TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

تلبیہ کا حکم اور اسے بآواز بلند پکارنا - تلبیہ کا حکم اور اسے بآواز بلند پکارنا - احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 13 of احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 13 of 22 · 8 Hadith
۔ (۴۲۲۹) عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یَا آلَ مُحَمَّدٍ! مَنْ حَجَّ مِنْکُمْ فَلْیُہِلَّ فِی حَجِّہِ أَوْ حَجَّتِہِ۔)) شَکَّ أَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ۔ (مسند احمد: ۲۷۲۲۸)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اے آل محمد! تم میں سے جو کوئی حج کرے تو اسے چاہیے کہ وہ تلبیہ کہے۔
Takhreej
(۴۲۲۹) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ ابن حبان: ۳۹۲۰، وابویعلی: ۷۰۱۱، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۳/ ۷۹۱ (انظر: ۲۶۶۹۳)
4229
Sahih
۔ (۴۲۳۰) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ: أَتَیْتُ عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بِعَرَفَۃَ وَہُوَ یَأْکُلُ رُمَّانًا، فَقَالَ: أَفْطَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِعَرَفَۃَ وَقَدْ بَعَثَتْ إِلَیْہِ أُمُّ الْفَضْلِ بِلَبَنٍ فَشَرِبَہُ، وَقَالَ: لَعَنَ اللّٰہُ فُلَانًا، عَمَدُوْا إِلٰی أَعْظَمِ أَیَّامِ الْحَجِّ، فَمَحَوْا زِیْنَتَہُ، وَإِنَّمَا زِیْنَۃُ الْحَجِّ التَّلْبِیَۃُ۔ (مسند احمد: ۱۸۷۰)
۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں عرفہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ انار کھا رہے تھے، انہوںنے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرفہ میں روزہ نہیں رکھا تھا، سیدہ ام فضل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں دودھ بھیجا تھا ، جسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نوش فرما لیا تھا، پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا: اللہ تعالی فلاں آدمی پر لعنت کرے،انہوں نے ایام حج میں سے سب سے زیادہ عظمت والے دن کی طرف قصد کیا اور اس کی زینت کو مٹا ڈالا، حج کی زینت تلبیہ ہے۔
Takhreej
(۴۲۳۰) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ النسائی فی ’’الکبری‘‘: ۲۸۱۵(انظر: ۱۸۷۰)
Explanation
فوائد: …ممکن ہے کہ یہ ملعون عرب کا کوئی مشرک ہو، ایام حج سے مراد وہ دن ہیں، جن میں تلبیہ کہا جاتا ہے، اگلے باب میں ان کی وضاحت کی جائے گی۔ زینت کو مٹانے کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں: (۱) تلبیہ کے کلمات کو کلی طور پر ترک کر دیا تھا، (۲) تلبیہ میں شرکیہ الفاظ داخل کر دیئے تھے، صحیح مسلم کی روایت کے مطابق وہ یوں تلبیہ کہتے تھے: ’’لَبَّیْکَ،لَا شَرِیْکَ لَکَ اِلَّا شَرِیْکًا تَمْلِکُہُ وَمَا مَلَکَ۔‘‘
4230
Sahih
۔ (۴۲۳۱)عَنْ خَلَاَّدِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ خَلَاَّدٍ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَتَانِی جِبْرِیْلُ علیہ السلام فَقَالَ: مُرْ أَصْحَابَکَ فَلْیَرْفَعُوْا أَصْوَاتَہُمْ بِالْإِہْلَالِ)) (مسند احمد: ۱۶۶۷۲)
۔ سیدنا سائب بن خلاد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور انہوںنے کہا: آپ انپے صحابہ کو حکم دیں کہ وہ تلبیہ پکارتے وقت آواز بلند رکھیں۔
Takhreej
(۴۲۳۱) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۸۱۴، والترمذی: ۸۲۹، والنسائی: ۵/ ۱۶۲، وابن ماجہ: ۲۹۲۲(انظر: ۱۶۵۵۷/۱)
4231
Sahih
۔ (۴۲۳۲) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِیْہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ: أَتَانِی جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ فَقَالَ: أَنْ آمُرَ أَصْحَابِی أَوْ مَنْ مَعِیَ أَنْ یَرْفَعُوْا أَصْوَاتَہُمْ بِألتَّلْبِیَۃِ، أَوْ لْإِہْلَالِ یُرِیْدُ أَحْدَہُمَا۔ (مسند احمد: ۱۶۶۸۳)
۔ (دوسری سند) سیدنا سائب بن خلاد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور انہوں نے مجھے کہا کہ میں اپنے صحابہ یا ساتھیوں کو یہ حکم دوں کہ وہ بلند آواز سے تلبیہ پکاریں۔
Takhreej
(۴۲۳۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
4232
Sahih
۔ (۴۲۳۳)عَنِ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌أَنَّ جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: کُنْ عَجَّابًا ثَجَّاجًا، وَالْعَجُّ التَّلْبِیَۃُ، وَالثَّجُّ نَحْرُ الْبُدْنِ۔ (مسند احمد: ۱۶۶۸۲)
۔ سیدنا سائب بن خلاد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: آپ بہت زیادہ تلبیہ کہنے والے اور بہت زیادہ جانوروں کے خون بہانے والے ہو جائیں۔ عَجّ کے معانی تلبیہ کے اور ثَجّ کے معانی اونٹوں کو نحر کرنے کے ہیں۔
Takhreej
(۴۲۳۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
4233
Sahih
۔ (۴۲۳۴) عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((جَائَ نِی جِبْرِیْلُ علیہ السلام فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! مُرْ أَصْحَابَکَ فَلْیَرْفَعُوْا أَصْوَاتَہُمْ بِالتَّلْبِیَۃِ، فَإِنَّہَا مِنْ شَعَائِرِ الدِّیْنِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۱۸)
۔ سیدنا زید بن خالد جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور کہا: اے محمد! آپ اپنے صحابہ کو حکم دیں کہ وہ بلند آواز سے تلبیہ پکاریں، کیونکہیہدین کے شعائر اورعلامات میں سے ہے۔
Takhreej
(۴۲۳۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
4234
Sahih
۔ (۴۲۳۵)عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمَرَنِیْ جِبْرِیْلُ بِرَفْعِ الصَّوْتِ فِیْ الْإِہْلَالِ فَإِنَّہُ مِنْ شَعَائِرِ الْحَجِّ۔)) (مسند احمد: ۸۲۹۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام نے مجھے بلند آواز سے تلبیہ پکارنے کا حکم دیا ہے، کیونکہیہ حج کے شعائر اور علامات میں سے ہے۔
Takhreej
(۴۲۳۵) تخریج: متن الحدیث صحیح من حدیث زیدبن خالد الجھنی، فقد اخطأ اسامۃ بن زید فی ھذا الحدیث، فجعلہ من حدیث ابی ھریرۃ۔ أخرجہ ابن خزیمۃ: ۲۶۳۰، والحاکم: ۱/ ۴۵۰، والبیھقی: ۵/ ۴۲ (انظر: ۸۳۱۴)
4235
Sahih
۔ (۴۲۳۵)عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمَرَنِیْ جِبْرِیْلُ بِرَفْعِ الصَّوْتِ فِیْ الْإِہْلَالِ فَإِنَّہُ مِنْ شَعَائِرِ الْحَجِّ۔)) (مسند احمد: ۸۲۹۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حضرت جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھ سے کہا کہ میں بلند آواز سے تلبیہ پکاروں۔
Takhreej
(۴۲۳۶) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۲۹۵۰)
Explanation
فوائد: …ان تمام احادیث کا تقاضا یہ ہے کہ تلبیہ بآواز بلند پڑھا جائے، اگرچہ جمہور نے ان اوامر کو استحباب پر محمول کیا ہے۔
4236
Sahih

