۔ وَعَنْہٗ بِالسَّنَدِ الْاَوَّلِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ مَلَکَ ذَا رَحِمٍ مُحَرَّمٍ فَھُوَ عَتِیْقٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۴۶۷)
۔ پہلی سند کے ساتھ سیدنا سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی محرم رشتہ دار کا مالک بنے گا تو ایسا غلام آزاد ہو جائے گا۔
Takhreej
(۵۲۶۲م) تخریج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… اگر کوئی آدمی مَحرم رشتہ دار کو بطورِ غلام خرید لیتا ہے تو وہ ایسا رشتہ دار خود بخود آزاد ہو جائے گا۔
5262
Sahih
غلام کو آزاد کرنے والے کا، یا اس پر اپنی خدمت کی شرط لگانے والے کا، محرم رشتہ کا مالک بننے والے کا اور غیر ملکیتی غلام کو آزاد کرنے والے کا بیان
۔ (۵۲۶۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَجْزِی وَلَدٌ وَالِدَہٗ اِلَّا اَنْ یَجِدَہٗ مَمْلُوْکًا فَیَشْتَرِیْہِ فَیُعْتِقَہٗ۔)) (مسند أحمد: ۷۱۴۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی بچہ اپنے باپ یا ماں کو بدلہ نہیں دے سکتا، الا یہ کہ وہ اس کو غلام پائے اور خرید کر آزاد کر دے۔
Takhreej
(۵۲۶۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۵۱۰(انظر: )
Explanation
فوائد:… آزاد کر دینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے باپ کی آزاد ی کا سبب بنے، کیونکہ جب ایسے باپ کو خریدا جائے گا تو خود بخود آزاد ہو جائے گا۔
5263
Sahih
غلام کو آزاد کرنے والے کا، یا اس پر اپنی خدمت کی شرط لگانے والے کا، محرم رشتہ کا مالک بننے والے کا اور غیر ملکیتی غلام کو آزاد کرنے والے کا بیان
۔ (۵۲۶۴)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہِ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْسَ عَلٰی رَجُلٍ طَلَاقٌ فِیْمَا لَا یَمْلِکُ وَلَا عِتَاقَ فِیْمَا لَا یَمْلِکُ، وَلَا بَیْعَ فِیْمَا لَا یَمْلِکُ۔)) (مسند أحمد: ۶۷۶۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس چیز میں آدمی پر کوئی طلاق نہیں ہے، جس کا وہ مالک نہ ہو، اس چیز میں کوئی آزادی نہیں ہے، جس کا وہ مالک نہ ہو اور اس چیز میں کوئی سودا نہیں ہے، جو اس کی ملکیت میں نہ ہو۔
Takhreej
(۵۲۶۴) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ أبوداود: ۲۱۹۰،والترمذی: ۱۱۸۱، وابن ماجہ: ۲۰۴۷، والنسائی: ۷/۲۸۸ (انظر: ۶۷۶۹)
5264
Sahih
کسی غلام میں اپنے حصے کو آزاد کر دینے والے یا اپنے غلام کا بعض حصہ آزاد کر دینے والے شخص کا بیان
۔ (۵۲۶۵)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَعْتَقَ شِرْکًا لَہُ فِی عَبْدٍ فَکَانَ لَہُ مَا یَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ، فَإِنَّہُ یُقَوَّمُ قِیمَۃَ عَدْلٍ، فَیُعْطٰی شُرَکَاؤُہُ حَقَّہُمْ، وَعَتَقَ عَلَیْہِ الْعَبْدُ، وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مَا عَتَقَ۔)) (مسند أحمد: ۵۹۲۰)
