TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2987 - باب: مروہ پر کھڑے ہونے کی جگہ کا بیان۔ - The book of hajj - Sunnan Nisai in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 1 in this chapter
Whole chapter
Previous Hadith Next Hadith
باب: مروہ پر کھڑے ہونے کی جگہ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ الْهَادِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرْوَةَ فَصَعِدَ فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ بَدَا لَهُ الْبَيْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ ذَكَرَ اللَّهَ، ‏‏‏‏‏‏وَسَبَّحَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَحَمِدَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ دَعَا بِمَا شَاءَ اللَّهُ فَعَلَ هَذَا حَتَّى فَرَغَ مِنَ الطَّوَافِ.
It was narrated from Jabir bin Abdullah that: the Messenger of Allah came to Al-Marwah and climbed up until he could see the House, then he said: La ilaha illallah, Wahdahu la sharika lah, lahul-mulku wa lahul-hamdu, yuhyi wa yumitu, wa huwaala kulli shayin qadir (There is none worthy of worship except Allah alone with no partner or associate, His is the dominion and to Him be praise, He gives life and death, and He has power over all things). He said that three times, then he remembered Allah, and glorified and praised Him, then he supplicated there for as long as Allah willed. And he did that until he had finished Sai.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مروہ پر آئے تو اس پر چڑھے پھر بیت اللہ دکھائی دینے لگا تو آپ نے تین بار «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» کہا، پھر اللہ کا ذکر کیا اس کی تسبیح اور تحمید کی اور جو اللہ نے چاہا دعا کی، ہر بار ایسے ہی کرتے رہے یہاں تک کہ آپ طواف سے فارغ ہوئے۔
2987
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 2984 In-book reference : Book 24, Hadith 0 English translation : Vol. 3, Book 24, Hadith 2987
صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2984
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: ۲۹۷۵

Related Chapters

241
1
بَاب الْموقف
(نماز میں) کھڑے ہونے کی جگہ کا بیان
Mishkat
2
CHAPTER: The Position That The Imam Should Have In Relation To The Rows.
باب: صف میں امام کے کھڑے ہونے کی جگہ کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
3
CHAPTER: Whoever Said That The Imam Should Lead Each Of The Two Groups In One Rak’ah Then Say The Taslim, Then Those That Are Behing Him Should Stand Up And Complete Another Rak’ah, Then The Other Group Should Take This Groups Place And Pray One Rak’ah.
باب: ان لوگوں کی دلیل جو کہتے ہیں کہ امام ہر جماعت کو ایک ایک رکعت پڑھائے پھر سلام پھیر دے ، پھر جو لوگ امام کے پیچھے ہیں وہ کھڑے ہوں اور دوسری رکعت ادا کریں پھر دوسرے گروہ کے لوگ پہلے کی جگہ آ کر دوسری رکعت ادا کریں ۔
Sunnan Abu Dawood
4
جب تین آدمی ہوں تو امام کے کھڑے ہونے کی جگہ اور اس میں اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
5
مقتدی بچہ ہو تو امام کے کھڑے ہونے کی جگہ کا بیان۔
Sunnan Nisai
6
خطبہ کے دوران امام کے کھڑے ہونے کی جگہ کا بیان۔
Sunnan Nisai
7
باب: صفا پہاڑی پر کھڑے ہونے کی جگہ کا بیان۔
Sunnan Nisai
8
باب: صفا و مروہ میں عام چال سے چلنے کی جگہ کا بیان۔
Sunnan Nisai
9
باب: صفا و مروہ میں رمل کرنے کی جگہ کا بیان۔
Sunnan Nisai
10
7)Chapter: What Has Been Related About The Permission for That
باب: کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی ممانعت​
Jam e Tirmazi
11
9)Chapter: What Has Been Related About The Permission For That
باب: کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی اجازت کا بیان
Jam e Tirmazi
12
(109)Chapter: What Has Been Related About Wudu Due To What One Has Walked In
