TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قضائے حاجت کرنے، استنجا کرنے، پتھر استعمال کرنے اور ان کے آداب کے ابواب - قضائے حاجت کرنے، استنجا کرنے، پتھر استعمال کرنے اور ان کے آداب کے ابواب - Book 9 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 9 of Musnad Ahmad, with 9 chapters and 37 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

37 Hadith · 9 Chapters
قضائے حاجت کے لیے نرم جگہ کو تلاش کرنے کا بیان اور ان مقامات کی تفصیل جہاں قضائے حاجت جائز نہیں ہے
۔ (۴۸۱)۔ عَنْ أَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَمْشِیْ فَمَالَ اِلٰی دَمْثٍ فِیْ جَنْبِ حَائِطٍ فَبَالَ ثُمَّ قَالَ: ((کَانَ بَنُوْ اِسْرَائِیْلَ اِذَا بَالَ أَحَدُہُمْ فَأَصَابَہُ شَیْئٌ مِنْ بَوْلِہِ تَتَبَّعَہُ فَقَرَضَہُ بِالْمَقَارِیْضِ۔)) وقَالَ: ((اِذَا أَرَادَ أَحَدُکُمْ أَنْ یَبُوْلَ فَلْیَرْتَدْ لِبَوْلِہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۷۶۶)
سیدنا ابو موسی اشعری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ چل رہے تھے، پس ایک دیوار کے پہلو میں نرم جگہ کی طرف مائل ہوئے اور وہاں پیشاب کیا اور پھر فرمایا: جب بنو اسرائیل کا کوئی آدمی پیشاب کرتا اوراگر پیشاب اس کو لگ جاتا تو وہ اس حصے کو قینچیوں سے کاٹتا تھا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس لیے جب تم میں سے کوئی آدمی پیشاب کرے تو وہ نرم جگہ تلاش کر لیا کرے۔
Takhreej
(۴۸۱) تخریج: صحیح لغیرہ دون قولہ: اذا اراد احکم ان یبول فلیرتد لبولہ وھذا اسناد ضعیف لابھام الرجل الراوی عنہ ابو التیاح۔ أخرجہ ابوداود: ۳ (انظر: ۱۹۵۳۷)
Explanation
فوائد:… صحیح بخاری ( ۲۲۶) اور صحیح مسلم(۲۷۳) میں ہے جب پیشاب ان کے کپڑے کو لگ جاتا تھا تو وہ اس کو کاٹتے تھے،جن روایات میں جِلْد کے الفاظ ہیں، ان سے مراد ان کے چمڑے کے لباس ہیں، لیکن کسی راوی نے روایت بالمعنی کرتے ہوئے جَسَد کے الفاظ کہہ دیئے۔ (ملاحظہ ہو: فتح الباری) نرم جگہ کو تلاش کرنے والے روایت تو ضعیف ہے، لیکن اس سلسلے میں شریعت کا مدّعا یہ ہے کہ آدمی قضائے حاجت کرتے وقت ایسی جگہ اور ایسا طریقہ اختیار کرے کہ اس کا جسم اور کپڑے، پیشاب اور پائخانہ سے سالم رہ سکیں۔
481
Sahih
قضائے حاجت کے لیے نرم جگہ کو تلاش کرنے کا بیان اور ان مقامات کی تفصیل جہاں قضائے حاجت جائز نہیں ہے
۔ (۴۸۲)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِتَّقُوْا الْمَلَاعِنَ الثَّلَاثَ۔)) قِیْلَ: مَا الْمَلَاعِنُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((أَنْ یَقْعُدَ أَحَدُکُمْ فِیْ ظِلٍّ یُسْتَظَلُّ فِیْہِ أَوْ فِیْ طَرِیْقٍ أَوْ فِیْ نَقْعِ الْمَائِ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۱۵)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: لعنت والے تین مقامات سے بچو۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ لعنت والے مقامات کیا ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس سائے کو استعمال کیا جاتا ہو، اس میں یا راستے میں یا پانی کے گھاٹ میں پیشاب کرنا۔
Takhreej
(۴۸۲) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۲۷۱۵)
Explanation
فوائد:…مقامات سے مراد ایسے افعال ہیں کہ جن کی وجہ سے فاعل پر لعن طعن کی جاتی ہے۔
482
Sahih
قضائے حاجت کے لیے نرم جگہ کو تلاش کرنے کا بیان اور ان مقامات کی تفصیل جہاں قضائے حاجت جائز نہیں ہے
۔ (۴۸۳)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِتَّقُوْا اللَّعَّانَیْنِ۔)) قَالُوْا: وَمَا اللَّعَّانَانِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اَلَّذِیْ یَتَخَّلَّی فِیْ طَرِیْقِ النَّاسِ أَوْ فِیْ ظِلِّہِمْ۔)) (مسند أحمد: ۸۸۴۰)
سیدناابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: دو لعنت کرنے والی چیزوں سے بچو۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ لعنت کرنے والی چیزیں کون سی ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی لوگوں کے راستے میں یا سائے میں قضائے حاجت کرتا ہے۔
Takhreej
(۴۸۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۹(انظر: ۸۸۵۳)
Explanation
فوائد:…معلوم ہوا کہ تین مقاما ت پر قضائے حاجت نہیں کرنی چاہیے: ایسا سایہ کہ جس کو بطورِ سایہ استعمال کیا جاتا ہو، راستہ اور پانی کا گھاٹ۔ یہ بھی ان احادیث کی فقہ ہے کہ قضائے حاجت کے بعد لیٹرین کی مکمل صفائی کرنی چاہیے، تاکہ بعد میں آنے والے کو تکلیف نہ ہو۔
483
Sahih
ان مقامات کا بیان، جہاں پیشاب کرنے سے منع کیا گیا ہے
۔ (۴۸۴)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُعَاذٌ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَرْجِسٍؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَایَبُوْلَنَّ أَحَدُکُمْ فِی الْجُحْرِ، وَاِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوْا السِّرَاجَ، فَاِنَّ الْفَأْرَۃَ تَأْخُذُ الْفَتِیْلَۃَ فَتَحْرِقُ أَھْلَ الْبَیْتِ، وَأَوْکِئُوْا الْأَسْقِیَۃَ وَخَمِّرُوْالشَّرَابَ وَغَلِّقُوْا الْأَبْوَابَ بِاللَّیْلِ۔)) قَالُوْا لِقَتَادَۃَ: مَا یَکْرَہُ مِنَ الْبَوْلِ فِیْ الْجُحْرِ؟ قَالَ: یُقَالُ: اِنَّہَا مَسَاکِنُ الْجِنِّ۔ (مسند أحمد: ۲۱۰۵۶)
سیدنا عبد اللہ بن سرجس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کوئی آدمی ہرگز بِل میں پیشاب نہ کرے، اور جب تم نے سونا ہو تو چراغ کو بجھا دیا کرو، کیونکہ چوہیا اس کی بتی پکڑ کر گھر والوں کو جلا سکتی ہے، مشکیزوں کے منہ باندھ دیا کرو، برتنوں کو ڈھانپ دیا کرو اور رات کو دروازے بند کر دیا کرو۔ لوگوں نے قتادہ سے کہا: بِل میں پیشاب کرنے کو کیوں ناپسند کیا جاتا ہے؟ انھوں نے کہا: کہا جاتا ہے کہ یہ جنوں کے مسکن ہیں۔
Takhreej
(۴۸۴) تخریج: رجالہ ثقات رجال الصحیح، وصحح ھذا الحدیث ابن خزیمۃ وابن السکن ۔ أخرجہ ابوداود: ۲۹، والنسائی: ۱/۳۳ (انظر: ۲۰۷۷۵)
Explanation
فوائد:…بِل میں پیشاب کرنا منع ہے، اس کی ایک وجہ قتادہ نے بیان کی ہے، لیکن درج ذیل دو وجوہات زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہیں: اسی بِل سے سانپ، بچھو یا کوئی اور جانور نکل کر بندے کو نقصان نہ پہنچا دے۔ اس بِل میں موجود جانور کو کوئی تکلیف نہ ہو۔
484
Sahih
ان مقامات کا بیان، جہاں پیشاب کرنے سے منع کیا گیا ہے
۔ (۴۸۵)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مُغَفَّلٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا یَبُوْلَنَّ أَحَدُکُمْ فِیْ مُسْتَحَمِّہِ ثُمَّ یَتَوَضَّأُ فِیْہِ، فَاِنَّ عَامَّۃَ الْوِسْوَاسِ مِنْہُ)) (مسند أحمد: ۲۰۸۴۴)
سیدنا عبداللہ بن مغفل ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی غسل خانے میں پیشاب نہ کیا کرے، پھر اس میں وضو کرے گا، پس عام وسوسے اسی وجہ سے ہوتے ہیں۔
Takhreej
(۴۸۵) تخریج: صحیح لغیرہ دون قولہ: فان عامۃ الوسواس منہ فھو موقوف، وھذا اسناد رجالہ ثقات الا ان الحسن البصری لم یصرح بسماعہ من عبد اللہ بن المغفل۔ أخرجہ ابوداود: ۲۷، وابن ماجہ: ۳۰۴، والترمذی: ۲۱، والنسائی: ۱/ ۳۴ (انظر: ۲۰۵۶۹)
485
Sahih
ان مقامات کا بیان، جہاں پیشاب کرنے سے منع کیا گیا ہے
۔ (۴۸۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَبُوْلَ الرَّجُلُ فِیْ مُسْتَحَمِّہِ، فَاِنَّ عَامَّۃَ الْوِسْوَاسِ مِنْہُ۔ (مسند أحمد: ۲۰۸۳۷)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے منع فرمایا کہ آدمی اپنے غسل خانے میں پیشاب کرے، کیونکہ عام وسوسے اسی وجہ سے ہوتے ہیں۔
Takhreej
(۴۸۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:…بہرحال غسل خانے میں پیشاب کرنا منع ہے، اس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں، مثلا: اس جگہ کا ناپاک ہو جانا، وہاں سے بد بو آنا، اس کی وجہ سے وسوسے پیدا ہونا، فطرت کا اس چیز کو سخت ناپسند کرنا۔
