TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2758 - باب: تلبیہ کب پکاریں؟ - The book of hajj - Sunnan Nisai in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 4 of 7 in this chapter
باب: تلبیہ کب پکاریں؟
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمٍ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ:‏‏‏‏ بَيْدَاؤُكُمْ هَذِهِ الَّتِي تَكْذِبُونَ فِيهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ .
It was narrated from Salim that he heard his father say: This baida' of yours where you are telling lies about the Messenger of Allah; the Messenger of Allah never began the Talbiyah except from the Masjid at Dhul-Hulaifah.
سالم سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا: تمہارا یہ بیداء وہی ہے جس کے تعلق سے تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط بات منسوب کرتے ہو ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( بیداء سے نہیں ) ذوالحلیفہ کی مسجد ہی سے تلبیہ پکارا ہے ۲؎۔
2758
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 2757 In-book reference : Book 24, Hadith 0 English translation : Vol. 3, Book 24, Hadith 2758
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2757
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج۲۰ (۱۵۴۱)، صحیح مسلم/الحج۴ (۱۱۸۶)، سنن ابی داود/الحج۲۱ (۱۷۷۱)، سنن الترمذی/الحج۸ (۸۱۸)، (تحفة الأشراف: ۷۰۲۰)، موطا امام مالک/الحج ۹ (۳۰)، مسند احمد (۲/۱۰، ۲۸، ۶۶، ۸۵، ۱۱۱، ۱۵۴)
Explanation
شرح و تفصیل
وضاحت: ۱؎ : واقع کے خلاف خبر دینے کو جھوٹ کہتے ہیں، خواہ یہ عمداً ہو یا کسی غلط فہمی اور سہو کی وجہ سے ہو، ابن عمر رضی الله عنہما نے انہیں جھوٹا اس اعتبار سے کہا ہے کہ انہیں غلط فہمی ہوئی ہے نہ اس اعتبار سے کہ انہوں نے عمداً جھوٹ کہا ہے۔ ۲؎ : اس مسئلہ میں صحابہ میں اختلاف ہے بعض کا کہنا ہے کہ آپ نے احرام ذو الحلیفہ میں احرام کی دونوں رکعتوں کے پڑھنے کے بعد مسجد میں ہی تلبیہ پکارنا شروع کیا تھا اور بعض کا کہنا ہے کہ جس وقت آپ سواری پر سیدھے بیٹھے اس وقت آپ نے تلبیہ پکارا، اور بعض کا کہنا ہے کہ سواری جس وقت آپ کو لے کر کھڑی ہوئی اس وقت آپ نے تلبیہ پکارنا شروع کیا، اس اختلاف کی وجہ ہے کہ لوگ مختلف وقتوں میں الگ الگ مختلف ٹکڑوں میں آپ کے پاس آ رہے تھے تو لوگوں نے جہاں آپ کو تلبیہ پکارتے سنا یہی سمجھا کہ آپ نے یہیں سے تلبیہ شروع کیا ہے، حالانکہ آپ نے تلبیہ پکارنے کی شروعات وہیں کر دی تھی جہاں آپ نے احرام کی دونوں رکعتیں پڑھی تھیں، پھر جب اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ نے تلبیہ پکارا، پھر بیداء کی اونچائی پر چڑھتے وقت آپ نے تلبیہ پکارا۔

Related Chapters

37
1
باب: میقات کے اندر رہنے والے تلبیہ کہاں سے پکاریں گے؟
Sunnan Nisai
2
Chapter: What Was Been Related About the Talbiyah
باب: تلبیہ کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The Talbiyah And the Nahr (Sacrifice)
باب: تلبیہ اور نحر (قربانی) کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About Raising The Voice With The Talbiyah
باب: تلبیہ میں آواز بلند کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About Discontinuing The Talbiyah During Hajj
باب: حج میں تلبیہ پکارنا کب بند کیا جائے؟
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About Discontinuing The Talbiyah During Umrah
باب: عمرہ میں تلبیہ پکارنا کب بند کیا جائے؟
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About The One Who Says The Talbiyah For Hajj But He Suffers A Fracture Or Becomes Lame
باب: جو حج کا تلبیہ پکار رہا ہو پھر اس کا کوئی عضو ٹوٹ جائے یا وہ لنگڑا ہو جائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
8
بَاب الْإِحْرَام والتلبية
احرام و تلبیہ کا بیان
Mishkat
9
صحابہ کرام کا اس بارے میں اختلاف کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کس جگہ سے تلبیہ پڑھا تھا
Musnad Ahmad
10
تلبیہ اور اس کی کیفیت اور احکام کا بیان تلبیہ کے الفاظ اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
11
تلبیہ کا حکم اور اسے بآواز بلند پکارنا
Musnad Ahmad
12
تلبیہ کے دورانیہ اور نمازوں کے بعد تلبیہ پکارنے کا بیان
Musnad Ahmad
13
عرفہ کی طرف جاتے ہوئے تلبیہ اور تکبیر کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
14
مشعرِ حرام یعنی مزدلفہ میں وقوف کرنے اور اس کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک کے مسائل کا بیان مزدلفہ میں وقوف، اس کے آداب، وہاں سے منی کی طرف روانگی کے وقت، اور جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ جاری رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
15
(26) CHAPTER. The Talbiya.