باب: گندی جگہوں پر سے ننگے پاؤں گزرنے سے پاؤں دھونے کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About Placing The Hands and Planting The Feet During Prostration
باب: سجدے میں دونوں ہاتھ زمین پر رکھنے اور دونوں پاؤں کھڑے رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About What Is Disliked To Face While Performing Salat, Or To Perform Salat In
باب: جن چیزوں کی طرف یا جن جگہوں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About Salat In Sheep Pens And The Resting Area Of Camels
باب: بکریوں کے باڑوں اور اونٹ باندھنے کی جگہوں میں نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About The Salat While Sitting Is Half Of The Salat While Standing
باب: بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر پڑھنے سے آدھا ہے
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About One Who Becomes Sleepy During The Friday Prayer, And That He Is To Change His Location
باب: جمعہ کے دن جو کوئی اونگھے وہ اپنی جگہ بدل دے
Jam e Tirmazi
18
Chapter: About It Being Disliked For The People To Wait For The Imam While They Are Standing At The Beginning Of The Prayer
باب: نماز شروع کرنے کے وقت کھڑے ہو کر امام کے انتظار کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About Which Location The Prophet Assumed Ihram
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے کس جگہ سے احرام باندھا؟
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About Beginning With As-Safa Before Al-Marwah
باب: سعی کی شروعات مروہ کے بجائے صفا سے کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About Sa'i between As-Safa and Al-Marwah
باب: صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About: Mina Is A Resting Place For Whoever Arrives
باب: منیٰ اسی کے ٹھہرنے کی جگہ ہے جو پہلے پہنچے
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About: All of Arafat Is A Place For Standing
باب: پورا عرفات ٹھہرنے کی جگہ ہے
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About Standing For The Funeral (Procession)
باب: جنازے کے لیے کھڑے ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About Two Wali Giving The Same Woman In Marriage
باب: کسی لڑکی کی اگر دو ولی (الگ الگ جگہ) شادی کر دیں تو کیا حکم ہے؟
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked For A Man To Don Sandals While Standing
باب: کھڑے ہو کر جوتے پہننے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Drinking While Standing
باب: کھڑے ہو کر پینے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About The Permission For Drinking While Standing
باب: کھڑے ہو کر پینے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
29
باب: موت اسی جگہ آتی ہے جہاں مقدر ہوتی ہے
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What has been Related About 'There Will be a Fitnah in Which The One Sitting is Better Than The Standing'
باب: اس فتنے کا بیان جس میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہو گا
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About Seeking Permission To Enter From In Front Of The House
باب: گھر کے (دروازے) کے سامنے کھڑے ہو کر اجازت مانگنے کا بیان
Jam e Tirmazi
32
باب: کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ بیٹھ جانا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related Concerning The Group That Sits to Remember Allah The Mighty And Sublime, What Virtues They Have
باب: ایک جگہ بیٹھ کر ذکر الٰہی کرنے والوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
34
بَاب الْقيام
بطورِ تعظیم کھڑے ہونے کا بیان
Mishkat
35
قضائے حاجت کے لیے نرم جگہ کو تلاش کرنے کا بیان اور ان مقامات کی تفصیل جہاں قضائے حاجت جائز نہیں ہے
Musnad Ahmad
36
کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
37
