تلبیہ کا حکم اور اسے بآواز بلند پکارنا - تلبیہ کا حکم اور اسے بآواز بلند پکارنا - احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Chapter 13 of احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اے آل محمد! تم میں سے جو کوئی حج کرے تو اسے چاہیے کہ وہ تلبیہ کہے۔
۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں عرفہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ انار کھا رہے تھے، انہوںنے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفہ میں روزہ نہیں رکھا تھا، سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں دودھ بھیجا تھا ، جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوش فرما لیا تھا، پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: اللہ تعالی فلاں آدمی پر لعنت کرے،انہوں نے ایام حج میں سے سب سے زیادہ عظمت والے دن کی طرف قصد کیا اور اس کی زینت کو مٹا ڈالا، حج کی زینت تلبیہ ہے۔
فوائد: …ممکن ہے کہ یہ ملعون عرب کا کوئی مشرک ہو، ایام حج سے مراد وہ دن ہیں، جن میں تلبیہ کہا جاتا ہے، اگلے باب میں ان کی وضاحت کی جائے گی۔ زینت کو مٹانے کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں: (۱) تلبیہ کے کلمات کو کلی طور پر ترک کر دیا تھا، (۲) تلبیہ میں شرکیہ الفاظ داخل کر دیئے تھے، صحیح مسلم کی روایت کے مطابق وہ یوں تلبیہ کہتے تھے: ’’لَبَّیْکَ،لَا شَرِیْکَ لَکَ اِلَّا شَرِیْکًا تَمْلِکُہُ وَمَا مَلَکَ۔‘‘
۔ سیدنا سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور انہوںنے کہا: آپ انپے صحابہ کو حکم دیں کہ وہ تلبیہ پکارتے وقت آواز بلند رکھیں۔
۔ (دوسری سند) سیدنا سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور انہوں نے مجھے کہا کہ میں اپنے صحابہ یا ساتھیوں کو یہ حکم دوں کہ وہ بلند آواز سے تلبیہ پکاریں۔
۔ سیدنا سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: آپ بہت زیادہ تلبیہ کہنے والے اور بہت زیادہ جانوروں کے خون بہانے والے ہو جائیں۔ عَجّ کے معانی تلبیہ کے اور ثَجّ کے معانی اونٹوں کو نحر کرنے کے ہیں۔
۔ سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور کہا: اے محمد! آپ اپنے صحابہ کو حکم دیں کہ وہ بلند آواز سے تلبیہ پکاریں، کیونکہیہدین کے شعائر اورعلامات میں سے ہے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام نے مجھے بلند آواز سے تلبیہ پکارنے کا حکم دیا ہے، کیونکہیہ حج کے شعائر اور علامات میں سے ہے۔
Takhreej
(۴۲۳۵) تخریج: متن الحدیث صحیح من حدیث زیدبن خالد الجھنی، فقد اخطأ اسامۃ بن زید فی ھذا الحدیث، فجعلہ من حدیث ابی ھریرۃ۔ أخرجہ ابن خزیمۃ: ۲۶۳۰، والحاکم: ۱/ ۴۵۰، والبیھقی: ۵/ ۴۲ (انظر: ۸۳۱۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حضرت جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھ سے کہا کہ میں بلند آواز سے تلبیہ پکاروں۔
Takhreej
(۴۲۳۶) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۲۹۵۰)
Explanation
فوائد: …ان تمام احادیث کا تقاضا یہ ہے کہ تلبیہ بآواز بلند پڑھا جائے، اگرچہ جمہور نے ان اوامر کو استحباب پر محمول کیا ہے۔