TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1103 - سجدہ میں دونوں ہاتھ رکھنے کی جگہ کا بیان۔ - The book of the at-tatbiq (clasping one's hands together) - Sunnan Nisai in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 1 in this chapter
Whole chapter
Previous Hadith Next Hadith
سجدہ میں دونوں ہاتھ رکھنے کی جگہ کا بیان۔
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ نَاصِحٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ كُلَيْبٍ يَذْكُرُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَقُلْتُ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ إِبْهَامَيْهِ قَرِيبًا مِنْ أُذُنَيْهِ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ:‏‏‏‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ فَكَانَتْ يَدَاهُ مِنْ أُذُنَيْهِ عَلَى الْمَوْضِعِ الَّذِي اسْتَقْبَلَ بِهِمَا الصَّلَاةَ .
It was narrated that Wa'il bin Hujr said: I came to Al-Madinah and said: 'I am going to watch the Messenger of Allah (ﷺ) pray. He said the takbir and raised his hands until I saw his thumbs near his ears. When he wanted to bow, he said the takbir and raised his hands. Then he raised his head and said: 'Sami Allahu liman hamidah (Allah hears the one who praises Him).' Then he said the takbir and prostrated, and his hands were in the same position in relation to his ears as when he started the prayer.
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو میں نے  ( اپنے جی میں )  کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ضرور دیکھوں گا  ( کہ آپ کیسے نماز پڑھتے ہیں تو میں نے دیکھا )  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہا، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ میں نے آپ کے دونوں انگوٹھوں کو آپ کی دونوں کانوں کے قریب دیکھا، اور جب آپ نے رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو  اللہ اکبر  کہا، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر آپ نے رکوع سے اپنا سر اٹھایا، اور «سمع اللہ لمن حمده» کہا، پھر آپ نے  اللہ اکبر  کہا، اور سجدہ کیا، آپ کے دونوں ہاتھ آپ کی دونوں کانوں کی اس جگہ تک اٹھے جہاں تک آپ نے شروع نماز میں انہیں اٹھایا تھا  ( یعنی انہیں دونوں کانوں کے بالمقابل اٹھایا ) ۔
1103
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 1102 In-book reference : Book 12, Hadith 74 English translation : Vol. 2, Book 12, Hadith 1103
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1103
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: ۸۹۰، (تحفة الأشراف: ۱۱۷۸۱) (صحیح)

Related Chapters

797
1
رکوع میں دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کے رکھنے کی جگہ کا بیان۔
Sunnan Nisai
2
پہلے تشہد کے لیے بیٹھتے وقت دونوں ہاتھوں کے رکھنے کی جگہ کا بیان۔
Sunnan Nisai
3
Chapter: What Has Been Related About Placing the Hands On The Knees While Bowing
باب: رکوع میں دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About Him (pbuh) holding His Forearms Away From His Sides While Bowing.
باب: رکوع میں اپنے ہاتھوں کو دونوں پہلوؤں سے الگ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About Placing The Knees (On The Ground) Before The Hands For Prostration
باب: سجدے میں دونوں ہاتھ سے پہلے دونوں گھٹنے رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About Holding The Forearms Away From The Sides During Prostration
باب: سجدے میں دونوں ہاتھوں کو دونوں پہلوؤں سے جدا رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About Placing The Hands and Planting The Feet During Prostration
باب: سجدے میں دونوں ہاتھ زمین پر رکھنے اور دونوں پاؤں کھڑے رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
ان امور کا بیان کہ چوری میں پہلے کون سا ہاتھ کاٹا جائے، کاٹنے کا جگہ، ہاتھ کاٹ کر چور کی گردن میں لٹکانا، بار بار چوری کرنے والے کی سزا اور اس آیت کے بارے میںمفسرین کے اقوال: ’’اور چوری کرنے والا مرد اور عورت،پس ان دونوں کے ہاتھ کاٹ دو‘‘
Musnad Ahmad
9
(19) CHAPTER. The Statement of Allah: “... To one whom I have created with Both My Hands...” (V.38:75)
اللہ تعالیٰ نے ( شیطان سے ) فرمایا ” تو نے اس کو کیوں سجدہ نہیں کیا جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا “ ۔
Sahih Bukhari
10
Chapter: The description of the sitting during the prayer, and how the hands are to be placed on the thighs
نماز میں بیٹھنے کا طریقہ اور دونوں ہاتھ رانوں پررکھنے کی کیفیت
Sahih Muslim
11
CHAPTER: Placing The Hands On The Knees (During Ruku’).
باب: رکوع میں دونوں ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
12
تطبیق یعنی رکوع میں ہاتھوں کی انگلیوں کو ملا کر دونوں گھٹنوں کے بیچ میں رکھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
13
رکوع میں دونوں ہتھیلیوں کے رکھنے کی جگہ کا بیان۔
Sunnan Nisai
14
سجدہ میں ہاتھوں کو چہرہ کے ساتھ زمین پر رکھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
15
دونوں ہاتھ پر سجدہ کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
16
نماز میں بیٹھنے کی حالت میں) ہاتھوں کے رکھنے کی جگہ کا بیان۔
Sunnan Nisai
17
سلام پھیرتے وقت ہاتھوں کے رکھنے کی جگہ کا بیان۔
Sunnan Nisai
18
Chapter: What Has Been Related About Placing The Right Hand Over The Left During the Salat
باب: نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: Raising The Hands For the Bowing Position
باب: رکوع کے وقت دونوں ہاتھ اٹھانے (رفع یدین) کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: Something Else About That
باب: سجدے میں ہاتھوں سے پہلے گھٹنے رکھنے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Al-Ikhtisar (Holding The Hip) In Salat
باب: نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About 'Both The Buyer And The Seller Retain The Option As Long As They Have Not Separated'
باب: بیچنے والا اور خریدار دونوں کو جب تک وہ جدا نہ ہوں بیع کو باقی رکھنے یا فسخ کرنے کا اختیار ہے
Jam e Tirmazi
23
Chapter: The One Who Is Patient Upon His Religion During Fitan Is like One Holding An Ember
باب: ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ دین پر جمے رہنا ہاتھ میں چنگاری رکھنے کی طرح ہو گا
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About Raising The Hands When Supplicating
باب: دعا کے وقت دونوں ہاتھ اٹھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
25
(نماز میں) نظر اٹھانے، ہاتھ سے اشارہ کرنے اور نماز پڑھنے کے لئے مخصوص جگہ کا اہتمام کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
26
نمازی کا امام کی طرف یا دائیں جانب کھنکارنے اور نماز میں کوکھوں پر ہاتھ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
27
چوری میں محفوظ جگہ کا اعتبار کرنے کا بیان اور لوٹنے والے، ڈاکہ ڈالنے والے، خیانت کرنے والے اور عاریہ کا انکار کرنے والے کا بیان اور ان چیزوں کی وضاحت جن میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
Musnad Ahmad
28
(7) CHAPTER. To wash the face with both hands by a handful of water.
دونوں ہاتھوں سے چہرے کا صرف ایک چلو ( پانی ) سے دھونا بھی جائز ہے
Sahih Bukhari
29
(4) CHAPTER. Can a person blow off the dust from his hands in performing Tayammum (before passing them over his face).
اس بارے میں کہ کیا مٹی پر تیمم کے لیے ہاتھ مارنے کے بعد ہاتھوں کو پھونک کر ان کو چہرے اور دونوں ہتھیلوں پر مل لینا کافی ہے ؟
Sahih Bukhari
30
(108) CHAPTER. Is it permissible to touch or push one's wife in prostration, in order to prostrate properly?
اس بیان میں کہ کیا مرد سجدہ کرتے وقت اپنی بیوی کو چھو سکتا ہے ؟ ( تاکہ وہ سکڑ کر جگہ چھوڑ دے کہ بآسانی سجدہ کیا جا سکے )
Sahih Bukhari
31
(83) CHAPTER. To raise both hands on saying the first Takbir simultaneously with opening the Salat (prayer).
تکبیر تحریمہ میں نماز شروع کرتے ہی برابر دونوں ہاتھوں کا ( کندھوں یا کانوں تک ) اٹھانا
Sahih Bukhari
32
(141) CHAPTER. One should not put the forearms on the ground during prostrations.
اس بارے میں کہ نمازی سجدہ میں اپنے دونوں بازوؤں کو ( جانور کی طرح ) زمین پر نہ بچھائے
Sahih Bukhari
33
(11) CHAPTER. To offer the Salat-ul-Jumuah [prayer and Khutba (religious talk)] in villages and towns.
گاؤں اور شہر دونوں جگہ جمعہ درست ہے
Sahih Bukhari
34
(34) CHAPTER. To raise hands during the Khutba (religious talk).
خطبہ میں دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا
Sahih Bukhari
35
(12) CHAPTER. Whoever dose not find a place for prostration (with the Imam) because of overcrowding.
جو شخص ہجوم کی وجہ سے سجدہ تلاوت کی جگہ نہ پائے
Sahih Bukhari
36
(7) CHAPTER. Sahw (forgetfulness) in compulsory Salat (prayer) and Nawafil.
سجدہ سہو فرض اور نفل دونوں نمازوں میں کرنا چاہیے
Sahih Bukhari
37
(40) CHAPTER. The passing of the right hand of the one who is treating on the place of ailment.
