TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 5508 - صبح، شام اور نیند کے وقت کی دعاؤں کا بیان - مقررہ اوقات میں کیے جانے والے اذکار کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 23 of 26 in this chapter
صبح، شام اور نیند کے وقت کی دعاؤں کا بیان
۔ (۵۵۰۸)۔ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَأَنْ أَقْعُدَ أَذْکُرُ اللّٰہَ وَأُکَبِّرُہُ وَأَحْمَدُہُ وَأُسَبِّحُہُ وَأُہَلِّلُہُ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ، أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ رَقَبَتَیْنِ أَوْ أَکْثَرَ (وَفِیْ لَفْظٍ: اَرْبَعَ رِقَابٍ) مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِیلَ، وَمِنْ بَعْدِ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ، أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِیلَ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۵۴۷)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میں (نمازِ فجر سے) طلوع آفتاب تک بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا رہوں اور اس کی بڑائی، حمد، تسبیح اور تہلیل بیان کرتا رہوں تو یہ عمل مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے دو یا زائد گردنوں کو آزاد کروں، ایک روایت میں چار گردنوں کا ذکر ہے، اور اگر میں نمازِ عصر سے غروبِ آفتاب تک یہی ذکر کرتا رہوں تو یہ عمل مجھے اس سے زیادہ پسند ہو گا کہ میں اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے چار گردنیں آزاد کروں۔
5508
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۵۵۰۸) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر :۸۰۲۸(انظر: ۲۲۱۹۴)

Related Chapters

151
1
Chapter: What Has Been Related About Supplication In The Morning And The Evening
باب: صبح و شام پڑھی جانے والی دعاؤں کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: Something Else, The Supplication “O Allah, Knower Of The Unseen And The Seen, Originator Of The Heavens And The Earth”
باب: صبح و شام پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
3
باب مایقول عندالصباح والمساء والمنام
صبح و شام اور سوتے وقت کے اذکار کا بیان
Mishkat
4
(89) CHAPTER. The deceased is shown his actual place (in Paradise or in Hell) both in the morning and in the afternoon.
مردے کو دونوں وقت صبح اور شام اس کا ٹھکانا بتلایا جاتا ہے
Sahih Bukhari
5
Chapter: What Has Been Related About Going Out In The Morning And The Afternoon In The Cause Of Allah
باب: جہاد میں گزرنے والے صبح و شام کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: Something Else: The Supplication: “I Seek Forgiveness From Allah The One Whom There Is None Worthy Of Worship Except For Him, And He Is The Living, The Sustainer”
باب: سوتے وقت پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
7
Chapter: Something Else: The Supplication: “All Praise Is Due To Allah Who Revived My Soul”
باب: سوتے اور جاگتے وقت پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
8
Chapter: Concerning The Mention Of: “Glory Is To Allah And The Praise” A Hundred Times
باب: صبح و شام کے اذکار سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
9
Chapter: The Supplication That He Taught Abu Bakr..
باب: صبح و شام کے ذکر سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
10
نیند سے بیدار ہوتے وقت، تہجد کے وقت اور گھر میں داخل ہوتے وقت مسواک کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
11
استسقاء کی دعا کرتے وقت ہاتھوں کو اٹھانے اور منقول دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
12
ان دعاؤںکا بیان، جو نیند میں گھبراہٹ، بے خوابی اور وحشت کی صورت میں کی جائیںگی
Musnad Ahmad
13
ان امور کا بیان جو کسی حاجت کے لیے رات کو اٹھنے والا کہے گا اور کرے گا، اسی طرح رات کو نیند سے بیدار ہوتے وقت کے اور رات کے آخر میں جاگتے وقت کے اذکار
Musnad Ahmad
14
گھر میں داخل ہونے کی، گھر سے نکلنے کی، بازار میں داخل کی اور مجلس کو ختم کرتے وقت کی دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
15
بارش کے نزول، گرج اور کڑک کو سنتے وقت اور چاند کو دیکھنے کی دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
16
(37) CHAPTER. The superiority of going to the mosque (every) morning and in the afternoon and evening [for the congregational Salat (prayers)].
