TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1372 - نماز جمعہ چھوڑنے کی شناعت کا بیان۔ - The book of jumu'ah (friday prayer) - Sunnan Nisai in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 3 in this chapter
نماز جمعہ چھوڑنے کی شناعت کا بیان۔
أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ رَوَاحُ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ .
It was narrated from Hafsah, the wife of the Prophet (ﷺ) that: The Prophet (ﷺ) said: Going to jumu'ah is obligatory for everyone who has reached the age of puberty.'
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  جمعہ کے لیے  ( مسجد )  جانا ہر بالغ مرد پر فرض ہے ۔
1372
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Sunnah.com reference : Book 14, Hadith 7 English reference : Vol. 2, Book 14, Hadith 1372 Arabic reference : Book 14, Hadith 1381
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1372
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطھارة ۱۲۹ (۳۴۲)، (تحفة الأشراف: ۱۵۸۰۶)، (و عندہ زیادة ’’وعلی کل من راح إلی الجمعة الغسل ‘‘) (صحیح)

Related Chapters

1,529
1
Chapter: What Has Been Related About One Who Heard the Call (to Prayer) But Did Not Respond To It
باب: جو اذان سنے اور نماز میں حاضر نہ ہو اس کی شناعت کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About Neglecting The Friday Prayer Without An Excuse.
باب: بغیر عذر کے جمعہ چھوڑنے پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About The Time For The Friday Prayer
باب: نماز جمعہ کے وقت کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About the Recitation During The Friday Prayer
باب: نماز جمعہ میں قرأت کا بیان
Jam e Tirmazi
5
بَاب الْخطْبَة وَالصَّلَاة
خطبہ اور نماز جمعہ کا بیان
Mishkat
6
دو رکعت نماز جمعہ ہونے کا بیان، اس آدمی کا حکم جس سے ایک رکعت رہ جائے یا ہجوم کر دیا جائے اور جمعہ کے صحیح ہونے کے لیے مسجد کی شرط لگانے والے کا بیان
Musnad Ahmad
7
نماز جمعہ میں قراء ت کا بیان
Musnad Ahmad
8
جمعہ کی نماز کے بعد نفل پڑھنے اور ان کو فرض نماز کے ساتھ نہ ملانے کا بیان حتی کہ نمازی کسی سے کلام کرلے یا وہاں سے نکل جائے
Musnad Ahmad
9
جمعہ کے خطبہ میں بارش کے لیے دعا کرنے اور نماز کے بغیر یہ دعا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
10
(41) CHAPTER. Can the Imam offer the Salat (prayer) with only those who are present (for the prayer)? And can he deliver a Khutba (religious talk) on Friday if it is raining?
جو لوگ ( بارش یا اور کسی آفت میں ) مسجد میں آ جائیں تو کیا امام ان کے ساتھ نماز پڑھ لے اور برسات میں جمعہ کے دن خطبہ پڑھے یا نہیں ؟
Sahih Bukhari
11
(1) CHAPTER. The prescription of Friday [Salat-ul-Jumuah (Jumuah prayer)].
جمعہ کی نماز فرض ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے کہ
Sahih Bukhari
12
(2) CHAPTER. The superiority of taking a bath on Friday. And is it necessary for boys and womens to attend the Friday (prayer)?
جمعہ کے دن نہانے کی فضیلت اور اس بارے میں بچوں اور عورتوں پر جمعہ کی نماز کے لیے آنا فرض ہے یا نہیں ؟
Sahih Bukhari
13
(3) CHAPTER. To perfume (oneself) before going for the Friday (prayer).
جمعہ کے دن نماز کے لیے خوشبو لگانا
Sahih Bukhari
14
(4) CHAPTER. The superiority of Jumuah (prayer and Khutba). [The weekly congregational Salat (prayer) offered by Muslim at the time of Salat-uz-Zuhr (Zuhr prayer). This Salat (prayer) is preceded by a Khutba (religious talk)].
جمعہ کی نماز کو جانے کی فضیلت
Sahih Bukhari
15
(6) CHAPTER. To use (hair) oil (on getting prepared) for the Salat-ul-Jumuah (Friday prayer).