بیمار پر دم کرتے وقت درد کی جگہ پر داہنا ہاتھ پھیرنا
Sahih Bukhari
38
(28) CHAPTER. The shaking of hands with both the hands.
دونوں ہاتھ پکڑنا اور حماد بنزید نے ابنمبارک سے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا
Sahih Bukhari
39
(33) CHAPTER. Whoever does not care slanders made by ignorant people against the Amirs (leaders).
حکم ( بیوقوف اور غائب لوگوں کی جائیداد منقولہ اور غیر منقولہ دونوں کو بیچ سکتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مدبر غلام بن نحام کے ہاتھ بیچ ڈالا
Sahih Bukhari
40
تکبیر تحریمہ کے بعد سینے سے نیچے اور ناف سے اوپر دایاں ہاتھ بائیں پر رکھنا اور سجدے میں دونوں ہاتھ زمین پر کندھوں کے برابر رکھنا
Sahih Muslim
41
Chapter: Cutting off the hand of a thief from the nobility and others; the prohibition of interceding with regard to Hudud punishments
چوری کرنے والے معزز اور معمولی آدی ‘دونوں کا ہاتھ کاٹنا اور حدود میں سفارش کرنے کی ممانعت
Sahih Muslim
42
Chapter: The Prohibition Of Using Vessels Of Gold And Silver For Drinking Etc., For Men And Women
پینے (کھانے ،کچھ رکھنے) وغیرہ کے لیے سونے اور چاندی کے برتنوں کا استعمال مردوں اور عورتوں دونوں پر حرام ہے
Sahih Muslim
43
Chapter: It Is Recommended To Put Ones Hand On The Site Of The Pain When Supplicating
دعا کے ساتھ ساتھ اپنا ہاتھ درد کی جگہ رکھنا مستحب ہے
Sahih Muslim
44
CHAPTER: Raising The Hands In The Prayer.
باب: نماز میں رفع یدین ( دونوں ہاتھ اٹھانے ) کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
45
CHAPTER: Placing The Right Hand On The Left In THe Prayer.
باب: نماز میں داہنے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
46
CHAPTER: The Prayer Of One Whose Back Does Not Come To A Complete Rest During Ruku’ And Prostration.
باب: رکوع اور سجدہ میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھنے والے کی نماز کا حکم ۔
Sunnan Abu Dawood
47
CHAPTER: Placing The Hands On The Kasirah, And (Sitting) In The Iq’a’ Position.
باب: کمر پر ہاتھ رکھنے اور اقعاء کرنے کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
48
CHAPTER: The Place Of The Minbar.
باب: منبر رکھنے کی جگہ کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
49
CHAPTER: Raising The Hands While On The Minbar.
باب: خطبہ میں امام کا منبر پر دونوں ہاتھ اٹھانا کیسا ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
50
CHAPTER: Raising The Hands During Istisqa’.
باب: نماز استسقا میں دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
No related chapter matched that.

Related Hadith

425
Jam e Tirmazi
292
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ ابْنِ حُجْرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ قُلْتُ:‏‏‏‏ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا جَلَسَ يَعْنِي لِلتَّشَهُّدِ افْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى يَعْنِي عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَنَصَبَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى قَالَ 12 أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ وَابْنِ الْمُبَارَكِ.
Wa'il bin Hujr said: I arrived in Al-Madinah and I said, 'Let me look at the Salat of Allah's Messenger.' When he sat - meaning for At-Tashah-hud - he spread his left foot, and placed his left hand - meaning on his left thigh - and held his right foot erect.
وائل بن حجر رضی الله عنہ کہتے ہیں میں مدینے آیا تو میں نے ( اپنے جی میں ) کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ضرور دیکھوں گا۔ ( چنانچہ میں نے دیکھا ) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشہد کے لیے بیٹھے تو آپ نے اپنا بایاں پیر بچھایا اور اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھا اور اپنا دایاں پیر کھڑا رکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اور یہی سفیان ثوری، اہل کوفہ اور ابن مبارک کا بھی قول ہے۔
Jam e Tirmazi
693
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَدِمْتُ الشَّامَ فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا وَاسْتُهِلَّ عَلَيَّ هِلَالُ رَمَضَانَ وَأَنَا بِالشَّامِ، ‏‏‏‏‏‏فَرَأَيْنَا الْهِلَالَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَسَأَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلَالَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَتَى رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ ؟ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَأَنْتَ رَأَيْتَهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ ؟ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ رَآهُ النَّاسُ وَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَكِنْ رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ فَلَا نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكْمِلَ ثَلَاثِينَ يَوْمًا أَوْ نَرَاهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ أَلَا تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَصِيَامِهِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ لِكُلِّ أَهْلِ بَلَدٍ رُؤْيَتَهُمْ.
Muhammad bin Abi Harmalah narrated: Kuraib informed me that Umm Al-Fadl bin Al-Harith sent him to Mu'awiyah in Ash-Sham. He said: 'So I arrived in Ash-Sham and finished her errand, and I saw the crescent of Ramadan while I was in Ash-Sham. We saw the crescent on the night of Friday. Then I arrived in Al-Madinah at the end of the month. Ibn Abbas was questioning me, then he mentioned the crescent and he said: When did you see the crescent? I said: We saw it n the night of Friday. He said: Did you see it on the night of Friday? I said: The people saw it, so they fasted, and Mu'awiyah fasted. He said: But we saw it on the night of Saturday, so we will not stop fasting until we complete thirty days or we see it. So I said: Is not the sighting and fasting of Mu'awiyah enough for you? He said: This is not how the Messenger of Allah ordered us.
کریب بیان کرتے ہیں کہ ام فضل بنت حارث نے انہیں معاویہ رضی الله عنہ کے پاس شام بھیجا، تو میں شام آیا اور میں نے ان کی ضرورت پوری کی، اور ( اسی درمیان ) رمضان کا چاند نکل آیا، اور میں شام ہی میں تھا کہ ہم نے جمعہ کی رات کو چاند دیکھا ۱؎، پھر میں مہینے کے آخر میں مدینہ آیا تو ابن عباس رضی الله عنہما نے مجھ سے وہاں کے حالات پوچھے پھر انہوں نے چاند کا ذکر کیا اور کہا: تم لوگوں نے چاند کب دیکھا تھا؟ میں نے کہا: ہم نے اسے جمعہ کی رات کو دیکھا تھا، تو انہوں نے کہا: کیا تم نے بھی جمعہ کی رات کو دیکھا تھا؟ تو میں نے کہا: لوگوں نے اسے دیکھا اور انہوں نے روزے رکھے اور معاویہ رضی الله عنہ نے بھی روزہ رکھا، اس پر ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: لیکن ہم نے اسے ہفتہ ( سنیچر ) کی رات کو دیکھا، تو ہم برابر روزے سے رہیں گے یہاں تک کہ ہم تیس دن پورے کر لیں، یا ہم ۲۹ کا چاند دیکھ لیں، تو میں نے کہا: کیا آپ معاویہ کے چاند دیکھنے اور روزہ رکھنے پر اکتفا نہیں کریں گے؟ انہوں نے کہا: نہیں، ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی حکم دیا ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ ہر شہر والوں کے لیے ان کے خود چاند دیکھنے کا اعتبار ہو گا۔
Jam e Tirmazi
2382
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ أَبُو عُثْمَانَ الْمَدَائِنِيُّ،‏‏‏‏ أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ مُسْلِمٍ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ شُفَيًّا الْأَصْبَحِيَّ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ دَخَلَ الْمَدِينَةَ فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَدِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِ النَّاسُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ هَذَا ؟ فَقَالُوا:‏‏‏‏ أَبُو هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَدَنَوْتُ مِنْهُ حَتَّى قَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُوَ يُحَدِّثُ النَّاسَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا سَكَتَ وَخَلَا قُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ أَنْشُدُكَ بِحَقٍّ وَبِحَقٍّ لَمَا حَدَّثْتَنِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَلْتَهُ وَعَلِمْتَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:‏‏‏‏ أَفْعَلُ لَأُحَدِّثَنَّكَ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَلْتُهُ وَعَلِمْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ نَشَغَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَشْغَةً فَمَكَثَ قَلِيلًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَفَاقَ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ لَأُحَدِّثَنَّكَ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْبَيْتِ مَا مَعَنَا أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ نَشَغَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَشْغَةً أُخْرَى، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَفَاقَ فَمَسَحَ وَجْهَهُ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ لَأُحَدِّثَنَّكَ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَا وَهُوَ فِي هَذَا الْبَيْتِ مَا مَعَنَا أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ نَشَغَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَشْغَةً أُخْرَى، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَفَاقَ وَمَسَحَ وَجْهَهُ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَفْعَلُ لَأُحَدِّثَنَّكَ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ فِي هَذَا الْبَيْتِ مَا مَعَهُ أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ نَشَغَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَشْغَةً شَدِيدَةً، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ مَالَ خَارًّا عَلَى وَجْهِهِ فَأَسْنَدْتُهُ عَلَيَّ طَوِيلًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَفَاقَ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ يَنْزِلُ إِلَى الْعِبَادِ لِيَقْضِيَ بَيْنَهُمْ وَكُلُّ أُمَّةٍ جَاثِيَةٌ فَأَوَّلُ مَنْ يَدْعُو بِهِ رَجُلٌ جَمَعَ الْقُرْآنَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَجُلٌ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَجُلٌ كَثِيرُ الْمَالِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ اللَّهُ لِلْقَارِئِ:‏‏‏‏ أَلَمْ أُعَلِّمْكَ مَا أَنْزَلْتُ عَلَى رَسُولِي ؟ قَالَ:‏‏‏‏ بَلَى يَا رَبِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَمَاذَا عَمِلْتَ فِيمَا عُلِّمْتَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ أَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ:‏‏‏‏ كَذَبْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَتَقُولُ لَهُ الْمَلَائِكَةُ:‏‏‏‏ كَذَبْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ:‏‏‏‏ بَلْ أَرَدْتَ أَنْ يُقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ فُلَانًا قَارِئٌ فَقَدْ قِيلَ ذَاكَ، ‏‏‏‏‏‏وَيُؤْتَى بِصَاحِبِ الْمَالِ فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ:‏‏‏‏ أَلَمْ أُوَسِّعْ عَلَيْكَ حَتَّى لَمْ أَدَعْكَ تَحْتَاجُ إِلَى أَحَدٍ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ بَلَى يَا رَبِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَمَاذَا عَمِلْتَ فِيمَا آتَيْتُكَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ أَصِلُ الرَّحِمَ وَأَتَصَدَّقُ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ:‏‏‏‏ كَذَبْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَتَقُولُ لَهُ الْمَلَائِكَةُ:‏‏‏‏ كَذَبْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى:‏‏‏‏ بَلْ أَرَدْتَ أَنْ يُقَالَ:‏‏‏‏ فُلَانٌ جَوَادٌ فَقَدْ قِيلَ ذَاكَ، ‏‏‏‏‏‏وَيُؤْتَى بِالَّذِي قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ:‏‏‏‏ فِي مَاذَا قُتِلْتَ ؟ فَيَقُولُ:‏‏‏‏ أُمِرْتُ بِالْجِهَادِ فِي سَبِيلِكَ فَقَاتَلْتُ حَتَّى قُتِلْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى لَهُ:‏‏‏‏ كَذَبْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَتَقُولُ لَهُ الْمَلَائِكَةُ:‏‏‏‏ كَذَبْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَيَقُولُ اللَّهُ:‏‏‏‏ بَلْ أَرَدْتَ أَنْ يُقَالَ:‏‏‏‏ فُلَانٌ جَرِيءٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَدْ قِيلَ ذَاكَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رُكْبَتِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أُولَئِكَ الثَّلَاثَةُ أَوَّلُ خَلْقِ اللَّهِ تُسَعَّرُ بِهِمُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ،‏‏‏‏ وَقَالَ الْوَلِيدُ أَبُو عُثْمَانَ:‏‏‏‏ فَأَخْبَرَنِي عُقْبَةُ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ شُفَيًّا هُوَ الَّذِي دَخَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَأَخْبَرَهُ بِهَذَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عُثْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ كَانَ سَيَّافًا لِمُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ فَأَخْبَرَهُ بِهَذَا، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ مُعَاوِيَةُ:‏‏‏‏ قَدْ فُعِلَ بِهَؤُلَاءِ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏فَكَيْفَ بِمَنْ بَقِيَ مِنَ النَّاسِ ثُمَّ بَكَى مُعَاوِيَةُ بُكَاءً شَدِيدًا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ هَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقُلْنَا:‏‏‏‏ قَدْ جَاءَنَا هَذَا الرَّجُلُ بِشَرٍّ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَفَاقَ مُعَاوِيَةُ وَمَسَحَ عَنْ وَجْهِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لا يُبْخَسُونَ ‏‏‏‏ 15 ‏‏‏‏ أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الآخِرَةِ إِلا النَّارُ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِيهَا وَبَاطِلٌ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ‏‏‏‏ 16 ‏‏‏‏ سورة هود آية 15-16،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
Al-Walid bin Abi Al-Wald abu 'Utthman Al-Mada'ini narrated that 'Uqbah bin Muslim narrated to him, that shufaiy Al-Asbahi narrated that he entered Al-Madinah and saw a man around whom the people had gathered. He asked: Who is this? They said: Abu Hurairah. (He said):So I got close to him until I was sitting in front of him as he was narrating to the people. When he was silent and alone, I said to him: I ask youabsolute truth if you would narrate to me a Hadith which you heard from the Messenger of Allah (s.a.w), That you understand and know. So Abu Hurairah said: You want me to narrate a Hadith to you which the Messenger of Allah (s.a.w) narrated to me that I understand and know. Then Abu Hurairah began sobbing profusely. We sat for a while, then he recovered and said: I shall narrate to you a Hadith which the Messenger of Allah (s.a.w) narrated in this House, while there was no one with us other than he and I. Then, again, Abu Hurairah began sobbing severely. Then he recovered, and wiped his face, and said: you want me to narrate to you a Hadith which the Messenger of Allah (s.a.w) narrated while he and I were sitting in this House, and no one was with us but he and I. Then Abu Hurairah began sobbing severely. Then he bent, falling on his face, so I supported him for a long time. Then he recovered and said: The Messenger of Allah narrated to me that on the Day of Judgement, Allah, Most High, will descend to His slaves t judge between them. Every nation shall be kneeling. The first of those who will be called before him will be a man who memorized the Qur'an, and a man who was killed in Allah's cause, and a wealthy man. Allah will say to the reciter: 'Did I not teach you what I revealed to My Messenger? He says: 'Of course O Lord!' He says: 'Then what did you do with what you learned?' He said: 'I would stand (in prayer reciting) with it during all hours of the night and all hours of the day.' Then Allah would say to him: 'You have lied.' And the angels will say: 'You have lied.'Allah will say to him: 'Rather, you wanted it to be said that so-and-so is a reciter. And that was said.' The person with the wealth will be brought, and Allah will say to him: 'Was I not so generous with you, such that I did not leave you having any need from anyone?' He will say: 'Of course O Lord!' He says: 'Then what did you do with what I gave to you?' He says: 'I would nurture the ties of kinship and give charity.' Then Allah will say to him: 'You have lied.' And the angels will say to him: 'You have lied.' Allah, Most High, will say: 'Rather, you wanted it to be said that so-and-so is so generous, and that was said.' Then the one who was killed in Allah's cause shall be brought, and Allah will say to him : 'For what were you killed?' So he says: 'I was commanded to fight in Your cause ,so I fought until I was killed.' Allah [Most High] will say to him: 'You have lied.' And the angels will say to him: 'You have lied.' Allah [Most High] will say: 'Rather, you wanted it be said that so-and-so is brave, and that was said.' Then the Messenger of Allah (s.a.w)hit me on my knees and said: 'O Abu Hurairah! These first three are the creatures of Allah with whom the fire will be enflamed on the Day of Judgement.' Al-Walid Abu 'Uthman Al-Mada'ini said: So 'Uqbah bin Muslim informed me that Shaufaiy, is the one who entered upon Mu'awiyah to inform him about this. Abu Uthman said: 'This has been done with these people, then how about with those who remain among the people? Then Mu'awiyah begin weeping so intensely, that we thought that he will kill himself with excessive weeping. We said: This man came to us to cause evil. Then Mu'awiyah recovered, wiped off his face and said: Allah and His Messenger told the truth: Whosoever desires the life of the world and its glitter, then we shall pay in full (the wages of) their deeds therein, and they shall have no diminution therein. They are those for whom there is nothing in the Hereafter Fire, and vain are the deeds they did therein. And of no effect is that which they used to do.