مسجد میں صبح اور شام آنے جانے کی فضیلت کا بیان
Sahih Bukhari
17
(162) CHAPTER. Going of women to the mosques at night and in darkness.
عورتوں کا رات میں اور ( صبح کے وقت ) اندھیرے میں مسجدوں میں جانا
Sahih Bukhari
18
(86) CHAPTER. The recitation of Talbiya and Takbir while proceeding from Mina to Arafat.
صبح کے وقت منی سے عرفات جاتے ہوئے لبیک اور تکبیر کہنے کا بیان
Sahih Bukhari
19
(14) CHAPTER. Arriving in the morning.
۔ ( مسافر کا اپنے ) گھر میں صبح کے وقت آنا
Sahih Bukhari
20
(13) CHAPTER. Whoever went out of his Itikaf in the morning.
اعتکاف سے صبح کے وقت باہر آنا
Sahih Bukhari
21
(5) CHAPTER. To proceed in Allah's Cause in the forenoon and in the afternoon. A place in Paradise as small as the bow of one of you (is better than the world and whatever is in it).
اللہ کے راستے میں صبح و شام چلنے کی اور جنتمیں ایک کمان برابر جگہ کی فضیلت
Sahih Bukhari
22
(64) CHAPTER. May a person visit his friend daily, or visit him in the morning and in the evening?
کیا اپنے ساتھی کی ملاقات کے لئے ہر دن جا سکتا ہے یا صبح اور شام ہی کے اوقات میں جائے
Sahih Bukhari
23
(16) CHAPTER. What to say when one gets up in the morning.
صبح کے وقت کیا دعا پڑھے
Sahih Bukhari
24
Chapter: It is recommended to pray Subh early, at the beginning of its time, when it is still dark; and the length of recitation therein
صبح کی نماز جلد ، اس کے اول وقت میں ، جو رات کی آخری تاریکی کا وقت ہے ، پڑھنا مستحب ہے ، نیز اس میں قراءت کی مقدارکا بیان
Sahih Muslim
25
Chapter: The virtue of going out in the morning or the evening in the cause of Allah
صبح کو یا شام کو اللہ کی راہ میں سفر کرنے کی فضیلت
Sahih Muslim
26
Chapter: It is recommended to cover vessels, tie up waterskins, close doors and mention the name of Allah over them, extinguish lamps and fires when going to sleep, and keep children and animals in after maghrib
مغرب کے بعد برتن کو ڈھانک دینا،مشکیزے کا منہ باندھ دینا،(گھر کے) دروازے بند کردینا،ان پر اللہ کا نام پڑھنا،نیند کے وقت چراغ اور آگ بجھا دینا اور بچوں اور جانوروں کو اندر روک لینا مستحب ہے
Sahih Muslim
27
Chapter: The Attributes Of Paradise And Its People, And Their Glorifying Allah Every Morning And Evening
جنت اور اہل جنت کی صفات اور اس میں صبح و شام ان کی تسبیحات
Sahih Muslim
28
CHAPTER: What to say when waking up.
باب: صبح کے وقت کیا پڑھے ؟
Sunnan Abu Dawood
29
صبح کے وقت میں برکت متوقع ہونے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
30
اللہ کی راہ میں صبح شام چلنے کی فضیلت
Sunnan Ibn e Maja
31
گھبراہٹ کے وقت اور نیند اچاٹ ہونے پر کیا دعا پڑھے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
32
Chapter: : The Supplication That One Should Recite In The Morning And In The Evening
صبح شام کیا دعا پڑھے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
33
روزہ دار کے لیے شام کے وقت مسواک کی رخصت کا بیان۔
Sunnan Nisai
34
صبح کی اذان کا وقت۔
Sunnan Nisai
35
باب: شام کے وقت جہاد میں جانے کی فضیلت کا بیان۔
Sunnan Nisai
36
(19)Chapter: What Has Been Related That When One Of You Awakens From His Sleep, Then Let Him Not Put His Hand Into Vessel Until He Washes it.
