حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ جَابِرًا، وَأَبُو الزُّبَيْرِ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: دَخَلَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: أَصَلَّيْتَ؟ ، قَالَ: لَا، قَالَ: فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ ، وَأَمَّا عَمْرٌو فَلَمْ يَذْكُرْ سُلَيْكًا.
It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah said:
“Sulaik Ghatafani entered the mosque when the Prophet (ﷺ) was delivering the sermon. He said: ‘Have you prayed?’ He said: ‘No.’ He said: ‘Then perform two Rak’ah.’”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ مسجد میں آئے اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے پوچھا: کیا تم نے نماز ادا کر لی؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو رکعت پڑھ لو ۱؎۔ عمرو بن دینار نے سلیک کا ذکر نہیں کیا۔
Takhreej
حدیث عمر و بن دینار عن جابر أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة ۳۲ (۹۳۰)، ۳۳ (۹۳۱)، صحیح مسلم/الجمعة ۱۴ (۸۷۵)، (تحفة الأشراف: ۲۵۳۲)، وحدیث أبي الزبیر عن جابر قد تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۲۷۷۱)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ۲۳۷ (۱۱۱۵)، سنن الترمذی/الصلاة ۲۵۰ (۵۱۰)، سنن النسائی/الجمعة ۱۶ (۱۳۹۶)، مسند احمد (۳/۲۹۷، ۳۰۸، ۳۶۹)، سنن الدارمی/الصلاة ۱۹۶ (۱۵۹۲)
Explanation
اسے «تحیۃ المسجد» کہتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص امام کے خطبہ دینے کی حالت میں آئے تو وہ دو رکعتیں پڑھے، بعض لوگوں نے اسے سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص کیا ہے، اور کہا ہے کہ انہیں یہ حکم اس لئے دیا گیا تھا کہ لوگ ان کی غربت دیکھ کر ان کا تعاون کریں، لیکن ابوداود کی ایک روایت کے الفاظ یوں آئے ہیں: «إذا جاء أحدكم والإمام يخطب فليصل ركعتين» جب بھی تم میں سے کوئی شخص مسجد آئے، اور امام خطبہ دے رہا ہو تو دو رکعت پڑھ لے اس سے ان کے اس قول کی تردید ہو جاتی ہے کہ یہ سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص تھا۔
1112
Sahih