عقبہ بن مسلم سے شفیا اصبحی نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ وہ مدینہ میں داخل ہوئے، اچانک ایک آدمی کو دیکھا جس کے پاس کچھ لوگ جمع تھے، انہوں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ لوگوں نے جواباً عرض کیا: یہ ابوہریرہ رضی الله عنہ ہیں، شفیا اصبحی کا بیان ہے کہ میں ان کے قریب ہوا یہاں تک کہ ان کے سامنے بیٹھ گیا اور وہ لوگوں سے حدیث بیان کر رہے تھے، جب وہ حدیث بیان کر چکے اور تنہا رہ گئے تو میں نے ان سے کہا: میں آپ سے اللہ کا باربار واسطہ دے کر پوچھ رہا ہوں کہ آپ مجھ سے ایسی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو اور اسے اچھی طرح جانا اور سمجھا ہو۔ ابوہریرہ رضی الله عنہ نے فرمایا: ٹھیک ہے، یقیناً میں تم سے ایسی حدیث بیان کروں گا جسے مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے اور میں نے اسے اچھی طرح جانا اور سمجھا ہے۔ پھر ابوہریرہ نے زور کی چیخ ماری اور بیہوش ہو گئے، تھوڑی دیر بعد جب افاقہ ہوا تو فرمایا: یقیناً میں تم سے وہ حدیث بیان کروں گا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اسی گھر میں بیان کیا تھا جہاں میرے سوا کوئی نہیں تھا، پھر دوبارہ ابوہریرہ نے چیخ ماری اور بیہوش ہو گئے، پھر جب افاقہ ہوا تو اپنے چہرے کو پونچھا اور فرمایا: ضرور میں تم سے وہ حدیث بیان کروں گا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بیان کیا ہے اور اس گھر میں میرے اور آپ کے سوا کوئی نہیں تھا، پھر ابوہریرہ نے زور کی چیخ ماری اور بیہوش ہو گئے، اپنے چہرے کو پونچھا اور پھر جب افاقہ ہوا تو فرمایا: ضرور میں تم سے وہ حدیث بیان کروں گا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بیان کیا ہے اور اس گھر میں میرے اور آپ کے سوا کوئی نہیں تھا، پھر ابوہریرہ نے زور کی چیخ ماری اور بیہوش ہو کر منہ کے بل زمین پر گر پڑے، میں نے بڑی دیر تک انہیں اپنا سہارا دیئے رکھا پھر جب افاقہ ہوا تو فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے: ”قیامت کے دن جب ہر امت گھٹنوں کے بل پڑی ہو گی تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے کے لیے نزول فرمائے گا، پھر اس وقت فیصلہ کے لیے سب سے پہلے ایسے شخص کو بلایا جائے گا جو قرآن کا حافظ ہو گا، دوسرا شہید ہو گا اور تیسرا مالدار ہو گا، اللہ تعالیٰ حافظ قرآن سے کہے گا: کیا میں نے تجھے اپنے رسول پر نازل کردہ کتاب کی تعلیم نہیں دی تھی؟ وہ کہے گا: یقیناً اے میرے رب! اللہ تعالیٰ فرمائے گا جو علم تجھے سکھایا گیا اس کے مطابق تو نے کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں اس قرآن کے ذریعے راتوں دن تیری عبادت کرتا تھا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے جھوٹ کہا اور فرشتے بھی اس سے کہیں گے کہ تو نے جھوٹ کہا، پھر اللہ تعالیٰ کہے گا: ( قرآن سیکھنے سے ) تیرا مقصد یہ تھا کہ لوگ تجھے قاری کہیں، سو تجھے کہا گیا، پھر صاحب مال کو پیش کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: کیا میں نے تجھے ہر چیز کی وسعت نہ دے رکھی تھی، یہاں تک کہ تجھے کسی کا محتاج نہیں رکھا؟ وہ عرض کرے گا: یقیناً میرے رب! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تجھے جو چیزیں دی تھیں اس میں کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: صلہ رحمی کرتا تھا اور صدقہ و خیرات کرتا تھا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے جھوٹ کہا اور فرشتے بھی اسے جھٹلائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: بلکہ تم یہ چاہتے تھے کہ تمہیں سخی کہا جائے، سو تمہیں سخی کہا گیا، اس کے بعد شہید کو پیش کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: تجھے کس لیے قتل کیا گیا؟ وہ عرض کرے گا: مجھے تیری راہ میں جہاد کا حکم دیا گیا چنانچہ میں نے جہاد کیا یہاں تک کہ شہید ہو گیا، اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا: تو نے جھوٹ کہا، فرشتے بھی اسے جھٹلائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تیرا مقصد یہ تھا کہ تجھے بہادر کہا جائے سو تجھے کہا گیا“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے زانو پر اپنا ہاتھ مار کر فرمایا: ابوہریرہ! یہی وہ پہلے تین شخص ہیں جن سے قیامت کے دن جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ولید ابوعثمان کہتے ہیں: عقبہ بن مسلم نے مجھے خبر دی کہ شفیا اصبحی ہی نے معاویہ رضی الله عنہ کے پاس جا کر انہیں اس حدیث سے باخبر کیا تھا۔ ابوعثمان کہتے ہیں: علاء بن ابی حکیم نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ معاویہ رضی الله عنہ کے جلاد تھے، پھر معاویہ کے پاس ایک آدمی پہنچا اور ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے اس حدیث سے انہیں باخبر کیا تو معاویہ نے کہا: ان تینوں کے ساتھ ایسا معاملہ ہوا تو باقی لوگوں کے ساتھ کیا ہو گا، یہ کہہ کر معاویہ زار و قطار رونے لگے یہاں تک کہ ہم نے سمجھا کہ وہ زندہ نہیں بچیں گے، اور ہم لوگوں نے یہاں تک کہہ ڈالا کہ یہ شخص شر لے کر آیا ہے، پھر جب معاویہ رضی الله عنہ کو افاقہ ہوا تو انہوں نے اپنے چہرے کو صاف کیا اور فرمایا: ”یقیناً اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے اور اس آیت کریمہ کی تلاوت کی «من كان يريد الحياة الدنيا وزينتها نوف إليهم أعمالهم فيها وهم فيها لا يبخسون أولئك الذين ليس لهم في الآخرة إلا النار وحبط ما صنعوا فيها وباطل ما كانوا يعملون» ”جو شخص دنیاوی زندگی اور اس کی زیب و زینت کو چاہے گا تو ہم دنیا ہی میں اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے دیں گے اور کوئی کمی نہیں کریں گے، یہ وہی لوگ ہیں جن کا آخرت میں جہنم کے علاوہ اور کوئی حصہ نہیں ہے اور دنیا کے اندر ہی ان کے سارے اعمال ضائع اور باطل ہو گئے“ ( سورۃ ہود: ۱۶ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Jam e Tirmazi
3177
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ مَرْثَدُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ رَجُلًا يَحْمِلُ الْأَسْرَى مِنْ مَكَّةَ حَتَّى يَأْتِيَ بِهِمْ الْمَدِينَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَكَانَتِ امْرَأَةٌ بَغِيٌّ بِمَكَّةَ يُقَالُ لَهَا عَنَاقٌ وَكَانَتْ صَدِيقَةً لَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّهُ كَانَ وَعَدَ رَجُلًا مِنْ أُسَارَى مَكَّةَ يَحْمِلُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَجِئْتُ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى ظِلِّ حَائِطٍ مِنْ حَوَائِطِ مَكَّةَ فِي لَيْلَةٍ مُقْمِرَةٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَجَاءَتْ عَنَاقٌ فَأَبْصَرَتْ سَوَادَ ظِلِّي بِجَنْبِ الْحَائِطِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا انْتَهَتْ إِلَيَّ عَرَفَتْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ مَرْثَدٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ مَرْثَدٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ مَرْحَبًا وَأَهْلًا هَلُمَّ فَبِتْ عِنْدَنَا اللَّيْلَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا عَنَاقُ، ‏‏‏‏‏‏حَرَّمَ اللَّهُ الزِّنَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ يَا أَهْلَ الْخِيَامِ، ‏‏‏‏‏‏هَذَا الرَّجُلُ يَحْمِلُ أَسْرَاكُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَتَبِعَنِي ثَمَانِيَةٌ وَسَلَكْتُ الْخَنْدَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏فانتهيت إلى كهف أو غار فدخلت، ‏‏‏‏‏‏فجاءوا حتى قاموا على رأسي فبالوا، ‏‏‏‏‏‏فطل بولهم على رأسي وأعماهم الله عني، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ رَجَعُوا وَرَجَعْتُ إِلَى صَاحِبِي فَحَمَلْتُهُ وَكَانَ رَجُلًا ثَقِيلًا، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى الْإِذْخِرِ، ‏‏‏‏‏‏فَفَكَكْتُ عَنْهُ كَبْلَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَجَعَلْتُ أَحْمِلُهُ يُعِيِنُنِي حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنْكِحُ عَنَاقًا مَرَّتَيْنِ فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا حَتَّى نَزَلَتْ:‏‏‏‏ الزَّانِي لا يَنْكِحُ إِلا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لا يَنْكِحُهَا إِلا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سورة النور آية 3، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَا مَرْثَدُ الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً، ‏‏‏‏‏‏وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا تَنْكِحْهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
Narrated 'Amr bin Shu'aib: from his father, from his grandfather, who said There was a man named Marthad bin Abi Marthad, and he was a man who would carry captives from Makkah to Al-Madinah. He said: And there was a prostitute woman in Makkah called 'Anaq, who was a friend of his. He had promised a man from the captives of Makkah that he would transport him, and he said: 'So I came until I reached one of the walls of Makkah on a moon-lit night.' He said 'Anaq came along and she saw the darkness of my shadow next to the wall. When she reached me she recognized me and said: Marthad? So I replied: (Yes it is) Marthad. She said: Welcome, come and spend the night with us. I said: O 'Anaq! Allah has made illicit sexual relations unlawful. So she said: O people of the tents! That is the man who takes your captives away! He said: Eight people followed me, and I went through the passes of Al-Khandamah. I stopped at a cave and entered it. They came until they stood over my head, and they began urinating, their urine falling on my head. Yet Allah made them unable to see me. He said: 'Then I went back. I returned to my companion to transport him - and he was a heavy man - until I reached Al-Idhkir. There I removed his shackles to make him easier to carry, since he was exhausting me, until I arrived at Al-Madinah. I went to the Messenger of Allah (ﷺ) and I said O Messenger of Allah! May I marry 'Anaq? [I said this, two times] but the Messenger of Allah (ﷺ) was silent, and he did not reply to me at all until (the following) was revealed: The Zani marries not but a Zaniyah or a Mushrikah; and the Zaniyah, none marries her except a Zani or a Mushrik (24:3). So do not marry her.'
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مرثد بن مرثد نامی صحابی وہ ایسے ( جی دار و بہادر ) شخص تھے جو ( مسلمان ) قیدیوں کو مکہ سے نکال کر مدینہ لے آیا کرتے تھے، اور مکہ میں عناق نامی ایک زانیہ، بدکار عورت تھی، وہ عورت اس صحابی کی ( ان کے اسلام لانے سے پہلے کی ) دوست تھی، انہوں نے مکہ کے قیدیوں میں سے ایک قیدی شخص سے وعدہ کر رکھا تھا کہ وہ اسے قید سے نکال کر لے جائیں گے، کہتے ہیں کہ میں ( اسے قید سے نکال کر مدینہ لے جانے کے لیے ) آ گیا، میں ایک چاندنی رات میں مکہ کی دیواروں میں سے ایک دیوار کے سایہ میں جا کر کھڑا ہوا ہی تھا کہ عناق آ گئی۔ دیوار کے اوٹ میں میری سیاہ پرچھائیں اس نے دیکھ لی، جب میرے قریب پہنچی تو مجھے پہچان کر پوچھا: مرثد ہونا؟ میں نے کہا: ہاں، مرثد ہوں، اس نے خوش آمدید کہا، ( اور کہا: ) آؤ، رات ہمارے پاس گزارو، میں نے کہا: عناق! اللہ نے زنا کو حرام قرار دیا ہے، اس نے شور مچا دیا، اے خیمہ والو ( دوڑو ) یہ شخص تمہارے قیدیوں کو اٹھائے لیے جا رہا ہے، پھر میرے پیچھے آٹھ آدمی دوڑ پڑے، میں خندمہ ( نامی پہاڑ ) کی طرف بھاگا اور ایک غار یا کھوہ کے پاس پہنچ کر اس میں گھس کر چھپ گیا، وہ لوگ بھی اوپر چڑھ آئے اور میرے سر کے قریب ہی کھڑے ہو کر۔ انہوں نے پیشاب کیا تو ان کے پیشاب کی بوندیں ہمارے سر پر ٹپکیں، لیکن اللہ نے انہیں اندھا بنا دیا، وہ ہمیں نہ دیکھ سکے، وہ لوٹے تو میں بھی لوٹ کر اپنے ساتھی کے پاس ( جسے اٹھا کر مجھے لے جانا تھا ) آ گیا، وہ بھاری بھر کم آدمی تھے، میں نے انہیں اٹھا کر ( پیٹھ پر ) لاد لیا، اذخر ( کی جھاڑیوں میں ) پہنچ کر میں نے ان کی بیڑیاں توڑ ڈالیں اور پھر اٹھا کر چل پڑا، کبھی کبھی اس نے بھی میری مدد کی ( وہ بھی بیڑیاں لے کر چلتا ) اس طرح میں مدینہ آ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں عناق سے شادی کر لوں؟ ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے مجھے کوئی جواب نہیں دیا، پھر یہ آیت «الزاني لا ينكح إلا زانية أو مشركة والزانية لا ينكحها إلا زان أو مشرك وحرم ذلك على المؤمنين» ”زانی زانیہ یا مشرکہ ہی سے نکاح کرے اور زانیہ سے زانی یا مشرک ہی نکاح کرے، مسلمانوں پر یہ نکاح حرام ہے“ ( النور: ۳ ) ، نازل ہوئی آپ نے ( اس آیت کے نزول کے بعد مرثد بن ابی مرثد سے ) فرمایا: ”اس سے نکاح نہ کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Jam e Tirmazi
3318
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ، عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَيْنِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:‏‏‏‏ إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا سورة التحريم آية 4 حَتَّى حَجَّ عُمَرُ وَحَجَجْتُ مَعَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْإِدَاوَةِ فَتَوَضَّأَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏مَنِ الْمَرْأَتَانِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَانِ قَالَ اللَّهُ:‏‏‏‏ إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلاهُ سورة التحريم آية 4 فَقَالَ لِي:‏‏‏‏ وَاعَجَبًا لَكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الزُّهْرِيُّ:‏‏‏‏ وَكَرِهَ وَاللَّهِ مَا سَأَلَهُ عَنْهُ وَلَمْ يَكْتُمْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هِيَ عَائِشَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَحَفْصَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنِي الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ نَغْلِبُ النِّسَاءَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَجَدْنَا قَوْمًا تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا يَتَعَلَّمْنَ مِنْ نِسَائِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَتَغَضَّبْتُ عَلَى امْرَأَتِي يَوْمًا، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا هِيَ تُرَاجِعُنِي، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْكَرْتُ أَنْ تُرَاجِعَنِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ مَا تُنْكِرُ مِنْ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَوَاللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُرَاجِعْنَهُ وَتَهْجُرُهُ إِحْدَاهُنَّ الْيَوْمَ إِلَى اللَّيْلِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقُلْتُ فِي نَفْسِي قَدْ خَابَتْ مَنْ فَعَلَتْ ذَلِكَ مِنْهُنَّ وَخَسِرَتْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَكَانَ مَنْزِلِي بِالْعَوَالِي فِي بَنِي أُمَيَّةَ وَكَانَ لِي جَارٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، ‏‏‏‏‏‏كُنَّا نَتَنَاوَبُ النُّزُولَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَنْزِلُ يَوْمًا فَيَأْتِينِي بِخَبَرِ الْوَحْيِ وَغَيْرِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْزِلُ يَوْمًا فَآتِيهِ بِمِثْلِ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَكُنَّا نُحَدِّثُ أَنَّ غَسَّانَ تُنْعِلُ الْخَيْلَ لِتَغْزُوَنَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَجَاءَنِي يَوْمًا عِشَاءً فَضَرَبَ عَلَيَّ الْبَابَ فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ حَدَثَ أَمْرٌ عَظِيمٌ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ أَجَاءَتْ غَسَّانُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقُلْتُ فِي نَفْسِي قَدْ خَابَتْ حَفْصَةُ وَخَسِرَتْ، ‏‏‏‏‏‏قَدْ كُنْتُ أَظُنُّ هَذَا كَائِنًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَلَمَّا صَلَّيْتُ الصُّبْحَ شَدَدْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ انْطَلَقْتُ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَإِذَا هِيَ تَبْكِي، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ أَطَلَّقَكُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ لَا أَدْرِي هُوَ ذَا مُعْتَزِلٌ فِي هَذِهِ الْمَشْرَبَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَانْطَلَقْتُ فَأَتَيْتُ غُلَامًا أَسْوَدَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَانْطَلَقْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَإِذَا حَوْلَ الْمِنْبَرِ نَفَرٌ يَبْكُونَ، ‏‏‏‏‏‏فَجَلَسْتُ إِلَيْهِمْ ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَيْتُ الْغُلَامَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَانْطَلَقْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ أَيْضًا فَجَلَسْتُ ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَيْتُ الْغُلَامَ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَوَلَّيْتُ مُنْطَلِقًا، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا الْغُلَامُ يَدْعُونِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ ادْخُلْ فَقَدْ أُذِنَ لَكَ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلْتُ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئٌ عَلَى رَمْلِ حَصِيرٍ قَدْ رَأَيْتُ أَثَرَهُ فِي جَنْبَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَطَلَّقْتَ نِسَاءَكَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ اللَّهُ أَكْبَرُ لَقَدْ رَأَيْتُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَنَحْنُ مَعْشَرَ قُرَيْشٍ نَغْلِبُ النِّسَاءَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَجَدْنَا قَوْمًا تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا يَتَعَلَّمْنَ مِنْ نِسَائِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَتَغَضَّبْتُ يَوْمًا عَلَى امْرَأَتِي فَإِذَا هِيَ تُرَاجِعُنِي، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ مَا تُنْكِرُ، ‏‏‏‏‏‏فَوَاللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُرَاجِعْنَهُ وَتَهْجُرُهُ إِحْدَاهُنَّ الْيَوْمَ إِلَى اللَّيْلِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ:‏‏‏‏ أَتُرَاجِعِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏وَتَهْجُرُهُ إِحْدَانَا الْيَوْمَ إِلَى اللَّيْلِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ قَدْ خَابَتْ مَنْ فَعَلَتْ ذَلِكَ مِنْكُنَّ وَخَسِرَتْ أَتَأْمَنُ إِحْدَاكُنَّ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ عَلَيْهَا لِغَضَبِ رَسُولِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا هِيَ قَدْ هَلَكَتْ ؟، ‏‏‏‏‏‏فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ:‏‏‏‏ لَا تُرَاجِعِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَسْأَلِيهِ شَيْئًا وَسَلِينِي مَا بَدَا لَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَغُرَّنَّكِ إِنْ كَانَتْ صَاحِبَتُكِ أَوْسَمَ مِنْكِ وَأَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَتَبَسَّمَ أُخْرَى، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَسْتَأْنِسُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَمَا رَأَيْتُ فِي الْبَيْتِ إِلَّا أَهَبَةً ثَلَاثَةً، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُوَسِّعَ عَلَى أُمَّتِكَ فَقَدْ وَسَّعَ عَلَى فَارِسَ، ‏‏‏‏‏‏وَالرُّومِ وَهُمْ لَا يَعْبُدُونَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَوَى جَالِسًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَفِي شَكٍّ أَنْتَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ؟ أُولَئِكَ قَوْمٌ عُجِّلَتْ لَهُمْ طَيِّبَاتُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَكَانَ أَقْسَمَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى نِسَائِهِ شَهْرًا فَعَاتَبَهُ اللَّهُ فِي ذَلِكَ وَجَعَلَ لَهُ كَفَّارَةَ الْيَمِينِ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ:‏‏‏‏ فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ فَلَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَأَ بِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَا عَائِشَةُ، ‏‏‏‏‏‏إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ شَيْئًا فَلَا تَعْجَلِي حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ:‏‏‏‏ يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ سورة الأحزاب آية 28 الْآيَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ عَلِمَ وَاللَّهِ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا يَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ أَفِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ.
