TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

آزاد شدہ کی ولاء کا بیان، نیز وہ کس شخص کے لیے ہو گی - آزاد شدہ کی ولاء کا بیان، نیز وہ کس شخص کے لیے ہو گی - آزادی کے احکام کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 6 of آزادی کے احکام کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 6 of 6 · 3 Hadith
۔ (۵۲۸۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ بَرِیرَۃَ جَائَ تْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا تَسْتَعِینُہَا فِی کِتَابَتِہَا، وَلَمْ تَکُنْ قَضَتْ مِنْ کِتَابَتِہَا شَیْئًا، فَقَالَتْ لَہَا عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : ارْجِعِی إِلٰی أَہْلِکِ فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِیَ عَنْکِ کِتَابَتَکِ وَیَکُونَ وَلَاؤُکِ لِی فَعَلْتُ، فَذَکَرَتْ ذٰلِکَ بَرِیرَۃُ لِأَہْلِہَا فَأَبَوْا وَقَالُوْا: إِنْ شَائَ تْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَیْکِ فَلْتَفْعَلْ وَلْیَکُنْ لَنَا وَلَاؤُکِ، فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ابْتَاعِی فَأَعْتِقِی فَإِنَّمَا الْوَلَائُ لِمَنْ أَعْتَقَ۔)) قَالَتْ: ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: ((مَا بَالُ أُنَاسٍ یَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَیْسَتْ فِی کِتَابِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ، مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَیْسَ فِی کِتَابِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَیْسَ لَہُ، وَإِنْ شَرَطَ مِائَۃَ مَرَّۃٍ، شَرْطُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۰۲۷)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:سیدہ بریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا میرے پاس آئی، وہ اپنی مکاتبت کے سلسلے میں مجھ سے مدد چاہ رہی تھیں اور ابھی تک انھوں نے کوئی ادائیگی نہیں کی تھی، میں نے ان سے کہا: تم اپنے مالکوں کی طرف لوٹ جاؤ، اگر وہ پسند کریں کہ میں تیری مکاتبت کی رقم ادا کردوں اور تیری ولاء میرے لیے ہو تو میں ایسا کر سکتی ہوں، وہ اپنے مالکوں کے پاس گئی اور ساری تفصیل بتائی، لیکن انھوں نے انکار کر دیا اور کہا: اگر وہ (سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ) ثواب کی نیت سے تیری رقم ادا کر سکتی ہے تو ٹھیک ہے، ولاء بہرحال ہمارے لیے ہی ہو گی، جب میں نے یہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ! تم اس کو خرید کر آزاد کر دو، ولاء صرف آزاد کرنے والا کا حق ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، وہ ایسی شرطیں لگانے لگ گئے ہیں، جو کتاب اللہ میں نہیں ہیں، جس نے ایسی شرط لگائی جو کتاب اللہ میں نہ ہو، تو اس کے لیے کچھ بھی نہیں ہو گا، اگرچہ وہ سو شرطیں لگا لے، اللہ تعالیٰ کی شرط سب سے زیادہ حقدار اور مضبوط ہے۔
Takhreej
(۵۲۸۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۵۶۱، ومسلم: ۱۵۰۴(انظر: ۲۴۵۲۲)
Explanation
فوائد:… اس روایت سے پتہ چلتا ہے کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے سیدہ بریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے کہا کہ ان کی کتابت کا سارا مال وہ ادا کر دیتی ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ ولاء ان کی ہو گی، لیکن اس مفہوم سے یہ پتہ چلتا ہے کہ سیدہ کا ولاء کا شرط لگانا درست نہیں ہے، کیونکہ مکاتَب کی ولاء اس کے پہلے والے مالکوں کی ہی ہوتی ہے، نہ کہ مکاتبت میں اس کا تعاون کرنے والوں کی۔ لیکن اس روایت کے درج ذیل الفاظ سے یہ اشکال ختم ہو جاتا ہے: سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اِنْ اَحَبَّ اَہْلُکِ اِنْ اَعُدَّھَا لَھُمْ عَدَّۃً وَاحِدَۃً وَاُعْتِقَکِ وَیَکُوْنُ وَلَاؤُکِ لِیْ، فَعَلْتُ۔ (بخاری: ۲۵۶۳) اگر تیرے مالک پسند کرتے ہیں کہ میں ان کے لیے ساری قیمت اکٹھی تیار کر لوں اور پھر تجھے آزاد کر دوں اور تیری ولاء میرے لیے ہو تو میں ایسا کر دیتی ہوں۔
5289
Sahih
۔ (۵۲۹۰)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ بَرِیرَۃَ أَتَتْہَا تَسْتَعِینُہَا وَکَانَتْ مُکَاتَبَۃً، فَقَالَتْ لَہَا عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : أَیَبِیعُکِ أَہْلُکِ، فَأَتَتْ أَہْلَہَا فَذَکَرَتْ ذٰلِکَ لَہُمْ فَقَالُوْا: لَا إِلَّا أَنْ تَشْتَرِطَ لَنَا وَلَائَ ہَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اشْتَرِیہَا فَأَعْتِقِیہَا فَإِنَّمَا الْوَلَائُ لِمَنْ أَعْتَقَ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۵۵۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ بریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ان کے پاس آئیں، جبکہ وہ مکاتَب تھیں، سیدہ نے ان سے کہا: کیا تیرے مالک تجھے فروخت کر دیں گے؟ وہ اپنے مالکوںکے پاس گئی اور ان کو یہ بات بتلائی، انھوں نے کہا: نہیں، ہم ایسا نہیں کریں گے، ہاں اگر وہ ہمارے لیے ولاء کی شرط لگا لیں تو ٹھیک ہے، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ان کی بات کا پتہ چلا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ! تم اس کو خرید کر آزاد کر دو، ولاء تو صرف آزاد کنندہ کی ہوتی ہے۔
Takhreej
(۵۲۹۰) تخریج: أخرجہ بنحوہ البخاری: ۲۵۶۵، ۲۷۲۶، ومسلم: ۱۵۰۴(انظر: ۲۴۰۵۳)
5290
Sahih
۔ (۵۲۹۱)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَ أَنَّ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِیَ بَرِیرَۃَ، فَأَبٰی أَہْلُہَا أَنْ یَبِیعُوہَا إِلَّا أَنْ یَکُونَ لَہُمْ وَلَاؤُہَا، فَذَکَرَتْ ذٰلِکَ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اشْتَرِیہَا فَأَعْتِقِیہَا فَإِنَّمَا الْوَلَائُ لِمَنْ أَعْطَی الثَّمَنَ۔)) (مسند أحمد: ۴۸۵۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے سیدہ بریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو خریدنا چاہا، لیکن اس کے مالکوں نے اس کو بیچنے سے انکار کر دیا، الا یہ کہ ولاء کا حق ان کو دیا جائے، جب سیدہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات بتلائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اس کو خرید کر آزاد کر دے، ولاء تو صرف اس کا حق ہے، جو قیمت ادا کرتا ہے۔
Takhreej
(۵۲۹۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۱۵۶، ۶۷۵۹، ومسلم: ۱۵۰۴(انظر: ۴۸۵۵)
5291
Sahih