486
Sahih
ان مقامات کا بیان، جہاں پیشاب کرنے سے منع کیا گیا ہے
۔ (۴۸۷)۔عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الْحِمْیَرِیِّ قَالَ: لَقِیْتُ رَجُلًا قَدْ صَحِبَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرْبَعَ سِنِیْنَ کَمَا صَحِبَہُ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ أَرْبَعَ سِنِیْنَ، قَالَ: نَہَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَمْتَشِطَ أَحَدُنَا کُلَّ یَوْمٍ وَأَنْ یَبُوْلَ فِیْ مُغْتَسَلِہِ وَأَنْ تَغْتَسِلَ الْمَرْأَۃُ بِفَضْلِ الرَّجُلِ وَأَنْ یَغْتَسِلَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ الْمَرْأَۃِ، وَلْیَغْتَرِفُوْا (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَلْیَغْتَرِفَا) جَمِیْعًا۔)) (مسند أحمد: ۱۷۱۳۷)
حُمید بن عبد الرحمن حِمْیَری کہتے ہیں: میں ایسے صحابی کو ملا، جن کو سیدنا ابو ہریرہ ؓکی طرح چار برسوں تک نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی صحبت کا شرف ملا تھا ، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں اس سے منع فرمایا کہ ہم ہر روز کنگھی کریں یا غسل خانے میں پیشاب کریں یابیوی خاوند کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے یا خاوند بیوی کے بچے ہوئے پانی سے نہائے، ان کو چاہیے کہ وہ اکٹھے چلّو بھر لیں (یعنی ایک وقت میں اکٹھا نہا لیں)۔
Takhreej
(۴۸۷) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ ابوداود: ۸۱، والنسائی: ۱/ ۱۳۰ (انظر: ۱۷۰۱۲)
Explanation
فوائد:…میاں بیوی کا ایک دوسرے کے بچے ہوئے پانی سے نہانے کا مسئلہ پہلے گزر چکا ہے ۔
487
Sahih
کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کا بیان
۔ (۴۸۸)۔ عَنْ أَبِیْ وَائِلٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِِؓ قَالَ: بَلَغَہُ أَنَّ أَبَا مُوْسٰی کَانَ یَبُوْلُ فِیْ قَارُوْرَۃٍ وَیَقُوْلُ: اِنَّ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ کَانُوْا اِذَا أَصَابَ أَحَدَ ہُمُ الْبَوْلُ قَرَضَ مَکَانَہُ، قَالَ حُذَیْفَۃُ: وَدِدْتُ أَنَّ صَاحِبَکُمْ لَا یُشَدِّدُ ھٰذَا التَّشْدِیْدَ، لَقَدْ رَأَیْتُنِیْ نَتَمَاشٰی مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَانْتَہَیْنَا اِلَی سُبَاطَۃٍ فَقَامَ یَبُوْلُ کَمَا یَبُوْلُ أَحَدُکُمْ، فَذَہَبْتُ أَتَنَحّٰی عَنْہُ، فَقَالَ: ((أُدْنُہُ۔)) فَدَنَوْتُ مِنْہُ حَتّٰی کُنْتُ عِنْدَ عَقِبِہِ۔ (مسند أحمد: ۲۳۶۳۷)
سیدنا حذیفہ بن یمان ؓ سے مروی ہے کہ جب ان کو یہ بات پہنچی کہ سیدنا ابو موسی ؓ(پیشاب کے چھینٹوں سے بچنے کے لیے) ایک شیشی میں پیشاب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب بنو اسرائیل کے کسی فرد کو پیشاب لگ جاتا تو وہ اس جگہ کوکاٹتا تھا، توا نھوں نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ تمہارا یہ ساتھی اس قدر سختی نہ کرے، میں نے خود کو دیکھا کہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ چل رہا تھا، پس جب ہم کوڑا کرکٹ والی ایک جگہ کے پاس پہنچے تو تمہاری طرح ہی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، میں یہ دیکھ کر دور ہٹنا شروع ہو گیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: قریب ہو جا۔ پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے قریب ہو گیا، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی ایڑیوں کے پاس کھڑا ہو گیا۔
Takhreej
(۴۸۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۲۵، ومسلم: ۲۷۳(انظر: ۲۳۲۴۸)
488
Sahih
کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کا بیان