جمعہ کی نماز کے لیے بالوں میں تیل کا استعمال
Sahih Bukhari
16
(10) CHAPTER. What should be recited (from the Quran) in the Salat-ul-Fajr (Fajr prayer) on Friday.
جمعہ کے دن نماز فجر میں کون سی سورۃ پڑھی جائے
Sahih Bukhari
17
(12) CHAPTER. Is the taking of a bath (on Friday) necessary for women, boys, and others who do not present themselves for the Jumuah (prayer).
جو لوگ جمعہ کی نماز کے لیے نہ آئیں جیسے عورتیں بچے ، مسافر اور معذور وغیرہ ان پر غسل واجب نہیں ہے ۔
Sahih Bukhari
18
(18) CHAPTER. To go for the Jumuah (prayer) walking unhurriedly.
جمعہ کی نماز کے لیے چلنے کا بیان
Sahih Bukhari
19
(38) CHAPTER. If some people leave the Imam during the Salat-ul-Jumuah (Jumuah prayer), then the Salat (prayer) of the remaining people and the Imam is permissible.
اگر جمعہ کی نماز میں کچھ لوگ امام کو چھوڑ کر چلے جائیں تو امام اور باقی نمازیوں کی نماز صحیح ہو جائے گی
Sahih Bukhari
20
(40) CHAPTER. The Statement of Allah: Then when the (Jumuah) Salat (prayer) is ended, you may disperse through the land, and seek of the Bounty of Allah...” (V.62:10)
اللہ عزوجل کا ( سورۃ الجمعہ میں ) یہ فرمانا کہ جب جمعہ کی نماز ختم ہو جائے تو اپنے کام کاج کے لیے زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کے فضل ( روزی ، رزق یا علم ) کو ڈھونڈو
Sahih Bukhari
21
(41) CHAPTER. The afternoon nap after the Jumuah (prayer).
جمعہ کی نماز کے بعد سونا
Sahih Bukhari
22
(9) CHAPTER. Whoever thought it sufficient to invoke Allah for rain in the Salat-ul-Jumuah (Jumuah prayer).
پانی کی دعا کرنے میں جمعہ کی نماز کو کافی سمجھنا ( یعنی علیحدہ استسقاء کی نماز نہ پڑھنا اور اس کی نیت کرنا یہ بھی استسقاء کی ایک شکل ہے )
Sahih Bukhari
23
Chapter: Clarifying the usage of the word Kafir for one who abandons Salat
نماز چھوڑنے والے پر لفظ کفر کا اطلاق کرنا
Sahih Muslim
24
Chapter: The five daily prayers, from one Jumu`ah to the next, and from one Ramadan to the next, are an expiation for whatever (sins) come in between, so long as one avoids major sins
انسان جب تک کبیرہ گناہوں سےاجتناب کرتا رہے تو پانچوں نمازیں ، ہر جمعہ دوسرے جمعے تک اور رمضان دوسرے رمضان تک ، درمیانی مدت کے گناہوں کا کفارہ (مٹانے والے) ہیں
Sahih Muslim
25
Chapter: Stern warning against missing the `Asr prayer
نماز عصر چھوڑنے کے بارے میں سخت وعید
Sahih Muslim
26
Chapter: Keeping the prayer and khutbah short
نماز جمعہ اور خطے میں تخفیف
Sahih Muslim
27
Chapter: What is to be recited in Jumu`ah prayer
نماز جمعہ میں کون سی سورتیں پڑھی جائیں ؟
Sahih Muslim
28
CHAPTER: The Blessings Of The Friday Prayer.
باب: نماز جمعہ کی فضیلت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
29
CHAPTER: The Severity Of Leaving The Friday Prayer.
باب: جمعہ چھوڑنے پر وارد وعید کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
30
CHAPTER: The Expiation Of One Who Leaves It.
باب: جمعہ چھوڑنے والے کے کفارہ کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
31
CHAPTER: Gathering Before The Prayer On Friday.
باب: جمعہ کے دن نماز سے پہلے حلقہ بنا کر بیٹھنا کیسا ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
32
CHAPTER: Praying The Friday Prayer Before The Sun Reaches Its Zenith.
باب: جمعہ کے دن زوال سے پہلے نماز پڑھنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
33
CHAPTER: One Who Catches One Rak’ah Of The Friday Prayer.
