TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مواقیت ِاحرام کے مقامات کا بیان - مواقیت ِاحرام کے مقامات کا بیان - احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 22 · 13 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۴۱۳۸) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: وَقَّتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِأَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ ذَا الْحُلَیْفَۃِ وَلِأَہْلِ الشَّامِ الْجُحْفَۃَ، وَلِأَہْلِ الْیَمَنِیَلَمْلَمَ وَلِأَھْلِ نَجْدٍ قَرْنًا، وَقَالَ: ((وَہُنَّ وَقْتٌ لِاَہْلِہِنَّ، وَلِمَنْ مَرَّ بِہِنَّ مِنْ غَیْرِ أَہْلِہِنَّ، یُرِیْدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ، فَمَنْ کَانَ مَنْزِلُہُ مِنْ وَرَائِ الْمِیْقَاتِ، فَإِہْلَالُہُ مِنْ حَیْثُیُنْشِیئُ وَکَذٰلِکَ، حَتّٰی أَہْلُ مَکَّۃَ إِہْلَالُہُمْ مِنْ حَیْثُیُنْشِئُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۲۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، شام والوں کے لئے حجفہ، اہل یمن کے لئے یلملم اور اہل نجد کے لئے قرن المنازل کو بطورِ میقات مقرر کیا اور فرمایا: یہ مواقیت ان مقامات کے لوگوں کے لئے ہیں اور ان لوگوں کے لئے ہیںجو ان مواقیت سے گزر کر حج یا عمرہ کے لئے آئیں اور جس آدمی کی قیام گاہ ان حدود کے اندرہے، وہ جہاں سے روانہ ہو گا وہی اس کا میقات ہو گا، یہاں تک کہ مکہ والے لوگ مکہ ہی سے احرام باندھیں گے۔
Takhreej
(۴۱۳۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۵۲۶، ۱۵۲۹، ومسلم: ۱۱۸۱(انظر: ۲۱۲۸)
4138
Sahih
۔ (۴۱۳۹) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ، بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) ((فَمَنْ کَانَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِکَ فَمِنْ حَیْثُ أَنْشأَ، حَتّٰی أَہْلُ مَکَّۃَ مِنْ مَکَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۲)
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: اور جو لوگ اس میقات کی حد کے اندررہتے ہیں، وہ جہاں سے سفر شروع کریں گے، وہیں سے احرام باندھیں گے، یہاں تک کہ مکہ والے لوگ مکہ ہی سے احرام باندھیں گے۔
Takhreej
(۴۱۳۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
4139
Sahih
۔ (۴۱۴۰) عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ أَیْنَیُحْرِمُ؟ قَالَ: ((مُہَلُّ أَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ مِنْ ذِیْ الْحُلَیْفَۃِ، وَمُہَلُّ أَہْلِ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَۃِ، وَمُہَلُّ أَہْلِ الْیَمَنِ مِنْ یَلَمْلَمَ، وَمُہَلُّ أَہْلِ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ۔)) وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ وَقَاسَ النَّاسُ ذَاتَ عِرْقٍ بِقَرْنٍ۔ (مسند احمد: ۴۴۵۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ وہ کہاں سے احرام باندھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ، اہل یمن کے لئے یلملم اور اہل نجد کے لئے قرن المنازل میقات ہے۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ لوگوں نے ذات عرق کو قرن المنازل پر قیاس کر لیا ہے۔
Takhreej
(۴۱۴۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۵۲۲، ۱۵۲۵، ومسلم: ۱۱۸۲(انظر: ۴۴۵۵)
4140
Sahih