قضائے حاجت کے وقت دور جانے، کھلی جگہ میں پردہ کرنے اور اِس وقت کلام اور سلام کے جواب سے رکے رہنے کا بیان
Musnad Ahmad
38
وضو میں خشک رہ جانے والی جگہ، اعضائے وضو کا پے درپے دھونے اور وضو کو اچھے اندار سے کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
39
ختنے والی دو جگہوں کے مل جانے سے غسل کے واجب ہو جانے کا بیان، اگرچہ انزال نہ ہوا ہو
Musnad Ahmad
40
غسلِ جنابت کے بعد خشک رہ جانے والی جگہ کو پالینے والے کا بیان
Musnad Ahmad
41
حائضہ عورت کے جسم اور کپڑوں کے پاک ہونے کا بیان، الّا یہ کہ وہ جگہ جہاں خون لگا ہوا ہو
Musnad Ahmad
42
کفار کی قبریں اکھاڑ کر ان کی جگہ مساجد بنانے کا جواز
Musnad Ahmad
43
ان جگہوں کا بیان جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا اور جن میں نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے
Musnad Ahmad
44
امام کا مردوں کے ساتھ تھوڑی دیر تک ٹھہرنا تاکہ عورتیں نکل جائیں اور فرضی اور نفلی نمازوں کے درمیان باہر جانے یا کلام کرنے یا جگہ بدلنے کے ساتھ فاصلہ کرنا
Musnad Ahmad
45
نمازی کا نماز کے بعد نماز والی جگہ میں ہی بیٹھنے رہنا، اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
46
(نماز میں) نظر اٹھانے، ہاتھ سے اشارہ کرنے اور نماز پڑھنے کے لئے مخصوص جگہ کا اہتمام کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
47
یہ باب اس شخص کے بارے میں ہے جو بیماری وغیرہ کی وجہ سے کھڑے ہونے پر قدرت نہیں رکھتا، وہ جیسے ممکن ہو نماز پڑھ لے، اس کو کھڑا ہو کر نماز پڑھنے والے کی طرح اجر ملے گا
Musnad Ahmad
48
جو شخص فرض یا نفل نماز میں مشقت کے ساتھ کھڑے ہونے پر قادر ہواور بیٹھ کر نماز پڑھے تو اس کو کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کی بہ نسبت آدھا اجر ملے گا
Musnad Ahmad
49
کھڑے ہونے پر قدرت رکھنے والے کا بیٹھے ہوئے امام کی اورکسی عذر کی وجہ سے بیٹھنے والے کا کھڑے ہونے والے امام کی اقتدا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
50
امام کے ساتھ ایک آدمی کے کھڑے ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

819
Sunnan Nisai
2964
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ الْهَادِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، ‏‏‏‏‏‏رَمَلَ مِنْهَا ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏وَمَشَى أَرْبَعًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَامَ عِنْدَ الْمَقَامِ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَرَأَ:‏‏‏‏ وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125،‏‏‏‏ وَرَفَعَ صَوْتَهُ يُسْمِعُ النَّاسَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ انْصَرَفَ، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَلَمَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ ذَهَبَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَبَدَأَ بِالصَّفَا، ‏‏‏‏‏‏فَرَقِيَ عَلَيْهَا حَتَّى بَدَا لَهُ الْبَيْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ:‏‏‏‏ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، ‏‏‏‏‏‏يُحْيِي وَيُمِيتُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، ‏‏‏‏‏‏فَكَبَّرَ اللَّهَ وَحَمِدَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ دَعَا بِمَا قُدِّرَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ نَزَلَ مَاشِيًا حَتَّى تَصَوَّبَتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْمَسِيلِ، ‏‏‏‏‏‏فَسَعَى حَتَّى صَعِدَتْ قَدَمَاهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ مَشَى حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ فَصَعِدَ فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ بَدَا لَهُ الْبَيْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ ذَكَرَ اللَّهَ وَسَبَّحَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَحَمِدَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ دَعَا عَلَيْهَا بِمَا شَاءَ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏فَعَلَ هَذَا حَتَّى فَرَغَ مِنَ الطَّوَافِ .
