أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ، قال: سَمِعْتُ ابْنَ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ يَعْنِي عُمَارَةَ، قال: حَدَّثَنِي الْقَيْسِيُّ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأُتِيَ بِمَاءٍ، فَقَالَ: عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الْإِنَاءِ فَغَسَلَهُمَا مَرَّةً وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ مَرَّةً مَرَّةً وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ بِيَمِينِهِ كِلْتَيْهِمَا .
Al-Qaisi narrated that he was with the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey, and some water was brought to him. He poured some onto his hands from the vessel and washed them once, then he washed his face and each arm once, and he washed his feet with both hands.
عمارہ کہتے ہیں: مجھ سے قیسی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ کے پاس پانی لایا گیا تو آپ نے اسے برتن سے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالا ۱؎ اور انہیں ایک بار دھویا، پھر اپنے چہرے اور دونوں بازؤوں کو ایک ایک بار دھویا، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے دونوں پیروں کو دھویا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ۱۵۶۴۸) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ‘’عمارہ بن عثمان بن حنیف ‘‘ لین الحدیث ہیں)
Explanation
وضاحت: ۱؎: حدیث میں «فقال على يديه» وارد ہے عرب قول کو مختلف افعال و اعمال کے لیے استعمال کرتے ہیں مثلاً «قال بيده» سے لیا «قال برجله» سے چلا اور «قالت له العينان» سے اشارہ کیا مراد لیتے ہیں، اسی طرح «قال على يديه من الإنائ» سے برتن سے پانی دونوں ہاتھوں پر انڈیلا مراد ہے۔
113
Zaeef