۔ (۶۰۵۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قُبِضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَدِرْعُہُ مَرْھُوْنَۃٌ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ یَہُوْدَ عَلٰی ثَلَاثِیْنَ صَاعًا مِنْ شَعِیْرٍ أَخَذَھَا رِزْقًا لِعِیَالِہِ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۹)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زرہ ایکیہودی کے پاس تیس صاع جو کے عوض بطورِ گروی پڑی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اہل وعیال کی خوراک کے لئے یہودی سے وہ جو ادھار لئے تھے۔
Takhreej
(۶۰۵۹) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط البخاری۔ أخرجہ الترمذی: ۱۲۱۴، والنسائی: ۷/ ۳۰۳، وابن ماجہ: ۲۴۳۹(انظر: ۲۱۰۹)
Explanation
فوائد:… ارشادِ باری تعالی ہے: {وَاِنْ کُنْْتُمْ عَلٰی سَفَرٍ وَ لَمْ تَجِدُوْا کَاتِبًا فَرِھٰنٌ مَّقْبُوْضَۃٌ} … ’’اور اگر تم سفر میں ہو اور لکھنے والانہ پاؤ تو قبضہ میں رکھی ہوئی گروی ہو گی۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۲۸۳) اس آیت ِ مقدسہ میں سفر میں گروی رکھنے کا ذکر ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ گروی رکھنا سفر کے ساتھ خاص ہے، یہاں اغلبیت کے طور پر سفر کا ذکر کیا گیا، وگرنہ حضر میں بھی گروی رکھنا درست ہے، جیسا کہ مذکورہ بالا روایت سے معلوم ہو رہا ہے۔ اس حدیث سے کفار کے ساتھ ایسے معاملات کا جواز نکلتا ہے، جن کے متعلق واضح حرمت نہیں آئی۔
6059
Sahih