Ibn Abbas said: “I was ever determined to ask Umar about the two women, among the wives of the Prophet, about whom Allah [the Mighty and Sublime] said: If you two turn in repentance, your hearts are indeed so inclined… until once when Umar performed Hajj, and I performed Hajj along with him. I poured water for his Wudu from a water holder, and I said: ‘O Commander of the Believers! Who are the two women among the wives of the Prophet, about whom Allah said: If your two turn in repentance, you hearts are indeed so inclined?’ He said to me: ‘I am astonished at you O Ibn Abbas!’” – Az-Zubair (one of the narrators) said: “By Allah! He disliked what he asked him, but he did not withhold it from him.” – “He said to me: ‘It was Aishah and Hafsah.’” He said: “Then he began narrating the Hadith to me. He said: ‘We, the people of the Quraish, used to have the upper hand over our women. So when we arrived in Al-Madinah, we found a people whose women had the upper hand over them. Our women began acquiring the habits of their women. One day I became angry with my wife when she started talking back to to me, she said: “What bothers you about that? By Allah! The wives of the Prophet talk back to him, and one of them may stay away from him a whole day until the night?’” “He said: ‘I said to myself: “Whoever among them has done that, then she has thwarted herself and lost.’” “He said: ‘My house was in Al-Awali among those of Banu Umayyah, and I had a neighbor among the Ansar, and he and I would take turns visiting the Messenger of Allah.’ He said: ‘One day I would visit him and bring the news of the Revealation, and other than that, and one day he would visit him and bring the same. We heard stories that Ghassan were preparing their horses to attack us. He said: ‘One day he came to me in the evening and knocked on my door, so I went out to him. He said: “A horrible thing has happened.” I said: “Ghassan has come?” He said: “Worse than that. The Messenger of Allah has divorced his wives.’” He said: ‘I said to myself: “Hafsah has thwarted herself and is a loser! I though this would happen some day.’” He said: ‘After we prayed Subh, I put on my clothes, then went to visit Hafsah. There I found her crying. I said: “Has the Messenger of Allah divorced (all of you)?” She said: “I do not know. He has secluded himself in the upper room.’” He said: ‘So I wen, and came upon a black slave, I said: “Seek permission for Umar.’” He said: ‘So he entered then came out to me. He said: “I mentioned you to him, but he did not say anything.’” He said: ‘So I went to the Masjid. There I found a group of people sitting around the Minhar weeping, so I sat down with them. Then it became too much for me, so I went to the slave and said: “Seek permission for Umar.” He went in, then he came out to me and said: “I mentioned you to him, but he did not say anything.’” He said: ‘So I went to the Masjid again, and sat there until I could not take it any more, and I went back to the slave and said: “Seek permission for Umar.” He went in, then he came out to me and said: “I mentioned you to him but he did not say anything.’” He said: ‘So I turned to leave, when the slave called me back. He said: “Enter for he has given you permission.’” He said: ‘So I entered, and found the Prophet reclining upon a woven mat, and I saw the marks it left on his side. I said: “O Messenger of Allah! Have you divorced your women?” He said: “No.” I said: “Allahu Akbar! IF you only saw us O Messenger of Allah! We the people of the Quraish used to have the upper hand over our women, but when we came to Al-Madinah we found a people whose women had the upper hand over them. Our women began acquiring the habits of their women. One day I became angry with my wife, so when she started talking back to me I rebuked her and she said: ‘What bothers you about that? By Allah! The wives of the Prophet talk back to him, and one of them may stay away from him a whole day until the night?’” He said: “I said to Hafsah: ‘Do you talk back to the Messenger of Allah?’ She said: ‘Yes, and one of us may stay away from him all day until the night.’” He said: “I said: ‘Whoever among them has done that, then she has thwarted herself and lost. So any of you feel so secure against Allah becoming angry with you because of the anger of the Messenger of Allah, then she will be ruined?’ He said: ‘So the Prophet smiled.’ He said: ‘So I said to Hafsah: “Do not talk back to the Messenger of Allah, and don’t ask him for anything. Ask me for whatever you want. And do not be tempted by the behavior of your companions, for she is more beautiful than you, and more loved by the Messenger of Allah.’” He said: ‘So he smiled again, I said: “O Messenger of Allah! May I speak candidily?” He said: “Yes.’” He said: ‘I raised my head and did not see in the house except for three hides. So I said: “O Messenger of Allah! Supplicate to Allah to make your followers prosperous. For verily, He has made the Persians and the Romans prosper, and they do not worship Him.” He then sat up and said: “Do you have some doubts O Ibn Al-Khattab? They are a people whose good has been hastened for them in this world’s life.’” He said: ‘He swore that he would not enter upon his women for a month. So Allah censured him for that, and he made the atonement of an oath.’” Az-Zuhri said: “Urwah informed me that Aishah said: “When twenty-nine days passed, the Prophet entered upon me first, and he said: “O Aishah! I am about to mention something to you, but do not be hasty in reply until you consult your parents.’” She said: ‘Then he recited this Ayah: “O Prophet! Say to your wives.” She said: ‘I knew by Allah! That my parents would not tell me to part with him.’ She said: ‘I said: “Is it about this that I should consult with my parents? Indeed I want Allah and His Messenger and the abode of the Hereafter.” Ma’mar (one of the narrators) said: “Ayyub informed me that Aishah said to him: ‘O Messenger of Allah! Do not inform your wives that I chose you.’ So the Prophet said: ‘Allah send me only as one who conveys (Muballigh), He did not send me as one causing hardship.’”
