TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 492 - قضائے حاجت کے وقت دور جانے، کھلی جگہ میں پردہ کرنے اور اِس وقت کلام اور سلام کے جواب سے رکے رہنے کا بیان - قضائے حاجت کرنے، استنجا کرنے، پتھر استعمال کرنے اور ان کے آداب کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 5 in this chapter
قضائے حاجت کے وقت دور جانے، کھلی جگہ میں پردہ کرنے اور اِس وقت کلام اور سلام کے جواب سے رکے رہنے کا بیان
۔ (۴۹۲)۔عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ قُرَادٍؓ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَاجًّا فَرَأَیْتُہُ خَرَجَ مِنَ الْخَلَائِ فَاتَّبَعْتُہُ بِالْاِدَاوَۃِ أَوِ الْقَدَحِ، فَجَلَسْتُ لَہُ بِالطَّرِیْقِ وَکَانَ اِذَا أَتٰی حَاجَتَہُ أَبْعَدَ۔ (مسند أحمد: ۱۸۱۳۴)
سیدنا عبدالرحمن بن ابو قرادؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نکلا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ حج کے لیے جا رہے تھے، پس جب میں نے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بیت الخلاء سے نکلے تو میں پانی کے برتن کے ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیچھے چل پڑا اور راستے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے لیے بیٹھ گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تو دور جایا کرتے تھے۔
492
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۴۹۲) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ النسائی: ۱/ ۱۷، وابن ماجہ: ۳۳۴ (انظر: ۱۷۹۷۱)

Related Chapters

488
1
قضائے حاجت کے دوران سلام کا جواب دینے یا اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہنے کی کراہیت کا بیان
Musnad Ahmad
2
(10)Chapter: [What Has Been Related] About Being Screened While Relieving Oneself
باب: قضائے حاجت کے وقت پردہ کرنے کا بیان​
Jam e Tirmazi
3
(16)Chapter: What Has Been Related That When The Prophet Wanted To Relieve Himself, He Would Go Far Away
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قضائے حاجت کے لیے دور تشریف لے جانے کا بیان​
Jam e Tirmazi
4
نماز میں سبحان اللہ کہنے ، تالی بجانے اور اشارہ کے جواز کا بیان (نماز میں سلام کا جواب دینے کی بحث)
Musnad Ahmad
5
اسلام کی معرفت ہو جانے کے بعد لڑائی کرنے والے سے رک جانے، اس کو قتل کر دینے کی وعید اور اس کا کلام نہ سمجھنے کی وجہ سے غلطی سے اس کو قتل کر دینے والے کے عذر کا بیان
Musnad Ahmad
6
اس چیز کا بیان کہ اگر کوئی آدمی، نمازی اور قضائے حاجت کرنے والے کو سلام کہے تو وہ کیا کرے
Musnad Ahmad
7
CHAPTER: Seclusion While Relieving Oneself
باب: قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے لیے تنہائی کی جگہ میں جانے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
8
CHAPTER: Covering While Relieving Oneself.
باب: قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے وقت پردہ کرنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
9
قضائے حاجت کے لیے میدان میں دور جانے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
10
قضائے حاجت کے لیے دور جانے کا بیان
Sunnan Nisai
11
قضائے حاجت کے لیے دور نہ جانے کی رخصت کا بیان۔
Sunnan Nisai
12
Chapter: What Has Been Related About The Apostate
باب: مرتد (اسلام سے پھر جانے والے) کی سزا کا بیان
Jam e Tirmazi
13
بَاب آدَاب الْخَلَاء
قضائے حاجت کے آداب کا بیان
Mishkat
14
اسلام اور ہجرت کا پہلے والے گناہوں کو مٹا دینے، دورِ جاہلیت کے اعمال کی وجہ سے مؤاخذہ ہونے اور مسلمان ہو جانے والے کافر کے پہلے والے عمل کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
15
قضائے حاجت کے لیے نرم جگہ کو تلاش کرنے کا بیان اور ان مقامات کی تفصیل جہاں قضائے حاجت جائز نہیں ہے
Musnad Ahmad
16
قضائے حاجت کرنے والے کا داخل ہوتے وقت اور نکلتے وقت دعا پڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
17
قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے یا پیٹھ کرنے سے منع کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
18
امام کا مردوں کے ساتھ تھوڑی دیر تک ٹھہرنا تاکہ عورتیں نکل جائیں اور فرضی اور نفلی نمازوں کے درمیان باہر جانے یا کلام کرنے یا جگہ بدلنے کے ساتھ فاصلہ کرنا