باب: جس نے نماز جمعہ کی ایک رکعت پائی اس نے جمعہ پا لیا ۔
Sunnan Abu Dawood
34
CHAPTER: What Should Be Recited During The Friday Prayer.
باب: نماز جمعہ میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
35
CHAPTER: Praying After The Friday Prayer.
باب: فریضہ جمعہ کے بعد کی نفلی نماز کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
36
نماز جمعہ پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
37
بغیر عذر کے جمعہ چھوڑنے والے کے بارے میں وارد وعید کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
38
نماز جمعہ سے پہلے حلقہ بنا کر اور دوران خطبہ گوٹ مار کر بیٹھنے کی ممانعت
Sunnan Ibn e Maja
39
نمازی اور سترہ کے درمیان گزرنے کی شناعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
40
جماعت چھوڑنے کی شناعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
41
نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کی شناعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
42
نماز جمعہ کے لیے پیدل جانے کی فضیلت کا بیان۔
Sunnan Nisai
43
جمعہ کے دن امام کے خطبہ دینے کی حالت میں آنے والے کی نماز کا بیان۔
Sunnan Nisai
44
نماز جمعہ کی رکعات کا بیان۔
Sunnan Nisai
45
نماز جمعہ میں سورۃ الجمعہ اور سورۃ منافقین پڑھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
46
نماز جمعہ میں «سبح اسم ربک الأعلی» اور «ھل أتاک حدیث الغاشیۃ» پڑھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
47
باب: نماز جمعہ میں سورتوں کی قرأت کے متعلق نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم سے روایت کرنے میں ان کے تلامذہ کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
48
جمعہ کی ایک رکعت پا لینے والے شخص کی نماز جمعہ کے حکم کا بیان۔
Sunnan Nisai
49
نماز جمعہ کے بعد مسجد میں کتنی رکعتیں پڑھے ؟
Sunnan Nisai
50
جمعہ کے بعد امام کے نفلی نماز پڑھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

3,746
Sunnan Nisai
569
أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏بِنَحْوِهِ.
(Another chain) from Abu Sa'eed Al-Khudri, from the Messenger of Allah (ﷺ) with a similar report.
اس سند سے بھی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے۔
Sunnan Nisai
4987
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ،‏‏‏‏ عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا يُغَرَّمُ صَاحِبُ سَرِقَةٍ إِذَا أُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدُّ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ:‏‏‏‏ وَهَذَا مُرْسَلٌ وَلَيْسَ بِثَابِتٍ.
It was narrated from 'Abdur-Rahman bin 'Awf that the Messenger of Allah said: The thief is not to be penalized (financially) if the Hadd punishment is carried out on him. (Daif) Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasai) said: This is Mursal and it is not confirmed.
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب حد قائم ہو جائے تو چوری کرنے والے پر تاوان لازم نہ ہو گا“ ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: یہ مرسل ( یعنی منقطع ) ہے اور صحیح نہیں ہے۔
Jam e Tirmazi
97
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَخْبَرَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ أَعْلَى الْخُفِّ وَأَسْفَلَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَهَذَا قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ الْفُقَهَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ مَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا مَعْلُولٌ لَمْ يُسْنِدْهُ عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ غَيْرُ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَسَأَلْتُ أَبَا زُرْعَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَمُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَا:‏‏‏‏ لَيْسَ بِصَحِيحٍ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّ ابْنَ الْمُبَارَكِ رَوَى هَذَا عَنْ ثَوْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حُدِّثْتُ عَنْ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ مُرْسَلٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يُذْكَرْ فِيهِ الْمُغِيرَةُ.
AI-Mughirah bin Shu'bah narrated: The Prophet wiped over the Khuff and its bottom.
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اکرم صلی الله علیہ وسلم نے موزے کے اوپر اور نیچے دونوں جانب مسح کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے فقہاء میں سے بہت سے لوگوں کا یہی قول ہے اور مالک، شافعی اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، ۲- یہ حدیث معلول ہے۔ میں نے ابوزرعہ اور محمد بن اسماعیل ( بخاری ) سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو ان دونوں نے کہا کہ یہ صحیح نہیں ہے ۲؎۔
Jam e Tirmazi
607
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ أَحْمَدُ بْنُ بَكَّارٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرٌّ مِنَ السُّجُودِ مُحَجَّلُونَ مِنَ الْوُضُوءِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ.