باب: جب آدمی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جب تک کہ اسے دھو نہ لے
Jam e Tirmazi
37
(57)Chapter: [What Has Been Reported] About Wudu From Sleep
باب: نیند سے وضو کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About 'When Supper Is Present And The Iqamah Is Called For Salat Then Begin With Supper'
باب: شام کا کھانا حاضر ہو اور نماز کھڑی ہو جائے تو پہلے کھانا کھا لو
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Sleeps Past Al-Witr Or Forgets It
باب: صبح ہونے سے پہلے وتر پڑھ لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About Clarifying Al-Fajr
باب: صبح صادق کے واضح ہو جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What has been Related About The Three Things That The Prophet (s.a.w) Requested For His Ummah
باب: امت کے لیے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی تین دعاؤں کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What has been Related About The Inhabitants of Ash-Sham
باب: سر زمین شام کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About Supplicating When One Awakens During The Night
باب: رات میں نیند سے جاگے تو کیا دعا پڑھے؟
Jam e Tirmazi
44
Chapter: Something Else: The Supplication: “Allah Hears The One Who Praises Him”
باب: رات میں جاگنے پر پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
45
Chapter: Something Else: The Supplication: “O Allah, I Ask You Of Your Mercy”
باب: تہجد کے لیے اٹھے تو اس میں پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
46
Chapter: Something Else: The Supplication: “I Have Directed My Face Towards The One Who Created The Heavens And The Earth”
باب: تہجد میں پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
47
Chapter: The Supplication: O Allah. Cool My Heart...
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی دعاؤں کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: About The Supplication Of The Prophet, And His Seeking Refuge At The End Of Every Salat
باب: نماز کے اخیر میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی دعاؤں اور معوذات کا بیان
Jam e Tirmazi
49
بَاب الدَّعْوَات فِي الْأَوْقَاف
مختلف اوقات کی دعاؤں کا بیان
Mishkat
50
بَاب جَامع الدُّعَاء
جامع دعاؤں کا بیان
Mishkat
No related chapter matched that.

Related Hadith

8
Musnad Ahmad
4818
۔ (۴۸۱۸)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَ: قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ رَمٰی بِسَھْمٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَبَلَغَ فَأَصَابَ أَوْ أَخْطَأَ، کَانَ کَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَۃً مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِیلَ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۱۴۵)
۔ سیدنا عمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے تیر پھینکا اور وہ پہنچ گیا،وہ اپنے نشانے پر لگا یا نہ لگا، تو وہ اس شخص کی مانند ہو گا، جس نے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک گردن آزاد کی ہو۔
Musnad Ahmad
5171
