TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مطلق طور پر احرام باندھنے والے یا اس شخص کا بیان جو یہ کہے: میں نے وہ احرام باندھا جو فلاں نے باندھا - مطلق طور پر احرام باندھنے والے یا اس شخص کا بیان جو یہ کہے: میں نے وہ احرام باندھا جو فلاں نے باندھا - احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 6 of احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 6 of 22 · 2 Hadith
۔ (۴۱۷۵) عَنْ أَبِی مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: بَعَثَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی أَرْضِ قَوْمِی، فَلَمَّا حَضَرَ الْحَجُّ حَجَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَحَجَجْتُ فَقَدِمْتُ عَلَیْہِ وَہُوَ نَازِلٌ بِالأَبْطَحِ، فَقَالَ لِی: ((بِمَ أَہْلَلْتَ یَا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ قَیْسٍ؟)) قَالَ: قُلْتُ: لَبَّیْکَ بِحَجٍّ کَحَجِّ رَسُوْل اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: ((أَحْسَنْتَ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((ہَلْ سُقْتَ ہَدْیًا؟)) فَقُلْتُ: مَا فَعَلْتُ، فَقَالَ لِی: ((اِذْہَبْ فَطُفْ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ ثُمَّ احْلِلْ۔)) فَانْطَلَقْتُ فَفَعَلْتُ مَا أَمَرَنِی، وَأَتَیْتُ امْرَاۃً مِنْ قَوْمِی، فَغَسَلَتْ رَأْسِی بِالْخِطْمِیِّ وَفَلَتْہُ ثُمَّ أَہْلَلْتُ بِالْحَجِّ یَوْمَ الرَّوِیَۃِ، فَمَا زِلْتُ أُفْتِی النَّاسَ بِالَّذِیْ أَمَرَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ حَتّٰی تُوُفِّیَ، ثُمَّ زَمَنَ أَبِی بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، ثُمَّ زَمَنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَبَیْنَا أَنَا قَائِمٌ عِنْدَ الْحَجَرِ اْلأَسْوَدِ أَوِ الْمَقَامِ ، أُفْتِی النَّاسَ بِالَّذِی أَمَرَنِی بِہٖرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذْ أَتَانِی رَجُلٌ فَسَارَّنِی فَقَالَ: لَا تَعْجَلْ بِفُتْیَاکَ، فَإِنَّ أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ قَدْ أَحْدَثَ فِیْ الْمَنَاسِکِ شَیْئًا، فَقُلْتُ: أَیُّہَا النَّاسَ! مَنْ کُنَّا أَفْتَیْنَاہُ فِیْ الْمَنَاسِکِ شَیْئًا، فَلْیتََّئِدْ، فَإِنَّ أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ قَادِمٌ فِیْہِ فَأْتَمُّوْا، قَالَ: فَقَدِمِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقُلْتُ: یاَ أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! ہَلْ أَحْدَثْتَ فِیْ الْمَنَاسِکِ شَیْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنْ نَأْخُذْ بِکِتَابِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فَإِنَّہُ یَأْمُرُ بِالتَّمَامِ (وَفِیْ لَفْظٍ فَإِنَّ اللّٰہَ تَعَالیٰ قَالَ: {وَأَتِمُّوْا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ}) وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّۃِ نَبِیِّنَا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَإِنَّہُ لَمْ یَحْلِلْ حَتّٰی نَحَرَ الْہَدْیَ۔ (مسند احمد: ۱۹۷۳۴)
۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے میری قوم کی طرف (یمن کے علاقہ میں) عامل بنا کر روانہ کیا، جب حج کا موسم آیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حج کے لئے روانہ ہوئے تو میں بھی حج کا ارادہ کرکے آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے میری ملاقات ابطح وادی میں ہوئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے پوچھا: اے عبد اللہ بن قیس!تم نے کیسے احرام باندھا ہے؟ یعنی کن الفاظ کے ساتھ نیت کی ہے؟میں نے کہا: میں نے کہا تھاکہ میں اس حج کے لیے حاضر ہوں، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حج ہے۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے بہت اچھا کیا۔ پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تم قربانی کا جانور ہمراہ لائے ہو؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر جاؤ اوربیت اللہ کا طواف کرکے صفا مروہ کی سعی کرو اور احرام کھول دو۔ پس میں گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم کے مطابق عمل کیا، اس کے بعد میں اپنی قوم کی ایک خاتون کے پاس گیا، انہوں خطمی بوٹی کے ساتھ میرا سر دھویا اور اس سے جووئیں تلاش کیں ، اس کے بعد آٹھ ذوالحجہ کو میں نے حج کا احرام باندھا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے جو کچھ فرمایا تھا، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات تک اسی طرح لوگوں کو فتوے دیتا رہا، بعد ازاںعہد صدیقی اور عہدفاروقی میں بھییہ سلسلہ جاری رہا، اچانک ایک دن میں حجر اسود یا مقام ابراہیم کے پاس کھڑا یہی بات بیان کر رہا تھا کہ ایک آدمی میرے قریب آیا اور اس نے آہستہ سے مجھے کہا: تم فتویٰ دینے میں جلدی نہ کرو، امیر المومنین سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مناسک ِ حج کے متعلق ایک نیا حکم جاری کیا ہے، میں نے بآواز بلند کہا: لوگو! ہم نے مناسک کے بارے میں جس کسی کو فتویٰ دیا ہے وہ ذرا رک جائے، امیر المومنین تشریف لانے والے ہیں، تم ان کی اقتدا کرنا، وہ جیسے کہیں گے، ویسے کرنا، جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لے آئے تو میں نے ان سے کہا: اے امیر المومنین! کیا آپ نے مناسک ِ حج کے متعلق کوئی نیا حکم جاری کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، بات یہ ہے کہ اگر ہم کتاب اللہ پر عمل کریں تو وہ ہمیں حج و عمرہ کو مکمل کرنے کا حکم دیتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {وَأَتِمُّوْا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ}( تم حج و عمرہ کو اللہ تعالی کے لئے پورا کرو) (سورۂ بقرۃ:۱۹۶) اوراگر ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت پر عمل کریں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی جانور ذبح کرنے کے بعد احرام کھولا تھا۔
Takhreej
(۴۱۷۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۵۵۹، ۴۳۴۶، ومسلم: ۱۲۲۱، ۱۲۲۲(انظر: ۱۹۵۰۵)
4175
Sahih
۔ (۴۱۷۶) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِعَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: ((بِمَ أَہْلَلْتَ؟)) قَالَ: قُلْتُ: اَللّٰہُمَّ إِنِّی أُہِلُّ بِمَا أَہَلَّ بِہِ رَسُوْلُکَ، قَالَ: ((وَمَعِی الْہَدْیُ۔)) قَالَ: ((فَلَا تَحِلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۹۳)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا: تم نے تلبیہ کس طرح پڑھا تھا؟ انہوں نے کہا: میں نے کہا تھا: اے اللہ! میں وہی احرام باندھ رہا ہوں، جو تیرے رسول نے باندھا ہے۔ پھر انھوں نے کہا: میرے پاس ہَدِی کا جانور بھی ہے، آ پ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تم حلال نہیں ہو سکتے۔
Takhreej
(۴۱۷۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۲۱۸(انظر: ۱۴۴۴۰)
Explanation
فوائد:… چونکہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کے پاس ہدی تھی، اس لیے وہ حلال نہ ہو سکے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے طریقۂ حج کے سارے احکام ان پر لاگو ہو گئے، جبکہ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کے پاس ہدی کا جانور نہیں تھا، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ عمرہ کر کے حلال ہو جائیں اور آٹھ ذوالحجہ کو از سرِ نو حج کا احرام باندھیں گے، اس طرح وہ حج تمتع ادا کریں گے۔ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ تلبیہ کو معلق طور پر بھی ذکر کیا جا سکتا ہے، پھر اگر وہ محرِم متعلقہ آدمی کے احکام پر پورا نہ اترتا ہو تو وہ شریعت کے دوسرے احکام کے مطابق تبدیلی کر لے گا، جیسے جب سیدنا ابو موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے احرام کا مصداق نہیں بن سکتے تھے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ اس احرام میں عمرہ ادا کر کے حلال ہو جائیں۔
4176
Sahih

Chapters

22
01
مواقیت ِاحرام کے مقامات کا بیان
13 Hadith
02
صحابہ کرام کا اس بارے میں اختلاف کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کس جگہ سے تلبیہ پڑھا تھا
5 Hadith
03
احرام کا ارادہ کرنے والے کا غسل کرنا اور خوشبو لگانا
8 Hadith
04
حیض اور نفاس والی عورتیں احرام سے پہلے اور اس کے بعد کیا کریں، ان امور کا بیان
5 Hadith
05
احرام میں شرط لگانے کا بیان
6 Hadith
06
مطلق طور پر احرام باندھنے والے یا اس شخص کا بیان جو یہ کہے: میں نے وہ احرام باندھا جو فلاں نے باندھا
2 Hadith
07
حج تمتع، حج افراد اور حج قران میں سے کوئی ایک ادا کر لینے کا اختیار دینے کا بیان
4 Hadith
08
… حج افراد کا بیان
5 Hadith
09
حج قران کا بیان
12 Hadith
10
حج تمتع کا بیان
18 Hadith
11
حج کے مہینوں میں عمرہ کی ادائیگی کے جائز ہونے اور کسی رکاوٹ کی بنا پر احرام کھول دینے کا بیان
4 Hadith
12
تلبیہ اور اس کی کیفیت اور احکام کا بیان تلبیہ کے الفاظ اور اس کی فضیلت کا بیان
9 Hadith
13
تلبیہ کا حکم اور اسے بآواز بلند پکارنا
8 Hadith
14
تلبیہ کے دورانیہ اور نمازوں کے بعد تلبیہ پکارنے کا بیان
7 Hadith
15
محرم کے لئے جائز اور ناجائز امور کا بیان محرم کا سلے ہوئے کپڑے اتار دینے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ کون سے کپڑے اور خوشبو اس کے لیے ناجائز ہے
15 Hadith
16
محرم کے لیے سینگی لگوانے، سرمہ لگانے اور سر دھونے کا بیان
8 Hadith
17
احرام کی حالت میں گرمی وغیرہ سے بچنے کے لئے سایہ کرنے، مرد کا سر کو اور عورت کا چہرہ کو ڈھانپنے اور محرم کا اپنے خادم کو مارنے کا بیان
5 Hadith
18
سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی حدیث اور اس کے متعدد طرق کا بیان
8 Hadith
19
احرام کی حالت میں نکاح کرنے یا کروانے یا نکاح کا پیغام بھیجنے کا بیان
8 Hadith
20
محرم کے لئے خشکی کا شکار کرنے اور اس کو کھانے کے حرام ہونے کا بیان
7 Hadith
21
اس امر کا بیان کہ اگر محرم نہ تو خود شکار کرے اور نہ اس کی خاطر کیا جائے تو اس کے لیے اس کا کھانا جائز ہو گا
11 Hadith
22
ان حیوانات کا بیان، جن کو حرم کی حدود کے اندر اور باہر قتل کرنا محرم کے لئے جائز ہے
10 Hadith
No chapter matched that.