۔ (۴۱۴۱) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِیْنَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: وَقَّتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِأَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ ذَا الْحُلَیْفَۃِ، وَلِأَہْلِ نَجْدٍ قَرْنًا، وَلِأَہْلِ الشَّامِ الْجُحْفَۃَ، وَقَالَ: ہٰؤُلَائِ الثَّلَاثُ حَفِظْتُہُنَّ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَحُدِّثْتُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((وَلِأَہْلِ الْیَمَنِیَلَمْلَمَ۔)) فَقِیْلَ لَہُ: اَلْعِرَاقُ؟ قَالَ: لَمْ یَکُنْیَوْمَئِذٍ عِرَاقٌ۔ (مسند احمد: ۵۱۱۱)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ، اہلِ نجد کے لیے قرن اور اہلِ شام کے لیے جحفہ کو میقات مقرر کیا ہے، پھر سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ تین مقامات تو میں نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یادکیے اور مجھے یہ بھی بیان کیا گیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اہلِ یمن کے لیےیلملم ہے۔ کسی نے ان سے پوچھا:اور اہل عراق کا میقات؟ انھوں نے کہا: ان دنوں عراق کا وجود ہی نہــ تھا۔
Takhreej
(۴۱۴۱) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد: …سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کا مقصد یہ ہے کہ ان دنوں عراق فتح نہیں ہوا تھا، دراصل جس حدیث میں عراق کے میقات کی وضاحت کی گئی ہے، وہ ان کے علم میں نہیں تھی،یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ذات عرق کو لوگوں کے اندازے کا نتیجہ قرار دیا۔ حالانکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود ذات عرق کو عراق کا میقات قرار دیا تھا، جیسا کہ اگلی حدیث سے معلوم ہو رہا ہے، اگر فتح نہ ہونے والا نقطہ سامنے لایا جائے تو عہد ِ نبوی میں شام بھی فتح نہیں ہوا تھا، جبکہ اس کے میقات کا تعین تو کر دیا گیا تھا۔
4141
Sahih
۔ (۴۱۴۲) عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ أَخْبَرْنِی أَبُوْالزُّبَیْرِ أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ یُسْأَلُ عَنِ الْمُہَلِّ، فَقَالَ: سَمِعْتُ ثُمَّ انْتَہٰی، أُرَاہُ یُرِیْدُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مُہَلُّ أَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ مِنْ ذِی الْحُلَیْفَۃِ وَالطَّرِیْقُ الْأُخْرٰی الْجُحْفَۃُ، وَمُہَلُّ أَہْلِ الْعِرَاقِ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ،وَمُہَلُّ أَہْلِ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ وَمُہَلُّ أَہْلِ الْیَمَنِ مِنْ یَلَمْلَمَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۲۶)
۔ ابوزبیر کہتے ہیں:سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ان مقامات کے بارے میں پوچھا گیا، جہاں سے تلبیہ کہا جاتا ہے، انھوںنے کہا: میں نے سنا ہے، پھر وہ خاموش ہو گئے، میرا خیال ہے کہ ان کی مراد نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اہل مدینہ کا میقات ایک راستے سے ذوالحلیفہ ہے اور دوسرے سے حجفہ،اہل عراق کا میقات ذات عرق، اہل نجد کا قرن المنازل اور اہل یمن کا میقاتیلملم ہے۔
Takhreej
(۴۱۴۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۱۸۳(انظر: ۱۴۵۷۲)
4142
Sahih
۔ (۴۱۴۳) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ لَہِیْعَۃَ ثَنَا أَبُوْ الزَّبَیْرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الْمُہَلِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مُہَلُّ أَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ مِنْ ذِی الْحُلَیْفَۃِ،)) فَذَکَرَہُ بِاللَّفْظِ الْمُتَقَدِّمِ۔ (مسند احمد: ۱۴۶۷۰)
۔ (دوسری سند) ابوزبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے میقات کے بارے میں پوچھا تو انہوںنے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اہل مدینہ کا میقات ذوالحلیفہ ہے، …۔ پھر سابقہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔
Takhreej
(۴۱۴۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
4143
Sahih