It was narrated that Bajir said: The Messenger of Allah circumambulated the House seven times, walking rapidly (Raml) in the three, and walking (at a regular pace) for four. Then he stood near the Maqam and prayed two Rakahs. Then he recited: 'And take you the Maqam (Place) of Ibrahim as a place of prayer, raising his voice, so that the people would hear. Then he went (to perform Sai) and said: 'We will start with that with which Allah started.' So he started with As-Safa, climbing up, until he could see the House, and he said three times: 'La ilaha illallah, Wahdahu la sharika lah, lahul-mulku wa lahul-hamdu, yuhyi wa yumitu, wa huwaala kulli shayin qadir (There is none worthy of worship except Allah alone with no partner or associate, His is the dominion and to Him be praise, He gives life and death, and He has power over all things).' Then exclaimed Allah's greatness, then he supplicated as much as was decreed for him. Then he came down walking until he reached level ground at the bottom of the valley. Then he hastened until the ground began to rise. Then he walked until he came to Al-Marwah and clime dup it, and when he could see the House he said: 'La ilaha illallah, Wahdahu la sharika lah, lahul-mulku wa lahul-hamdu, yuhyi wa yumitu, wa huwaala kulli shayin qadir (There is none worthy of worship except Allah alone with no partner or associate, His is the dominion and to Him be praise, He gives life and death, and He has power over all things).' He said that three times, then he remembered Allah and glorified and praised Him, then he supplicated there for as long as Allah willed. And he did that until he finished Sai.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے سات پھیرے کئے ان میں سے تین میں رمل کیا اور چار میں عام چال چلے پھر مقام ابراہیم کے پاس کھڑے ہو کر دو رکعات پڑھیں، پھر آپ نے آیت کریمہ: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» ”مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ“ پڑھی اور اپنی آواز بلند کی آپ لوگوں کو سنا رہے تھے۔ پھر آپ وہاں سے پلٹے اور جا کر حجر اسود کا استلام کیا اور فرمایا: کہ ہم وہیں ( سعی ) شروع کریں گے جہاں سے اللہ تعالیٰ نے ( اپنی کتاب میں ) شروع کی ہے، تو آپ نے صفا سے سعی شروع کی اور اس پر چڑھے یہاں تک کہ آپ کو بیت اللہ دکھائی دینے لگا تو آپ نے تین مرتبہ «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» کہا، پھر آپ نے اللہ کی تکبیر اور تحمید کی۔ اور دعا کی جواب آپ کے لیے مقدر تھی، پھر آپ پیدل چل کر نیچے اترے یہاں تک کہ آپ کے دونوں قدم وادی کے نشیب میں رہے پھر دوڑے یہاں تک کہ آپ کے دونوں قدم بلندی پر چڑھے، پھر عام چال چلے یہاں تک کہ مروہ کے پاس آئے اور اس پر چڑھے پھر خانہ کعبہ آپ کو دکھائی دینے لگا تو آپ نے «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» تین بار کہا۔ پھر اللہ کا ذکر کیا اور اس کی تسبیح و تحمید کی۔ اور دعا کی جو اللہ کو منظور تھی ہر بار ایسا ہی کیا یہاں تک کہ سعی سے فارغ ہوئے۔
Sunnan Nisai
2977
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ الْهَادِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا:‏‏‏‏ رَمَلَ مِنْهَا ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏وَمَشَى أَرْبَعًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَامَ عِنْدَ الْمَقَامِ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَقَرَأَ:‏‏‏‏ وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125،‏‏‏‏ وَرَفَعَ صَوْتَهُ يُسْمِعُ النَّاسَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ انْصَرَفَ، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَلَمَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ ذَهَبَ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَبَدَأَ بِالصَّفَا، ‏‏‏‏‏‏فَرَقِيَ عَلَيْهَا، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى بَدَا لَهُ الْبَيْتُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ:‏‏‏‏ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏لَهُ الْمُلْكُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَهُ الْحَمْدُ، ‏‏‏‏‏‏يُحْيِي وَيُمِيتُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، ‏‏‏‏‏‏وَكَبَّرَ اللَّهَ وَحَمِدَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ دَعَا بِمَا قُدِّرَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ نَزَلَ مَاشِيًا، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى تَصَوَّبَتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْمَسِيلِ، ‏‏‏‏‏‏فَسَعَى حَتَّى صَعِدَتْ قَدَمَاهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ مَشَى، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَصَعِدَ فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ بَدَا لَهُ الْبَيْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏لَهُ الْمُلْكُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ ذَكَرَ اللَّهَ، ‏‏‏‏‏‏وَسَبَّحَهُ وَحَمِدَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ دَعَا عَلَيْهَا بِمَا شَاءَ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏فَعَلَ هَذَا حَتَّى فَرَغَ مِنَ الطَّوَافِ .