۔ (۴۸۹) (وَمِنْ طَرِیْقٍ أُخْرٰی)۔ عَنِ الْأَعْمَشِ حَدَّثَنِیْ شَقِیْقٌ عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ: کُنْتَ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ طَرِیْقٍ فَتَنَحّٰی فَأَتٰی سُبَاطَۃَ قَوْمٍ فَتَبَاعَدْتُّ مِنْہُ، فَأَدْنَانِیْ حَتَّی صِرْتُ مِنْ عَقِبَیْہِ فَبَالَ قَائِمًا وَدَعَا بِمَائٍ فتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَی خُفَّیْہِ۔ (مسند أحمد: ۲۳۶۳۰)
۔ (دوسری سند) سیدنا حذیفہ ؓ کہتے ہیں: میں ایک راستے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ تھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ذرا ہٹ کر ایک قوم کے کوڑا کرکٹ کے ڈھیر کے پاس آگئے، پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے دور ہو گیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے اپنے قریب کر لیا، یہاں تک کہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی ایڑیوں کے پاس کھڑا ہو گیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کھڑے ہو پیشاب کیا اور پھر پانی منگوا کر وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔
Takhreej
(۴۸۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
489
Sahih
کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کا بیان
۔ (۴۹۰)۔عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَہْدَلَۃَ وَحَمَّادٍ عَنْ أَبِیْ وَائِلٍ عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتٰی عَلٰی سُبَاطَۃِ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا، قَالَ حَمّادُ بْنُ أَبِیْ سُلَیْمَانَ: فَفَحَّجَ رِجْلَیْہِ۔ (مسند أحمد: ۱۸۳۳۱)
سیدنا مغیرہ بن شعبہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک قوم کے گندگی والے ڈھیر پر آئے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ حماد بن ابی سلیمان نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنی ٹانگوں کو کھلا کیا۔
Takhreej
(۴۹۰) تخریج: حدیث صحیح من حدیث حذیفۃ ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۳۰۶(انظر: ۱۸۱۵۰)
Explanation
فوائد:…سیدنا عمر، سیدنا عبد اللہ بن عمر، سیدنا زید بن ثابت، سیدنا سہل بن سعد، سیدنا انس بن مالک، سیدنا علی، سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا عروہ بن زبیر سے کھڑے ہو کر پیشاب کرنا مروی ہے۔ اسی طرح جب ایک بدو نے مسجد ِ نبوی میں کھڑے ہو پیشاب کیا تھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے بعد میں اس کو صرف مسجد کے آداب کے حوالے سے بات کی تھی، کھڑے ہونے سے منع نہیں کیا تھا، پہلے یہ حدیث گزر چکی ہے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ عام طور پر تو بیٹھ کر ہی قضائے حاجت کرتے تھے، مذکورہ بالا احادیث کی روشنی میں کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کا جواز بھی پیدا ہو گیا ہے، بالخصوص جب عذر ہو۔ جس حدیث میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے کھڑے ہونے کی وجہ گھٹنے کے اندرونی حصے میں تکلیف بتائی گئی ہے، وہ ضعیف ہے، امام دارقطنی اور امام بیہقی نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔ مزید دو روایات اور ان کی حقیقت: سیدنا جابر کہتے ہیں: ((نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اَنْ یَّبُوْلَ الرَّجُلُ قَائِمًا …)) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے منع فرما دیا ہے کہ آدمی کھڑے ہو پیشاب کرے۔ (ابن ماجہ: ۳۰۹، یہ حدیث ضعیف ہے)سیدنا عمر ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان سے فرمایا تھا: ((یَا عُمَرُ! لَاتَبُلْ قَائِمًا۔)) … اے عمر! کھڑے ہو کر پیشاب نہ کیا کر۔ (ابن ماجہ: ۳۰۸، یہ حدیث بھی ضعیف ہے) اس باب میں کوئی ایسی صحیح روایت نہیں ہے، جس میں کھڑے ہو پیشاب کرنے سے منع کیا گیا ہو، البتہ بعض موقوف آثار میں اس سے منع کیا گیا ہے۔
