غلام کو آزاد کرنے والے کا، یا اس پر اپنی خدمت کی شرط لگانے والے کا، محرم رشتہ کا
مالک بننے والے کا اور غیر ملکیتی غلام کو آزاد کرنے والے کا بیان
۔ (۵۲۶۱)۔ عَنْ سَفِیْنَۃَ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ: اَعْتَقَتْنِیْ اُمُّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا وَاشْتَرَطَتْ عَلَیَّ اَنْ اَخْدَمَ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مَا عَاشَ۔ (مسند أحمد: ۲۲۲۷۲)
۔ سیدنا ابو عبد الرحمن سفینہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھے آزاد کیا، لیکن شرط یہ لگائی کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کروں گا، جب تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقید ِ حیات رہے۔
Takhreej
(۵۲۶۱) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۳۹۳۲، وابن ماجہ: ۲۵۲۶(انظر: ۲۱۹۲۷)
Explanation
فوائد:… ابو داود کی روایت میں یہ بات زائد بھی ہے، سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: وَإِنْ لَمْ تَشْتَرِطِی عَلَیَّ مَا فَارَقْتُ رَسُولَ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مَا عِشْتُ فَأَعْتَقَتْنِی وَاشْتَرَطَتْ عَلَیَّ۔ اگر تم مجھ پریہ شرط نہ لگاؤ، تب بھی جب تک میں زندہ رہوں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جدا نہیںہوں گا، پھر انھوں نے مجھے آزاد کر دیا اور مجھ پر یہ شرط بھی لگائی۔
5261
Sahih