Abdullah bin Busr narrated that : the Prophet said: On the day of Resurrection, my nation will be radiant from prostrating and shining from Wudu.
عبداللہ بن بسر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن میری امت کی پیشانی سجدے سے اور ہاتھ پاؤں وضو سے چمک رہے ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عبداللہ بن بسر رضی الله عنہ کی روایت سے یہ حدیث اس طریق سے حسن صحیح غریب ہے۔
Jam e Tirmazi
643
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَسْعُودِ بْنِ نِيَارٍ، يَقُولُ:‏‏‏‏ جَاءَ سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ إِلَى مَجْلِسِنَا، ‏‏‏‏‏‏فَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:‏‏‏‏ إِذَا خَرَصْتُمْ فَخُذُوا وَدَعُوا الثُّلُثَ فَإِنْ لَمْ تَدَعُوا الثُّلُثَ فَدَعُوا الرُّبُعَ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَالْعَمَلُ عَلَى حَدِيثِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْخَرْصِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِحَدِيثِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ أَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق:‏‏‏‏ وَالْخَرْصُ:‏‏‏‏ إِذَا أَدْرَكَتِ الثِّمَارُ مِنَ الرُّطَبِ وَالْعِنَبِ مِمَّا فِيهِ الزَّكَاةُ بَعَثَ السُّلْطَانُ خَارِصًا يَخْرُصُ عَلَيْهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَالْخَرْصُ أَنْ يَنْظُرَ مَنْ يُبْصِرُ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ يَخْرُجُ مِنْ هَذَا الزَّبِيبِ كَذَا وَكَذَا وَمِنَ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا فَيُحْصِي عَلَيْهِمْ وَيَنْظُرُ مَبْلَغَ الْعُشْرِ مِنْ ذَلِكَ فَيُثْبِتُ عَلَيْهِمْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُخَلِّي بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الثِّمَارِ فَيَصْنَعُونَ مَا أَحَبُّوا، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا أَدْرَكَتِ الثِّمَارُ أُخِذَ مِنْهُمُ الْعُشْرُ. هَكَذَا فَسَّرَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهَذَا يَقُولُ مَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق.
Abdur-Rahman bin Mas'ud bin Niyar said: Sahl bin Abi Hathmah came to a gathering of ours, and he narrated that the Messenger of Allah would say: When you make an assessment, then take it and leave a third, if you do not leave a third, then leave a quarter.
عبدالرحمٰن بن مسعود بن نیار کہتے ہیں کہ سہل بن ابی حثمہ رضی الله عنہ ہماری مجلس میں آئے تو بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جب تم تخمینہ لگاؤ تو تخمینہ کے مطابق لو اور ایک تہائی چھوڑ دیا کرو، اگر ایک تہائی نہ چھوڑ سکو تو چوتھائی چھوڑ دیا کرو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عائشہ، عتاب بن اسید اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ۲- تخمینہ لگانے کے سلسلے میں اکثر اہل علم کا عمل سہل بن ابی حثمہ رضی الله عنہ کی حدیث پر ہے اور سہل بن ابی حثمہ رضی الله عنہ کی حدیث ہی کے مطابق احمد اور شافعی بھی کہتے ہیں، تخمینہ لگانا یہ ہے کہ جب کھجور یا انگور کے پھل جن کی زکاۃ دی جاتی ہے پک جائیں تو سلطان ( انتظامیہ ) ایک تخمینہ لگانے والے کو بھیجے جو اندازہ لگا کر بتائے کہ اس میں کتنا غلہ یا پھل ہو گا اور تخمینہ لگانا یہ ہے کہ کوئی تجربہ کار آدمی دیکھ کر یہ بتائے کہ اس درخت سے اتنا اتنا انگور نکلے گا، اور اس سے اتنی اتنی کھجور نکلے گی۔ پھر وہ اسے جوڑ کر دیکھے کہ کتنا عشر کی مقدار کو پہنچا، تو ان پر وہی عشر مقرر کر دے۔ اور پھل کے پکنے تک ان کو مہلت دے، پھل توڑنے کے وقت اپنا عشر دیتے رہیں۔ پھر مالکوں کو اختیار ہو گا کہ بقیہ سے جو چاہیں کریں۔ بعض اہل علم نے تخمینہ لگانے کی تشریح اسی طرح کی ہے، اور یہی مالک شافعی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔
Jam e Tirmazi
732
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ أَسْمَعُ سِمَاكَ بْنَ حَرْبٍ، يَقُولُ:‏‏‏‏ أَحَدُ ابْنَيْ أُمِّ هَانِئٍ، حَدَّثَنِي فَلَقِيتُ أَنَا أَفْضَلَهُمَا، ‏‏‏‏‏‏وكانت أم هانئ جدته، ‏‏‏‏‏‏فَحَدَّثَنِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَدَّتِهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَدَعَى بِشَرَابٍ فَشَرِبَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ نَاوَلَهَا فَشَرِبَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَمَا إِنِّي كُنْتُ صَائِمَةً، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الصَّائِمُ الْمُتَطَوِّعُ أَمِينُ نَفْسِهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنْ شَاءَ صَامَ وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ . قَالَ شُعْبَةُ:‏‏‏‏ فَقُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ أَأَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ أُمِّ هَانِئٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي أَبُو صَالِحٍ وَأَهْلُنَا، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّ هَانِئٍ. وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، فَقَالَ:‏‏‏‏ عَنْ هَارُونَ بْنِ بِنْتِ أُمِّ هَانِئٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، وَرِوَايَةُ شُعْبَةَ أَحْسَنُ، ‏‏‏‏‏‏هَكَذَا حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي دَاوُدَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَمِينُ نَفْسِهِ، ‏‏‏‏‏‏وحَدَّثَنَا غَيْرُ مَحْمُودٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي دَاوُدَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَمِيرُ نَفْسِهِ أَوْ أَمِينُ نَفْسِهِ عَلَى الشَّكِّ، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ شُعْبَةَ أَمِينُ أَوْ أَمِيرُ نَفْسِهِ عَلَى الشَّكِّ. قَالَ:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ أُمِّ هَانِئٍ فِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ الصَّائِمَ الْمُتَطَوِّعَ إِذَا أَفْطَرَ فَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِ إِلَّا أَنْ يُحِبَّ أَنْ يَقْضِيَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ.
Simak bin Harb narrated: A person from the offspring of Umm Hani narrated to me - I met one of the most virtuous among them, and his name was Ja'dah, and Umm Hani was his grandmother - he narrated to me from his grandmother that the Messenger of Allah entered upon her and asked for some drink, and he drank. Then he offered it to her and she drank it. Then she said: O Messenger of Allah! I was fasting. So the Messenger of Allah said: The one fasting a voluntary fast is the trustee for himself; if he wishes he fasts, and if he wishes he breaks. Shu'bah (one of the narrators) said: I said to him (Ja'dah), 'Did you hear this from Umm Hani?' He said: 'No Abu Salih and our family informed us of it from Umm Hani.'