490
Sahih
کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کا بیان
۔ (۴۹۱)۔عَنِ الْمِقْدَامِ عن أَبِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: مَنْ حَدَّثَکَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَالَ قَائِمًا فَلَا تُصَدِّقْہُ، مَا بَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَائِمًا مُنْذُ اُنْزِلَ عَلَیْہِ الْقُرْآنُ۔ (مسند أحمد: ۲۵۵۵۹)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جو آدمی تجھے یہ بات بیان کرے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کھڑے ہو پیشاب کیا ہے تو تو اس کی تصدیق نہ کر، کیونکہ جب سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر قرآن کا نزول شروع ہوا، اس وقت سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔
Takhreej
(۴۹۱) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم ۔ أخرجہ الترمذی: ۱۲، والنسائی: ۱/ ۲۶، وابن ماجہ: ۳۰۷ (انظر: ۲۵۰۴۵)
Explanation
فوائد:…دراصل سیدہ عائشہ ؓکو ان احادیث کا علم نہیں تھا، جن کے مطابق آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔
491
Sahih
قضائے حاجت کے وقت دور جانے، کھلی جگہ میں پردہ کرنے اور اِس وقت کلام اور سلام کے جواب سے رکے رہنے کا بیان
۔ (۴۹۲)۔عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ قُرَادٍؓ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَاجًّا فَرَأَیْتُہُ خَرَجَ مِنَ الْخَلَائِ فَاتَّبَعْتُہُ بِالْاِدَاوَۃِ أَوِ الْقَدَحِ، فَجَلَسْتُ لَہُ بِالطَّرِیْقِ وَکَانَ اِذَا أَتٰی حَاجَتَہُ أَبْعَدَ۔ (مسند أحمد: ۱۸۱۳۴)
سیدنا عبدالرحمن بن ابو قرادؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نکلا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ حج کے لیے جا رہے تھے، پس جب میں نے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بیت الخلاء سے نکلے تو میں پانی کے برتن کے ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیچھے چل پڑا اور راستے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے لیے بیٹھ گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تو دور جایا کرتے تھے۔
Takhreej
(۴۹۲) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ النسائی: ۱/ ۱۷، وابن ماجہ: ۳۳۴ (انظر: ۱۷۹۷۱)
492
Sahih
قضائے حاجت کے وقت دور جانے، کھلی جگہ میں پردہ کرنے اور اِس وقت کلام اور سلام کے جواب سے رکے رہنے کا بیان
۔ (۴۹۳)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَتَی الْغَائِطَ فَلْیَسْتَتِرْ، فَاِنْ لَمْ یَجِدِ اِلَّا أَنْ یَجْمَعَ کَثِیْبًا مِنْ رَمْلٍ فَلْیَسْتَدْبِرْہُ، فَاِنَّ الشَّیْطَانَ یَلْعَبُ بِمَقَاعِدِ بَنِیْ آدَمَ، مَنْ فَعَلَ فقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ۔)) (مسند أحمد: ۸۸۲۵)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی قضائے حاجت کے لیے آئے، وہ پردہ کرے، اور اگر اسے کوئی چیز نہ ملے تو وہ ریت کا ایک ڈھیر جمع کر کے اس کی طرف پیٹھ کر لے، کیونکہ شیطان بنوآدم کی دبروں سے کھیلتا ہے، جس نے ایسے کیا، اس نے اچھا کیا اور جس نے ایسے نہ کیا، اس پر کوئی حرج نہیں ہے۔
Takhreej
(۴۹۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف حصین الحمیری ولجھالۃ ابی سعد الخیر ۔ أخرجہ ابوداود: ۳۵، وابن ماجہ: ۳۳۷، ۳۳۸ (انظر: ۸۸۳۸)
Explanation
فوائد:…یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن قضائے حاجت کے وقت لوگوں سے دور جانے اور پردہ کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
493
Zaeef
قضائے حاجت کے وقت دور جانے، کھلی جگہ میں پردہ کرنے اور اِس وقت کلام اور سلام کے جواب سے رکے رہنے کا بیان