Musnad Ahmad
19
طواف اور استلام کے موقع پر کیا جانے والا ذکر، جاہلیت والے لوگ طواف میںکیا کہتے تھے اور دورانِ طواف کلام نہ کرنے کا مستحب ہونا، ان سب امور کا بیان
Musnad Ahmad
20
جس کے ہاں اسلام کی علامت موجود ہو، اس پر شب خون مارنے کے وقت رک جانے کا بیان
Musnad Ahmad
21
مجلس میں آنے والے اور جانے والے کا سلام کہنے کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
22
مسلمان کی مدد کرنے، اس کی تنگی کو دور کرنے، اس کی حاجت کو پورا کرنے اور اس کے نقائص پر پردہ ڈالنے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
23
سر یہ عبداللہ بن جحش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ عہدِ اسلام میں بنائے جانے والے اولین امیرِ لشکرہیں
Musnad Ahmad
24
حنین کے قیدیوں کو لائے جانے اور ان کی قبولِ اسلام کی بیعت کا بیان اور اس صحابی کا واقعہ جس نے نذر مانی تھی کہ اگر وہ آدمی ہمارے پاس لا یا گیا جو آج سارا دن ہم پر زور دار حملے کرتا رہا تو میں اس کی گردن اڑاؤں گا
Musnad Ahmad
25
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معجزہ کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی برکت سے مریضوں کی شفایابی، اونٹ کے آپ کو شکایت کرنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام کرنے کے لیے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم کی بجا آوری کے لیے درخت کے اپنی جگہ سے ہٹ جانے کا تذکرہ
Musnad Ahmad
26
ان احادیث کا تذکرہ، جن میں دجال کے ظہور ، زمین میں اس کے قیام کی مدت، عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور ان کا دجال کو قتل کرنے، یا جوج ماجوج کے ظہور اور ان کی ہلاکت، عیسیٰ علیہ السلام کے دنوـں میں لوگوں کی خوش حالی اور پھر اہلِ خیر و اہلِ ایمان کے فوت ہو جانے اور بد ترین لوگوں کے باقی رہ جانے، پھر صور پھونکے جانے اور قبر والوں کے جی اٹھنے کا بیان ہے
Musnad Ahmad
27
(16) CHAPTER. What has been said about the journey of Prophet Musa (Moses) علیہ السلام (when he went) in the sea to meet Al-Khidr.
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حضرت خضر علیہ السلام کے پاس دریا میں جانے کے ذکر میں
Sahih Bukhari
28
(13) CHAPTER. The going out of women for answering the call of nature.
عورتوں کا قضائے حاجت کے لیے باہر نکلنے کا کیا حکم ہے ؟
Sahih Bukhari
29
Chapter: Cleaning oneself with water after defecating
قضائے حاجت کے بعد پانی سے استنجا کرنا
Sahih Muslim
30
Chapter: Screening oneself when urinating
قضائے حاجت کرتے وقت کس چیز سے خود کو چھپایا جائے
Sahih Muslim
31
CHAPTER: It Is Dislikes To Face The Qiblah While Relieving Oneself.
باب: قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنا مکروہ ہے
Sunnan Abu Dawood
32
CHAPTER: Concession In This Regard.
باب: قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے وقت قبلہ رخ ہونے کی رخصت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
33
CHAPTER: The Disliking Of Speech While Relieving Oneself.
باب: قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے وقت بات چیت مکرو ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
34
CHAPTER: A Person Who Accepts Islam, And Is Killed In The Same Spot, In The Cause Of Allah, The Most High.
باب: اسلام لا کر اسی جگہ اللہ کی راہ میں قتل ہو جانے والے شخص کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
35
CHAPTER: Regarding Compelling A Captive To Accept Islam.
باب: قیدی کو اسلام لانے کے لیے مجبور نہ کئے جانے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
36
CHAPTER: What Has Been Reported About Swearing That One Has Nothing To Do With Islam Or That One Belongs To Another Religion.
باب: اسلام سے براءت اور اسلام کے سوا کسی اور مذہب میں چلے جانے کی قسم کھانے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
37
CHAPTER: Ruling on one who apostatizes.
باب: مرتد ( دین اسلام سے پھر جانے والے ) کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
38
CHAPTER: Regarding when a man parts from another, then meets him again, he should greet him with the salam.
