TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 5296 - صرف اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھانے اور آباء کی قسم اٹھانے سے ممانعت کا بیان - قسم اور نذر کے مسائل - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 5 of 8 in this chapter
صرف اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھانے اور آباء کی قسم اٹھانے سے ممانعت کا بیان
۔ (۵۲۹۶)۔ عَنْ سَالِمٍ، عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَمِعَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَھُوَ یَقُوْلُ: وَاَبِیْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ اللّٰہَ یَنْہَاکُمْ أَنْ تَحْلِفُوْا بِآبَائِکُمْ، فَإِذَا حَلَفَ أَحَدُکُمْ فَلْیَحْلِفْ بِاللّٰہِ أَوْ لِیَصْمُتْ۔)) قَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: فَمَا حَلَفْتُ بِھَا بَعْدُ ذَاکِرًا وَلَا آثِرًا۔ (مسند أحمد: ۴۵۲۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یوں کہتے ہوئے سنا کہ میرے باپ کی قسم ہے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو اپنے آباء کی قسمیں اٹھانے سے منع کرتا ہے، جب کوئی آدمی قسم اٹھائے تو وہ اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھائے، یا پھر خاموش رہے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس کے بعد نہ میں نے جان بوجھ کر ایسی قسم اٹھائی اور نہ کسی کا بات نقل کرتے ہوئے۔
5296
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۵۲۹۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۶۷۹، ۶۱۰۸، ۶۶۴۶، ومسلم: ۱۶۴۶(انظر: ۴۵۱۳)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھانے کا کم از کم مرتبہ اباحت ہے اور اکثر اہل علم کی بھی یہی رائے ہے، لہذا ان لوگوں کا رویہ ٹھیک نہیں ہے، جو اللہ تعالیٰ کی قسم کے مطالبے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں۔

Related Chapters

2,410
1
اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات میں کسی اسم یا صفت کی قسم اٹھانے والے کا بیان
Musnad Ahmad
2
باب: اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کو حرام قرار دیا ہے ان سے فائدہ اٹھانے کی ممانعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
3
اس شخص کا بیان جس نے جھوٹی قسم اٹھائی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو معاف کر دیا
Musnad Ahmad
4
(2) CHAPTER. The Statement of Allah: ... To those also with whom you have made a pledge, give them their due portion by Wasiya (wills)... (V. 4.33)
اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ نساء میں ) یہ ارشاد کہ ” جن لوگوں سے تم نے قسم کھا کر عہد کیا ہے ، ان کا حصہ ان کو ادا کرو “
Sahih Bukhari
5
(25) CHAPTER. The Statement of Allah: “Verily, those who purchase a small gain at the cost of Allah's Covenant and their oaths.
اللہ تعالیٰ کا سورۃ آل عمران میں فرمان کہ ”جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے ذریعہ تھوڑی قیمت حاصل کرتے ہیں“۔ (آخر آیت تک)
Sahih Bukhari
6
(8) CHAPTER. The Prophet re-allowed the use of (certain kinds of) bowl and containers after he had forbidden their use.
ممانعت کے بعد ہر قسم کے برتنوں میں نبیذ بھگو نے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اجازت کا ہونا
Sahih Bukhari
7
(12) CHAPTER. To swear by Allah's Izza (Power and Honour) His Qualities, and His Speech.
اللہ تعالیٰ کی عزت ، اس کی صفات اور اس کے کلمات کی قسم کھانا
Sahih Bukhari
8
(14) CHAPTER.(The Holy Verse) “Allah will not call you to account for that which is unintentional in your oaths ...”
سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ وہ تمہاری لغو قسموں کے بارے میں تم سے پکڑ نہیں کرے گا
Sahih Bukhari
9
(5) CHAPTER. The Sa (measuring unit) of Al-Madina.
