حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، قَالَ: خَرَجْتُ فِي لَيْلَةٍ مَطِيرَةٍ، فَلَمَّا رَجَعْتُ اسْتَفْتَحْتُ، فَقَالَ أَبِي: مَنْ هَذَا؟، قَالَ: أَبُو الْمَلِيحِ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَأَصَابَتْنَا سَمَاءٌ لَمْ تَبُلَّ أَسَافِلَ نِعَالِنَا، فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ .
It was narrated that Abu Malih said:
“I went out on a rainy night (for congregational prayer), and when I came back I asked for the door to be opened. My father said: ‘Who is this?’ I said: ‘Abu Malih.’ He said: ‘We were with the Messenger of Allah (ﷺ) at Hudaybiyah and it rained a little, such that the soles of our sandals did not get wet. The announcer of the Messenger of Allah (ﷺ) called out: ‘Perform your prayer at your camps.’”
ابوملیح کہتے ہیں کہ میں بارش والی رات میں ( گھر سے ) نکلا، جب واپس آیا تو میں نے دروازہ کھلوایا، میرے والد ( اسامہ بن عمیر ھذلی رضی اللہ عنہ ) نے اندر سے پوچھا: کون؟ میں نے جواب دیا: ابوالملیح، انہوں نے کہا: ہم نے دیکھا کہ ہم حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، اور بارش ہونے لگی اور ہمارے جوتوں کے تلے بھی نہ بھیگے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا: «صلوا في رحالكم» اپنے اپنے ٹھکانوں پر نماز پڑھ لو ۱؎۔
Takhreej
سنن ابی داود/الصلاة ۲۱۳ (۱۰۵۷، ۱۰۵۸)، سنن النسائی/الإمامة ۵۱ (۸۵۵)، (تحفة الأشراف: ۱۳۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۷۴، ۷۵)
Explanation
نبی اکرم ﷺ نے جماعت میں حاضر ہونا معاف کر دیا تاکہ لوگوں کو تکلیف نہ ہو
936
Sahih