شعبہ کہتے ہیں کہ میں سماک بن حرب کو کہتے سنا کہ ام ہانی رضی الله عنہا کے دونوں بیٹوں میں سے ایک نے مجھ سے حدیث بیان کی تو میں ان دونوں میں جو سب سے افضل تھا اس سے ملا، اس کا نام جعدہ تھا، ام ہانی اس کی دادی تھیں، اس نے مجھ سے بیان کیا کہ اس کی دادی کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں آئے تو آپ نے کوئی پینے کی چیز منگائی اور اسے پیا۔ پھر آپ نے انہیں دیا تو انہوں نے بھی پیا۔ پھر انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میں تو روزے سے تھی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نفل روزہ رکھنے والا اپنے نفس کا امین ہے، چاہے تو روزہ رکھے اور چاہے تو نہ رکھے“۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے سماک سے پوچھا: کیا آپ نے اسے ام ہانی سے سنا ہے؟ کہا: نہیں، مجھے ابوصالح نے اور ہمارے گھر والوں نے خبر دی ہے اور ان لوگوں نے ام ہانی سے روایت کی۔ حماد بن سلمہ نے بھی یہ حدیث سماک بن حرب سے روایت کی ہے۔ اس میں ہے ام ہانی کی لڑکی کے بیٹے ہارون سے روایت ہے، انہوں نے ام ہانی سے روایت کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- شعبہ کی روایت سب سے بہتر ہے، اسی طرح ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ہے اور محمود نے ابوداؤد سے روایت کی ہے، اس میں «أمين نفسه» ہے، البتہ ابوداؤد سے محمود کے علاوہ دوسرے لوگوں نے جو روایت کی تو ان لوگوں نے «أمير نفسه أو أمين نفسه» شک کے ساتھ کہا۔ اور اسی طرح شعبہ سے متعدد سندوں سے بھی «أمين أو أمير نفسه» شک کے ساتھ وارد ہے۔ ام ہانی کی حدیث کی سند میں کلام ہے۔ ۲- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ نفل روزہ رکھنے والا اگر روزہ توڑ دے تو اس پر کوئی قضاء لازم نہیں الا یہ کہ وہ قضاء کرنا چاہے۔ یہی سفیان ثوری، احمد، اسحاق بن راہویہ اور شافعی کا قول ہے ۱؎۔
Jam e Tirmazi
1135
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْجَهْمِ، قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلْتُ أَنَا، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، فَحَدَّثَتْنَا أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا وَلَمْ يَجْعَلْ لَهَا سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ وَوَضَعَ لِي عَشَرَةَ أَقْفِزَةٍ عِنْدَ ابْنِ عَمٍّ لَهُ خَمْسَةً شَعِيرًا وَخَمْسَةً بُرًّا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ صَدَقَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ بَيْتَ أُمِّ شَرِيكٍ بَيْتٌ يَغْشَاهُ الْمُهَاجِرُونَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ اعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَعَسَى أَنْ تُلْقِي ثِيَابَكِ وَلَا يَرَاكِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُكِ فَجَاءَ أَحَدٌ يَخْطُبُكِ فَآذِنِينِي ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتِي خَطَبَنِي أَبُو جَهْمٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمُعَاوِيَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَمَّا مُعَاوِيَةُ فَرَجُلٌ لَا مَالَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَرَجُلٌ شَدِيدٌ عَلَى النِّسَاءِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَخَطَبَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَتَزَوَّجَنِي، ‏‏‏‏‏‏فَبَارَكَ اللَّهُ لِي فِي أُسَامَةَ. هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏وَزَادَ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ انْكِحِي أُسَامَةَ . حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ بِهَذَا
Abu Bakr bin Al-Jahm narrated: Abu Salamah bin Abdur-Rahman and I visited Fatimah bint Qais. She narrated to us that her husband had divorced her three times, and he did not leave her with anywhere to live nor any wealth. She said: 'He left ten Aqfizah for me with the son of his uncle: five were of barley, five of wheat.' She said: 'I went to the Messenger of Allah and mentioned that to him.' She said: 'He said: 'He is correct.' (She said: ) 'So he ordered me to complete my Iddah in the home of Umm Sharik. But then the Messenger of Allah said to me: Umm Sharik's home is visited by Muhajirun, so spend your Iddah in the home of Ibn Umm Maktum, for there you can remove your garments and he will not see you. Then when your Iddah is completed and someone proposed to you come to me. 'So when my Iddah completed. Abu Jahm and Mu'awiyah proposed to me.' She said: 'I went to the Messenger of Allah and mentioned that to him, and he said: As for Mu'awiyah, he is a man with no wealth, and as for Abu Jahm he is a man who is harsh with women. She said: 'Then Usamah bin Zaid proposed to me, and he married me. So Allah blessed me with Usamah.'
