TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1700 - وتر کے سلسلے میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ کے اختلاف کا بیان۔ - The book of qiyam al-lail (the night prayer) and voluntary prayers during the day - Sunnan Nisai in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 3 in this chapter
وتر کے سلسلے میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ کے اختلاف کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زُبَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ بِثَلَاثِ رَكَعَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏كَانَ يَقْرَأُ فِي الْأُولَى بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَفِي الثَّانِيَةِ بِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَفِي الثَّالِثَةِ بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَيَقْنُتُ قَبْلَ الرُّكُوعِ،‏‏‏‏ فَإِذَا فَرَغَ قَالَ عِنْدَ فَرَاغِهِ:‏‏‏‏ سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ يُطِيلُ فِي آخِرِهِنَّ .
It was narrated from Ubayy bin Ka'b that: The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray witr with three rak'ahs. In the first he would recite: Glorify the Name of Your Lord, the Most High in the second: Say: O you disbelievers! , and in the third: Say: He is Allah, (the) One . And he would say the Qunut before bowing, and when he finished he would say: Subhanal-Malikil-Quddus (Glory be to the Sovereign, the Most Holy) three times, elongating the words the last time.
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر تین رکعت پڑھتے تھے، پہلی رکعت میں «سبح اسم ربك الأعلى‏» دوسری رکعت میں«قل يا أيها الكافرون» اور تیسری میں «قل هو اللہ أحد» پڑھتے، اور دعائے قنوت رکوع سے پہلے پڑھتے، پھر جب  ( وتر سے )  فارغ ہو جاتے تو فراغت کے وقت تین بار: «سبحان الملك القدوس» کہتے، اور ان کے آخر میں کھینچتے۔
1700
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 1699 In-book reference : Book 20, Hadith 102 English translation : Vol. 2, Book 20, Hadith 1700
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1700
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة ۳۳۹ (۱۴۲۳) (وعندہ ’’قل للذین کفروا‘‘ و ’’اللہ الواحد الصمد‘‘)، ۳۴۱ (۱۴۳۰) سنن ابن ماجہ/الإقامة ۱۱۵ (۱۱۷۱)، (تحفة الأشراف: ۵۴، ۵۵)، مسند احمد ۵/۱۲۳، ویأتی عند المؤلف بأرقام: ۱۷۰۱، ۱۷۰۲، ۱۷۳۰، ۱۷۳۱ (صحیح)

Related Chapters

176
1
وتر کے سلسلے میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کی حدیث میں حبیب بن ابی ثابت پر اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
2
وتر کے سلسلے میں سعید بن جبیر کی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی حدیث میں ابواسحاق سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
3
وتر کے سلسلے میں ابوایوب رضی اللہ عنہ کی حدیث میں زہری سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
4
باب: مہینے میں دس دن کا روزہ اور اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
5
باب: سونے کے بدلے چاندی اور چاندی کے بدلے سونا لینے کا بیان اور اس سلسلے میں ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ میں اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
6
باب: اس سلسلے میں سہل کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ میں اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
7
پانچ رکعت وتر کیسے پڑھی جائے ؟ اور وتر کی حدیث کے سلسلے میں حکم سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
8
جو فرض کے علاوہ دن رات میں بارہ رکعتیں پڑھے اس کے ثواب کا بیان اور اس سلسلے میں ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر، اور عطا پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
9
باب: روزہ دار کی فضیلت کے سلسلے میں ابوامامہ رضی الله عنہ والی حدیث میں محمد بن ابی یعقوب پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
10
باب: ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن افطار کرنے کا بیان اور اس سلسلہ میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
11
باب: روزہ میں زیادتی و کمی کا بیان اور اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
12
باب: ہر مہینے تین روزے کس طرح رکھے؟ اس سلسلے کی حدیث کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
13
باب: میراث کی تقسیم سے پہلے قرض کی ادائیگی کا بیان اور اس سلسلہ میں جابر رضی الله عنہ کی حدیث کے ناقلین کے اختلاف الفاظ کا ذکر۔
Sunnan Nisai
14
باب: اس حدیث کے الفاظ میں عبداللہ بن دینار پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
15
باب: اس حدیث میں عمرہ سے روایت کرنے میں ابوبکر بن محمد اور عبداللہ بن ابی بکر کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
16