۔ سیدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کسی غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا، جبکہ اس کے پاس اس غلام کی قیمت کے بقدر مال ہو، تو ایسے غلام کی انصاف کے ساتھ قیمت لگائی جائے گی اور اس کے شرکاء کو ان کے حصوں کے بقدر وہ قیمت ادا کر کے غلام پر آزادی کا حکم لگا دیا جائے گا، وگرنہ وہ شخص جتنا حصہ آزاد کرے گا، اتنا ہی اس غلام حصہ آزاد ہو جائے گا۔
Takhreej
(۵۲۶۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۵۲۲، ومسلم: ۱۵۰۱(انظر: ۵۹۲۰)
5265
Sahih
کسی غلام میں اپنے حصے کو آزاد کر دینے والے یا اپنے غلام کا بعض حصہ آزاد کر دینے والے شخص کا بیان
۔ (۵۲۶۶)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ اَعْتَقَ نَصِیْبًا لَہٗ فِی اِنْسَانٍ اَوْ مَمْلُوْکٍ کُلِّفَ عِتْقَ بَقِیَّتِہِ، فَاِنْ لَمْ یَکُنْ لَہٗ مَالٌ یُعْتِقُہٗ بِہِ، فَقَدْ جَازَ مَا عَتَقَ۔)) (مسند أحمد: ۵۴۷۴)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا تو اس آدمی کو اس غلام کی ساری قیمت کا مکلف ٹھہرایا جائے گا، لیکن اگر اس کے پاس اتنا مال نہ ہو کہ وہ سارے غلام کو آزاد کر سکے تو اتنا حصہ تو آزاد ہو جائے گا، جتنا وہ کرے گا۔ ‘
Takhreej
(۵۲۶۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
5266
Sahih
کسی غلام میں اپنے حصے کو آزاد کر دینے والے یا اپنے غلام کا بعض حصہ آزاد کر دینے والے شخص کا بیان
۔ (۵۲۶۷)۔ )۔ عَنْ سَالِمٍ عَنْ اَبِیْہِ یَبْلُغُ بِِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا کَانَ الْعَبْدُ بَیْنَ اِثْنَیْنِ فَاَعْتَقَ اَحَدُھُمَا نَصِیْبَہٗ فَاِنْ کَانَ مُوْسِرًا قُوِّمَ عَلَیْہِ قِیْمَۃٌ لَا وَکْسَ وَلَا شَطَطَ ثُمَّ یُعْتَقُ۔)) (مسند أحمد: ۴۵۸۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب دو آدمیوں کا مشترک غلام ہو اور ایک آدمی اپنا حصہ آزاد کر دے تو اگر وہ آزاد کنندہ مالدار ہوا تو اس پر غلام کی ایسی قیمت لگائی جائے گی، جس میں نہ کمی کی جائے گی اور نہ زیادتی اور پھر اس کو آزاد کر دیا جائے گا۔
Takhreej
(۵۲۶۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۵۲۱، ومسلم: ۳/ ۱۲۸۷(انظر: ۴۵۸۹)
5267
Sahih
کسی غلام میں اپنے حصے کو آزاد کر دینے والے یا اپنے غلام کا بعض حصہ آزاد کر دینے والے شخص کا بیان
۔ (۵۲۶۸)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ کَانَ لَہُ شِقْصٌ فِی مَمْلُوکٍ، فَأَعْتَقَ نِصْفَہُ، فَعَلَیْہِ خَلَاصُہُ، إِنْ کَانَ لَہُ مَالٌ، فَإِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ مَالٌ اسْتُسْعِیَ الْعَبْدُ فِی ثَمَنِ رَقَبَتِہِ غَیْرَ مَشْقُوقٍ۔)) (مسند أحمد: ۷۴۶۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کا کسی غلام میں حصہ ہو اور وہ اپنا حصہ آزاد کر دے تو اس کو سارے غلام کو آزاد کروانا پڑے گا، بشرطیکہ اس کے پاس اتنا مال ہو، اور اگر اس کے پاس مال نہ ہوا تو غلام کو اپنی قیمت پوری کرنے کے لیے کمائی کا مکلف ٹھہرایا جائے گا، لیکن اس ضمن میں اس پر مشقت نہیں ڈالی جائے گی۔
Takhreej
(۵۲۶۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۴۹۲، ۲۵۲۷، ومسلم: ۱۵۰۳(انظر: ۷۴۶۸)
5268
Sahih