۔ (۵۱۷۱)۔ عَنْ سَلَمَۃ بْنِ الْأَکْوَعِ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی قَوْمٍ مِنْ أَسْلَمَ، وَہُمْ یَتَنَاضَلُونَ فِی السُّوقِ، فَقَالَ: ((ارْمُوا یَا بَنِی إِسْمَاعِیلَ، فَإِنَّ أَبَاکُمْ کَانَ رَامِیًا ارْمُوْا، وَأَنَا مَعَ بَنِی فُلَانٍ۔)) لِأَحَدِ الْفَرِیقَیْنِ فَأَمْسَکُوا أَیْدِیَہُمْ، فَقَالَ: ((اِرْمُوا۔)) قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! کَیْفَ نَرْمِی وَأَنْتَ مَعَ بَنِی فُلَانٍ، قَالَ: ((ارْمُوا وَأَنَا مَعَکُمْ کُلِّکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۶۴۳)
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بنو اسلم کے لوگوں کے پاس تشریف لائے، جبکہ وہ بازار میں تیر اندازی میں مقابلہ کر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے بنو اسماعیل! تیر اندازی کرو، بیشک تمہارا باپ بھی تیر انداز تھا، کرو تیر اندازی اور میں بنو فلاں کے ساتھ ہوں۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک فریق کا نام لیا تو وہ رک گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: پھینکو تیر (کیوں رک گئے ہو)۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کیسے پھینکیں، جبکہ آپ تو بنو فلاں کے ساتھ ہو گئے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کرو تیز اندازی، میں تم سب کے ساتھ ہوں۔
Musnad Ahmad
5218
۔ (۵۲۱۸)۔ عَنِ ابْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّہَا کَانَ عَلَیْہَا رَقَبَۃٌ مِنْ وُلَدِ إِسْمَاعِیلَ، فَجَائَ سَبْیٌ مِنَ الْیَمَنِ مِنْ خَوْلَانَ، فَأَرَادَتْ أَنْ تُعْتِقَ مِنْہُمْ، فَنَہَانِی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، ثُمَّ جَائَ سَبْیٌ مِنْ مُضَرَ مِنْ بَنِی الْعَنْبَرِ، فَأَمَرَہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ تٰعْتِقَ مِنْہُمْ۔ (مسند أحمد: ۲۶۷۹۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک گردن آزاد کرنی تھی، جب یمن سے خولان قبیلہ کے قیدی آئے تو انھوں نے ان سے میں ایک غلام آزاد کرنا چاہا، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو منع کر دیا، پھر جب بنو عنبر سے مضر قبیلے کے قیدی آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو حکم دیا کہ ان قیدیوں میں سے کسی کو آزاد کر دیں۔
Musnad Ahmad
5443
۔ (۵۴۴۳)۔ عَنْ أُمِّ ہَانِئٍ بِنْتِ أَبِی طَالِبٍ قَالَتْ: مَرَّ بِی ذَاتَ یَوْمٍ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی قَدْ کَبِرْتُ وَضَعُفْتُ أَوْ کَمَا قَالَتْ: فَمُرْنِی بِعَمَلٍ أَعْمَلُہُ وَأَنَا جَالِسَۃٌ، قَالَ: ((سَبِّحِی اللّٰہَ مِائَۃَ تَسْبِیحَۃٍ، فَإِنَّہَا تَعْدِلُ لَکِ مِائَۃَ رَقَبَۃٍ تُعْتِقِینَہَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِیلَ، وَاحْمَدِی اللّٰہَ مِائَۃَ تَحْمِیدَۃٍ تَعْدِلُ لَکِ مِائَۃَ فَرَسٍ مُسْرَجَۃٍ مُلْجَمَۃٍ تَحْمِلِینَ عَلَیْہَا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، وَکَبِّرِی اللّٰہَ مِائَۃَ تَکْبِیرَۃٍ فَإِنَّہَا تَعْدِلُ لَکِ مِائَۃَ بَدَنَۃٍ مُقَلَّدَۃٍ مُتَقَبَّلَۃٍ، وَہَلِّلِی اللّٰہَ مِائَۃَ تَہْلِیلَۃٍ۔)) قَالَ ابْنُ خَلَفٍ: أَحْسِبُہُ قَالَ: ((تَمْلَأُ مَا بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ، وَلَا یُرْفَعُ یَوْمَئِذٍ لِأَحَدٍ عَمَلٌ إِلَّا أَنْ یَأْتِیَ بِمِثْلِ مَا أَتَیْتِ بِہِ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۴۵۰)
