TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

صرف اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھانے اور آباء کی قسم اٹھانے سے ممانعت کا بیان - صرف اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھانے اور آباء کی قسم اٹھانے سے ممانعت کا بیان - قسم اور نذر کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of قسم اور نذر کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 11 · 8 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۵۲۹۲)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ کَانَ حَالِفًا فَلَا یَحْلِفْ إِلَّا بِاللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) وَکَانَتْ قُرَیْشٌ تَحْلِفُ بِآبَائِہَا فَقَالَ: ((لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِکُمْْْْْ۔)) (مسند أحمد: ۵۴۶۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی قسم اٹھانا چاہے، وہ صرف اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھائے۔ چونکہ قریشی لوگ اپنے آباء کی قسم اٹھاتے تھے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: اپنے آباء کی قسم نہ اٹھایا کرو۔
Takhreej
(۵۲۹۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۸۳۶، ۶۶۴۸، ومسلم: ۱۶۴۶(انظر: ۵۴۶۲)
Explanation
فوائد:… جس چیز کی قسم اٹھائی جائے، اس کو محلوف بہ کہتے ہیں، دراصل قسم سے محلوف بہ کی تعظیم لازم آتی ہے جبکہ عظمت اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے، اس لیے غیر اللہ کی قسم اٹھانے سے منع کر دیا گیا ہے، رہا مسئلہ اللہ تعالیٰ کا تو وہ اپنی مخلوقات میں سے جس چیز کی چاہے، قسم اٹھاتا ہے، اس کا مقصود یہ ہوتا ہے کہ اس چیز کے شرف پر دلالت کی جائے۔
5292
Sahih
۔ (۵۲۹۳)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ قَالَ: کُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فِی حَلْقَۃٍ فَسَمِعَ رَجُلًا فِی حَلْقَۃٍ أُخْرٰی وَہُوَ یَقُولُ: لَا وَأَبِی، فَرَمَاہُ ابْنُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بِالْحَصٰی، وَقَالَ: إِنَّہَا کَانَتْ یَمِینَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَنَہَاہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْہَا وَقَالَ: ((إِنَّہَا شِرْکٌ)) (مسند أحمد: ۵۲۲۲)
۔ سعد بن عبیدہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک مجلس میں سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے ساتھ تھا، جب انھوں نے دوسری مجلس میں بیٹھے ہوئے ایک آدمی کو یوں کہتے ہوئے سنا: نہیں، میرے باپ کی قسم ہے، تو انھوں نے اس کو کنکری ماری اور کہا: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی اسی طرح قسم اٹھاتے تھے، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ شرک ہے۔
Takhreej
(۵۲۹۳) تخریج: صحیح بالشواھد، أخرجہ عبد الرزاق: ۱۵۹۲۶، والحاکم: ۱/ ۵۲ (انظر: ۵۲۲۲)
5293
Sahih
۔ (۵۲۹۴)۔ وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: فَنَہَاہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ حَلَفَ بِشَیْئٍ دُونَ اللّٰہِ تَعَالٰی فَقَدْ أَشْرَکَ)) وَقَالَ الْآخَرُ: ((وَہُوَ شِرْکٌ)) (مسند أحمد: ۴۹۰۴)
۔ (دوسری سند) اسی طر ح کی روایت ہے، البتہ اس میںہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع کر دیا اور فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور چیز کی قسم اٹھائی، اس نے شرک کیا۔ ایک راوی کے الفاظ یہ ہیں: اور وہ شرک ہے۔
Takhreej
(۵۲۹۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
5294
Sahih
۔ (۵۲۹۵)۔ عَنْ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہٗ قَالَ: لَا وَاَبِیْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَہْ، اِنَّہٗ مَنْ حَلَفَ بِشَیْئٍ دُوْنِ اللّٰہِ فَقَدْ اَشْرَکَ۔)) (مسند أحمد: ۳۲۹)
۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب انھوں نے یوں کہتے ہوئے قسم اٹھائی کہ نہیں، میرے باپ کی قسم ہے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: رک جاؤ، بیشک جس نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور چیز کی قسم اٹھائی،ا س نے شرک کیا۔
Takhreej
(۵۲۹۵) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۳۲۹)
5295
Sahih
۔ (۵۲۹۶)۔ عَنْ سَالِمٍ، عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَمِعَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَھُوَ یَقُوْلُ: وَاَبِیْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ اللّٰہَ یَنْہَاکُمْ أَنْ تَحْلِفُوْا بِآبَائِکُمْ، فَإِذَا حَلَفَ أَحَدُکُمْ فَلْیَحْلِفْ بِاللّٰہِ أَوْ لِیَصْمُتْ۔)) قَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: فَمَا حَلَفْتُ بِھَا بَعْدُ ذَاکِرًا وَلَا آثِرًا۔ (مسند أحمد: ۴۵۲۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یوں کہتے ہوئے سنا کہ میرے باپ کی قسم ہے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو اپنے آباء کی قسمیں اٹھانے سے منع کرتا ہے، جب کوئی آدمی قسم اٹھائے تو وہ اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھائے، یا پھر خاموش رہے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس کے بعد نہ میں نے جان بوجھ کر ایسی قسم اٹھائی اور نہ کسی کا بات نقل کرتے ہوئے۔
Takhreej
(۵۲۹۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۶۷۹، ۶۱۰۸، ۶۶۴۶، ومسلم: ۱۶۴۶(انظر: ۴۵۱۳)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھانے کا کم از کم مرتبہ اباحت ہے اور اکثر اہل علم کی بھی یہی رائے ہے، لہذا ان لوگوں کا رویہ ٹھیک نہیں ہے، جو اللہ تعالیٰ کی قسم کے مطالبے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں۔
5296
Sahih
۔ (۵۲۹۷)۔ عَنْ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: قَالَ عُمَرُرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَ: فَوَاللّٰہِ مَا حَلَفْتُ بِھَا مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ نَھٰی عَنْھَا وَلَا تَکَلَّمْتُ بِھَا ذَاکِرًا وَلَا آثِرًا۔ (مسند أحمد: ۱۱۲)
۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اسی قسم کی روایت مروی ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: پس اللہ تعالیٰ کی قسم ہے، جب سے میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس سے منع کرتے ہوئے سنا، میں نے ایسی قسم نہیں اٹھائی اور نہ ایسا کلام کیا، نہ جان بوجھ کر اور نہ کسی کی کلام نقل کرتے ہوئے۔
Takhreej
(۵۲۹۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۶۴۷، ومسلم: ۱۶۴۶(انظر: ۱۱۲)
5297
Sahih
۔ (۵۲۹۸)۔ (وَعَنْہٗ اَیْضًا) قَالَ: کُنْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ غَزَاۃٍ فَحَلَفْتُ: لَا وَاَبِیْ، فَھَتَفَ بِیْ رَجُلٌ مِنْ خَلْفِیْ فَقَالَ: ((لَا تَحْلِفُوْا بِآبَائِکُمْ۔)) فَاِذَا ھُوَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند أحمد: ۲۱۴)
۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک غزوے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا، میں نے یوں قسم اٹھائی: نہیں، میرے باپ کی قسم! میرے پیچھے سے کسی آدمی نے بآواز بلند کہا: اپنے آباء کی قسمیں نہ اٹھاؤ۔ جب میں نے دیکھا تو وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تھے۔
Takhreej
(۵۲۹۸) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۲۱۴)
5298
Sahih
۔ (۵۲۹۹)۔ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تَحْلِفُوْا بِآبَائِکُمْ وَلَا بِالطَّوَاغِیْتِ)) وَقَالَ یَزِیْدُ: وَالطَّوْاغِیْ۔ (مسند أحمد: ۲۰۹۰۰)
۔ سیدنا عبد الرحمن بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے باپوں اور طاغوت کی قسمیں نہ اٹھایا کرو۔ یزید راوی نے اپنی روایت میں طواغی کے الفاظ ذکر کیے۔
Takhreej
(۵۲۹۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۴۸(انظر: ۲۰۶۲۴)
Explanation
فوائد:… طاغوت سے مراد بت ہیں، اس لفظ کا اطلاق شیطان پر بھی ہوتا ہے۔
5299
Sahih