سورۃ المائدہ میں اللہ تعالیٰ کا رشاد ” یعنی قسم کے کفارہ میں ایک غلام کی آزادی “ اور کس طرح کے غلام کی آزادی افضل ہے
Sahih Bukhari
10
Chapter: The prohibition of swearing oaths when selling
بیع میں قسم اٹھانے کی ممانعت
Sahih Muslim
11
Chapter: The prohibition of swearing by something other than Allah
غیر اللہ کی قسم کھانے کی ممانعت
Sahih Muslim
12
Chapter: The Prohibition Of Making Others Despair Of The Mercy Of Allah
کسی انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے نااُمید کرنے کی ممانعت
Sahih Muslim
13
اللہ کے علاوہ کسی اور کی قسم کھانے کی ممانعت
Sunnan Ibn e Maja
14
باب: اللہ تعالیٰ کی عزت اور غلبے کی قسم کھانے کا بیان۔
Sunnan Nisai
15
Chapter: What Has Been Related About How Many Prayers Allah Made Obligatory Upon His Servants
باب: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About It's Being Disliked To Raise The Hand When One Sees the House (Ka'bah)
باب: بیت اللہ (کعبہ) کو دیکھنے کے وقت ہاتھ اٹھانے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About Touching The (Black) Stone And The Yemeni Corner And Not The Other Corner
باب: بیت اللہ کے دوسرے کونوں کو چھوڑ کر صرف حجر اسود اور رکن یمانی کے استلام کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About Making Exceptions In Oath
باب: قسم میں ان شاءاللہ کہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About It being Disliked To Swear By Other Than Allah
باب: غیر اللہ کی قسم کھانے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About The Excellence Of Martyrs With Allah
باب: اللہ تعالیٰ کے نزدیک شہیدوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
21
باب: اللہ تعالیٰ نے جنتیوں اور جہنمیوں کو اپنی کتاب میں لکھ رکھا ہے
Jam e Tirmazi
22
Chapter: Whoever Loves To Meet Allah, Allah Loves To Meet Him
باب: جس نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو پسند کیا اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے ملاقات کو پسند کیا
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Crying Out Of Fear Of Allah, Most High
باب: اللہ تعالیٰ کے ڈر سے رونے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About The Insignificance Of The World To Allah, The Mighty And Sublime
باب: اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی حقارت کا بیان
Jam e Tirmazi
25
باب: اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے
Jam e Tirmazi
26
باب: اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اپنی نعمت کا اثر دیکھنا پسند کرتا ہے
Jam e Tirmazi
27
باب: اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مثال کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: “Allah Created a Hundred Mercies”
باب: اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کیں
Jam e Tirmazi
29
بَاب أَسمَاء الله تَعَالَى
اللہ تعالیٰ کے ناموں کا بیان
Mishkat
30
بَاب حرم مَكَّة حرسها الله تَعَالَى
حرمت مکہ ، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے
Mishkat
31
بَابُ حَرَمِ الْمَدِينَةِ حَرَسَهَا اللَّهُ تَعَالَى
حرمتِ مدینہ کا بیان ، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے
Mishkat
32
اللہ تعالیٰ کی معرفت، توحید اوراس کے وجود کے اعتراف کے واجب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
33
اللہ تعالیٰ کی عظمت، بڑائی اور کمال قدرت اور مخلوق کا اس کا محتاج ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
34
اللہ تعالیٰ کی صفات کا اور اس کو ہر نقص سے پاک کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
35
