TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3400 - باب: ایک کے مقابلے دوسری بیوی سے زیادہ محبت ہونے کا بیان۔ - The book of the kind treatment of women - Sunnan Nisai in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 5 of 11 in this chapter
باب: ایک کے مقابلے دوسری بیوی سے زیادہ محبت ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِر الطَّعَامِ .
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں پر عائشہ کی فضیلت ایسے ہی ہے جیسے ثرید کی سارے کھانوں پر“۔
3400
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3948
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ۱۷۷۰۵)، مسند احمد (۶/۱۵۹)

Related Chapters

376
1
(105) CHAPTER. If a man takes the permission of his wives so as to stay in the house of one of them to be treated (during his ailment) and he is allowed by them (those wives will have no right to claim their lost turns).
اگر مرد اپنی بیماری کے دن کسی ایک بیوی کے گھر گزارنے کے لئے اپنی دوسری بیویوں سے اجازت لے اور اسے اس کی اجازت دی جائے ۔
Sahih Bukhari
2
(106) CHAPTER. If a man loves some of his wives more than the others.
اگر مرد کو اپنی بیوی سے زیادہ محبت ہو تو کچھ گناہ نہ ہو گا ۔
Sahih Bukhari
3
باب: شوہر کا میلان کسی ایک بیوی کی طرف زیادہ ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
4
Chapter: The Hadith: The World Is Compared To The Hereafter Is But Like What One Of You Gets When Placing His Water In The Sea
باب: آخرت کے مقابلے میں دنیا سمندر کے ایک قطرے کی مانند ہے
Jam e Tirmazi
5
باب: ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھ کر چت لیٹنے کا بیان
Jam e Tirmazi
6
باب: ایک ٹانگ کو دوسری پر رکھ کر چٹ لیٹنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
7
بَابُ عِشْرَةِ النِّسَاءِ
بیویوں کے ساتھ رہن سہن اور ہر ایک کے حقوق کا بیان
Mishkat
8
خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ ایک برتن سے غسل کرنا، اس سے پانی کی طہوریت ختم نہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
9
اعضاء کو ایک ایک دفعہ، دو دو دفعہ اور تین تین دفعہ دھو کر وضو کرنے اور تین سے زیادہ کرنے کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
10
ایک غسل میں یا متعدد غسلوں میں ایک سے زائد بیویوں کے پاس جانے والے کا بیان
Musnad Ahmad
11
نماز خوف کی دوسری صورت امام ہرگروہ کو ایک ایک رکعت پڑھائے اور لوگ ایک ایک رکعت الگ الگ پڑھیں
Musnad Ahmad
12
نماز خوف کی تیسری صورت ہر گروہ کا امام کے ساتھ والی ایک رکعت پر ہی اکتفا کرنا اور دوسری کی قضائی نہ دینا
Musnad Ahmad
13
نمازِ خوف کی چوتھی صورت امام ہر گروہ کو ایک ایک رکعت پڑھا کر اس قدر انتظار کرے کہ وہ لوگ دوسری رکعت خود پڑھ لیں
Musnad Ahmad
14
نماز خوف کی ساتویں صورت ایک گروہ کا پہلی رکعت میں قیام سے لے کر پہلے سجدے تک امام کے ساتھ شریک ہونا اور دوسرے گروہ کا اُسی رکعت کے دوسرے سجدے میں شریک ہونا، پھر ’’دوسری رکعت‘‘ میں سب کا امام کے ساتھ شرکت کرنا
Musnad Ahmad
15
میاں بیوی کا ایک دوسرے کو غسل دینے کا بیان
Musnad Ahmad
16
جو آدمی کسی چیز پر قسم اٹھائے، لیکن جب دیکھے کہ زیادہ بہتری دوسری چیز میں ہے تو وہ بہتر چیز کو اختیار کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے
Musnad Ahmad
17
اس آدمی کا بیان کہ جس کو ایک چیز خریدنے کا وکیل بنایا گیا، لیکن اس نے زیادہ چیزیں خرید کر اضافی چیزوں میں از خود تصرف کیا
Musnad Ahmad
18
بیمار آدمی کا ایک تہائی مال یا اس سے کم سے صدقات و خیرات کرنے کے جواز اور اس سے زیادہ کرنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
19
ان کافر میاں بیوی کا بیان کہ جب ان میں سے ایک دوسرے سے پہلے مسلمان ہو جائے
Musnad Ahmad
20
ایک بیوی کا اپنا دن اپنی سوکن کو ہبہ کر دینے کا بیان
Musnad Ahmad
21
جب مہمان زیادہ ہو جائیں تو ضیافت کرنے کے لیے مسلمانوں کاایک دوسرے کے ساتھ مل جانا اور باہمی تعاون کرنا
Musnad Ahmad
22
(12) CHAPTER. Having sexual intercourse and repeating it. And engaging with one's own wives and taking a single bath (after doing so).