روایت ِ حدیث میں محتاط رہنے اور الفاظ کو اسی طرح عمدگی کے ساتھ ادا کرنے کا بیان، جیسے وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے صادر ہوئے
Musnad Ahmad
17
وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
Musnad Ahmad
18
نماز کی فرضیت اور اس سلسلے میں انس بن مالک کی حدیث کی سند میں راویوں کے اختلاف اور اس (کے متن) میں ان کے لفظی اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
19
عصر کے پہلے سنت پڑھنے کا بیان اور اس سلسلے میں ابواسحاق سبیعی سے رواۃ حدیث کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
20
اللہ کے نبی موسیٰ علیہ السلام کی نماز کا بیان اور سلیمان التیمی سے اس حدیث کی روایت میں راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
21
شب بیداری کے سلسلے میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت میں راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
22
باب: اس حدیث میں عبیداللہ بن عمر سے روایت میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
23
باب: عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی حدیث میں عمرو بن دینار پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
24
باب: ابوسلمہ کی حدیث میں یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کرنے میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
25
باب: اس حدیث میں عبدالملک بن ابی سلیمان پر راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
26
باب: سحری میں تاخیر سے متعلق عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث میں سلیمان بن مہران اعمش پر راویوں اور ان کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
27
باب: اس حدیث میں ابوسلمہ سے روایت کرنے میں یحییٰ بن ابی کثیر اور محمد بن عمرو پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
28
باب: اس سلسلہ میں عائشہ رضی الله عنہا کی روایت کے ناقلین کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
29
باب: اس حدیث میں یحییٰ بن ابی کثیر اور نضر بن شیبان کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
30
باب: روزے کی فضیلت اور اس سلسلے میں علی رضی الله عنہ کی حدیث کے بارے میں ابواسحاق سبیعی پر راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
31
باب: اس حدیث میں معاویہ بن سلام اور علی بن المبارک کے یحییٰ بن ابی کثیر پر اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
32
باب: سفر میں روزہ رکھنے کا بیان اور اس باب میں عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی حدیث کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
33
باب: اس باب میں حفصہ رضی الله عنہا کی حدیث کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
34
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم (میرے باپ ماں آپ پر فدا ہوں) کا روزہ اور اس سلسلہ میں ناقلین حدیث کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
35
باب: صیام الدھر (ہمیشہ روزہ رکھنے) کی ممانعت، اور اس سلسلہ کی حدیث میں مطرف بن عبداللہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
36
باب: دو دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کا بیان اور اس سلسلہ میں ناقلین حدیث کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
37
باب: عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی حدیث میں سفیان پر رواۃ کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
38
باب: عطیہ و ہبہ (بخشش) کے سلسلہ میں نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کی حدیث کے ناقلین کے سیاق کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
39
باب: اس باب میں عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی حدیث میں اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
40
باب: عمریٰ سے متعلق جابر رضی الله عنہ کی حدیث کے رواۃ کے الفاظ میں اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
41
باب: اس حدیث میں ابوسلمہ سے روایت میں یحییٰ بن ابی کثیر اور محمد بن عمرو کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
42
باب: زمین کو تہائی یا چوتھائی پر بٹائی دینے کی ممانعت کے سلسلے کی مختلف احادیث اور ان کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
43
باب: سب سے بڑے گناہ کا بیان (واصل عن ابی وائل عن عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی سفیان سے روایت کرنے میں یحییٰ اور عبدالرحمٰن کے اختلاف کا ذکر)۔
Sunnan Nisai
44
باب: حمید کی انس بن مالک رضی الله عنہ سے مروی حدیث میں ناقلین کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
45
باب: نافع کی حدیث کے الفاظ میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
46
باب: دانت کاٹ لینے کا قصاص اور اس بابت عمران بن حصین رضی الله عنہ کی حدیث میں راویوں کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
47
باب: اس حدیث میں عطاء بن ابی رباح کے تلامذہ کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
48
