۔ (۵۳۱۴)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی اللہ عنہ قَالَ أَیُّوبُ: لَا أَعْلَمُہُ إِلَّا عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: ((مَنْ حَلَفَ فَاسْتَثْنٰی فَہُوَ بِالْخِیَارِ، إِنْ شَائَ أَنْ یَمْضِیَ عَلَی یَمِینِہِ، وَإِنْ شَائَ أَنْ یَرْجِعَ غَیْرَ حِنْثٍ أَوْ قَالَ غَیْرَ حَرَجٍ۔)) (مسند أحمد: ۴۵۱۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے قسم اٹھائی ، لیکن ساتھ ہی استثناء کر لیا تو اس کو اختیار حاصل ہو گا، اگر وہ چاہے تو اپنی قسم کو نافذ کر دے اور چاہے تو قسم کا تقاضا پورا نہ کرے، اس سے اس کی قسم ٹوٹے گی نہیں، یا فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
Takhreej
(۵۳۱۴) اسنادہ صحیح، أخرجہ ابوداود: ۳۲۶۱، وابن ماجہ: ۲۱۰۶، والنسائی: ۷/۲۵ (انظر: ۴۵۱۰)
Explanation
فوائد:… استثناء سے مراد اِنْ شَائَ اللّٰہُ (اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا) کہنا ہے، ان لفظوں سے صاف ظاہر ہے کہ قسم کھانے والے نے حتمی قسم نہیں کھائی، گویا وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ اگر یہ کام کر سکا تو کرے گا، ورنہ سمجھا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے نہیں چاہا، لہذا یہ کام نہ ہو سکا۔
5314
Sahih