Chapters

22
01
مواقیت ِاحرام کے مقامات کا بیان
13 Hadith
02
صحابہ کرام کا اس بارے میں اختلاف کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کس جگہ سے تلبیہ پڑھا تھا
5 Hadith
03
احرام کا ارادہ کرنے والے کا غسل کرنا اور خوشبو لگانا
8 Hadith
04
حیض اور نفاس والی عورتیں احرام سے پہلے اور اس کے بعد کیا کریں، ان امور کا بیان
5 Hadith
05
احرام میں شرط لگانے کا بیان
6 Hadith
06
مطلق طور پر احرام باندھنے والے یا اس شخص کا بیان جو یہ کہے: میں نے وہ احرام باندھا جو فلاں نے باندھا
2 Hadith
07
حج تمتع، حج افراد اور حج قران میں سے کوئی ایک ادا کر لینے کا اختیار دینے کا بیان
4 Hadith
08
… حج افراد کا بیان
5 Hadith
09
حج قران کا بیان
12 Hadith
10
حج تمتع کا بیان
18 Hadith
11
حج کے مہینوں میں عمرہ کی ادائیگی کے جائز ہونے اور کسی رکاوٹ کی بنا پر احرام کھول دینے کا بیان
4 Hadith
12
تلبیہ اور اس کی کیفیت اور احکام کا بیان تلبیہ کے الفاظ اور اس کی فضیلت کا بیان
9 Hadith
13
تلبیہ کا حکم اور اسے بآواز بلند پکارنا
8 Hadith
14
تلبیہ کے دورانیہ اور نمازوں کے بعد تلبیہ پکارنے کا بیان
7 Hadith
15
محرم کے لئے جائز اور ناجائز امور کا بیان محرم کا سلے ہوئے کپڑے اتار دینے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ کون سے کپڑے اور خوشبو اس کے لیے ناجائز ہے
15 Hadith
16
محرم کے لیے سینگی لگوانے، سرمہ لگانے اور سر دھونے کا بیان
8 Hadith
17
احرام کی حالت میں گرمی وغیرہ سے بچنے کے لئے سایہ کرنے، مرد کا سر کو اور عورت کا چہرہ کو ڈھانپنے اور محرم کا اپنے خادم کو مارنے کا بیان
5 Hadith
18
سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی حدیث اور اس کے متعدد طرق کا بیان
8 Hadith
19
احرام کی حالت میں نکاح کرنے یا کروانے یا نکاح کا پیغام بھیجنے کا بیان
8 Hadith
20
محرم کے لئے خشکی کا شکار کرنے اور اس کو کھانے کے حرام ہونے کا بیان
7 Hadith
21
اس امر کا بیان کہ اگر محرم نہ تو خود شکار کرے اور نہ اس کی خاطر کیا جائے تو اس کے لیے اس کا کھانا جائز ہو گا
11 Hadith
22
ان حیوانات کا بیان، جن کو حرم کی حدود کے اندر اور باہر قتل کرنا محرم کے لئے جائز ہے
10 Hadith
No chapter matched that.