ابوبکر بن ابی جہم کہتے ہیں کہ میں اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن دونوں فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کے پاس آئے انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ ان کے شوہر نے انہیں تین طلاق دے دی اور نہ ان کے لیے رہائش کا انتظام کیا اور نہ کھانے پینے کا۔ اور انہوں نے میرے لیے دس بوری غلہ، پانچ بوری جو کے اور پانچ گیہوں کے اپنے چچا زاد بھائی کے پاس رکھ دیں، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ نے فرمایا: ”انہوں نے ٹھیک کیا، اور مجھے آپ نے حکم دیا کہ میں ام شریک کے گھر میں عدت گزاروں“، پھر مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام شریک کے گھر مہاجرین آتے جاتے رہتے ہیں۔ تم ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت گزارو“۔ وہاں یہ بھی سہولت رہے گی کہ تم ( سر وغیرہ سے ) کپڑے اتارو گی تو تمہیں وہ نہیں دیکھ پائیں گے، پھر جب تمہاری عدت پوری ہو جائے اور کوئی تمہارے پاس پیغام نکاح لے کر آئے تو مجھے بتانا، چنانچہ جب میری عدت پوری ہو گئی تو ابوجہم اور معاویہ نے مجھے پیغام بھیجا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”معاویہ تو ایسے آدمی ہیں کہ ان کے پاس مال نہیں، اور ابوجہم عورتوں کے لیے سخت واقع ہوئے ہیں“۔ پھر مجھے اسامہ بن زید رضی الله عنہ نے پیغام بھیجا اور مجھ سے شادی کر لی۔ اللہ تعالیٰ نے اسامہ میں مجھے برکت عطا فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اسے سفیان ثوری نے بھی ابوبکر بن ابی جہم سے اسی حدیث کی طرح روایت کیا ہے، اور اس میں انہوں نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسامہ سے نکاح کر لو“۔
Jam e Tirmazi
1211
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مُدْرِكٍ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحَرِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثَلَاثَةٌ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ، ‏‏‏‏‏‏قُلْنَا:‏‏‏‏ مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَدْ خَابُوا وَخَسِرُوا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ الْمَنَّانُ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُسْبِلُ إِزَارَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي أُمَامَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Abu Dharr: That the Prophet (ﷺ) said: There are three whom Allah will not look at on the Day of Judgement, nor will He purify them, and theirs is a painful punishment. We said: Who are they O Messenger of Allah ? For they have indeed failed and are lost! He sai: The Mannan, the one whose Izar hangs (below the ankels) and the one who promotes his merchandise with false oath. [He said:] There are narrations on this topic from Ibn Mas'ud, Abu Hurairah, Abu Umamah bin Tha'labah, 'Imran bin Husain, and Ma'qil bin Yasar [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Abu Dharr is a Hasan Sahih Hadith.
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین لوگ ایسے ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ ( رحمت کی نظر سے ) نہیں دیکھے گا، نہ انہیں ( گناہوں سے ) پاک کرے گا، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا“، ہم نے پوچھا: اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں؟ یہ تو نقصان اور گھاٹے میں رہے، آپ نے فرمایا: ”احسان جتانے والا، اپنے تہبند ( ٹخنے سے نیچے ) لٹکانے والا ۱؎ اور جھوٹی قسم کے ذریعہ اپنے سامان کو رواج دینے والا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوذر کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود، ابوہریرہ، ابوامامہ بن ثعلبہ، عمران بن حصین اور معقل بن یسار رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
1405
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ،‏‏‏‏ وَيَحْيَى بْنُ مُوسَى،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مَكَّةَ قَامَ فِي النَّاسِ،‏‏‏‏ فَحَمِدَ اللَّهَ،‏‏‏‏ وَأَثْنَى عَلَيْهِ،‏‏‏‏ ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِمَّا أَنْ يَعْفُوَ،‏‏‏‏ وَإِمَّا أَنْ يَقْتُلَ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب،‏‏‏‏ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي شُرَيْحٍ خُوَيْلِدِ بْنِ عَمْرٍو.
Narrated Abu Hurairah: When Allah granted His Messenger (ﷺ) victory over Makkah, he stood (to deliver an address) among the people. He thanked and praised Allah, then he said: 'And from whomever (one of his relatives) was killed, then he has two options to choose from: Either to pardon or that he be killed.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب اللہ نے اپنے رسول کے لیے مکہ کو فتح کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں کھڑے ہو کر اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”جس کا کوئی شخص مارا گیا ہو اسے دو باتوں میں سے کسی ایک کا اختیار ہے: یا تو معاف کر دے یا ( قصاص میں ) اسے قتل کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ( کماسیأتی ) ، ۲- اس باب میں وائل بن حجر، انس، ابوشریح اور خویلد بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