حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي عُبَيْدَةُ بْنُ سُفْيَانَ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ أَبِي الْجَعْدِ الضَّمْرِيِّ وَكَانَ لَهُ صُحْبَةٌ وَكَانَ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ تَهَاوُنًا بِهَا، طُبِعَ عَلَى قَلْبِهِ .
It was narrated that Abu Ja’d Ad-Damri who was a Companion said that the Prophet (ﷺ) said:
“Whoever abandons Friday (prayer) three times, neglecting it, a seal will be placed over his heart.”
ابوجعد ضمری رضی اللہ عنہ (انہیں شرف صحبت حاصل ہے) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے تین جمعے سستی سے چھوڑ دئیے، اس کے دل پہ مہر لگ گئی ۱؎۔
Takhreej
سنن ابی داود/الصلاة ۲۱۰ (۱۰۵۲)، سنن الترمذی/الصلاة ۲۴۲ (۵۰۰)، سنن النسائی/الجمعة ۱۴ (۱۳۶۸)، (تحفة الأشراف: ۱۱۸۸۳)
Explanation
یعنی اس کا دل خیر اور ہدایت کو قبول کرنے کی صلاحیت سے محروم کر دیا جائے گا۔ اس کے دل پر غفلت چھا جائے گی، اور عبادت کا ذوق و شوق جاتا رہے گا، اور بعض نے کہا: اس میں نفاق آ جائے گا، اور ایمان کا نور جاتا رہے گا، نبی اکرم ﷺ نے پوری زندگی جمعہ کی نماز پابندی سے پڑھائی، اہل علم نے اس کے فرض عین ہونے پر اجماع کیا ہے، اس لیے فریضہ جمعہ کا ادا کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے۔
1125
Sahih