۔ (۴۹۴)۔عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ حَسَنَۃَؓ قَالَ: کُنْت أَنَا وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ جَالِسَیْنِ، قَالَ: فخَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ومَعَہُ دَرَقَۃٌ أَوْ شِبْہُہَا فَاسْتَتَرَ بِہَا فَبَالَ جَالِسًا، قَالَ: فقُلْنَا: أَیَبُوْلُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَمَا تَبُوْلُ الْمَرْأَۃُ؟ قَالَ: فَجَائَ نَا فَقَالَ: ((أوَمَا عَلِمْتُمْ مَا أَصَابَ صَاحِبَ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ، کَانَ الرَّجُلُ مِنْہُمْ اِذَا أَصَابَہُ شَیْئٌ مِنَ الْبَوْلِ قَرَضَہُ، فَنَہَاہُمْ عَنْ ذٰلِکَ فَعُذِّبَ فِیْ قَبْرِہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۹۱۲)
سیدنا عبد الرحمن بن حسنہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور سیدنا عمرو بن عاص ؓبیٹھے ہوئے تھے، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ کے پاس ایک ڈھال یا اس سے ملتی جلتی کوئی چیز تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کے ساتھ پردہ کیا اور بیٹھ کر پیشاب کیا، ہم نے کہا: کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ عورت کی طرح پیشاب کرتے ہیں؟ اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ واپس تشریف لے آئے اور فرمایا: کیا تم جانتے نہیں ہو کہ بنو اسرائیل کے ساتھی کو کیا سزا ہوئی، اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب بنواسرائیل کے کسی فرد کو پیشاب لگ جاتا تو وہ اس مقام کو کاٹتا تھا، لیکن ان کے ساتھی نے ان کو ایسا کرنے سے منع کر دیا، پس اس وجہ سے اس کو قبر میں عذاب دیا گیا۔
Takhreej
(۴۹۴) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ ابوداود: ۲۲، وابن ماجہ: ۳۴۶، والنسائی: ۱/ ۲۶(انظر: ۱۷۷۶۰)
494
Sahih
قضائے حاجت کے وقت دور جانے، کھلی جگہ میں پردہ کرنے اور اِس وقت کلام اور سلام کے جواب سے رکے رہنے کا بیان
۔ (۴۹۵)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ)۔ وَفِیْہِ: فقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: انْظُرُوْا اِلَیْہِ یَبُوْلُ کَمَا تَبُوْلُ الْمَرْأَۃُ، قَالَ: فَسَمِعَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمفَقَالَ: ((وَیْحَکَ، أَمَا عَلِمْتَ مَا أَصَابَ صَاحِبَ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ۔)) اَلْحَدِیْثَ۔ (مسند أحمد: ۱۷۹۱۰)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: بعض لوگوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف دیکھو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تو عورت کی طرح پیشاب کر رہے ہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے یہ بات سن لی اور فریایا: تیرا ناس ہو، کیا تو نہیں جانتا کہ بنو اسرائیل کے ساتھی کو کیا سزا ہوئی تھی۔
Takhreej
(۴۹۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:…عورت سے تشبیہ دینے کی دو وجوہات ہیں، ایک بیٹھنا اور دوسری پردہ کرنا۔ بنو اسرائیل کی مثال ذکر کرنے سے مقصود یہ تھا کہ اُن لوگوں نے اس معاملے میں تساہل برتا، سو وہ عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
495
Sahih
قضائے حاجت کے وقت دور جانے، کھلی جگہ میں پردہ کرنے اور اِس وقت کلام اور سلام کے جواب سے رکے رہنے کا بیان
۔ (۴۹۶)۔ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَایخَرُجِ الرَّجُلَانِ یَضْرِبَانِ الْغَائِطَ کَاشِفَیْنِ عَوْرَتَہُمَا یَتَحَدَّثَانِ فَاِنَّ اللّٰہَ یَمْقُتُ عَلَی ذٰلِکَ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۳۳۰)
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: دو آدمی اس طرح نہ نکلیں کہ وہ دونوں پائخانہ کر رہے ہو، شرمگاہوں کو ننگا کر رکھا ہو اور اس حالت میں گفتگو بھی کر رہے ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسی صورت پر سخت ناراض ہوتا ہے۔
