أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: الرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُذْكَرَ، وَيُقَاتِلُ لِيَغْنَمَ، وَيُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهُ، فَمَنْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ قَالَ: مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا، فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ .
Abu Musa Al-Ash'ari said:
A Bedouin came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: 'A man fights for fame, or he fights for the spoils of war, or he fights to show off. Who is the one who is fighting in the cause of Allah?' He said: 'The one who fights so that the word of Allah will be supreme is the one who is fighting in the cause of Allah, the Mighty and Sublime.'
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: آدمی لڑتا ہے تاکہ اس کا ذکر اور چرچا ہو ۱؎، لڑتا ہے تاکہ مال غنیمت حاصل کرے، لڑتا ہے تاکہ اللہ کے راستے میں لڑنے والوں میں اس کا مقام و مرتبہ جانا پہچانا جائے تو کس لڑنے والے کو اللہ کے راستے کا مجاہد کہیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ کے راستے کا مجاہد اسے کہیں گے جو اللہ کا کلمہ ۲؎ بلند کرنے کے لیے لڑے“۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العلم ۴۵ (۲۱۸۳)، الجہاد ۱۵ (۲۸۱۰)، الخمس ۱۰ (۳۱۲۶)، التوحید ۲۸ (۷۴۵۸)، صحیح مسلم/الإمارة ۴۲ (۱۹۰۴)، سنن ابی داود/الجہاد ۲۶ (۲۵۱۸)، سنن الترمذی/فضائل ۱۶ (۱۶۴۶)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ۱۳ (۲۷۸۳)، (تحفة الأشراف: ۸۹۹۹)، مسند احمد (۴/۳۹۲، ۳۹۷، ۴۰۱، ۴۰۲، ۴۰۵، ۴۱۷)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یعنی ریاکاری کے ساتھ لڑتا ہے تاکہ لوگوں میں اپنی بہادری کی وجہ سے جانا اور پہچانا جائے۔ ۲؎ : یعنی اس کے دین کی بلندی کے لیے لڑے۔
3138
Sahih