کسی غلام میں اپنے حصے کو آزاد کر دینے والے یا اپنے غلام کا بعض حصہ آزاد کر دینے والے شخص کا بیان
۔ (۵۲۶۹)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَہُ فِی عَبْدٍ فَخَلَاصُہُ فِی مَالِہِ، إِنْ کَانَ لَہُ مَالٌ، فَإِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ مَالٌ، اسْتُسْعِیَ الْعَبْدُ غَیْرَ مَشْقُوقٍ عَلَیْہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۱۱۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کسی غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو سارے غلام کی آزادی اسی کے مال سے ہو گی، بشرطیکہ اس کے پاس مال ہو، اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو غلام کو کمائی کرنے کا مکلف ٹھہرایا جائے گا، لیکن اس پر مشقت نہیں ڈالی جائے گی۔
Takhreej
(۵۲۶۹) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابوداود: ۳۹۳۹، والترمذی باثر الحدیث: ۱۳۴۸(انظر: ۱۰۱۰۷)
Explanation
فوائد:… تو غلام کو کمائی کرنے کا مکلف ٹھہرایا جائے گا، …۔ اس کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں: (۱) غلام کو یہ موقع دیا جائے گاکہ وہ کمائی کرے، تاکہ دوسرے ساجھی کے حصے کی قیمت بنا لے اور پھر اس کو دے کر آزاد ہو جائے۔ (۲) غلام کا جتنا حصہ آزاد نہیں ہوا، وہ اس حصے کے بقدر دوسرے آقا کی خدمت کرے گا، مثلا اگر وہ آدھاآزاد کر دیا گیا ہے تو وہ دوسرے مالک کی نصف دن تک خدمت کرے گا، باقی نصف دن وہ آزاد آدمی کی حیثیت سے گزارے گا۔
5269
Sahih
کسی غلام میں اپنے حصے کو آزاد کر دینے والے یا اپنے غلام کا بعض حصہ آزاد کر دینے والے شخص کا بیان
۔ (۵۲۷۰)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ شِقْصًا مِنْ مَمْلُوکٍ، فَأَجَازَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِتْقَہُ وَغَرَّمَہُ بَقِیَّۃَ ثَمَنِہِ۔ (مسند أحمد: ۸۵۴۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک جب آدمی نے ایک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی آزادی کا حکم دے دیا اور اس کی باقی قیمت اسی آدمی پر لازم قرار دی۔
Takhreej
(۵۲۷۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ أبوداود: ۳۹۳۴(انظر: )
5270
Sahih
کسی غلام میں اپنے حصے کو آزاد کر دینے والے یا اپنے غلام کا بعض حصہ آزاد کر دینے والے شخص کا بیان
۔ (۵۲۷۱)۔ عَنْ اَبِی الْمَلِیْحِ، عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ رَجُلًا مِنْ ھُذَیْلَ اَعْتَقَ شَقِیْصًا لَہٗ مِنْ مَمْلُوْکٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھُوَ حُرٌّ کُلُّہُ، لَیْسَ لِلّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَاٰلیٰ شَرِیْکٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۹۸۵)
۔ ابو ملیح اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ بنو ہذیل کے ایک آدمی نے ایک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ سارے کا سارا آزاد ہو گیا ہے، اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں ہے۔
Takhreej
(۵۲۷۱) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابوداود: ۳۹۳۳(انظر: ۲۰۷۰۹)