باب: کیا ( مل کر ) جدا ہو جانے والا دوبارہ ملنے پر سلام کرے ؟
Sunnan Abu Dawood
39
قضائے حاجت کے وقت کیا دعا پڑھے؟
Sunnan Ibn e Maja
40
قضائے حاجت سے نکلنے کے بعد کیا دعا پڑھے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
41
اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب میں جانے کی قسم کھانے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
42
دین اسلام سے مرتد ہو جانے والے کا حکم
Sunnan Ibn e Maja
43
مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالنے کا ثواب اور شکوک و شبہات کی وجہ سے حد ساقط ہو جانے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
44
قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے کی ممانعت
Sunnan Nisai
45
قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف پیٹھ کرنے کی ممانعت
Sunnan Nisai
46
قضائے حاجت کے وقت پورب یا پچھم کی طرف منہ کرنے کا حکم
Sunnan Nisai
47
قضائے حاجت کے وقت گھروں میں قبلہ کی جانب منہ یا پیٹھ کرنے کی رخصت۔
Sunnan Nisai
48
قضائے حاجت کے وقت داہنے ہاتھ سے ذکر (عضو تناسل) چھونے کی ممانعت
Sunnan Nisai
49
عیدین میں جوان لڑکیوں اور پردہ والی عورتوں کے عیدگاہ جانے کا بیان۔
Sunnan Nisai
50
باب: میاں بیوی میں سے کوئی ایک اسلام قبول کر لے تو نابالغ بیٹے کو کسی ایک کے ساتھ ہو جانے کا اختیار دیا جائے گا۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

15
Musnad Ahmad
626
۔ (۶۲۶)۔عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی قُرَادٍؓ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَاجًّا، قَالَ: فَرَأَیْتُہُ خَرَجَ مِنَ الْخَلَائِ فَاتَّبَعْتُہُ بِالْاِدَاوَۃِ أَوِ الْقَدَحِ وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا أَرَادَ حَاجَۃً أَبْعَدَ فَجَلَسْتُ لَہُ بِالطَّرِیْقِ حَتّٰی انْصَرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ لَہُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! اَلْوَضُوئَ، قَالَ: فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَیَّ فَصَبَّ عَلٰی یَدِہِ فَغَسَلَہَا ثُمَّ أَدْخَلَ یَدَہُ بِکَفِّہَا فَصَبَّ عَلٰی یَدٍ وَاحِدَۃٍ ثُمَّ مَسَحَ عَلٰی رَأْسِہِ ثُمَّ قَبَضَ الْمَائَ عَلٰی یَدٍ وَاحِدَۃٍ ثُمَّ مَسَحَ عَلٰی رَأْسِہِ ثُمَّ قَبَضَ الْمَائَ قَبْضًا بِیَدِہِ فَضَرَبَ بِہِ عَلٰی ظَہْرِ قَدَمِہِ فَمَسَحَ بِہِ عَلٰی قَدَمِہِ ثُمَّ جَائَ فَصَلّٰی لَنَا الظُّہْرَ۔ (مسند أحمد: ۱۸۲۴۳)
سیدنا عبد الرحمن بن ابو قرادؓ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ حج کرنے کے لیے نکلَا، جب میں نے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ قضائے حاجت کر کے آ رہے ہیں تو میں چمڑے کا برتن یا پیالہ لے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیچھے چلا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب قضائے حاجت کا ارادہ کرتے تو دور چلے جاتے تھے، بہرحال میں راستے میں بیٹھ گیا، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ فارغ ہو کر واپس آئے اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وضو کا پانی لیجئے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ میری طرف متوجہ ہوئے، اپنے ہاتھ پر پانی بہایا اور اس کو دھویا، پھر اپنا ہاتھ داخل کیا، انگلیوں کو بند کر کے (چلو بھرا) اور ایک ہاتھ پر پانی بہایا اور پھر سر کا مسح کیا، پھر ایک ہاتھ پر پانی لیا اور سر کا مسح کیا، پھر پانی کا ایک چلّو بھرا اور اپنے پاؤں کی پشت پر ڈالا اور اس کے ساتھ اپنے پاؤں پر ہاتھ پھیرا ، پھر تشریف لائے اور ہمیں نمازِ ظہر پڑھائی۔