۔ (۴۱۴۴) عَنْ عَمْرِوْ بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: وَقَّتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِأَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ ذَالْحُلَیْفَۃِ، وَلِاَہْلِ الشَّامِ الْجُحْفَۃَ، وَلِأَہْلِ الْیَمَنِ وَأَہْلِ تِہَامَۃَیَلَمْلَمَ، وَلِأَہْلِ الطَّائِفِ وَہِیَ نَجْدٌ قَرْنًا، وَلأَِہْلِ الْعِرَاقِ ذَاتَ عِرْقٍ۔ (مسند احمد: ۶۶۹۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے حجفہ، اہل یمن اور اہل تہامہ کے لئے یلملم اور اہل طائف یعنی نجد والوں کے لئے قرن اور اہل عراق کے لئے ذات عرق کو بطورِ میقات مقرر کیا۔
Takhreej
(۴۱۴۴) تخریج: حدیث صحیح، دون ذکر میقات اھل العراق فشاذ، وھذا اسناد ضعیف لتدلیس الحجاج بن ارطاۃ۔ أخرجہ البیھقی: ۵/ ۲۸(انظر: ۶۶۹۷)
4144
Sahih
۔ (۴۱۴۵)عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: وَقَّتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِأَہْلِ الْمَشْرِقِ الْعَقِیْقَ۔ (مسند احمد: ۳۲۰۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اہل مشرق کے لئے عقیق کو میقات مقرر کیاہے۔
Takhreej
(۴۱۴۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف یزید بن ابی زیاد۔ أخرجہ ابوداود: ۱۷۴۰، والترمذی: ۸۳۲(انظر: ۳۲۰۵)
Explanation
فوائد: …اہل مشرق سے مراد کوفہ، بغداد، خوزستان، فارس، عراق اور خراسان ان سے متعلقہ علاقے کے لوگ ہیں۔ذات عرق سے پیچھے مشرق کی طرف ایک وادی کا نام عقیق ہے۔
4145
Sahih
۔ (۴۱۴۶) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَّتَ لِأَہْلِ نَجْدٍ قَرْنًا۔ (مسند احمد: ۱۶۲۲۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اہل نجد کے لئے قرن المنازل کو میقات مقرر کیا ہے۔
Takhreej
(۴۱۴۶) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۱۶۱۲۶)
4146
Sahih
۔ (۴۱۴۷) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ صَعْصَعَۃَ عَنْ أُمِّّ حَکِیْمٍ السُّلَمِیَّۃِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَحْرَمَ مِنْ بَیْتِ الْمَقْدِسِ غَفَرَ اللّٰہُ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۹۲)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے بیت المقدس سے احرام باندھا، اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کر دے گا۔
Takhreej
(۴۱۴۷) اسنادہ ضعیف لجھالۃ حال ام حکیم حکیمۃ بنت امیۃ ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۷۴۱، وابن ماجہ: ۳۰۰۱ (انظر: ۲۶۵۵۷)
4147
Zaeef
۔ (۴۱۴۸) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ یَحْیَ بْنِ أَبِیْ سُفْیَانَ الْأَخْنَسِیِّ عَنْ أُمِّہِ أُمِّ حَکِیْمِ اِبْنَۃِ أُمَیَّۃَ بْنِ الْأَخْنَسِ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ أَہَلَّ مِنَ الْمَسْجِدِ الْاَقَصیٰ بِعُمْرَۃٍ أَوْ بِحَجَّۃٍ غَفَرَ اللّٰہُ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ۔)) قَالَ: فَرَکِبَتْ أُمُّ حَکِیْمٍ عِنْدَ ذٰلِکَ الْحَدِیْثِ إِلٰی بَیْتِ الْمَقْدِسِ حَتّٰی أَہَلَّتْ بِعُمْرَۃٍ۔ (مسند احمد: ۲۷۰۹۳)
۔ (دوسری سند) سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے مسجد اقصیٰ سے عمرہ یا حج کا احرام باندھا، اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کر دے گا۔ یہ حدیث سن کر ام حکیم نے بیت المقدس کے لیے روانہ ہو گئیں اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ کر آئیں۔
Takhreej
(۴۱۴۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد: …یہ روایات ضعیف ہیں، مسجد ِ اقصی کا حج و عمرہ کے احرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
4148
Zaeef