It was narrated that Jabir said: The Messenger of Allah circumambulated the House seven times, walking rapidly in three circuits and walking (at a normal pace)b in three. Then he stood at the Maqam (place) of Ibrahim as a place of prayer, raising his voice so that the people could hear. Then he went and touched the Black Stone and went (to perform Sai) and said: 'We will start with that with which Allah started.' So he started with As-Safa, climbing up until he could see the House and he said three times: ''La ilaha illallah, Wahdahu la sharika lah, lahul-mulku wa lahul-hamdu, yuhyi wa yumitu, wa huwaala kulli shayin qadir (There is none worthy of worship except Allah alone with no partner or associate, His is the dominion and to Him be praise, He gives life and death, and He has power over all things).' Then exclaimed Allah's greatness and praised Him, then he supplicated as much as was decreed for him. Then he came down walking, until he reached level ground at the bottom of the valley. Then he hastened until the ground began to rise. Then he walked until he came to Al-Marwah and climbed up it, and when he could see the house he said: 'La ilaha illallah, Wahdahu la sharika lah, lahul-mulku wa lahul-hamdu, yuhyi wa yumitu, wa huwaala kulli shayin qadir (There is none worthy of worship except Allah alone with no partner or associate, His is the dominion and to Him be praise, He gives life and death, and He has power over all things).' He said that three times, then he remembered Allah, and glorified and praised Him, then he supplicated there for as long as Allah willed. And he did that until he had finished Sai.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کا سات پھیرا کیا، جس میں سے تین میں رمل کیا، اور چار میں عام چال چلے۔ پھر مقام ابراہیم کے پاس کھڑے ہوئے اور دو رکعت نماز پڑھی، اور آیت: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» پڑھی اور ( پڑھتے وقت ) آواز بلند کی، آپ لوگوں کو سنا رہے تھے پھر آپ پلٹے اور حجر اسود کا استلام کیا پھر ( صفا کی طرف ) گئے اور فرمایا: جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے اسی سے ہم بھی ( سعی ) شروع کریں گے، پھر آپ نے صفا سے شروع کیا تو آپ اس پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ دکھائی دینے لگا تو تین بار آپ نے «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شىء قدير» پڑھا اللہ کی بڑائی بیان کی، اور اس کی تعریف کی اور حسب توفیق دعائیں مانگی۔ پھر پیدل ہی نیچے اترے یہاں تک کہ وادی کے بالکل نشیب میں پہنچ گئے تو آپ دوڑے یہاں تک کہ آپ کے قدم بلندی کی طرف بڑھے پھر آپ عام رفتار سے چلے یہاں تک کہ مروہ پہاڑی پر آئے تو اس پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ آپ کو دکھائی دینے لگا تو آپ نے تین بار «‏لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» تین بار پڑھا۔ پھر اللہ کا ذکر کیا، اس کی تسبیح اور تعریف کی اور دعا مانگی جتنی اللہ کو منظور تھیں اسی طرح ( ہر بار ) کرتے رہے یہاں تک کہ سعی سے فارغ ہو گئے۔
Sunnan Nisai
2250
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ الْهَادِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُهَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ مَا مِنْ عَبْدٍ يَصُومُ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا بَعَّدَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِذَلِكَ الْيَوْمِ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا .
It was narrated from Abu Saeed that he heard the Messenger of Allah say: There is no worshipper who fasts a day in the cause of Allah, the mighty and sublime, but Allah the mighty and sublime, will separate his face from the fire by (a distance of) seventy autumns in return for that day.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص نے بھی اللہ عزوجل کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھا، اللہ عزوجل اس دن کے بدلے اسے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا“۔
Sunnan Nisai
2265
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ الْهَادِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ، ‏‏‏‏‏‏فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ كُرَاعَ الْغَمِيمِ فَصَامَ النَّاسُ، ‏‏‏‏‏‏فَبَلَغَهُ أَنَّ النَّاسَ قَدْ شَقَّ عَلَيْهِمُ الصِّيَامُ، ‏‏‏‏‏‏فَدَعَا بِقَدَحٍ مِنَ الْمَاءِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَشَرِبَ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَفْطَرَ بَعْضُ النَّاسِ وَصَامَ بَعْضٌ فَبَلَغَهُ أَنَّ نَاسًا صَامُوا،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ أُولَئِكَ الْعُصَاةُ .
It was narrated that Jabir said: The Messenger of Allah went out to Makkah in the year of the Conquest in Ramadan. He fasted until he reached Kura Al-Ghamim, and the people fast, so he called for a vessel of water after 'Asr and drank it while the people were looking on. Then some of the people broke their fast and some continued to fast. He heard that some people were still fasting and he said: 'Those are the disobedient ones.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال رمضان میں مکہ کے لیے نکلے، تو آپ نے روزہ رکھا، یہاں تک کہ آپ کراع الغمیم پر پہنچے، تو لوگوں نے بھی روزہ رکھ لیا، تو آپ کو خبر ملی کہ لوگوں پر روزہ دشوار ہو گیا ہے، تو آپ نے عصر کے بعد پانی سے بھرا ہوا پیالہ منگایا، پھر پانی پیا، اور لوگ دیکھ رہے تھے، تو ( آپ کو دیکھ کر ) بعض لوگوں نے روزہ توڑ دیا، اور بعض رکھے رہ گئے، آپ کو یہ بات پہنچی کہ کچھ لوگ روزہ رکھے ہوئے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ـ: ”یہی لوگ نافرمان ہیں“۔
Sunnan Nisai
2762
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ الْهَادِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يَبْقَ أَحَدٌ يَقْدِرُ أَنْ يَأْتِيَ رَاكِبًا أَوْ رَاجِلًا إِلَّا قَدِمَ، ‏‏‏‏‏‏فَتَدَارَكَ النَّاسُ لِيَخْرُجُوا مَعَهُ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى جَاءَ ذَا الْحُلَيْفَةِ فَوَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اغْتَسِلِي وَاسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَهِلِّي ،‏‏‏‏ فَفَعَلَتْ مُخْتَصَرٌ.
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: The Messenger of Allah stayed for nine years during which he did not perform Hajj. Then it was announced among the people the he was going for Hajj. No one who was able to come riding or on foot stayed behind, and the people rushed to go out with him until he came to Dhul-Hulaifah. Asam' bint 'Umais gave birth to Muhammad bin Abi Bakr and she sent word to the messenger of Allah (Asking what she should do). He said: 'Perform Ghusl and wrap a cloth around your private parts, then begin the Talbiyah.' So she did that. An abridgment
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو برس تک مدینہ میں رہے، اور حج نہیں کر سکے، پھر ( دسویں سال ) آپ نے لوگوں میں حج کا اعلان کیا تو کوئی بھی جو سواری سے یا پیدل آ سکتا تھا ایسا بچا ہو جو نہ آیا ہو، لوگ آپ کے ساتھ حج کو جانے کے لیے آتے گئے یہاں تک کہ آپ ذوالحلیفہ پہنچے تو وہاں اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ نے محمد بن ابی بکر کو جنا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اطلاع بھیجی کہ وہ کیا کریں۔ تو آپ نے فرمایا: ”تم غسل کر لو، اور کپڑے کا لنگوٹ باندھ لو، پھر لبیک پکارو“، تو انہوں نے ایسا ہی کیا۔ یہ حدیث ایک بڑی حدیث کا اختصار ہے۔
Sunnan Nisai
3511
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ شُعَيْبٌ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ الْهَادِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حِينَ نَزَلَتْ آيَةُ الْمُلَاعَنَةِ:‏‏‏‏ أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَدْخَلَتْ عَلَى قَوْمٍ رَجُلًا لَيْسَ مِنْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَلَيْسَتْ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يُدْخِلُهَا اللَّهُ جَنَّتَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَيُّمَا رَجُلٍ جَحَدَ وَلَدَهُ وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏احْتَجَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَفَضَحَهُ عَلَى رُءُوسِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .
It was narrated from Abu Hurairah that he heard the Messenger of Allah say when the Verse of Mula'anah (Li'an) was revealed: Any woman who falsely attributes a man to people to whom he does not belong, has no share from Allah, and Allah will not admit her to His Paradise. Any man who denies his son while looking at him (knowing that he is indeed his son), Allah, the Mighty and Sublime, will cast him away, and disgrace him before the first and the last on the Day of Resurrection.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب لعان کی آیت نازل ہوئی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو عورت کسی قوم ( خاندان و قبیلے ) میں ایسے شخص کو داخل و شامل کر دے جو اس قوم ( خاندان و قبیلے ) کا نہ ہو ( یعنی زنا و بدکاری کرے ) تو کسی چیز میں بھی اسے اللہ تعالیٰ کا تحفظ و تعاون حاصل نہ ہو گا اور اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل نہ کرے گا اور ( ایسے ہی ) جو شخص اپنے بیٹے کا ( کسی بھی سبب سے ) انکار کر دے اور دیکھ رہا ( اور سمجھ بوجھ رہا ) ہو ( کہ وہ بیٹا اسی کا ہے ) تو اللہ تعالیٰ اس سے پردہ کر لے گا ۱؎ اور اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اگلے و پچھلے سبھی لوگوں کے سامنے ذلیل و رسوا کرے گا“۔
Sunnan Nisai
4088
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ الْهَادِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قُهَيْدِ بْنِ مُطَرِّفٍ الْغِفَارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ:‏‏‏‏ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَرَأَيْتَ إِنْ عُدِيَ عَلَى مَالِي. قَالَ:‏‏‏‏ فَانْشُدْ بِاللَّهِ . قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ. قَالَ:‏‏‏‏ فَانْشُدْ بِاللَّهِ . قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ. قَالَ:‏‏‏‏ فَانْشُدْ بِاللَّهِ . قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ. قَالَ:‏‏‏‏ فَقَاتِلْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ قُتِلْتَ فَفِي الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ قَتَلْتَ فَفِي النَّارِ .
It was narrated from Abu Hurairah that: A man came to the Messenger of Allah [SAW] and said: O Messenger of Allah, what do you think if someone comes to steal my wealth? He said: Urge him by Allah. He said: What if he persists? He said: Urge him by Allah. He said: What if he persists? He said: Urge him by Allah. He said: What if he persists? He said: Then fight. If you are killed you will be in Paradise and if you kill him, he will be in the Fire.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر کوئی میرا مال چھینے تو آپ کیا کہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”انہیں اللہ کی قسم دو“، اس نے کہا: اگر وہ نہ مانیں؟ آپ نے فرمایا: ”تم انہیں اللہ کی قسم دو“، اس نے کہا: اگر وہ نہ مانیں تو؟ آپ نے فرمایا: ”تم انہیں اللہ کی قسم دو“، اس نے کہا: اگر وہ پھر بھی نہ مانیں تو؟ آپ نے فرمایا: ”تو تم ان سے لڑو، اب اگر تم مارے گئے تو جنت میں ہو گے اور اگر تم نے مار دیا تو وہ جہنم میں ہو گا“۔
Jam e Tirmazi
361
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ خَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَسٍ، ‏‏‏‏‏‏فَجُحِشَ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّى بِنَا قَاعِدًا فَصَلَّيْنَا مَعَهُ قُعُودًا ثُمَّ انْصَرَفَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا الْإِمَامُ أَوْ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُولُوا:‏‏‏‏ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَجَابِرٍ وَابْنِ عُمَرَ وَمُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَّ عَنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ . حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏مِنْهُمْ جَابِر بْنُ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ،‏‏‏‏ وَأَبُو هُرَيْرَةَ وَغَيْرُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهَذَا الْحَدِيثِ يَقُولُ أَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق:‏‏‏‏ وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ إِذَا صَلَّى الْإِمَامُ جَالِسًا لَمْ يُصَلِّ مَنْ خَلْفَهُ إِلَّا قِيَامًا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ صَلَّوْا قُعُودًا لَمْ تُجْزِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ سفيان الثوري،‏‏‏‏ وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ،‏‏‏‏ وَابْنِ الْمُبَارَكِ،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيِّ.