Musnad Ahmad
1742
۔ (۱۷۴۲) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ: جَائَ نَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلّٰی بِنَا فِیْ مَسْجِدِ بَنِیْ عَبْدِ الْأَشْہَلِ فَرَأَیْتُہُ وَاضِعًا یَدَیْہِ فِیْ ثَوْبِہِ إِذَا سَجَدَ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۶۱)
عبد اللہ بن عبد الرحمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس مسجد بنی عبد الاشہل میں تشریف لائے اور ہمیں نماز پڑھائی، میں نے دیکھا کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سجدہ کیا تو اپنے دونوں ہاتھ کپڑے میں رکھے۔
Musnad Ahmad
670
۔ (۶۷۰)۔عَنِ الرُّبَیِّعِِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَائَؓ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ عِنْدَہَا (قَالَتْ:) فَرَأَیْتُہُ مَسَحَ عَلٰی رَأْسِہِ مَجَارِیَ الشَّعْرِ مَا أَقْبَلَ مِنْہُ وَمَا أَدْبَرَ وَمَسَحَ صُدْغَیْہِ وَأُذُنَیْہِ ظَاہِرَہُمَا وَبَاطِنَہُمَا۔ (مسند أحمد: ۲۷۵۶۲)
سیدہ ربیع بنت معوذؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کے پاس وضو کیا، وہ کہتی ہیں: میں نے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سر کے سامنے والے اور پچھلے حصے پر اس طرح مسح کیا کہ جس سمت میں بال پڑے تھے، اُسی سمت میں ہاتھ پھیر دیااور اپنی کنپٹیوں اور کانوں کے ظاہری اور باطنی حصے پر بھی مسح کیا۔
Musnad Ahmad
678
۔ (۶۷۸)۔عَنْ بِلَالٍؓ وَقَدْ سَأَلَہُ عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ؓ: کَیْفَ مَسَحَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی الْخُفَّیْنِ؟ قَالَ: تَبَرَّزَ ثُمَّ دَعَا بِمِطْہَرَۃٍ (أَیْ اِدَاوَۃٍ) فَغَسَلَ وَجْہَہُ وَیَدَیْہِ ثُمَّ مَسَحَ عَلٰی خُفَّیْہِ وَعَلٰی خِمَارِ الْعِمَامَۃِ، قَالَ عَبْدُالرَّزَّاقِ: ثُمَّ دَعَا بِمِطْہَرَۃٍ بِالْاِدَاوَۃِ۔ (مسند أحمد:۲۴۳۸۸)
سیدنا عبد الرحمن بن عوفؓ نے سیدنا بلالؓ سے سوال کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے موزوں پر کیسے مسح کیا؟ انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے قضائے حاجت کی، پھر برتن منگوایا اور چہرے اور ہاتھوں کو دھویا اور موزوں اور پگڑی پر مسح کیا۔
Musnad Ahmad
1058
۔ (۱۰۵۸)۔ عَنْ أَبِیْ اِسْحٰقَ عَنِ الْمُخَارِقِ قَالَ: خَرَجْنَا حُجَّاجًا فَلَمَّا بَلَغْنَا الرَّبَذَۃَ قُلْتُ لِأَصْحَابِیْ: تَقَدَّمُوْا وَتَخَلَّفْتُ فَأَتَیْتُ أَبَا ذَرٍّؓ وَھُوَ یُصَلِّیْ، فَرَأَیْتُہُ یُطِیْلُ الْقِیَامَ وَیُکْثِرُ الرُّکُوْعَ وَالسُّجُوْدَ، فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہُ فَقَالَ: مَا أَلَوْتُ أَنْ أُحْسِنَ، اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ رَکَعَ رَکْعَۃً أَوْ سَجَدَ سَجْدَۃً رُفِعَ بِہَا دَرَجَۃٌ وَحُطَّتْ عَنْہُ بِہَا خَطِیْئَۃٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۶۳۳)
مخارق کہتے ہیں: ہم لوگ حج کرنے کے لیے نکلے، جب ربذہ مقام پر پہنچے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: تم آگے چلو، میں خود پیچھے رہ گیا، پس میں سیدنا ابو ذر ؓکیا پاس گیا، جبکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور میں نے دیکھا کہ وہ لمبا قیام کرتے اور کثرت سے رکوع و سجود کرتے، جب میں نے ان سے اس چیز کا ذکر کیا تو انھوں نے کہا: میں نے عمل کو اچھا بنانے میں کوئی کمی نہیں کی، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے رکوع کیا، یا سجدہ کیا، اس کا ایک درجہ بلند کر دیا جائے گا اور ایک گناہ مٹا دیا جائے گا۔