Explanation
فوائد:… دوسری روایات میں وضاحت ہے کہ جس آدمی نے اپنا حصہ آزاد کیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے باقی قیمت بھی اس کے ذمہ قرار دی تھی۔
5271
Sahih
کسی غلام میں اپنے حصے کو آزاد کر دینے والے یا اپنے غلام کا بعض حصہ آزاد کر دینے والے شخص کا بیان
۔ (۵۲۷۲)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ حَوْشَبٍ، حَدَّثَنِی إِسْمَاعِیلُ بْنُ أُمَیَّۃَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ، قَالَ: کَانَ لَہُمْ غُلَامٌ یُقَالُ لَہُ: طَہْمَانُ أَوْ ذَکْوَانُ، فَأَعْتَقَ جَدُّہُ نِصْفَہُ، فَجَائَ الْعَبْدُ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تُعْتَقُ فِی عِتْقِکَ، وَتُرَقُّ فِی رِقِّکَ۔)) قَالَ: وَکَانَ یَخْدِمُ سَیِّدَہُ حَتّٰی مَاتَ، وَ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَکَانَ مَعْمَرٌ یَعْنِی ابْنَ حَوْشَبَ رَجُلًا صَالِحًا۔ (مسند أحمد: ۱۵۴۷۷)
۔ امیہ کا دادا سیدنا عمرو بن سعید بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ان لوگوں کو طہمان یا ذکوان نامی ایک غلام تھا، دادا نے اپنا حصہ آزاد کر دیا، وہ حصہ نصف غلام تھا، جب وہ غلام، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، تو اپنی آزادی کے بقدر آزاد ہو چکا ہے اور اپنی غلامی کے بقدر ابھی تک غلام ہے۔ پھر وہ اپنے مالک کی خدمت کرتا رہا، یہاں تک کہ وہ فوت ہو گیا۔ عبد الرزاق راوی نے کہا: معمر بن حوشب نیک آدمی تھے۔
Takhreej
(۵۲۷۲) تخریج: اسنادہ ضعیف، عمر بن حوشب الصنعانی لایعرف حالہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر ۵۵۱۷، والبیھقی: ۱۰/ ۲۷۴ (انظر: ۱۵۴۰۲)
Explanation
فوائد:… فوت ہونے والے سے مراد غلام بھی ہو سکتا ہے اور اس کا مالک بھی۔
5272
Zaeef
کسی غلام میں اپنے حصے کو آزاد کر دینے والے یا اپنے غلام کا بعض حصہ آزاد کر دینے والے شخص کا بیان
۔ (۵۲۷۳)۔ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ: حَفِظْنَا عَنْ ثَلَاثِینَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَہُ فِی مَمْلُوکٍ ضَمِنَ بَقِیَّتَہُ)) (مسند أحمد: ۱۶۵۳۱)
۔ سعید بن مسیب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے تیس صحابہ سے یہ بات یاد کی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کسی غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا، وہ باقی قیمت کا بھی ضامن ہو گا۔
Takhreej
(۵۲۷۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف حجاج بن ارطاۃ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۶/ ۴۸۳، والبیھقی: ۱۰/ ۲۸۳ (انظر: ۱۶۴۱۸)
5273
Zaeef
کسی غلام میں اپنے حصے کو آزاد کر دینے والے یا اپنے غلام کا بعض حصہ آزاد کر دینے والے شخص کا بیان
۔ (۵۲۷۴)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی اَنْ مَنْ اَعْتَقَ شِرْکًا لَہٗ فِیْ مَمْلُوْکٍ فَعَلَیْہِ جَوَازُ عِتْقِہِ اِنْ کَانَ لَہٗ مَالٌ۔ (مسند أحمد: ۲۳۱۵۹)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ جس نے کسی غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا تو سارے غلام کی آزادی اس پر ہو گی، بشرطیکہ اس کے پاس مال ہو۔