Anas bin Malik narrated: Allah's Messenger fell from a horse and got injured, so he led Salat sitting and we also offered Salat sitting. When he completed the Salat he said: The Imam is appointed to be followed; when he says the Takbir then say the Takbir, when he bows, then bow, and when he raises his head, then raise your heads. When he says: Sami' Allahu liman hamidah (Allah listens to those who praise him) then say: Rabbana wa lakal-hamd. (O our Lord! And all praise is Yours.) and when he prostrates, then prostrate, and when he performs Salat sitting, then pray sitting altogether.'
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر پڑے، آپ کو خراش آ گئی ۱؎ تو آپ نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی، ہم نے بھی آپ کے ساتھ بیٹھ کر نماز پڑھی۔ پھر آپ نے ہماری طرف پلٹ کر فرمایا: ”امام ہوتا ہی اس لیے ہے یا امام بنایا ہی اس لیے گیا ہے تاکہ اس کی اقتداء کی جائے، جب وہ «الله أكبر» کہے تو تم بھی «الله أكبر» کہو، اور جب وہ رکوع کرے، تو تم بھی رکوع کرو، اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، اور جب وہ «سمع الله لمن حمده‏» کہے تو تم «ربنا لك الحمد‏» کہو، اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، ابوہریرہ، جابر، ابن عمر اور معاویہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض صحابہ کرام جن میں میں جابر بن عبداللہ، اسید بن حضیر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم وغیرہ ہیں اسی حدیث کی طرف گئے ہیں اور یہی قول احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی ہے، ۴- بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ جب امام بیٹھ کر پڑھے تو مقتدی کھڑے ہو کر ہی پڑھیں، اگر انہوں نے بیٹھ کر پڑھی تو یہ نماز انہیں کافی نہ ہو گی، یہ سفیان ثوری، مالک بن انس، ابن مبارک اور شافعی کا قول ہے ۲؎۔
Jam e Tirmazi
978
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَرْجِسَ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْمَوْتِ وَعِنْدَهُ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْقَدَحِ ثُمَّ يَمْسَحُ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَقُولُ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى غَمَرَاتِ الْمَوْتِ، ‏‏‏‏‏‏وسَكَرَاتِ الْمَوْتِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
Aishah narrated: I saw the Messenger of Allah while he was dying. He had a cup with water in it, he put his hand in the cup then wiped his face with the water, then said: 'O Allah! Help me with the throes of death and the agony of death.'
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ سکرات کے عالم میں تھے، آپ کے پاس ایک پیالہ تھا، جس میں پانی تھا، آپ پیالے میں اپنا ہاتھ ڈالتے پھر اپنے چہرے پر ملتے اور فرماتے: «اللهم أعني على غمرات الموت أو سكرات الموت» ”اے اللہ! سکرات الموت میں میری مدد فرما“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