۔ (۴۱۴۹)عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِرْحَلْ ہٰذِہِ النَّاقَۃَ، ثُمَّ أَرْدِفْ أُخْتَکَ فَإِذَا ہَبَطْتُّمَا مِنْ أَکَمَۃِ التَّنْعِیْمِ فَاَھِلَّا وَاَقْبِلا۔)) وَذٰلِکَ لَیْلَۃَ الصَّدَرِ۔ (مسند احمد: ۱۷۰۹)
۔ سیدناعبدالرحمن بن ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس اونٹنی پر سوار ہو جاؤ اوراپنی بہن عائشہ کو اپنے پیچھے بٹھا لو، پھر جب تم تنعیم کے ٹیلے سے اترو تو احرام باندھ لو اور (عمرہ کے لیے) آ جاؤ۔ یہ روانگی والی رات کی بات تھی۔
Takhreej
(۴۱۴۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۷۸۴، ۲۹۸۵، ومسلم: ۱۲۱۲(انظر: ۱۷۰۹)
4149
Sahih
۔ (۴۱۵۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)، بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: ((فَإِذَا ہَبَطْتَّ بِہَا مِنَ الْأَکَمَۃِ فَلْتُحْرِمْ فَإِنَّہَا عُمْرَۃٌ مُتَقَبَّلَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۰)
۔ (دوسری سند) یہ حدیث بھی سابق حدیث کی مانند ہے، البتہ اس میں ہے: جب تم تنعیم کے ٹیلے سے اترو تو عائشہ احرام باندھ لے، پس بیشکیہ عمرہ مقبول ہو گا۔
Takhreej
(۴۱۵۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد: …حج و عمرہ کے مکانی مواقیت کا ذکر اس باب میں کیا گیا ہے، مسئلہ بالکل واضح ہے کہ جو آدمی ان مواقیت کے اندر رہتا ہے، وہ اپنی رہائش گاہ سے احرام باندھ لے گا اور جو ان مواقیت سے باہر رہتا ہے، وہ احرام کے ساتھ ان کو عبور کرے گا۔ رہا مسئلہ زمانی مواقیت کا تو عمرہ کے لیے تو ہر وقت احرام باندھا جا سکتا ہے، لیکن حج کے لیے صرف حج والے مہینوں میں احرام باندھا جائے گا۔
4150
Sahih

Chapters

22
01
مواقیت ِاحرام کے مقامات کا بیان
13 Hadith
02
صحابہ کرام کا اس بارے میں اختلاف کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کس جگہ سے تلبیہ پڑھا تھا
5 Hadith
03
احرام کا ارادہ کرنے والے کا غسل کرنا اور خوشبو لگانا
8 Hadith
04
حیض اور نفاس والی عورتیں احرام سے پہلے اور اس کے بعد کیا کریں، ان امور کا بیان
5 Hadith
05
احرام میں شرط لگانے کا بیان
6 Hadith
06
مطلق طور پر احرام باندھنے والے یا اس شخص کا بیان جو یہ کہے: میں نے وہ احرام باندھا جو فلاں نے باندھا
2 Hadith
07
حج تمتع، حج افراد اور حج قران میں سے کوئی ایک ادا کر لینے کا اختیار دینے کا بیان
4 Hadith
08
… حج افراد کا بیان
5 Hadith
09
حج قران کا بیان
12 Hadith
10
حج تمتع کا بیان
18 Hadith
11
حج کے مہینوں میں عمرہ کی ادائیگی کے جائز ہونے اور کسی رکاوٹ کی بنا پر احرام کھول دینے کا بیان
4 Hadith
12
تلبیہ اور اس کی کیفیت اور احکام کا بیان تلبیہ کے الفاظ اور اس کی فضیلت کا بیان
9 Hadith
13
تلبیہ کا حکم اور اسے بآواز بلند پکارنا
8 Hadith
14
تلبیہ کے دورانیہ اور نمازوں کے بعد تلبیہ پکارنے کا بیان
7 Hadith
15
محرم کے لئے جائز اور ناجائز امور کا بیان محرم کا سلے ہوئے کپڑے اتار دینے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ کون سے کپڑے اور خوشبو اس کے لیے ناجائز ہے
15 Hadith
16
محرم کے لیے سینگی لگوانے، سرمہ لگانے اور سر دھونے کا بیان
8 Hadith
17
احرام کی حالت میں گرمی وغیرہ سے بچنے کے لئے سایہ کرنے، مرد کا سر کو اور عورت کا چہرہ کو ڈھانپنے اور محرم کا اپنے خادم کو مارنے کا بیان
5 Hadith
18
سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی حدیث اور اس کے متعدد طرق کا بیان
8 Hadith
19
احرام کی حالت میں نکاح کرنے یا کروانے یا نکاح کا پیغام بھیجنے کا بیان
8 Hadith
20
محرم کے لئے خشکی کا شکار کرنے اور اس کو کھانے کے حرام ہونے کا بیان
7 Hadith
21
اس امر کا بیان کہ اگر محرم نہ تو خود شکار کرے اور نہ اس کی خاطر کیا جائے تو اس کے لیے اس کا کھانا جائز ہو گا
11 Hadith
22
ان حیوانات کا بیان، جن کو حرم کی حدود کے اندر اور باہر قتل کرنا محرم کے لئے جائز ہے
10 Hadith
No chapter matched that.