Takhreej
(۴۹۶) تخریج: صحیح لغیرہ ۔أخرجہ ابوداود: ۱۵، وابن ماجہ: ۳۴۲(انظر: ۱۱۳۱۰)
Explanation
فوائد:…صحیح ابن حبان کے الفاظ یہ ہیں: ((لَایَقْعُدُ الرَّجُلَانِ عَلَی الْغَائِطِ یَتَحَدَّثَانِ یَرٰی کُلٌّ مِّنْھُمَا عَوْرَۃَ صَاحِبِہٖ فَاِنَّ اللّٰہَ یَمْقُتُ عَلٰی ذَالِکَ)) … دو آدمی پائخانہ کرنے کے لیے اس طرح نہ بیٹھیں کہ وہ دونوں باتیں کر رہے ہوں اور ہر ایک دوسرے کی شرمگاہ دیکھ رہا ہو، کیونکہ اللہ ایسی صورتحال سے ناراض ہوتا ہے۔ ان روایات سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی اِس ناراضگی کا تعلق بے پردگی اور گفتگو، دونوں چیزوں کے اکٹھا صادر ہونے کے ساتھ ہے۔ قضائے حاجت کے دوران صرف بات کرنا جائز ہے، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ثابت ہوتا ہے: سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس سے گزرا، جبکہ آپ پیشاب کر رہے تھے، اس نے سلام کہا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے فرمایا: ((اِذَا رَاَیْتَنِیْ عَلٰی مِثْلِ ھٰذِہِ الْحَالَۃِ فَلَا تُسَلِّمْ عَلَیَّ، فَاِنَّکَ اِنْ فَعَلْتَ ذَالِکَ لَمْ اَرُدَّ عَلَیْکَ)) … جب تو مجھے اس حالت میں دیکھے تو مجھ پر سلام نہ کر، پس اگر تو نے ایسے کیا تو میں تیرا جواب نہیں دوں گا۔ (ابن ماجہ: ۳۴۶)شیخ البانی نے کہا: حدیث ِ مبارکہ کا ظاہری مفہوم تو یہی ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پیشاب کی حالت میں ہی یہ بات ارشاد فرمائی، لہٰذا ثابت ہوا کہ قضائے حاجت کے دوران گفتگو کرنا جائز ہے۔ (سلسلہ صحیحہ: ۱۹۷)اسی طرح نہانے کے دوران بھی بات کرنا جائز ہے، جیسا کہ فتح مکہ کے موقع پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ام ہانی کی آمد پر بات کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اور سیدہ عائشہ ؓجب اکٹھے نہاتے تو بات کر لیتے تھے، سیدنا ایوب ننگی حالت میں نہا رہے تھے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کی اور ان کی بات ہوئی۔
496
Sahih
قضائے حاجت کے دوران سلام کا جواب دینے یا اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہنے کی کراہیت کا بیان
۔ (۴۹۷)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ یُسَلِّمُ عَلَیْہِ وَھُوَ غَیْرُ مُتَوَضِّیئٍ فَقَالَ: ثَنَا سَعَیْدٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ الْحُضَیْنِ أَبِیْ سَاسَانَ عَنِ الْمُہَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ أَنَّہُ سَلَّمَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَتَوَضَّأُ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ حَتّٰی تَوَضَّأَ فَرَدَّ عَلَیْہِ، وقَالَ: ((اِنَّہُ لَمْ یَمْنَعْنِیْ أَنْ أَرُدَّ عَلَیْکَ اِلَّا أَنِّیْ کَرِہْتُ أَنْ أَذْکُرُ اللّٰہَ اِلَّا عَلٰی طَہَارَۃٍ۔)) قَالَ: فَکَانَ الْحَسَنُ مِنْ أَجْلِ ھٰذَا الْحَدِیْثِ یَکْرَہُ أَنْ یَقْرَأَ أَوْ یَذْکُرَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ حَتّٰی یَطْہُرَ۔ (مسند أحمد: ۱۹۲۴۳)
سیدنا مہاجر بن قنفذؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو سلام کہا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ وضو کر رہے تھے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے میرا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا اور پھر جواب دیا اور فرمایا: مجھے اس چیز نے تیرا جواب دینے سے روکا کہ میں طہارت کے بغیر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا ناپسند کرتا ہوں۔ اسی حدیث کی وجہ سے جنابِ حسن طہارت کے بغیر قراء ت کرنے یا اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔
Takhreej
(۴۹۷) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۷، وابن ماجہ: ۳۵۰، والنسائی: ۱/ ۳۷ (انظر: ۱۹۰۳۴)
497
Sahih