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ کا بیان
Musnad Ahmad
36
اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ مضبوطی سے جم جانے کا بیان
Musnad Ahmad
37
قضائے حاجت کے دوران سلام کا جواب دینے یا اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہنے کی کراہیت کا بیان
Musnad Ahmad
38
وضو کے بغیر اللہ تعالیٰ کاذکر اور قرآن کی تلاوت کرنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
39
اس عقیدے کا بیان کہ بارش اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، اس کی مخلوق ہے اور اسی کی ایجاد کردہ ہے اور اس آدمی کے کفر کا بیان جو یہ کہتا ہے کہ فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے
Musnad Ahmad
40
اللہ تعالیٰ کے بارے میں حسن ظن رکھنے اور حسن خاتمہ کا بیان
Musnad Ahmad
41
اس کا بیان کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی روح کسی علاقے میں قبض کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے لیے اس میں کوئی ضرورت بنا دیتا ہے نیز اچانک موت کا بیان
Musnad Ahmad
42
اللہ تعالیٰ کے نام پر یا اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر سوال کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
43
صرف جمعہ اور ہفتہ کو روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
44
صفااور مروہ کے اوپر وقوف کرنے اور اس دوران اللہ تعالی کا ذکر کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
45
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے نزدیک سب سے محبوب نام
Musnad Ahmad
46
محمد نام رکھنا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نام اور کنیت کو جمع کرنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
47
اللہ تعالیٰ کی راہ میں رباط اور پہرے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
48
اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت
Musnad Ahmad
49
مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
Musnad Ahmad
50
شہادت اور شہداء کی فضیلت کے ابواب اللہ تعالیٰ کی راہ میں ملنے والی شہادت کی فضیلت
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

3
Musnad Ahmad
1225
۔ (۱۲۲۵)۔عَنْ عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍؓ قَالَ: سَرَیْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا کَانَ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ عَرَّسْنَا فَلَمْ نَسْتَیْقِظْ حَتّٰی أَیْقَظَنَا حَرُّ الشَّمْسِ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا یَقُوْمُ دَہِشًا اِلَی طَہُوْرِہِ، قَالَ: فَأَمَرَہُمُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَسْکُنُوْا، ثُمَّ ارْتَحَلْنَا فَسِرْنَا حَتّٰی اِذَا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ تَوَضَّأَ ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ، ثُمَّ صَلَّی الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، ثُمَّ أَقَامَ الصَّلَاۃَ فَصَلَّیْنَا، فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَلَا نُعِیْدُہَا فِیْ وَقْتِہَا مِنَ الْغَدِ؟ فَقَالَ: ((أَیَنْہَاکُمْ رَبُّکُمْ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَنِ الرِّبَا وَیَقْبَلُہُ مِنْکُمْ؟)) (مسند أحمد: ۲۰۲۰۶)
سیدنا عمران بن حصینؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ چلتے رہے، رات کے آخر میں ہم نے پڑاؤ ڈالا، پس ہم بیدار نہ ہو سکے، یہاں تک کہ سورج کی گرمی نے ہم کو جگایا، ہم میں سے ہر آدمی دہشت زدہ ہو کر وضو کے لیے کھڑا ہونے لگا، پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو حکم دیا کہ وہ سکون میں آجائیں، پھر ہم وہاں سے کوچ کر گئے اور چلتے رہے، یہاں تک کہ سورج بلند ہو گیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا اور سیدنا بلال کو حکم دیا، پس انھوں نے اذان دی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فجر سے پہلے والی دو رکعتیں ادا کیں، پھر نماز کو کھڑا کیا، پس ہم نے نماز پڑھی۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم نے کل اس نماز کو اس کے وقت پر بھی لوٹا نا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا یہ ہو سکتا ہے کہ تمہارا ربّ تم کو سود سے منع کرے اور خود تم سے قبول کر لے۔