تلبیہ کا بیان
Sahih Bukhari
16
Chapter: The Talbiyah, its description and timing
تلبیہ ‘اس کا طریقہ اور وقت
Sahih Muslim
17
Chapter: It is recommended for the pilgrim to continue reciting the Talbiyah until he starts stoning Jamrat Al-'Aqabah on the day of sacrifice
قربانی کے دن جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے (کے وقت )تک حاجی کے لیے مسلسل تلبیہ پکارنا مستحب ہے
Sahih Muslim
18
Chapter: The Talbiyah and the Takbir when going from Mina to 'Arafat on the day of 'Arafat
عرفہ کے دن منیٰ سے عرفات جاتے ہوئے تلبیہ اور تکبیرات کہنا
Sahih Muslim
19
Chapter: It Is Recommend To Lower One's Voice When Saying Remembrance, Except In The Cases Where It Is Commanded To Raise The Voice Such As The Talbiyah Etc. It Is Recommend To Say A Great Deal, There Is No Power And No Strength Except With Allah
ذکر میں آواز دھیمی رکھنا مستحب ہے، سوائے ان مقامات کے جہاں شریعت میں اس کے لیے آواز بلند کرنے کا حکم وارد ہوا ہے، مثلا: تلبیہ (حج) وغیرہ اور لا حول ولا قوة الا بالله کثرت سے کہنا مستحب ہے
Sahih Muslim
20
CHAPTER: The Woman Entering Ihram For Hajj During Her Menses.
باب: حائضہ عورت حج کا تلبیہ پکارے اور احرام باندھ لے ۔
Sunnan Abu Dawood
21
CHAPTER: The Procedure Of The Talbiyah.
باب: تلبیہ ( لبیک کہنے ) کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
22
CHAPTER: When Should The One Performing ’Umrah Discontinue The Talbiyah?
باب: عمرہ کرنے والا تلبیہ کب بند کرے ؟
Sunnan Abu Dawood
23
CHAPTER: Regarding The Menstruating Women Who Entered Ihram For ’Umrah, But Then Caught The Time Of Hajj, So.
باب: عمرے کے احرام میں عورت کو حیض آ جائے پھر حج کا وقت آ جائے تو وہ عمرے کو چھوڑ کر حج کا تلبیہ پکارے ، کیا اس پر عمرے کی قضاء لازم ہو گی ؟
Sunnan Abu Dawood
24
نفاس اور حیض والی عورتیں حج کا تلبیہ پکار سکتی ہیں
Sunnan Ibn e Maja
25
احرام باندھنے اور (تلبیہ پکارنے) کا بیان۔
Sunnan Ibn e Maja
26
جس نے بیت المقدس سے عمرے کا تلبیہ پکارا اس کی دلیل کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
27
باب: تلبیہ پکارنے کے لیے غسل کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
28
باب: تلبیہ کہتے وقت حج یا عمرے کا نام نہ لینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
29
باب: دوسرے کی نیت پر نیت کر کے محرم حج کا تلبیہ پکارے۔
Sunnan Nisai
30
باب: جب عمرہ کا تلبیہ پکارے تو کیا اس کے ساتھ حج بھی کر سکتا ہے؟
Sunnan Nisai
31
باب: تلبیہ کس طرح پکارا جائے؟
Sunnan Nisai
32
باب: بلند آواز سے تلبیہ پکارنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
33
باب: نفاس والی عورت کے تلبیہ پکارنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
34
باب: عمرہ کا تلبیہ پکارنے والی عورت کو حیض آ جائے اور اسے حج کے فوت ہو جانے کا ڈر ہو تو وہ کیا کرے؟
Sunnan Nisai
35
باب: عرفات جاتے ہوئے تلبیہ پکارنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
36
باب: عرفہ میں تلبیہ پکارنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
37
باب: محرم جب جمرہ عقبہ کی رمی کر چکے تو تلبیہ پکارنا بند کر دے۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

141
Sahih Muslim
2816
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: بَيْدَاؤُكُمْ هَذِهِ الَّتِي تَكْذِبُونَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا «مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا مِنْ عِنْدِ الْمَسْجِدِ» يَعْنِي ذَا الْحُلَيْفَةِ
Salim b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported that he heard his father saying: This place Baida' is for you that about which you attribute lie to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). And the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) did not enter upon the state of Ihram but near the mosque at Dhu'l- Hulaifa.