Musnad Ahmad
1433
۔ (۱۴۳۳) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِیْلَ بْنِ مُجَمِّعٍ قَالَ قِیْلَ لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ حَبِیْبَۃَ: مَا أَدْرَکْتَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدِمَ وَھُوَ غُلَامٌ حَدِیْثٌ، قَالَ جاَئَ نَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا إِلٰی مَسْجِدِنَا یَعْنِی مَسْجِدَ قُبَائٍ، قَالَ فَجِئْنَا فَجَلَسْنَا إِلَیْہِ وَجَلَسَ إِلَیْہِ النَّاسُ، قَالَ: فَجَلَسَ مَاشَائَ اللّٰہُ أَنْ یَجْلِسَ ثُمَّ قَامَ یُصَلِّیْ فَرَأَیْتُہُیُصَلِّیْ فِیْ نَعْلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۵۹)
(دوسری سند) محمد بن اسمعیل سے مروی ہیکہ سیّدنا عبد اللہ بن ابی حبیبہ سے پوچھا گیا کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کیا (علمی چیز) حاصل کی؟ جب رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آئے تھے تو اس وقت یہ نو عمر لڑکے تھے، بہرحال انہوں نے جواب دیا : ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس ہماری مسجد یعنی مسجد قبا میں تشریف لائے ، ہم بھی آکر آپ کے پاس بیٹھ گئے اور دوسرے لوگ بھی پہنچ گئے۔ پھر جب تک اللہ نے چاہا آپ بیٹھے رہے، پھر کھڑے ہوکر نماز پڑھنے لگے، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ جوتوں میں نماز پڑھ رہے تھے۔
Musnad Ahmad
1512
۔ (۱۵۱۲) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ثَنَا زَائِدَۃُ ثَنَا عَاصِمُ بْنُ کُلَیْبٍ أَخْبَرَنیِْ أَبِیْ أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ الْحَضْرَمِیَّ أَخْبَرَہَ قَالَ: قُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ إِلٰی صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَیْفَیُصَلِّیْ، قَالَ فَنَظَرْتُ إِلَیْہِ قَامَ (وَفِی رِوَایَۃٍ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ) فَکَبَّرَ وَرَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی حَاذَتَا أُذْنَیْہِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ حَتّٰی کَانَتَا حَذْوَ مَنْکَبَیْہِ) ثُمَّ وَضَعَ یَدَہُ الْیُمْنٰی عَلٰی ظَہْرِ کَفِّہِ الْیُسْرٰی وَالرُّ سْغِ وَالسَّاعِدِ، ثُمَّ قَالَ: لَمَّا أَرَادَ أَنْ یَرْکَعَ رَفَعَ یَدَیْہِ مِثْلَہَا فَلَمَّا رَکَعَ وَضَعَ یَدَیْہِ عَلٰی رُکْبَتَیْہِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأَسَہُ فَرَفَعَ یَدَیْہِ مِثْلَہَا، ثُمَّ سَجَدَ فَجَعَلَ کَفَّیْہِ بِحِذَائِ أُذُنَیْہِ، ثُمَّ قَعَدَ فَافْتَرَشَ رِجْلَہُ الْیُسْرٰی فَوَضَعَ کَفَّہُ الْیُسْرٰی عَلٰی فَخِذِہِ وَرُکْبَتِہِ الْیُسْرٰی، وَجَعَلَ حَدَّ مِرْفَقِہِ الْأَیْمَنِ عَلٰی فَخِذِہِ الْیُمْنٰی، ثُمَّ قَبَضَ بَیْنَ أَصَابِعِہِ فَحَلَّقَ حَلْقَۃً (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: حَلَّقَ بِالْوُسْطَی وَالإِْ بْہَامِ وَأَشَارَ باِلسَّبَّابَۃِ) ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَہُ فَرَأَیْتُہُیُحَرِّکُہَایَدْعُوْبِہَا، ثُمَّ جِئْتُ بَعْدَ ذَلِکَ فِی زَمَانٍ فِیْہِ بَرْدٌ فَرَأَیْتُ النَّاسَ عَلَیْہِمُ الثِّیَابُ تَحَرَّکُ أَیْدِیْہِمْ مِنْ تَحْتِ الثِّیَابِ مِنَ الْبَرْدِ۔ (مسند احمد: ۱۹۰۷۶)