Musnad Ahmad
6112
۔ (۶۱۱۲)۔ عَنْ أُسَیْدِ بْنِ ظُہَیْرِ بْنِ أَخِیْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ قَالَ: کَانَ أَحَدُنَا اِذَا اسْتَغْنٰی عَنْ أَرْضِہِ أَعْطَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبْعِ وَالنِّصْفِ وَیَشْتَرِطُ ثَلَاثَ جَدَاوِلَ وَالْقُصَارَۃَ وَمَا سَقَی الرَّبِیْعُ وَکَانَ الْعَیْشُ إِذْ ذَاکَ شَدِیْدًا وَکَانَ یُعْمَلُ فِیْہَا بِالْحَدِیْدِ وَمَاشَائَ اللّٰہُ وَیُصِیْبُ مِنْہَا مَنْفَعَۃً، فَأَتَانَا رَافِعُ بْنُ خَدِیْجٍ فَقَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنْہَاکُمْ عَنْ أَمْرٍ کَانَ لَکُمْ نَافِعًا، وَطَاعَۃُ اللّٰہِ وَطَاعَۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْفَعُ لَکُمْ، اِنَّ النَّبِیَّیَنَہَاکُمْ عَنِ الْحَقْلِ وَیَقُوْلُ: ((مَنِ اسْتَغْنٰی عَنْ أَرْضِہِ فَلْیَمْنَحْہَا أَخَاہُ أَوْ لِیَدَعْ۔)) وَیَنْہَاکُمْ عَنِ الْمُزَابَنَۃِ، وَالْمُزَابَنَۃُ: أَنْ یَکُوْنَ الرَّجُلُ لَہُ الْمَالُ الْعَظِیْمُ مِنَ النَّخْلِ فَیَأْتِیْہِ الرَّجُلُ فَیَقُوْلُ: قَدْ أَخَذْتُہُ بِکَذَا وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ۔ (مسند احمد: ۱۵۹۰۸)
۔ اسید بن ظہیر کہتے ہیں ہم ضرورت سے زائد زمین پیداوار کے تہائی، چوتھائی اور نصف حصے پر بٹائی پر دے دیا کرتے تھے اور تین تین نالیوں، غلہ گاہنے کے بعد خوشوں میں رہ جانے والے دانوں اور چھوٹی نہروں سے سیراب ہونے والی زمین کی شرط لگا لیتے تھے، جبکہ اس وقت گزران میں بڑی تنگی ہوتی تھی، پھر وہ لوگ لوہے کے آلات وغیرہ سے زراعت کرتے تھے اور ہمیں بھی نفع مل جاتا تھا لیکن ہوا یوں کہ سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمارے پاس آئے اورکہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تمہیں ایک ایسے کام سے روک دیا ہے، جو کہ تمہارے لئے نفع بخش تھا، بہرحال اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اطاعت ہر چیز کی بہ نسبت زیادہ فائدہ مندہے۔نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تمہیں بٹائی پر کھیتی باڑی کرنے سے منع کر دیا ہے اور فرمایاہے: جس کے پاس زائدزمین ہو، وہ اسے اپنے بھائی کو بلاعوض عاریۃ دے دے یا پھر اس کو خالی پڑا رہنے دے۔ نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تمہیںمزابنہ سے بھی منع کر دیا ہے اور مزابنہ یہ ہے کہ ایک آدمی کے پاس کھجورکے درختوں پر لگا ہوا بہت زیادہ مال ہو اور اس کے پاس دوسرا آدمی آئے اور کہے: میں تجھے کھجوروں کے اتنے وسق دے کر یہ کھجوریں خریدتا ہوں۔
Musnad Ahmad
10875
۔ (۱۰۸۷۵)۔ عَنْ سِمَاکٍ الْحَنَفِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ یَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی فِی الْبَیْتِ، وَسَتَأْتُونَ مَنْ یَنْہَاکُمْ عَنْہُ، فَتَسْمَعُونَ مِنْہُ یَعْنِی ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ حَجَّاجٌ: فَتَسْمَعُونَ مِنْ قَوْلِہِ، قَالَ: ابْنُ جَعْفَرٍ وَابْنُ عَبَّاسٍ جَالِسٌ قَرِیبًا مِنْہُ۔ (مسند احمد: ۵۰۵۳)
سماک حنفی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز ادا کی تھی، عنقریب کچھ لوگ آئیں گے جو تمہیں بیت اللہ کے اندر نماز ادا کرنے سے روکیں گے۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کے قریب ہی بیٹھے تھے، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کی طرف اشارہ کر کے کہا: ان سے بھی تم ایسی ہی بات سنو گے۔