یحییٰ بن یحییٰ نے حدیث بیان کی کہا میں نے مالک کے سامنے قراءت کی انھوں نے موسیٰ بن عقبہ سے اور انھوں نے سالم بن عبد اللہ سے روایت کی کہ انھوں نے اپنے والد ( عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے سنا انھوں نے فر ما یا : یہ تمھا را چٹیل میدا ن بيداءوہ مقام ہے جس کے حوالے سے تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں غلط بیا نی کرتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اور جگہ سے نہیں مگر مسجد کے قریب ( یعنی ذوالحلیفہ ) ہی سے احرا م باندھا تھا ۔
Sunnan Abu Dawood
1771
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَيْدَاؤُكُمْ هَذِهِ الَّتِي تَكْذِبُونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ عِنْدِ الْمَسْجِدِ، ‏‏‏‏‏‏يَعْنِي مَسْجِدَ ذِي الْحُلَيْفَةِ .
Ibn Umar said this is your al-Baida’ about which you ascribe falsehood to the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم. He did not raise his voice in talbiyah but from the masjid, i. e. the mosque of Dhu al-Hulaifah.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ یہی وہ بیداء کا مقام ہے جس کے بارے میں تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غلط بیان کرتے ہو کہ آپ نے تو مسجد یعنی ذی الحلیفہ کی مسجد کے پاس ہی سے تلبیہ کہا تھا۔
Jam e Tirmazi
546
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، سمعا أنس بن مالك، قَالَ:‏‏‏‏ صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَبِذِي الْحُلَيْفَةِ الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Anas bin Malik narrated: We prayed Zuhr as four with the Prophet in Al-Madinah, and Asr as two Rak'ah in Dhil-Hulaifah.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں چار رکعتیں پڑھیں ۱؎ اور ذی الحلیفہ ۲؎ میں دو رکعتیں پڑھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Sunnan Nisai
478
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، ‏‏‏‏‏‏وَصَلَّى الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ .
It was narrated from Anas bin Malik that the Prophet (ﷺ) prayed Zuhr in Al-Madinah, four Rak'ahs, and he prayed 'Asr in Dhul-Hulaifah, two Rak'ahs
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر کی نماز چار رکعت، اور ذوالحلیفہ میں نماز عصر دو رکعت پڑھی۔
Sahih Muslim
2803
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ، وَقُتَيْبَةُ، جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: وَقَّتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ، ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ، قَرْنَ الْمَنَازِلِ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ، يَلَمْلَمَ، قَالَ: «فَهُنَّ لَهُنَّ، وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ، مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، فَمَنْ كَانَ دُونَهُنَّ فَمِنْ أَهْلِهِ، وَكَذَا فَكَذَلِكَ، حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ يُهِلُّونَ مِنْهَا»
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) specified Dhu'l-Hulaifa, for the people of Medina; Juhfa for the people of Syria; Qarn al-Manazil, for the people of Najd; Yalamlam for the people of Yemen (the Mawaqit) and those (Mawaqit) are also meant for those who live at these (places) and for those too who come from without towards them for the sake of Hajj or 'Umra. And those who live within them (within the bounds of these places) or in the suburbs of Mecca or within Mecca, they should enter upon the state of Ihram at these very places.
عمرو بن دینا ر نے طاوس سے ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ شام والوں کے لیے جحفہ نجد والوں کے لیے قرن المنازل اور یمن والو ں کے لیے یلملم کو میقات مقرر کیا اور فر ما یا : " یہ ( چاروں میقات ) ان جگہوں ( پر رہنے والے ) اور وہاں نہ رہنے والے ۔ وہاں تک پہنچنے والے ایسے لوگوں کے لیے ہیں جو حج اور عمرے کا ارادہ کریں اور جوان ( مقامات ) کے اندر ہو وہ اپنے گھر ہی سے احرام باندھ لے جو اس سے زیادہ حرم کے قریب ہو وہ اسی طرح کرے حتی کہ مکہ والے مکہ ہی سے احرا م باندھیں
Sahih Muslim
2805
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ، مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَأَهْلُ الشَّامِ، مِنَ الْجُحْفَةِ، وَأَهْلُ نَجْدٍ، مِنْ قَرْنٍ» قَالَ عَبْدُ اللهِ: وَبَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ»
Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: The people of Medina should enter upon the state of Ihram at Dhu'l-Hulaifa, and people of Syria at Juhfa, and people of Najd at Qarn (al-Manazil), and 'Abdullah (further) said: It has reached me that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) also caid: The people of Yemen should enter upon the state of Ihram at Yalamlam.