۔ سیدہ ام ہانی بنت ابو طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس سے گزرے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں عمر رسیدہ ہو گئی ہوں اور کمزور ہو گئی ہوں، اس لیے مجھے کوئی ایسا بتائیں کہ بیٹھ کر کر لیا کروں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سو (۱۰۰) بار سُبْحَانَ اللّٰہ کہو، یہ عمل تمہارے لیے اولادِ اسماعیل سے سو گردنیں آزاد کرنے کے برابر ہو گا، سو (۱۰۰) دفعہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہو، یہ عمل تمہارے لیے اللہ کے راستے میں سو لگام شدہ اور زین شدہ گھوڑے دینے کے برابر ہو گا، سو (۱۰۰) بار اَللّٰہُ اَکْبَر کہو، یہ عمل تیرے لیے ان سو (۱۰۰) اونٹوں کے برابر ہو گا، جن کو قلادے ڈال کر حج کے زمانے میں مکہ مکرمہ کی طرف بھیج دیا جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف قبول بھی کر لیے جائیں اور سو (۱۰۰) بار لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہو، یہ عمل آسمان و زمین کے درمیانی خلا کو ثواب سے بھر دے گا، اس دن کسی آدمی کا ایسا عظیم عمل اوپر کی طرف نہیں اٹھایا جائے گا، الا یہ کہ وہ اسی طرح کا عمل کرے، جیسے تو نے کیا ہے۔
Musnad Ahmad
5492
۔ (۵۴۹۲)۔ عَنْ سُہَیْلِ بْنِ أَبِی صَالِحٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ أَبِی عَیَّاشٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَالَ حِینَ أَصْبَحَ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، کَانَ لَہُ کَعَدْلِ رَقَبَۃٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِیلَ، وَکُتِبَ لَہُ بِہَا عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَحُطَّ عَنْہُ بِہَا عَشْرُ سَیِّئَاتٍ، وَرُفِعَتْ لَہُ بِہَا عَشْرُ دَرَجَاتٍ، وَکَانَ فِی حِرْزٍ مِنَ الشَّیْطَانِ حَتّٰی یُمْسِیَ، وَإِذَا أَمْسٰی مِثْلُ ذٰلِکَ حَتّٰی یُصْبِحَ۔)) قَالَ: فَرَأٰی رَجُلٌ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیمَا یَرَی النَّائِمُ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ أَبَا عَیَّاشٍ یَرْوِی عَنْکَ کَذَا وَکَذَا، قَالَ: صَدَقَ أَبُو عَیَّاشٍ۔ (مسند أحمد: ۱۶۶۹۹)
۔ سیدنا ابو عیاش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے صبح کے وقت یہ کلمات کہے: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، اس کو اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا، اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، اس کی دس برائیاں مٹا دی جائیں گی، اس کے دس درجے بلند کر دیئے جائیں گے اور وہ شام تک شیطان سے حفاظت میں رہے گا، اگر اس نے شام کو یہی عمل کیا تو اس کو یہی فضیلت حاصل ہو گی۔ ایک آدمی نے خواب میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا اور اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! ابو عیاش آپ سے اس قسم کی حدیث بیان کرتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو عیاش نے سچ کہا ہے۔
Musnad Ahmad
12005
۔ (۱۲۰۰۵)۔ عَنْ أُمِّ ہَانِیئٍ بِنْتِ أَبِی طَالِبٍ قَالَتْ: مَرَّ بِی ذَاتَ یَوْمٍ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی قَدْ کَبِرْتُ وَضَعُفْتُ أَوْ کَمَا قَالَتْ: فَمُرْنِی بِعَمَلٍ أَعْمَلُہُ وَأَنَا جَالِسَۃٌ، قَالَ: ((سَبِّحِی اللّٰہَ مِائَۃَ تَسْبِیحَۃٍ، فَإِنَّہَا تَعْدِلُ لَکِ مِائَۃَ رَقَبَۃٍ تُعْتِقِینَہَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِیلَ، وَاحْمَدِی اللّٰہَ مِائَۃَ تَحْمِیدَۃٍ تَعْدِلُ لَکِ مِائَۃَ فَرَسٍ مُسْرَجَۃٍ مُلْجَمَۃٍ تَحْمِلِینَ عَلَیْہَا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، وَکَبِّرِی اللّٰہَ مِائَۃَ تَکْبِیرَۃٍ فَإِنَّہَا تَعْدِلُ لَکِ مِائَۃَ بَدَنَۃٍ مُقَلَّدَۃٍ مُتَقَبَّلَۃٍ، وَہَلِّلِی اللّٰہَ مِائَۃَ تَہْلِیلَۃٍ۔)) قَالَ ابْنُ خَلَفٍ: أَحْسِبُہُ قَالَ: ((تَمْلَأُ مَا بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ، وَلَا یُرْفَعُ یَوْمَئِذٍ لِأَحَدٍ عَمَلٌ إِلَّا أَنْ یَأْتِیَ بِمِثْلِ مَا أَتَیْتِ بِہِ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۴۵۰)
