TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کا بیان - کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کا بیان - قضائے حاجت کرنے، استنجا کرنے، پتھر استعمال کرنے اور ان کے آداب کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of قضائے حاجت کرنے، استنجا کرنے، پتھر استعمال کرنے اور ان کے آداب کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 9 · 4 Hadith
۔ (۴۸۸)۔ عَنْ أَبِیْ وَائِلٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِِؓ قَالَ: بَلَغَہُ أَنَّ أَبَا مُوْسٰی کَانَ یَبُوْلُ فِیْ قَارُوْرَۃٍ وَیَقُوْلُ: اِنَّ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ کَانُوْا اِذَا أَصَابَ أَحَدَ ہُمُ الْبَوْلُ قَرَضَ مَکَانَہُ، قَالَ حُذَیْفَۃُ: وَدِدْتُ أَنَّ صَاحِبَکُمْ لَا یُشَدِّدُ ھٰذَا التَّشْدِیْدَ، لَقَدْ رَأَیْتُنِیْ نَتَمَاشٰی مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَانْتَہَیْنَا اِلَی سُبَاطَۃٍ فَقَامَ یَبُوْلُ کَمَا یَبُوْلُ أَحَدُکُمْ، فَذَہَبْتُ أَتَنَحّٰی عَنْہُ، فَقَالَ: ((أُدْنُہُ۔)) فَدَنَوْتُ مِنْہُ حَتّٰی کُنْتُ عِنْدَ عَقِبِہِ۔ (مسند أحمد: ۲۳۶۳۷)
سیدنا حذیفہ بن یمان ؓ سے مروی ہے کہ جب ان کو یہ بات پہنچی کہ سیدنا ابو موسی ؓ(پیشاب کے چھینٹوں سے بچنے کے لیے) ایک شیشی میں پیشاب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب بنو اسرائیل کے کسی فرد کو پیشاب لگ جاتا تو وہ اس جگہ کوکاٹتا تھا، توا نھوں نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ تمہارا یہ ساتھی اس قدر سختی نہ کرے، میں نے خود کو دیکھا کہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ چل رہا تھا، پس جب ہم کوڑا کرکٹ والی ایک جگہ کے پاس پہنچے تو تمہاری طرح ہی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، میں یہ دیکھ کر دور ہٹنا شروع ہو گیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: قریب ہو جا۔ پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے قریب ہو گیا، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی ایڑیوں کے پاس کھڑا ہو گیا۔
Takhreej
(۴۸۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۲۵، ومسلم: ۲۷۳(انظر: ۲۳۲۴۸)
488
Sahih
۔ (۴۸۹) (وَمِنْ طَرِیْقٍ أُخْرٰی)۔ عَنِ الْأَعْمَشِ حَدَّثَنِیْ شَقِیْقٌ عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ: کُنْتَ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ طَرِیْقٍ فَتَنَحّٰی فَأَتٰی سُبَاطَۃَ قَوْمٍ فَتَبَاعَدْتُّ مِنْہُ، فَأَدْنَانِیْ حَتَّی صِرْتُ مِنْ عَقِبَیْہِ فَبَالَ قَائِمًا وَدَعَا بِمَائٍ فتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَی خُفَّیْہِ۔ (مسند أحمد: ۲۳۶۳۰)
۔ (دوسری سند) سیدنا حذیفہ ؓ کہتے ہیں: میں ایک راستے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ تھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ذرا ہٹ کر ایک قوم کے کوڑا کرکٹ کے ڈھیر کے پاس آگئے، پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے دور ہو گیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے اپنے قریب کر لیا، یہاں تک کہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی ایڑیوں کے پاس کھڑا ہو گیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کھڑے ہو پیشاب کیا اور پھر پانی منگوا کر وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔
Takhreej
(۴۸۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
489
Sahih
۔ (۴۹۰)۔عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَہْدَلَۃَ وَحَمَّادٍ عَنْ أَبِیْ وَائِلٍ عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتٰی عَلٰی سُبَاطَۃِ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا، قَالَ حَمّادُ بْنُ أَبِیْ سُلَیْمَانَ: فَفَحَّجَ رِجْلَیْہِ۔ (مسند أحمد: ۱۸۳۳۱)
سیدنا مغیرہ بن شعبہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک قوم کے گندگی والے ڈھیر پر آئے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ حماد بن ابی سلیمان نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنی ٹانگوں کو کھلا کیا۔
Takhreej
(۴۹۰) تخریج: حدیث صحیح من حدیث حذیفۃ ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۳۰۶(انظر: ۱۸۱۵۰)
Explanation
فوائد:…سیدنا عمر، سیدنا عبد اللہ بن عمر، سیدنا زید بن ثابت، سیدنا سہل بن سعد، سیدنا انس بن مالک، سیدنا علی، سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا عروہ بن زبیر سے کھڑے ہو کر پیشاب کرنا مروی ہے۔ اسی طرح جب ایک بدو نے مسجد ِ نبوی میں کھڑے ہو پیشاب کیا تھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے بعد میں اس کو صرف مسجد کے آداب کے حوالے سے بات کی تھی، کھڑے ہونے سے منع نہیں کیا تھا، پہلے یہ حدیث گزر چکی ہے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ عام طور پر تو بیٹھ کر ہی قضائے حاجت کرتے تھے، مذکورہ بالا احادیث کی روشنی میں کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کا جواز بھی پیدا ہو گیا ہے، بالخصوص جب عذر ہو۔ جس حدیث میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے کھڑے ہونے کی وجہ گھٹنے کے اندرونی حصے میں تکلیف بتائی گئی ہے، وہ ضعیف ہے، امام دارقطنی اور امام بیہقی نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔ مزید دو روایات اور ان کی حقیقت: سیدنا جابر کہتے ہیں: ((نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اَنْ یَّبُوْلَ الرَّجُلُ قَائِمًا …)) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے منع فرما دیا ہے کہ آدمی کھڑے ہو پیشاب کرے۔ (ابن ماجہ: ۳۰۹، یہ حدیث ضعیف ہے)سیدنا عمر ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان سے فرمایا تھا: ((یَا عُمَرُ! لَاتَبُلْ قَائِمًا۔)) … اے عمر! کھڑے ہو کر پیشاب نہ کیا کر۔ (ابن ماجہ: ۳۰۸، یہ حدیث بھی ضعیف ہے) اس باب میں کوئی ایسی صحیح روایت نہیں ہے، جس میں کھڑے ہو پیشاب کرنے سے منع کیا گیا ہو، البتہ بعض موقوف آثار میں اس سے منع کیا گیا ہے۔
490
Sahih
۔ (۴۹۱)۔عَنِ الْمِقْدَامِ عن أَبِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: مَنْ حَدَّثَکَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَالَ قَائِمًا فَلَا تُصَدِّقْہُ، مَا بَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَائِمًا مُنْذُ اُنْزِلَ عَلَیْہِ الْقُرْآنُ۔ (مسند أحمد: ۲۵۵۵۹)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جو آدمی تجھے یہ بات بیان کرے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کھڑے ہو پیشاب کیا ہے تو تو اس کی تصدیق نہ کر، کیونکہ جب سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر قرآن کا نزول شروع ہوا، اس وقت سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔
Takhreej
(۴۹۱) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم ۔ أخرجہ الترمذی: ۱۲، والنسائی: ۱/ ۲۶، وابن ماجہ: ۳۰۷ (انظر: ۲۵۰۴۵)
Explanation
فوائد:…دراصل سیدہ عائشہ ؓکو ان احادیث کا علم نہیں تھا، جن کے مطابق آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔
491
Sahih