جس نے جماع کیا اور پھر دوبارہ کیا اور جس نے اپنی کئی بیویوں سے ہمبستر ہو کر ایک ہی غسل کیا اس کا بیان
Sahih Bukhari
23
(8) CHAPTER. Whosoever gave a gift to his friend and chose (the time) when he was at the home of some of his wives and did not give it to him, while he was in the homes of his other wives.
اپنے کسی دوست کو خاص اس دن تحفہ بھیجنا جب وہ اپنی ایک خاص بیوی کے پاس ہو
Sahih Bukhari
24
(64) CHAPTER. The man's selection of one wive to accompany in holy battles.
آدمی جہاد میں اپنی ایک بیوی کو لے جائے ایک کو نہ لے جائے ( یہ درست ہے )
Sahih Bukhari
25
(20) CHAPTER. Not to marry more than four (at a time) as is decreed in the Statement of Allah: ...two or three or four... (V.4:3)
چار بیویوں سے زیادہ ( بیک وقت ) آدمی نہیں رکھ سکتا ۔
Sahih Bukhari
26
(70) CHAPTER. Whoeever gave a bigger Walima (wedding banquet) on marrying some wives than on marrying the other wives of his.
کسی بیوی کے ولیمہ میں کھانا زیادہ تیار کرنا کسی کے ولیمہ میں کم ، جائز درست ہے ۔
Sahih Bukhari
27
(103) CHAPTER. Whoever had sexual intercourse with all his wives and then took one bath only.
مرد اپنی سب بیویوں سے صحبت کر کے آخر میں ایک غسل کر سکتا ہے ۔
Sahih Bukhari
28
(113) CHAPTER. What is allowed (as regards) a private meeting between a man and a woman when they are not secluded from the people.
اگر لوگوں کی موجودگی میں ایک مرد دوسری ( غیر محرم ) عورت سے تنہائی میں کچھ بات کرے تو جائز ہے ۔
Sahih Bukhari
29
(119) CHAPTER. A woman should not look at or touch the body of another woman to describe her to her husband.
ایک عورت دوسری عورت سے ( بے ستر ہو کر ) نہ چمٹے اس لئے کہ اس کا حال اپنے خاوند سے بیان کرے ۔
Sahih Bukhari
30
(44) CHAPTER. “And their husbands have the better right to take them (divorced ladies) back,” (V.2:228) during the period of the Idda.
اور اللہ کا سورۃ البقرہ میں یہ فرمانا کہ عدت کیاندر عورتوں کے خاندان کے زیادہ حقدار ہیں یعنی رجعت کر کے اور اس بات کا بیان کہ جب عورت کو ایک یاد و طلاق دی ہوں تو کیونکر رجعت کرے ۔
Sahih Bukhari
31
(58) CHAPTER. To borrow a necklace.
ایک عورت کا کسی دوسری عورت سے ہار عاریتاً لینا
Sahih Bukhari
32
(113) CHAPTER. To be called Abu Turab (father of dust), though one already has another Kunyah name.
ایک کنیت ہوتے ہوئے دوسری ابوتراب کنیت رکھنا جائز ہے
Sahih Bukhari
33
(20) CHAPTER. Whoever took an oath that he would not enter upon his wife for one month and that month was of twenty-nine days.
جس نے قسم کھائی کہ اپنی بیوی کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جائے گا
Sahih Bukhari
34
(21) CHAPTER. If a person says something in the presence of some people and then goes out and says something different..
