أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الَّذِي أُرِيَ النِّدَاءَ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ مَرَّتَيْنِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّتَيْنِ .
It was narrated that 'Abdullah bin Zaid, who was shown the call to prayer (in a dream), said:
I saw the Messenger of Allah (ﷺ) perform Wudu'; he washed his face three times and his hands twice, he washed his feet twice and wiped his head twice.
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ ۔ ( جنہیں خواب میں کلمات اذان بتلائے گئے تھے ۱؎ ) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے وضو کیا، تو اپنا چہرہ تین بار اور اپنے دونوں ہاتھ دو بار دھوئے، اور اپنے دونوں پاؤں دو بار دھوئے، اور دو بار ۲؎ اپنے سر کا مسح کیا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: ۹۷، (تحفة الأشراف: ۵۳۰۸) (شاذ)
Explanation
وضاحت: ۱؎: «الذي أرى الندائ» یہ راوی کی غلطی ہے، اس لیے کہ وضو والی حدیث کے راوی عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی رضی اللہ عنہ ہیں، اور اذان والی حدیث کے راوی عبداللہ بن زید بن عبدربہ رضی اللہ عنہ ہیں، اس لیے اس سند میں زید بن عاصم مازنی رضی اللہ عنہ مراد ہیں۔ ۲؎: دو بار سے مراد پیچھے سے آگے لانا، اور آگے سے پیچھے لے جانا ہے، یہ فی الواقع ایک ہی مسح ہے، راوی نے اس کی ظاہری شکل دیکھ کر اس کی تعبیر «مرتین» (دو بار) سے کر دی ہے۔
99
Zaeef