أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ، إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجُرْحُهُ يَثْعَبُ دَمًا، اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ، وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ .
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:
No one is wounded in the cause of Allah - and Allah knows best who is wounded in His cause - but he will come on the Day of Resurrection with his wounds bleeding the color of blood, but with the fragrance of musk.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی اللہ کے راستے میں گھائل ہو گا، اور اللہ کو خوب معلوم ہے کہ اس کے راستے میں کون زخمی ہوا ۱؎ تو قیامت کے دن ( اس طرح ) آئے گا کہ اس کے زخم سے خون ٹپک رہا ہو گا۔ رنگ خون کا ہو گا اور خوشبو مشک کی ہو گی“۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجہاد ۱۰ (۲۸۰۳)، صحیح مسلم/الإمارة ۲۸ (۱۸۷۶)، (تحفة الأشراف: ۱۳۶۹۰)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجہاد ۱۵ (۲۷۹۵)، موطا امام مالک/الجہاد ۱۴ (۲۹)، مسند احمد (۳/۲ ۲۴، ۳۱، ۳۹۸، ۴۰۰، ۵۱۲، ۵۳۱، ۵۳۷)، سنن الدارمی/الجہاد ۱۵ (۲۴۵۰)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اس جملہ معترضہ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے راستے میں زخمی ہونے والے شخص کے عمل کا دارومدار اس کے اخلاص پر ہے جس کا علم اللہ ہی کو ہے۔
3149
Sahih