Chapters

11
01
صرف اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھانے اور آباء کی قسم اٹھانے سے ممانعت کا بیان
8 Hadith
02
کعبہ کی قسم اٹھانے کا بیان
2 Hadith
03
لات اور عزی کی قسم اٹھانے والے کا اور اس شخص کا بیان جو اپنے ساتھی سے کہے: آؤ، جوا کھیلیں
2 Hadith
04
اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب کی قسم اٹھانے والے اور اس شخص کا بیان جس نے کہا کہ وہ اسلام سے بری ہے
2 Hadith
05
اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات میں کسی اسم یا صفت کی قسم اٹھانے والے کا بیان
8 Hadith
06
قسم میں استثنائ، توریہ اور نیت کا اعتبار کرنے کا بیان
6 Hadith
07
جھوٹی قسم کے بارے میں سختی کا اور منبر نبوی پر اس قسم کے بڑا جرم ہونے کا بیان
9 Hadith
08
اس شخص کا بیان جس نے جھوٹی قسم اٹھائی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو معاف کر دیا
3 Hadith
09
قسم اٹھانے والی کی قسم کو پورا کرنے اور عذر کی بنا پر اس کو پورا نہ کرنے کی رخصت کا اور نیز اس شخص کا بیان جو اپنی نظر کو جھٹلا دے اور قسم اٹھانے والے کی تصدیق کرے
6 Hadith
10
جو آدمی کسی چیز پر قسم اٹھائے، لیکن جب دیکھے کہ زیادہ بہتری دوسری چیز میں ہے تو وہ بہتر چیز کو اختیار کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے
14 Hadith
11
قطع رحمی اور غیر ملکیتی چیز کے بارے میں قسم اٹھا لینے کا بیان
2 Hadith
No chapter matched that.