باب: دیت کے سلسلے میں عمرو بن حزم کی حدیث کا ذکر اور اس کے راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
49
باب: گودوانے والی عورتوں کا بیان اور اس حدیث کی روایت میں عبداللہ بن مرہ اور شعبی کے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
50
باب: حدیث مذکور میں یحییٰ بن ابی کثیر کے شاگردوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

162
Jam e Tirmazi
463
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْنَا عَائِشَةَ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يُوتِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْأُولَى بِ:‏‏‏‏ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَفِي الثَّانِيَةِ بِ:‏‏‏‏ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَفِي الثَّالِثَةِ بِ:‏‏‏‏ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَعَبْدُ الْعَزِيزِ هَذَا هُوَ وَالِدُ ابْنِ جُرَيْجٍ صَاحِبِ عَطَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ جُرَيْجٍ اسْمُهُ:‏‏‏‏ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
Abdul-Aziz bin Juraij said: I asked Aishah about what (recitation) Allah's Messenger would perform Al-Witr with. She said: 'In the first he would recite: Glorify the Name of your Lord the Most High, in the second: Say: O you disbelievers!, and in the third: Say: Allah is One and, Al-Mu'awwidhatain.'
عبدالعزیز بن جریج کہتے ہیں کہ ہم نے عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں کیا پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: پہلی رکعت میں «‏سبح اسم ربك الأعلى»،‏‏‏‏ دوسری میں «‏قل يا أيها الكافرون‏»،‏‏‏‏ اور تیسری میں «‏قل هو الله أحد» اور معوذتین ۱؎ پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہ عبدالعزیز راوی اثر عطاء کے شاگرد ابن جریج کے والد ہیں، اور ابن جریج کا نام عبدالملک بن عبدالعزیز بن جریج ہے، ۳- یحییٰ بن سعید انصاری نے یہ حدیث بطریق: «عمرة عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے۔
Jam e Tirmazi
1482
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ،‏‏‏‏ عَنْ سُفْيَانَ،‏‏‏‏ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ قَتَلَ وَزَغَةً بِالضَّرْبَةِ الْأُولَى،‏‏‏‏ كَانَ لَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً،‏‏‏‏ فَإِنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّانِيَةِ،‏‏‏‏ كَانَ لَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً،‏‏‏‏ فَإِنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّالِثَةِ،‏‏‏‏ كَانَ لَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ وَسَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأُمِّ شَرِيكٍ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever kills a gecko in one strike, he has such and such reward, and if he kills it on the second strike, he will have such and such reward, and if he kills it on the third strike, then he has such and such reward.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چھپکلی ۱؎ کو پہلی چوٹ میں مارے گا اس کو اتنا ثواب ہو گا، اگر اس کو دوسری چوٹ میں مارے گا تو اس کو اتنا ثواب ہو گا اور اگر اس کو تیسری چوٹ میں مارے گا تو اس کو اتنا ثواب ہو گا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود، سعد، عائشہ اور ام شریک سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Mishkat
1269
وَعَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: سَأَلْنَا عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يُوتِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: كَانَ يَقْرَأُ فِي الْأُولَى بِ (سَبِّحِ اسْم رَبك الْأَعْلَى) وَفِي الثَّانِيَةِ بِ (قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ) وَفَى الثَّالِثَةِ بِ (قُلْ هُوَ اللَّهُ أحد) والمعوذتين وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
عبدالعزیز بن جریج ؒ بیان کرتے ہیں ، ہم نے عائشہ ؓ سے دریافت کیا ، رسول اللہ ﷺ وتر میں کون سی سورتیں پڑھا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : آپ پہلی رکعت میں ، الاعلی ، دوسری میں الکافرون اور تیسری میں الاخلاص اور معوذتین پڑھا کرتے تھے ۔ ضعیف ۔
Sunnan Ibn e Maja
1173
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ‏‏‏‏‏‏ وَأَبُو يُوسُفَ الرَّقِّيُّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الصَّيْدَلَانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْخُصَيْفٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْنَا عَائِشَةَ:‏‏‏‏ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يُوتِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى:‏‏‏‏ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَفِي الثَّانِيَةِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَفِي الثَّالِثَةِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَ الْمُعَوِّذَتَيْنِ .