قضائے حاجت کے دوران سلام کا جواب دینے یا اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہنے کی کراہیت کا بیان
۔ (۴۹۸)۔ عَنِ الْمُہَاجِرِ بْنِ قُنْفُذِ بْنِ عُمَیْرِ بْنِ جُدْعَانَؓ قَالَ: سَلَّمْتُ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَتَوَضَّأُ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ، فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ وُضُوْئِہِ قَالَ: ((لَمْ یَمْنَعْنِیْ أَنْ أَرُدَّ عَلَیْکَ اِلَّا أَنِّیْ کُنْتُ عَلَی غَیْرِ وُضُوْئٍ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ) اِلَّا أَنِّیْ کَرِہْتُ أَنْ أَذْکُرَ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی إِلَّا عَلٰی طَہَارَۃٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۰۴۲)
سیدنا مہاجر بن قنفذؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو سلام کہا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ وضو کر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سلام کا جواب نہ دیا، پس جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌اپنے وضو سے فارغ ہوئے تو فرمایا: مجھے اس چیز نے تیرے سلام کا جواب دینے سے روکا کہ میں باوضو نہیں تھا۔ ایک روایت میں ہے: میں نے بغیر طہارت کے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کو ناپسند کیا۔
Takhreej
(۴۹۸) تخریج: اسنادہ قوی ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۷، وابن ماجہ: ۳۵۰۰، والنسائی: ۱/ ۳۷ (انظر: ۲۰۷۶۱)
498
Sahih
قضائے حاجت کے دوران سلام کا جواب دینے یا اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہنے کی کراہیت کا بیان
۔ (۴۹۹)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَبُوْلُ أَوْ قَدْ بَالَ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ حَتّٰی تَوَضَّأَ ثُمَّ رَدَّ عَلَیَّ۔ (مسند أحمد: ۲۱۰۴۳)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پیشاب کر رہے تھے یا پیشاب کر چکے تھے کہ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو سلام کہا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ وضو کیا اور پھر میرا جواب دیا۔
Takhreej
(۴۹۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
499
Sahih
قضائے حاجت کے دوران سلام کا جواب دینے یا اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہنے کی کراہیت کا بیان
۔ (۵۰۰)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ حَنْظَلَۃَ بْنِ الرَّاہِبِ أَنَّ رَجُلًا سَلَّمَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وقَدْ بَالَ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی قَالَ بِیَدِہِ اِلَی الْحَائِطِ، یَعْنِیْ أَنَّہُ تَیَمَّمَ۔ (مسند أحمد: ۲۲۳۰۵)
سیدنا عبد اللہ بن حنظلہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی ٔکریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو سلام کہا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پیشاب کر چکے تھے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے اس وقت تک اس کا جواب نہیں دیا، یہاںتک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے دیوار پر ہاتھ مار کر تیمم کر لیا۔ (پھر سلام کا جواب دیا)
Takhreej
(۵۰۰) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۲۱۹۵۹)
Explanation
فوائد:…اس باب میں مذکورہ اور اس موضوع کی دیگر احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ جب کوئی آدمی قضائے حاجت کر رہا ہو تو اس وقت اس کو سلام نہیں کہنا چاہیے، وگرنہ وہ جواب کا مستحق نہیں ہو گا، پچھلے باب کے آخر میں اس کی دلیل گزر چکی ہے، وضو کے بغیر سلام کا جواب دینا اور ذکر کرنا بالاتفاق جائز ہے، البتہ استحباب اور افضلیت اس میں ہے کہ ذکر ِ الہی کے لیے وضو کا اہتمام کیا جائے۔
500
Sahih