Takhreej
(۵۲۷۴) تخریج: صحیح بشاھدہ (انظر: ۲۲۷۷۸)
Explanation
فوائد:… اگر کوئی آدمی کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیتا ہے اور اس کے پاس مکمل غلام کو آزاد کرنے کا مال ہے تو اسی کے مال سے غلام کو آزاد کر دیا جائے گا، تاکہ وہ مکمل فضیلت حاصل کر لے۔
5274
Sahih
تدبیر اور کسی ضرورت کے پیش نظر مُدَبّر غلام کو بیچنے کے جواز کا بیان
۔ (۵۲۷۵)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ یُقَالُ لَہُ: أَبُو مَذْکُورٍ، أَعْتَقَ غُلَامًا لَہُ یُقَالُ لَہُ: یَعْقُوبُ، عَنْ دُبُرٍ لَمْ یَکُنْ لَہُ مَالٌ غَیْرُہُ، فَدَعَا بِہِ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَنْ یَشْتَرِیہِ؟ مَنْ یَشْتَرِیہِ؟)) فَاشْتَرَاہُ نُعَیْمُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ النَّحَّامُ، (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: خَتَنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ) بِثَمَانِ مِائَۃِ دِرْہَمٍ)، فَدَفَعَہَا إِلَیْہِ، وَقَالَ: ((إِذَا کَانَ أَحَدُکُمْ فَقِیرًا فَلْیَبْدَأْ بِنَفْسِہِ، وَإِنْ کَانَ فَضْلًا فَعَلٰی عِیَالِہِ، وَإِنْ کَانَ فَضْلًا فَعَلٰی ذَوِی قَرَابَتِہِ، أَوْ قَالَ: عَلٰی ذَوِی رَحِمِہِ، وَإِنْ کَانَ فَضْلًا فَہَاہُنَا وَہَاہُنَا۔)) (مسند أحمد: ۱۴۳۲۴)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ابو مذکورہ نامی ایک انصاری صحابی نے یعقوب نامی اپنے غلام کو اپنے موت کے بعد آزاد کر دیا، جبکہ اس کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس غلام کو بلایا اور فرمایا: کون اس کو خریدے گا؟ کون اس کو خریدے گا؟ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سسر سیدنا نُعَیم بن عبد اللہ نحام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آٹھ سو درہم کے عوض اس کو خرید لیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو دے دیا اور فرمایا: جب کوئی آدمی فقیر ہو تو وہ اپنے آپ پر خرچ کرنے سے ابتدا کرے، اگر مال بچ جائے تو اپنے اہل وعیال پر خرچ کرے، اگر ان سے بھی بچ جائے تو دوسرے رشتہ داروں پر خرچ کرے، اگر پھر بھی بچ جائے تو اِدھر اُدھر خرچ کر سکتا ہے۔
Takhreej
(۵۲۷۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۷۱۶، ۶۹۴۷، ومسلم: ۹۹۷(انظر: )
Explanation
فوائد:… مُدَبَّر غلام وہ ہوتا ہے، جس کو اس کا مالک یوں کہہ دے: تو میری موت کے بعد آزاد ہو گا۔
5275
Sahih
تدبیر اور کسی ضرورت کے پیش نظر مُدَبّر غلام کو بیچنے کے جواز کا بیان
۔ (۵۲۷۶)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ فَقَالَ عَمْرٌو: قَالَ جَابِرٌ: غَلَامٌ قِبْطِیٌّ وَمَاتَ عَامَ الْاَوَّلَ، زَادَ فِیْھَا اَبُوْ الزُّبَیْرِ: یُقَالَ لَہٗ: یَعْقُوْبُ۔ (مسند أحمد: ۱۴۱۷۹)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: عمرو نے کہا کہ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یعقوب نامی یہ قبطی غلام تھا اور (سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی امارت کے) پہلے سال فوت ہو گیا تھا۔