It was narrated that ‘Abdul-‘Aziz bin Juraij said: “We asked ‘Aishah what the Messenger of Allah (ﷺ) used to recite in Witr. She said: ‘He used to recite: “Glorify the Name of your Lord the Most High,” [Al-A’la (87)] in the first Rak’ah, ‘Say: “O disbelievers!’” [Al- Kafirun (109)] in the second Rak’ah, and ‘Say: Allah is One’ in the third and the Mu’awwidhatain (Chapter 113, 114).’”
عبدالعزیز بن جریج کہتے ہیں کہ ہم نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں کون سی سورتیں پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت میں: «سبح اسم ربك الأعلى»دوسری میں«قل يا أيها الكافرون»اور تیسری میں «قل هو الله أحد» اور معوذتین پڑھتے تھے ۱؎۔
Sunnan Nisai
1701
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنَ الْوِتْرِ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَفِي الثَّانِيَةِ بِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَفِي الثَّالِثَةِ بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ.
It was narrated that Ubayy bin Ka'b said: In the first rak'ah of witr, the Messenger of Allah (ﷺ) used to recite: GLorify the Name of your Lord, the Most High; in the second; Say: O you disbelievers! and in the third; Say: He is Allah, (the) One.
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی پہلی رکعت میں «سبح اسم ربك الأعلى‏» دوسری رکعت میں «قل يا أيها الكافرون» اور تیسری میں «قل هو اللہ أحد» پڑھتے۔
Sunnan Nisai
1702
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَزْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْوِتْرِ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَفِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ بِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَفِي الثَّالِثَةِ بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَلَا يُسَلِّمُ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ،‏‏‏‏ وَيَقُولُ:‏‏‏‏ يَعْنِي بَعْدَ التَّسْلِيمِ سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ثَلَاثًا .
It was narrated that Ubayy bin Ka'b said: The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite: Glorify the Name of Your Lord, the Most High; in witr, in the second rak'ah he would recite: Say: O you disbelievers! ; and in the third Say: He is Allah, (the) One . And he only said the taslim at the end, and he would say- meaning after the taslim: Subhanal-Malikil-Quddus (Glory be to the Sovereign, the Most Holy)' three times.
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں  ( پہلی رکعت میں )  «سبح اسم ربك الأعلى‏» دوسری رکعت میں «قل يا أيها الكافرون» اور تیسری میں «قل هو اللہ أحد» پڑھتے، اور ان کے بالکل آخر ہی میں سلام پھیرتے، اور تین بار: «سبحان الملك القدوس» کہتے ( یعنی سلام پھیرنے کے بعد ) ۔
Sunnan Nisai
1703
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ يَقْرَأُ فِي الْأُولَى بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَفِي الثَّانِيَةِ بِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَفِي الثَّالِثَةِ بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ، ‏‏‏‏‏‏أَوْقَفَهُ زُهَيْرٌ.
Zakariyya bin Abi Za'idah narrated from Abu Ishaq, from Sa'id bin Jubair, that Ibn Abbas said: The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray witr with three rak'ahs. In the first he would recite Glorify the Name of Your Lord, the Most High; in the second: Say: O You disbelievers! and in the third: Say: He is Allah, (the) One.'
