أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: لَقَدِ ارْتَقَيْتُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتِنَا، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ لِحَاجَتِهِ .
It was narrated that 'Abdullah bin 'Umar said:
I climbed on the roof of our house and saw the Messenger of Allah (ﷺ) on two bricks, facing toward Bait Al-Maqdis (jerusalem), relieving himself.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کچی اینٹوں پر قضائے حاجت کے لیے بیت المقدس کی طرف منہ کئے ہوئے بیٹھے دیکھا ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوضوء ۱۲ (۱۴۵)، ۱۴ (۱۴۸، ۱۴۹)، الخمس ۴ (۳۱۰۲)، صحیح مسلم/الطہارة ۱۷ (۲۶۶)، سنن ابی داود/فیہ ۵ (۱۲)، سنن الترمذی/فیہ ۷ (۱۱)، سنن ابن ماجہ/فیہ ۱۸ (۳۲۲)، (تحفة الأشراف: ۸۵۵۲)، موطا امام مالک/القبلة ۲ (۳)، مسند احمد ۲/۱۲، ۱۳، ۴۱، سنن الدارمی/طہارة ۸ (۶۹۴) (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: مدینہ منورہ میں بیت المقدس کی طرف رخ کرنے والے کی پیٹھ مکہ مکرمہ کی طرف ہو گی، چونکہ بیت الخلاء گھر میں تھا اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا، کھلے میدان میں یہ جائز نہیں۔
23
Sahih