عبیداللہ بن عبداللہ بن ابی ثور کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی الله عنہما کو کہتے ہوئے سنا: میری برابر یہ خواہش رہی کہ میں عمر رضی الله عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دو بیویوں کے بارے میں پوچھوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما» ”اے نبی کی دونوں بیویو! اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کر لو ( تو بہت بہتر ہے ) یقیناً تمہارے دل جھک پڑے ہیں ( یعنی حق سے ہٹ گئے ہیں“ ( التحریم: ۴ ) ، ( مگر مجھے موقع اس وقت ملا ) جب عمر رضی الله عنہ نے حج کیا اور میں نے بھی ان کے ساتھ حج کیا، میں نے ڈول سے پانی ڈال کر انہیں وضو کرایا، ( اسی دوران ) میں نے ان سے پوچھا: امیر المؤمنین! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ دو بیویاں کون ہیں جن کے بارے میں اللہ نے کہا ہے «إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما وإن تظاهرا عليه فإن الله هو مولاه» عمر رضی الله عنہ نے مجھ سے حیرت سے کہا: ہائے تعجب! اے ابن عباس ( تمہیں اتنی سی بات معلوم نہیں ) ( زہری کہتے ہیں قسم اللہ کی ابن عباس رضی الله عنہما نے جو بات پوچھی وہ انہیں بری لگی مگر انہوں نے حقیقت چھپائی نہیں بتا دی ) انہوں نے مجھے بتایا: وہ عائشہ اور حفصہ رضی الله عنہما ہیں، پھر وہ مجھے پوری بات بتانے لگے کہا: ہم قریش والے عورتوں پر حاوی رہتے اور انہیں دبا کر رکھتے تھے، مگر جب مدینہ آئے تو یہاں ایسے لوگ ملے جن پر ان کی بیویاں غالب اور حاوی ہوتی تھیں، تو ہماری عورتیں ان کی عورتوں سے ان کے رنگ ڈھنگ سیکھنے لگیں، ایک دن ایسا ہوا کہ میں اپنی بیوی پر غصہ ہو گیا، کیا دیکھتا ہوں کہ وہ بھی مجھے پلٹ کر جواب دینے لگی، مجھے ( سخت ) ناگوار ہوا کہ وہ مجھے پلٹ کر جواب دے، اس نے کہا: آپ کو یہ بات کیوں ناگوار لگ رہی ہے؟ قسم اللہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیویاں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پلٹ کر جواب دے رہی ہیں اور دن سے رات تک آپ کو چھوڑے رہتی ہیں ( روٹھی اور اینٹھی رہتی ) ہیں، میں نے اپنے جی میں کہا: آپ کی بیویوں میں سے جس نے بھی ایسا کیا وہ ناکام ہوئی اور گھاٹے میں رہی، میرا گھر مدینہ کے بنی امیہ نامی محلہ میں عوالی کے علاقہ میں تھا، اور میرا ایک انصاری پڑوسی تھا، ہم باری باری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کرتے تھے، ایک دن وہ آتا اور جو کچھ ہوا ہوتا وہ واپس جا کر مجھے بتاتا، اور ایسے ہی ایک دن میں آپ کے پاس آتا اور وحی وغیرہ کی جو بھی خبر ہوتی میں جا کر اسے بتاتا، ہم ( اس وقت ) باتیں کیا کرتے تھے کہ اہل غسان ہم سے لڑائی کرنے کے لیے اپنے گھوڑوں کے پیروں میں نعلیں ٹھونک رہے ہیں، ایک دن عشاء کے وقت ہمارے پڑوسی انصاری نے آ کر، دروازہ کھٹکھٹایا، میں دروازہ کھول کر اس کے پاس گیا، اس نے کہا: ایک بڑی بات ہو گئی ہے، میں نے پوچھا: کیا اہل غسان ہم پر چڑھائی کر آئے ہیں؟ اس نے کہا: اس سے بھی بڑا معاملہ پیش آ گیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے، میں نے اپنے جی میں کہا: حفصہ ناکام رہی گھاٹے میں پڑی، میں سوچا کرتا تھا کہ ایسا ہونے والا ہے، جب میں نے فجر پڑھی تو اپنے کپڑے پہنے اور چل پڑا، حفصہ کے پاس پہنچا تو وہ ( بیٹھی ) رو رہی تھی، میں نے پوچھا: کیا تم سب بیویوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق دے دی ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے نہیں معلوم ہے، البتہ آپ اس بالاخانے پر الگ تھلگ بیٹھے ہیں، عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں ( اٹھ کر آپ سے ملنے ) چلا، میں ایک کالے رنگ کے ( دربان ) لڑکے کے پاس آیا اور اس سے کہا: جاؤ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عمر کے آنے کی اجازت مانگو، عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں: وہ لڑکا آپ کے پاس گیا پھر نکل کر میرے پاس آیا اور کہا: میں نے آپ کے آنے کی خبر کی مگر آپ نے کچھ نہ کہا، میں مسجد چلا گیا ( دیکھا ) منبر کے آس پاس کچھ لوگ بیٹھے رو رہے تھے، میں بھی انہیں لوگوں کے پاس بیٹھ گیا، ( مجھے سکون نہ ملا ) میری فکرو تشویش بڑھتی گئی، میں اٹھ کر دوبارہ لڑکے کے پاس چلا آیا، میں نے کہا: جاؤ آپ سے عمر کے اندر آنے کی اجازت مانگو، تو وہ اندر گیا پھر میرے پاس واپس آیا، اس نے کہا: میں نے آپ کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، لیکن آپ نے کوئی جواب نہ دیا، عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں دوبارہ مسجد میں آ کر بیٹھ گیا، مگر مجھ پر پھر وہی فکر سوار ہو گئی، میں ( سہ بارہ ) لڑکے کے پاس آ گیا اور اس سے کہا: جاؤ اور آپ سے عمر کے اندر آنے کی اجازت مانگو، وہ لڑکا اندر گیا پھر میرے پاس واپس آیا، کہا: میں نے آپ سے آپ کے آنے کا ذکر کیا مگر آپ نے کوئی جواب نہ دیا، ( یہ سن کر ) میں پلٹ پڑا، یکایک لڑکا مجھے پکارنے لگا، ( آ جائیے آ جائیے ) اندر تشریف لے جائیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اجازت دے دی ہے، میں اندر چلا گیا، میں نے دیکھا آپ بوریئے پر ٹیک لگائے ہوئے ہیں اور اس کا اثر و نشان آپ کے پہلوؤں میں دیکھا، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، میں نے کہا: اللہ اکبر، آپ نے دیکھا ہو گا اللہ کے رسول! ہم قریشی لوگ اپنی بیویوں پر کنٹرول رکھتے تھے، لیکن جب ہم مدینہ آ گئے تو ہمارا سابقہ ایک ایسی قوم سے پڑ گیا ہے جن پر ان کی بیویاں حاوی اور غالب رہتی ہیں، ہماری عورتیں ان کی عورتوں سے ( ان کے طور طریقے ) سیکھنے لگیں، ایک دن اپنی بیوی پر غصہ ہوا تو وہ مجھے پلٹ کر جواب دینے لگی، مجھے یہ سخت برا لگا، کہنے لگی آپ کو کیوں اتنا برا لگ رہا ہے، قسم اللہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیویاں بھی آپ کو پلٹ کر جواب دے رہی ہیں اور کوئی بھی عورت دن سے رات تک آپ کو چھوڑ کر ( روٹھی و اینٹھی ) رہتی ہے، میں نے حفصہ سے کہا: کیا تم پلٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیتی ہو؟ اس نے کہا: ہاں، ہم میں کوئی بھی آپ سے ( خفا ہو کر ) دن سے رات تک آپ سے علیحدہ رہتی ہے، میں نے کہا: تم میں سے جس نے بھی ایسا کیا وہ گھاٹے میں رہی اور ناکام ہوئی، کیا تم میں سے ہر کوئی اس بات سے مطمئن ہے کہ اللہ اپنے رسول کی ناراضگی کے سبب اس سے ناراض و ناخوش ہو جائے اور وہ ہلاک و برباد ہو جائے؟ ( یہ سن کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا پڑے، عمر رضی الله عنہ نے کہا: میں نے حفصہ سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پلٹ کر جواب نہ دو اور نہ آپ سے کسی چیز کا مطالبہ کرو، جس چیز کی تمہیں حاجت ہو وہ مجھ سے مانگ لیا کرو، اور تم بھروسے میں نہ رہو تمہاری سوکن تو تم سے زیادہ خوبصورت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چہیتی ہے ۱؎ ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر مسکرا دیئے، میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں دل بستگی کی بات کروں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، عمر کہتے ہیں: میں نے سر اٹھایا تو گھر میں تین کچی کھالوں کے سوا کوئی اور چیز دکھائی نہ دی، میں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! اللہ سے دعا فرمایئے کہ وہ آپ کی امت کو وہ کشادگی و فراوانی دے جو اس نے روم و فارس کو دی ہے، جب کہ وہ اس کی عبادت و بندگی بھی نہیں کرتے ہیں، ( یہ سن کر ) آپ جم کر بیٹھ گئے، فرمایا: ”خطاب کے بیٹے! کیا تم ابھی تک اسلام کی حقانیت کے بارے میں شک و شبہہ میں پڑے ہوئے ہو؟ یہ ایسے لوگ ہیں جنہیں ان کے حصہ کی اچھی چیزیں پہلے ہی دنیا میں دے دی گئی ہیں“، عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ نے قسم کھائی تھی کہ آپ ایک مہینہ تک اپنی بیویوں کے پاس نہ جائیں گے، اس پر اللہ تعالیٰ نے فہمائش کی اور آپ کو کفارہ یمین ( قسم کا کفارہ ) ادا کرنے کا حکم دیا۔ زہری کہتے ہیں: عروہ نے عائشہ رضی الله عنہا سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ عائشہ رضی الله عنہا نے بتایا کہ جب مہینے کے ۲۹ دن گزر گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے میرے پاس تشریف لائے، آپ نے فرمایا: ”میں تم سے ایک بات کا ذکر کرنے والا ہوں، اپنے والدین سے مشورہ کئے بغیر جواب دینے میں جلدی نہ کرنا“، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «يا أيها النبي قل لأزواجك» ( آخر آیت تک ) ”اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجئیے کہ اگر تمہیں دنیا کی زندگی اور اس کی خوش رنگینیاں چاہیئے، تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دوں، اور خوش اسلوبی سے تم کو رخصت کر دوں، اور اگر تمہیں اللہ اور اس کا رسول چاہیں اور آخرت کی بھلائی چاہیں تو بیشک اللہ تعالیٰ نے تم میں سے نیک عمل کرنے والیوں کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے“ ( الاحزاب: ۲۸، ۲۹ ) ، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: آپ جانتے تھے، قسم اللہ کی میرے والدین مجھے آپ سے علیحدگی اختیار کر لینے کا ہرگز حکم نہ دیں گے، میں نے کہا: کیا میں اس معاملے میں والدین سے مشورہ کروں؟ میں تو اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو چاہتی اور پسند کرتی ہوں۔
Sahih Bukhari
604
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ ، يَقُولُ : كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَاةَ لَيْسَ يُنَادَى لَهَا ، فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : بَلْ بُوقًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا بِلَالُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ .
Narrated Ibn `Umar: When the Muslims arrived at Medina, they used to assemble for the prayer, and used to guess the time for it. During those days, the practice of Adhan for the prayers had not been introduced yet. Once they discussed this problem regarding the call for prayer. Some people suggested the use of a bell like the Christians, others proposed a trumpet like the horn used by the Jews, but `Umar was the first to suggest that a man should call (the people) for the prayer; so Allah's Apostle ordered Bilal to get up and pronounce the Adhan for prayers.