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعت وتر پڑھتے، پہلی میں «سبح اسم ربك الأعلى‏» دوسری میں «قل يا أيها الكافرون» اور تیسری میں «قل هو اللہ أحد» پڑھتے۔ زہیر نے اسے موقوفاً روایت کیا ہے،  ( ان کی روایت اس کے بعد آ رہی ہے ) ۔
Sunnan Nisai
1753
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زُبَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ذَرٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ و هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ثَلَاثًا يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ:‏‏‏‏ أَبُو نُعَيْمٍ أَثْبَتُ عِنْدَنَا مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ وَمِنْ قَاسِمِ بْنِ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَثْبَتُ أَصْحَابِ سُفْيَانَ عِنْدَنَا وَاللَّهُ أَعْلَمُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَبُو نُعَيْمٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ الْأَسْوَدُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ،‏‏‏‏ وَرَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زُبَيْدٍ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ يَمُدُّ صَوْتَهُ فِي الثَّالِثَةِ وَيَرْفَعُ.
It was narrated from Ibn Abdur-Rahman bin Abza that his father said: The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite in witr: Glorify the Name of Your Lord, the Most High;' and Say: O you disbelievers!'; and 'Say: He is Allah, (the) One. And after he had said the salam, he would say: Subhanal-Malikil-Quddus (Glory be to the Sovereign, the Most Holy) three times, raising his voice with it.
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے، اور جب واپس ہونے کا ارادہ کرتے تو «سبحان الملك القدوس» تین مرتبہ کہتے، اور اس کے ذریعہ اپنی آواز بلند کرتے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ابونعیم ہمارے نزدیک محمد بن عبید اور قاسم بن یزید سے زیادہ ثقہ ہیں، اور ہمارے نزدیک سفیان ثوری کے تلامذہ میں سب سے زیادہ معتبر یحییٰ بن سعید قطان ہیں، پھر عبداللہ بن مبارک، پھر وکیع بن جراح، پھر عبدالرحمٰن بن مہدی، پھر ابونعیم، پھر اسود ہیں، واللہ اعلم، نیز اسے جریر بن حازم نے زبید سے روایت کیا، تو انہوں نے کہا کہ آپ تیسری بار میں اپنی آواز کھینچتے اور بلند کرتے تھے،  ( جریر کی روایت آگے آ رہی ہے ) ۔
Jam e Tirmazi
462
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْوِتْرِ بِ:‏‏‏‏ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏وقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، ‏‏‏‏‏‏وقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فِي رَكْعَةٍ رَكْعَةٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَيُرْوَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَرَأَ فِي الْوِتْرِ فِي الرَّكْعَةِ الثَّالِثَةِ بِ:‏‏‏‏ الْمُعَوِّذَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالَّذِي اخْتَارَهُ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ أَنْ يَقْرَأَ بِ:‏‏‏‏ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏وقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، ‏‏‏‏‏‏وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ يَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ مِنْ ذَلِكَ بِسُورَةٍ.
Ibn Abbas narrated: Allah's Messenger would recite during Al-Witr: Glorify the Name of your Lord the Most High' and, 'Say: O you disbelievers!' and, 'Say: Allah is One,' in each Rak'ah.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «‏سبح اسم ربك الأعلى»،‏‏‏‏ «‏قل يا أيها الكافرون‏» اور «‏قل هو الله أحد» تینوں کو ایک ایک رکعت میں پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں علی، عائشہ اور عبدالرحمٰن بن ابزیٰ ( رضی الله عنہم ) جنہوں نے ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت کی ہے، بھی احادیث آئی ہیں، اور اسے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے بغیر ابی کے واسطے کے براہ راست نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی روایت کیا جاتا ہے، ۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ وتر میں تیسری رکعت میں معوذتین اور «قل هو الله أحد» پڑھتے تھے، ۳- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم نے جس بات کو پسند کیا ہے، وہ یہ ہے کہ «‏سبح اسم ربك الأعلى»،‏‏‏‏ «‏قل يا أيها الكافرون‏» اور «‏قل هو الله أحد» تینوں میں سے ایک ایک ہر رکعت میں پڑھتے۔