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس سے گزرے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں عمر رسیدہ ہو گئی ہوں اور کمزور ہو گئی ہے، اس لیے مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں کہ بیٹھ کر کر لیا کروں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سو (۱۰۰) بار سُبْحَانَ اللّٰہ کہو، یہ عمل تمہارے لیے اولادِ اسماعیل سے سو گردنیں آزاد کرنے کے برابر ہو گا، سو (۱۰۰) دفعہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہو، یہ عمل تمہارے لیے اللہ کے راستے میں سو لگام شدہ اور زین شدہ گھوڑے دینے کے برابر ہو گا، سو (۱۰۰) بار اَللّٰہُ اَکْبَر کہو، یہ عمل تیرے لیے ان سو (۱۰۰) اونٹوں کے برابر ہو گا، جن کو قلادے ڈال کر حج کے زمانے میں مکہ مکرمہ کی طرف بھیج دیا جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبول بھی کر لیے جائیں اور سو (۱۰۰) بار لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہو، یہ عمل آسمان و زمین کے درمیانی خلا کو ثواب سے بھر دے گا، اس دن کسی آدمی کا ایسا عظیم عمل اوپر کی طرف نہیں اٹھائے، الا یہ کہ وہ اسی طرح کا عمل کرے، جیسے تو نے کیا ہے۔
Musnad Ahmad
12332
۔ (۱۲۳۳۲)۔ عَنْ إِسْمَاعِیلَ، حَدَّثَنَا قَیْسٌ، قَالَ: لَمَّا أَقْبَلَتْ عَائِشَۃُ بَلَغَتْ مِیَاہَ بَنِی عَامِرٍ لَیْلًا نَبَحَتِ الْکِلَابُ، قَالَتْ: أَیُّ مَائٍ ہٰذَا؟ قَالُوْا: مَائُ الْحَوْأَبِ، قَالَتْ: مَا أَظُنُّنِی إِلَّا أَنِّی رَاجِعَۃٌ، فَقَالَ بَعْضُ مَنْ کَانَ مَعَہَا: بَلْ تَقْدَمِینَ فَیَرَاکِ الْمُسْلِمُونَ، فَیُصْلِحُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ ذَاتَ بَیْنِہِمْ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَنَا ذَاتَ یَوْمٍ: ((کَیْفَ بِإِحْدَاکُنَّ تَنْبَحُ عَلَیْہَا کِلَابُ الْحَوْأَبِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۵۸)
قیس سے مروی ہے کہ جب سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا (مدینہ منورہ سے بصرہ جاتے ہوئے) بنی عامر کے پانیوں تک پہنچیں تو کتے بھونکنے لگے، انہوں نے کہا: یہ کون سی جگہ ہے؟ لوگوںنے کہا: یہ حوأب کے پانی کا مقام ہے، انھوں نے کہا: میرا خیال تو یہی ہے کہ میں واپس لوٹ جاؤں، لیکن ان کے بعض ہم سفروں نے کہا: اب آپ واپس نہ جائیں، بلکہ آگے بڑھیں، ممکن ہے کہ مسلمان آپ کو دیکھیں اور اللہ تعالیٰ ان کے مابین صلح کر ادے گا، انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک روز ہم سے فرمایا تھا کہ تم میں سے ایک کی اس وقت کیا حالت ہوگی، جب اس پرحوأب کے کتے بھونکیں گے۔
Musnad Ahmad
12603
۔ (۱۲۶۰۳)۔ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ، أَنَّ جِبْرِیلَ لَمَّا رَکَضَ زَمْزَمَ بِعَقِبِہِ جَعَلَتْ أُمُّ إِسْمَاعِیلَ تَجْمَعُ الْبَطْحَائَ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((رَحِمَ اللّٰہُ ہَاجَرَ أُمَّ إِسْمَاعِیلَ، لَوْ تَرَکَتْہَا لَکَانَتْ مَائً مَعِینًا۔)) (مسند احمد: ۲۱۴۴۳)
سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب جبریل علیہ السلام نے زمزم کا پانی نکالنے کے لیے اپنی ایڑی پر زور دیا تو اسماعیل علیہ السلام کی ماں کشادہ وادی (پر بنیری بنا کر) اس کو جمع کرنے لگ گئی۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ امِّ اسماعیل ہاجرہ پر رحم فرمائے، اگر وہ اس پانی کو چھوڑ دیتی تو یہ جاری چشمہ ہوتا۔