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرزاق بن ہمام نے، کہا کہ ہمیں عبدالملک ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے نافع نے خبر دی کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ جب مسلمان ( ہجرت کر کے ) مدینہ پہنچے تو وقت مقرر کر کے نماز کے لیے آتے تھے۔ اس کے لیے اذان نہیں دی جاتی تھی۔ ایک دن اس بارے میں مشورہ ہوا۔ کسی نے کہا نصاریٰ کی طرح ایک گھنٹہ لے لیا جائے اور کسی نے کہا کہ یہودیوں کی طرح نرسنگا ( بگل بنا لو، اس کو پھونک دیا کرو ) لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کسی شخص کو کیوں نہ بھیج دیا جائے جو نماز کے لیے پکار دیا کرے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اسی رائے کو پسند فرمایا اور بلال سے ) فرمایا کہ بلال! اٹھ اور نماز کے لیے اذان دے۔
Sahih Bukhari
1874
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَال : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : يَتْرُكُونَ الْمَدِينَةَ عَلَى خَيْرِ ، مَا كَانَتْ لَا يَغْشَاهَا إِلَّا الْعَوَافِ ، يُرِيدُ عَوَافِيَ السِّبَاعِ وَالطَّيْرِ ، وَآخِرُ مَنْ يُحْشَرُ رَاعِيَانِ مِنْ مُزَيْنَةَ يُرِيدَانِ الْمَدِينَةَ يَنْعِقَانِ بِغَنَمِهِمَا ، فَيَجِدَانِهَا وَحْشًا ، حَتَّى إِذَا بَلَغَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ خَرَّا عَلَى وُجُوهِهِمَا .
Narrated Abu Huraira: I heard Allah's Apostle saying, The people will leave Medina in spite of the best state it will have, and none except the wild birds and the beasts of prey will live in it, and the last persons who will die will be two shepherds from the tribe of Muzaina, who will be driving their sheep towards Medina, but will find nobody in it, and when they reach the valley of Thaniyat-al-Wada`, they will fall down on their faces dead.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہمیں شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ مدینہ کو بہتر حالت میں چھوڑ جاؤ گے پھر وہ ایسا اجاڑ ہو جائے گا کہ پھر وہاں وحشی جانور، درند اور پرند بسنے لگیں گے اور آخر میں مزینہ کے دو چرواہے مدینہ آئیں گے تاکہ اپنی بکریوں کو ہانک لے جائیں لیکن وہاں انہیں صرف وحشی جانور نظر آئیں گے آخر ثنیۃ الوداع تک جب پہنچیں گے تو اپنے منہ کے بل گر پڑیں گے۔
Sahih Bukhari
2630
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْمَدِينَةَ مِنْ مَكَّةَ وَلَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ يَعْنِي شَيْئًا ، وَكَانَتْ الْأَنْصَارُ أَهْلَ الْأَرْضِ وَالْعَقَارِ ، فَقَاسَمَهُمْ الْأَنْصَارُ عَلَى أَنْ يُعْطُوهُمْ ثِمَارَ أَمْوَالِهِمْ كُلَّ عَامٍ وَيَكْفُوهُمُ الْعَمَلَ وَالْمَئُونَةَ ، وَكَانَتْ أُمُّهُ أُمُّ أَنَسٍ أُمُّ سُلَيْمٍ كَانَتْ أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، فَكَانَتْ أَعْطَتْ أُمُّ أَنَسٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِذَاقًا ، فَأَعْطَاهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ أَيْمَنَ مَوْلَاتَهُ أُمَّ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا فَرَغَ مِنْ قَتْلِ أَهْلِ خَيْبَرَ فَانْصَرَفَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، رَدَّ الْمُهَاجِرُونَ إِلَى الْأَنْصَارِ مَنَائِحَهُمُ الَّتِي كَانُوا مَنَحُوهُمْ مِنْ ثِمَارِهِمْ ، فَرَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُمِّهِ عِذَاقَهَا ، وَأَعْطَى رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ أَيْمَنَ مَكَانَهُنَّ مِنْ حَائِطِهِ . وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبٍ : أَخْبَرَنَا أَبِي ، عَنْ يُونُسَ بِهَذَا ، وَقَالَ : مَكَانَهُنَّ مِنْ خَالِصِهِ .
Narrated Ibn Shihab Az-Zuhri: Anas bin Malik said, When the emigrants came Medina, they had nothing whereas the Ansar had land and property. The Ansar gave them their land on condition that the emigrants would give them half the yearly yield and work on the land and provide the necessaries for cultivation. His (i.e. Anas's mother who was also the mother of `Abdullah bin Abu Talha, gave some date-palms to Allah' Apostle who gave them to his freed slave-girl (Um Aiman) who was also the mother of Usama bin Zaid. When the Prophet finished from the fighting against the people of Khaibar and returned to Medina, the emigrants returned to the Ansar the fruit gifts which the Ansar had given them. The Prophet also returned to Anas's mother the date-palms. Allah's Apostle gave Um Aiman other trees from his garden in lieu of the old gift.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ابن وہب نے خبر دی یونس سے، انہوں نے ابن شہاب سے، وہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ جب مہاجرین مکہ سے مدینہ آئے تو ان کے ساتھ کوئی بھی سامان نہ تھا۔ انصار زمین اور جائیداد والے تھے۔ انصار نے مہاجرین سے یہ معاملہ کر لیا کہ وہ اپنے باغات میں سے انہیں ہر سال پھل دیا کریں گے اور اس کے بدلے مہاجرین ان کے باغات میں کام کیا کریں۔ انس رضی اللہ عنہ کی والدہ ام سلیم جو عبداللہ بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہما کی بھی والدہ تھیں، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجور کا ایک باغ ہدیہ دے دیا تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ باغ اپنی لونڈی ام ایمن رضی اللہ عنہا جو اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی والدہ تھیں، عنایت فرما دیا۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب خیبر کے یہودیوں کی جنگ سے فارغ ہوئے اور مدینہ تشریف لائے تو مہاجرین نے انصار کو ان کے تحائف واپس کر دئیے جو انہوں نے پھلوں کی صورت میں دے رکھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انس رضی اللہ عنہ کی والدہ کا باغ بھی واپس کر دیا اور ام ایمن رضی اللہ عنہا کو اس کے بجائے اپنے باغ میں سے ( کچھ درخت ) عنایت فرما دئیے۔ احمد بن شبیب نے بیان کیا، انہیں ان کے والد نے خبر دی اور انہیں یونس نے اسی طرح البتہ اپنی روایت میں بجائے «مكانهن من حائطه‏.‏» کے «مكانهن من خالصه‏.‏» مکانہن من خالصہ بیان کیا۔
Sahih Bukhari
3928
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، وَأَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ وَهُوَ بِمِنًى فِي آخِرِ حَجَّةٍ حَجَّهَا عُمَرُ فَوَجَدَنِي ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : فَقُلْتُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ الْمَوْسِمَ يَجْمَعُ رَعَاعَ النَّاسِ , وَإِنِّي أَرَى أَنْ تُمْهِلَ حَتَّى تَقْدَمَ الْمَدِينَةَ فَإِنَّهَا دَارُ الْهِجْرَةِ وَالسُّنَّةِ وَالسَّلَامَةِ وَتَخْلُصَ لِأَهْلِ الْفِقْهِ , وَأَشْرَافِ النَّاسِ وَذَوِي رَأْيِهِمْ ، قَالَ عُمَرُ : لَأَقُومَنَّ فِي أَوَّلِ مَقَامٍ أَقُومُهُ بِالْمَدِينَةِ .
Narrated Ibn `Abbas: During the last Hajj led by `Umar, `Abdur-Rahman bin `Auf returned to his family at Mina and met me there. `AbdurRahman said (to `Umar), O chief of the believers! The season of Hajj is the season when there comes the scum of the people (besides the good amongst them), so I recommend that you should wait till you go back to Medina, for it is the place of Migration and Sunna (i.e. the Prophet's tradition), and there you will be able to refer the matter to the religious scholars and the nobles and the people of wise opinions. `Umar said, I will speak of it in Medina on my very first sermon I will deliver there.
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا (دوسری سند) اور مجھے یونس نے خبر دی، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا مجھ کو عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ منیٰ میں اپنے خیمہ کی طرف واپس آ رہے تھے۔ یہ عمر رضی اللہ عنہ کے آخری حج کا واقعہ ہے تو ان کی مجھ سے ملاقات ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ ( عمر رضی اللہ عنہ حاجیوں کو خطاب کرنے والے تھے اس لیے ) میں نے عرض کیا کہ اے امیرالمؤمنین! موسم حج میں معمولی سوجھ بوجھ رکھنے والے سب طرح کے لوگ جمع ہوتے ہیں اور شور و غل بہت ہوتا ہے اس لیے میرا خیال ہے کہ آپ اپنا ارادہ موقوف کر دیں اور مدینہ پہنچ کر ( خطاب فرمائیں ) کیونکہ وہ ہجرت اور سنت کا گھر ہے اور وہاں سمجھدار معزز اور صاحب عقل لوگ رہتے ہیں۔“ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم ٹھیک کہتے ہو، مدینہ پہنچتے ہی سب سے پہلی فرصت میں لوگوں کو خطاب کرنے کے لیے ضرور کھڑا ہوں گا۔