حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ، فَأَمِّنُوا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ، فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“When the reciter says Amin, then say Amin, for the angels say Amin, and if a person’s Amin coincides with the Amin of the angels, his previous sins will be forgiven.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، اس لیے کہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں، اور جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل جائے، تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۱؎۔
Takhreej
صحیح البخاری/الأذان ۱۱۱ (۷۸۰)، ۱۱۳ (۷۸۲)، التفسیر ۲ (۴۴۷۵)، الدعوات ۶۳ (۶۴۰۲)، سنن النسائی/الافتتاح ۳۳ (۹۲۷، ۹۲۸)، (تحفة الأشراف: ۱۳۱۳۶)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة ۱۸ (۴۱۰)، سنن ابی داود/الصلاة ۱۷۲ (۹۳۶)، سنن الترمذی/الصلاة ۷۱ (۲۵۰)، موطا امام مالک/الصلاة ۱۱ (قبیل۴۵)، مسند احمد (۲/۲۳۸، ۴۶۹)، سنن الدارمی/الصلاة ۳۸ (۱۲۸۲)
Explanation
اس حدیث سے امام نسائی نے امام کے بلند آواز سے آمین کہنے پر استدلال کیا ہے کیونکہ اگر امام آہستہ آمین کہے گا تو مقتدیوں کو امام کے آمین کہنے کا علم نہیں ہو سکے گا تو ان سے امام کے آمین کہنے کے وقت آمین کہنے کا مطالبہ درست نہ ہو گا۔
851
Sahih