۔ (۶۰۷۰)۔ عَنْ سَمُرَۃَ ْبِن جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((اِذَا سُرِقَ مِنَ الرَّجُلِ مَتَاعٌ أَوْ ضَاعَ لَہُ مَتَاعٌ فَوَجَدَہُ بِیَدِ رَجُلٍ بِعَیْنِہِ فَہُوَ أَحَقُّ بِہٖوَیَرْجِعُ الْمُشْتَرِیْ عَلٰی الْبَائِعِ بِالثَّمَنِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۴۰۸)
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی آدمی کا سامان چوری ہوجائے یا کسی طرح سے ضائع ہوجائے اور پھر وہ کسی کے پاس اپنا سامان بعینہ پا لے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہو گا اور خرید ار حصولِ قیمت کیلئے فروخت کنندہ کی طرف رجوع کرے گا۔
Takhreej
(۶۰۷۰) تخریج: حدیث حسن۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۳۳۱(انظر: ۲۰۱۴۶)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کا مطلب ہے کہ ایک آدمی کا مال گم ہو جاتا ہے یا چوری ہو جاتا ہے اور پھر وہ مال اسی حالت میں کسی کے پاس مل جاتا ہے، تو یہ مال اصل مالک کو ہی ملے گا، اس آدمی نے جس سے خریدا ہو گا، اس سے اس کی قیمت واپس لے لے گا۔
6070
Sahih