نافع نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" مدینہ والے ذوالحلیفہ سے شام والے جحفہ سے اور نجد والے قرن المنازل سے ( احرام باند ھ کر ) تلبیہ کہیں ۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : مجھے یہ بات بھی پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" یمن والے یلملم سے ( احرام باندھ کر ) تلبیہ کہں ۔
Sahih Muslim
2812
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، وَنَافِعٍ، مَوْلَى عَبْدِ اللهِ، وَحَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ، إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ قَائِمَةً عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ، أَهَلَّ فَقَالَ: «لَبَّيْكَ اللهُمَّ، لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ، وَالنِّعْمَةَ، لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ» قَالُوا: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: هَذِهِ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَافِعٌ: كَانَ عَبْدُ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَزِيدُ مَعَ هَذَا: «لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ، وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ لَبَّيْكَ، وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ»
Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) entered upon the state of Ihram near the mosque at Dhu'l-Hulaifa as his camel stood by it and he said: Here I am at Thy service, O Lord; here I am at Thy service: here I am at Thy service. There is no associate with Thee. Here I am at Thy service. All praise and grace is due to Thee and the sovereignty (too). There is no associate with Thee. They (the people) said that 'Abdullah b. 'Umar said that that was the Talbiya of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). Nafi' said: 'Abdullah (Allah be pleased with him) made this addition to it: Here I am at Thy service; here I am at Thy service; ready to obey Thee. The Good is in Thy Hand. Here I am at Thy service. Unto Thee is the petition and deed (is also for Thee).
موسیٰ بن عقبہ نے سالم بن عبد اللہ بن عمر اور حضرت عبد اللہ کے مولیٰ نافع اور حمزہ بن عبد اللہ کے واسطے سے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری جب آپ کو لے کر مسجد ذوالحلیفہ کے پاس سیدھی کھڑی ہو جا تی تو آپ تلبیہ پکا رتے اور کہتے : "" میں بار بار حاضر ہوں ۔ اے اللہ ! میں تیرے حضور حاضر ہوں میں حاضرہوں یقیناً تمام تعریفیں اور ساری نعمتیں تیری ہیں اور ساری بادشاہت بھی تیری ہے ( کسی بھی چیز میں تیرا کو ئی شریک نہیں ۔ ( سالم نا فع اور حمزہ نے ) کہا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا کرتے تھے کہ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ ہے ۔ نافع نے کہا کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان ( مذکورہ بالا ) کلما ت کے ساتھ ان الفاظ کاا ضافہ کرتے : "" میں تیرے سامنے حاضر ہوں حاضر ہوں تیری اطاعت کی ایک کے بعد دوسری سعادت ( حاصل کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہوں ) اور ہر قسم کی خیر تیرے دو نوں ہاتھوں میں ہے اے اللہ !میں تیرے حضور حاضر ہوں ۔ ( ہر دم ) تجھی سے مانگنے کی رغبت ہے اور تمام عمل ( تیری رضا کے لیے ہیں )
Sahih Muslim
3282
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ، فَصَلَّى بِهَا»، «وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ»
Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with them) reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) made (his camel) kneel down (i, e. halt at the stony ground of Dhu'l-Hulaifa) and prayed there, and so did Abdullah b. Umar (Allah be pleased with them).
امام مالک ؒ نے نافع سے ، انھوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارانی پانی کی سنگریزوں اور ریت والی گزرگاہ ( بطحاء ) میں جو ذوالحلیفہ میں ہے ، اونٹنی کو بٹھایا اوروہاں نماز ادا کی ۔ ( نافع نے ) کہا : عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسی طرح کیا کرتے تھے ۔
Sahih Muslim
3283
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ الْمِصْرِيُّ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: «كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُنِيخُ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ، الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنِيخُ بِهَا، وَيُصَلِّي بِهَا»
Nafi' reported that 'Abdullah b. Umar (Allah be pleased with them) used to halt his camel in the stony ground at Dhu'l-Hulaifa, where Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to make a halt (and pray).
لیث نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی ، انھوں نےکہا : حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس ر یتلی پتھریلی وادی میں اونٹ کو بٹھاتے جو ذوالحلیفہ میں ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹنی کو بٹھاتے تھے اور نماز ادا کرتے ۔