Takhreej
(۵۲۷۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
5276
Sahih
تدبیر اور کسی ضرورت کے پیش نظر مُدَبّر غلام کو بیچنے کے جواز کا بیان
۔ (۵۲۷۷)۔ (وَعَنْہٗ اَیْضًا) َانَّ رَجُلًا دَبَّرَ عَبْدًا لَہٗ وَعَلَیْہِ دَیْنٌ فَبَاعَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ دَیْنِ مَوْلَاہٗ۔ (مسند أحمد: ۱۵۲۶۶)
۔ سیدناجابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنے ایک غلام کو مُدَبّر بنا یا تھا، جبکہ اس پر قرض بھی تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس غلام کو مالک کا قرض ادا کرنے کے لیے بیچ دیا تھا۔
Takhreej
(۵۲۷۷) حدیث صحیح کما تقدم بالطریق الاول والثانی، لکن دون قولہ: وعلیہ دین…۔ (انظر: ۱۵۱۹۶)
5277
Sahih
تدبیر اور کسی ضرورت کے پیش نظر مُدَبّر غلام کو بیچنے کے جواز کا بیان
۔ (۵۲۷۸)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَاعَ الْمُدَبَّرَ۔ (مسند أحمد: ۱۴۲۶۵)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مُدَبّر کو بیچ دیا تھا۔
Takhreej
(۵۲۷۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۲۳۰ (انظر: ۱۴۲۱۶)
5278
Sahih
تدبیر اور کسی ضرورت کے پیش نظر مُدَبّر غلام کو بیچنے کے جواز کا بیان
۔ (۵۲۷۹)۔ عَنْ عَمْرَۃَ قَالَتِ اشْتَکَتِ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَطَالَ شَکْوَاہَا، فَقَدِمَ إِنْسَانٌ الْمَدِینَۃَ، یَتَطَبَّبُ فَذَہَبَ بَنُو أَخِیہَا یَسْأَلُونَہُ عَنْ وَجَعِہَا، فَقَالَ: وَاللّٰہِ! إِنَّکُمْ تَنْعَتُونَ نَعْتَ امْرَأَۃٍ مَطْبُوبَۃٍ، قَالَ: ہٰذِہِ امْرَأَۃٌ مَسْحُورَۃٌ سَحَرَتْہَا جَارِیَۃٌ لَہَا، قَالَتْ: نَعَمْ، أَرَدْتُ أَنْ تَمُوتِی فَأُعْتَقَ، قَالَ: وَکَانَتْ مُدَبَّرَۃً قَالَتْ: بِیعُوہَا فِی أَشَدِّ الْعَرَبِ مَلَکَۃً وَاجْعَلُوا ثَمَنَہَا فِی مِثْلِہَا۔ (مسند أحمد: ۲۴۶۲۷)
۔ عمرہ بیان کرتی ہیں کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیمار ہو گئیں اور ان کی بیماری لمبی ہو گئی، مدینہ منورہ میں ایک ایسا طبیب آیا، جو طب کی پوری واقفیت نہیں رکھتا تھا، سیدہ کے بھتیجے اس کے پاس گئے اور ان کی تکلیف کا ذکر کیا، اس نے کہا: اللہ کی قسم! تم نے اس خاتون کی جو کیفیت بیان کی ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس پر جادو کیاگیا ہے اور جادو بھی اس کی لونڈی نے کیا ہے، جب انھوں نے اس لونڈی سے پوچھا تو اس نے کہا: ہاں، میں نے جادو کیا ہے، میرا ارادہ یہ تھا کہ سیدہ فوت ہو جائیں گی اور میں آزاد ہو جاؤں گی۔ دراصل سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اس لونڈی کو مُدَبّر بنایا ہوا تھا، پھر سیدہ نے کہا: اس لونڈی کو ایسے شخص کے ہاتھوں فروخت کرو، جو اپنی لونڈیوں کے حق میں سب سے سخت ہے اور اس کی قیمت کو اسی کی طرح کی لونڈی میں صرف کر دو۔
Takhreej
(۵۲۷۹)ھذا الاثر صحیح، أخرجہ مالک فی المؤطا : ۲۷۸۲، وعبدالرزاق: ۱۸۷۴۹(انظر: ۲۴۱۲۶)
5279
Sahih