TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

تدبیر اور کسی ضرورت کے پیش نظر مُدَبّر غلام کو بیچنے کے جواز کا بیان - تدبیر اور کسی ضرورت کے پیش نظر مُدَبّر غلام کو بیچنے کے جواز کا بیان - آزادی کے احکام کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of آزادی کے احکام کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 6 · 5 Hadith
۔ (۵۲۷۵)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ یُقَالُ لَہُ: أَبُو مَذْکُورٍ، أَعْتَقَ غُلَامًا لَہُ یُقَالُ لَہُ: یَعْقُوبُ، عَنْ دُبُرٍ لَمْ یَکُنْ لَہُ مَالٌ غَیْرُہُ، فَدَعَا بِہِ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَنْ یَشْتَرِیہِ؟ مَنْ یَشْتَرِیہِ؟)) فَاشْتَرَاہُ نُعَیْمُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ النَّحَّامُ، (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: خَتَنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ) بِثَمَانِ مِائَۃِ دِرْہَمٍ)، فَدَفَعَہَا إِلَیْہِ، وَقَالَ: ((إِذَا کَانَ أَحَدُکُمْ فَقِیرًا فَلْیَبْدَأْ بِنَفْسِہِ، وَإِنْ کَانَ فَضْلًا فَعَلٰی عِیَالِہِ، وَإِنْ کَانَ فَضْلًا فَعَلٰی ذَوِی قَرَابَتِہِ، أَوْ قَالَ: عَلٰی ذَوِی رَحِمِہِ، وَإِنْ کَانَ فَضْلًا فَہَاہُنَا وَہَاہُنَا۔)) (مسند أحمد: ۱۴۳۲۴)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ابو مذکورہ نامی ایک انصاری صحابی نے یعقوب نامی اپنے غلام کو اپنے موت کے بعد آزاد کر دیا، جبکہ اس کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس غلام کو بلایا اور فرمایا: کون اس کو خریدے گا؟ کون اس کو خریدے گا؟ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سسر سیدنا نُعَیم بن عبد اللہ نحام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آٹھ سو درہم کے عوض اس کو خرید لیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو دے دیا اور فرمایا: جب کوئی آدمی فقیر ہو تو وہ اپنے آپ پر خرچ کرنے سے ابتدا کرے، اگر مال بچ جائے تو اپنے اہل وعیال پر خرچ کرے، اگر ان سے بھی بچ جائے تو دوسرے رشتہ داروں پر خرچ کرے، اگر پھر بھی بچ جائے تو اِدھر اُدھر خرچ کر سکتا ہے۔
Takhreej
(۵۲۷۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۷۱۶، ۶۹۴۷، ومسلم: ۹۹۷(انظر: )
Explanation
فوائد:… مُدَبَّر غلام وہ ہوتا ہے، جس کو اس کا مالک یوں کہہ دے: تو میری موت کے بعد آزاد ہو گا۔
5275
Sahih
۔ (۵۲۷۶)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ فَقَالَ عَمْرٌو: قَالَ جَابِرٌ: غَلَامٌ قِبْطِیٌّ وَمَاتَ عَامَ الْاَوَّلَ، زَادَ فِیْھَا اَبُوْ الزُّبَیْرِ: یُقَالَ لَہٗ: یَعْقُوْبُ۔ (مسند أحمد: ۱۴۱۷۹)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: عمرو نے کہا کہ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یعقوب نامی یہ قبطی غلام تھا اور (سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی امارت کے) پہلے سال فوت ہو گیا تھا۔
Takhreej
(۵۲۷۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
5276
Sahih
۔ (۵۲۷۷)۔ (وَعَنْہٗ اَیْضًا) َانَّ رَجُلًا دَبَّرَ عَبْدًا لَہٗ وَعَلَیْہِ دَیْنٌ فَبَاعَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ دَیْنِ مَوْلَاہٗ۔ (مسند أحمد: ۱۵۲۶۶)
۔ سیدناجابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنے ایک غلام کو مُدَبّر بنا یا تھا، جبکہ اس پر قرض بھی تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس غلام کو مالک کا قرض ادا کرنے کے لیے بیچ دیا تھا۔
Takhreej
(۵۲۷۷) حدیث صحیح کما تقدم بالطریق الاول والثانی، لکن دون قولہ: وعلیہ دین…۔ (انظر: ۱۵۱۹۶)
5277
Sahih
۔ (۵۲۷۸)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَاعَ الْمُدَبَّرَ۔ (مسند أحمد: ۱۴۲۶۵)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مُدَبّر کو بیچ دیا تھا۔
Takhreej
(۵۲۷۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۲۳۰ (انظر: ۱۴۲۱۶)
5278
Sahih
۔ (۵۲۷۹)۔ عَنْ عَمْرَۃَ قَالَتِ اشْتَکَتِ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَطَالَ شَکْوَاہَا، فَقَدِمَ إِنْسَانٌ الْمَدِینَۃَ، یَتَطَبَّبُ فَذَہَبَ بَنُو أَخِیہَا یَسْأَلُونَہُ عَنْ وَجَعِہَا، فَقَالَ: وَاللّٰہِ! إِنَّکُمْ تَنْعَتُونَ نَعْتَ امْرَأَۃٍ مَطْبُوبَۃٍ، قَالَ: ہٰذِہِ امْرَأَۃٌ مَسْحُورَۃٌ سَحَرَتْہَا جَارِیَۃٌ لَہَا، قَالَتْ: نَعَمْ، أَرَدْتُ أَنْ تَمُوتِی فَأُعْتَقَ، قَالَ: وَکَانَتْ مُدَبَّرَۃً قَالَتْ: بِیعُوہَا فِی أَشَدِّ الْعَرَبِ مَلَکَۃً وَاجْعَلُوا ثَمَنَہَا فِی مِثْلِہَا۔ (مسند أحمد: ۲۴۶۲۷)
۔ عمرہ بیان کرتی ہیں کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیمار ہو گئیں اور ان کی بیماری لمبی ہو گئی، مدینہ منورہ میں ایک ایسا طبیب آیا، جو طب کی پوری واقفیت نہیں رکھتا تھا، سیدہ کے بھتیجے اس کے پاس گئے اور ان کی تکلیف کا ذکر کیا، اس نے کہا: اللہ کی قسم! تم نے اس خاتون کی جو کیفیت بیان کی ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس پر جادو کیاگیا ہے اور جادو بھی اس کی لونڈی نے کیا ہے، جب انھوں نے اس لونڈی سے پوچھا تو اس نے کہا: ہاں، میں نے جادو کیا ہے، میرا ارادہ یہ تھا کہ سیدہ فوت ہو جائیں گی اور میں آزاد ہو جاؤں گی۔ دراصل سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اس لونڈی کو مُدَبّر بنایا ہوا تھا، پھر سیدہ نے کہا: اس لونڈی کو ایسے شخص کے ہاتھوں فروخت کرو، جو اپنی لونڈیوں کے حق میں سب سے سخت ہے اور اس کی قیمت کو اسی کی طرح کی لونڈی میں صرف کر دو۔
Takhreej
(۵۲۷۹)ھذا الاثر صحیح، أخرجہ مالک فی المؤطا : ۲۷۸۲، وعبدالرزاق: ۱۸۷۴۹(انظر: ۲۴۱۲۶)
5279
Sahih