سیّدنا وائل بن حجر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں : میں نے کہا کہ میں ضرور ضرور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز دیکھوں گا کہ آپ کیسے نماز پڑھتے ہیں۔ پس میں نے دیکھاکہ آپ کھڑے ہو کر قبلہ رخ ہوئے، اللہ اکبر کہا اور اپنے ہاتھ کانوں تک یا کندھوں تک اٹھائے۔ پھر اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کی پشت، گٹ اور بازو پر رکھا، جب آ پ نے رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو اسی طرح رفع الیدین کیا، رکوع میں ہاتھ گھٹنوں پر رکھے ، (رکوع سے) سر اٹھاتے وقت اسی طرح رفع الیدین کیا، پھر سجدہ کیااور اپنی ہتھیلیوں کو اپنے کانوں کے برابر رکھا، جب آپ بیٹھے تو بایاں پاؤںبچھالیا اور اپنی بائیں ہتھیلی بائیں ران اور گھٹنے پر رکھی اور دائیں کہنی کے کنارے کو دائیں ران پر کیا، پھر (دائیں ہاتھ کی) انگلیاں اس طرح بند کیں کہ انگوٹھے اوردرمیانی انگلی کا حلقہ بنا لیا اور شہادت کی انگلی کو اٹھا کر اس سے اشارہ کیا، میں نے دیکھا کہ آپ اس انگلی کو حرکت دے رہے تھے اور اس سے دعا کر رہے تھے۔ اس کے بعد میں ایسے زمانے میں آیا جس میں سردی تھی، میں نے دیکھا کہ لوگوںپر کپڑے تھے اور سردی کی وجہ سے ان کے ہاتھ کپڑوں کے نیچے سے حرکت کرتے تھے۔
Musnad Ahmad
1513
۔ (۱۵۱۳) (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ قَالَ: أَتَیْتُہُ مَرَّۃً أُخْرٰی وَعَلَی النَّاسِ ثِیَابٌ فِیِہَا الْبَرَانِسُ وَالْأَ کْسِیَۃُ فَرَأَیْتُہُمْیَقُولُونَ ھٰکَذَا تَحْتَ الثِّیَاب۔ (مسند احمد: ۱۹۰۸۲)
(دوسری سند)اس میں ہے: سیّدنا وائل بن حجر کہتے ہیں: میں آپ کے پاس دوسری مرتبہ آیا اور دیکھا کہ لوگوں پر کپڑے تھے، ان میں ٹوپیوں والے ملبوسات اور چادریں بھی تھیں، میں نے دیکھا کہ وہ کپڑوں کے نیچے ایسے کرتے۔
Musnad Ahmad
1697
۔ (۱۶۹۷) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَاَلَتِیْ مِیْمُوْنَۃَ، قَالَ: فَانْتَبَہَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ اللَّیْلِ فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ، قَالَ: ثُمَّ رَکَعَ، قَالَ: فَرَأَیْتُہُ قَالَ فِیْ رُکُوْعِہِ ((سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ)) ثُمَّ رَفَعَ رَأَسَہُ فَحَمِدَ اللّٰہَ مَاشَائَ أَنْ یَحْمَدَہُ، قَالَ: ثُمَّ سَجَدَ فَکَانَ یَقُوْلُ فِیْ سُجُوْدِہِ ((سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلٰی))، قَالَ: ثُمَّ رَفَعَ رَأَسَہُ قَالَ: فَکَانَ یَقُوْلُ فِیْمَا بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ: ((رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاجْبُرْنِیْ وَارْفَعْنِیْ وَارْزُقْنِیْ وَاھْدِنِیْ۔)) (مسند احمد: ۳۵۱۴)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس رات گزاری، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو بیدارہوئے، پھر مکمل حدیث ذکر کی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کیارکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ کہا، پھر اپنا سر اٹھایا اور اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کی، جب تک اس نے چاہا، پھر سجدہ کیا اور سجدے میں ((سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلٰی)) کہا، پھر سر اٹھایا اور دو سجدوں کے درمیانیہ دعا کی: رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاجْبُرْنِیْ وَارْفَعْنِیْ وَارْزُقْنِیْ وَاھْدِنِیْ۔ (اے میرے رب! مجھے بخش دے ،مجھ پر رحم فرما، میرا نقصان پورا کر، مجھے رزق دے اور مجھے ہدایت دے۔)