کوئی شخص لوگوں کے سامنے ایک بات کہے پھر اس کے پاس سے نکل کر دوسری بات کہے ( تو یہ دغابازی ہے ۔ )
Sahih Bukhari
35
Chapter: Lying down with a menstruating woman under a single cover
اوڑھنے کے ایک کپڑے میں حائضہ بیوی کے ساتھ ایک بستر میں لیٹنا
Sahih Muslim
36
Chapter: It is disliked to smooth the pebbles or make the dirt level during salat
نماز میں (ایک سے زیادہ بار )کنکریاں صاف کرنا اور مٹی کو برابر کرنا مکروہ ہے
Sahih Muslim
37
ٹھہر ٹھہر کر قراءت کرنا ‘ہذّ(کٹائی )یعنی تیزی میں حد سے بڑھ جانے سے اجتناب کرنا اور ایک رکعت میں دو اور اس سے زیادہ سورتیں پڑھنے کا جواز
Sahih Muslim
38
Chapter: Dividing one's time among co-wives; The Sunnah is for each one to have one night and one day
بیویوں کے درمیان (باریوں کی )تقسیم ‘سنت یہ ہے کہ ہر بیوی کے لیے دن سمیت ایک رات ہو
Sahih Muslim
39
Chapter: The prohibition of eating two dates etc., at a time when eating with a group, except with the permission of one's companions
کھانے میں شریک ساتھیوں کی اجازت کے بغیر ایک لقمے میں دویازیادہ کھجوریں ملا (کر کھانے )کی ممانعت
Sahih Muslim
40
Chapter: The Ruling On Lying On Ones Back With One Leg On Top Of The Other
چٹ لیٹنا اور اس حالت میں ایک ٹانگ کو دوسری ٹانگ(کھڑی کرکے اس ) پر رکھنا ممنوع ہے
Sahih Muslim
41
Chapter: The Most Affluent Of People In This World Will Be Dipped In The Fire, And The Most Destitute Will Be Dipped In Paradise
دنیاوالوں میں سب سے زیادہ نعمتوں والے کو جہنم میں ایک ڈبکی لگانا اور ان میں سب سے زیادہ تکلیف اٹھانے والے کو جنت(کی نہروں) میں ایک غوطہ لگانا
Sahih Muslim
42
CHAPTER: Whoever Said That One Row Should Stand With The Imam, And Another Ro Face The Enemy
باب: ان لوگوں کی دلیل جو کہتے ہیں کہ ایک صف امام کے سا تھ کھڑی ہو اور دوسری صف دشمن کے سامنے ہو ۔
Sunnan Abu Dawood
43
CHAPTER: Whoever Said That The Imam Should Lead Each Of The Two Groups In One Rak’ah Then Say The Taslim, Then Those That Are Behing Him Should Stand Up And Complete Another Rak’ah, Then The Other Group Should Take This Groups Place And Pray One Rak’ah.
باب: ان لوگوں کی دلیل جو کہتے ہیں کہ امام ہر جماعت کو ایک ایک رکعت پڑھائے پھر سلام پھیر دے ، پھر جو لوگ امام کے پیچھے ہیں وہ کھڑے ہوں اور دوسری رکعت ادا کریں پھر دوسرے گروہ کے لوگ پہلے کی جگہ آ کر دوسری رکعت ادا کریں ۔
Sunnan Abu Dawood
44
CHAPTER: Those Who Said That The Imam Should Lead Each Group For One Rak’ah And Then They Should Not Complete (The Second Rak’ah).
باب: ان لوگوں کی دلیل جو کہتے ہیں کہ امام ہر جماعت کو ایک رکعت پڑھائے گا اور لوگ دوسری رکعت پوری نہیں کریں گے ۔
Sunnan Abu Dawood
45
CHAPTER: If Two Slaves Are Set Free Together, Does The Wife Have The Option?
باب: جب میاں بیوی دونوں ایک ساتھ آزاد ہوں تو کیا بیوی کو اختیار حاصل ہو گا ؟
Sunnan Abu Dawood
46
CHAPTER: If One Of The Two Who Are Married Accepts Islam.
باب: میاں بیوی میں سے کوئی ایک مسلمان ہو جائے اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
47
CHAPTER: Regarding The Virtues Of Fighting The Romans Compared To The Other Nations.
باب: دوسری قوموں کے مقابلے میں رومیوں سے لڑنے کی فضیلت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
48
CHAPTER: Moving The Deceased From One Land To Another - Which Is Disliked.
باب: میت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا ناپسندیدہ ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
49
CHAPTER: Regarding food of two who are competing.
باب: جو ایک دوسرے کے مقابلے میں کھانا کھلائیں تو ان کے یہاں کھانا کیسا ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
50
CHAPTER: If two invitations come at the same time, which should be given precedence?
باب: جب دو آدمی ایک ساتھ دعوت دیں تو کون زیادہ حقدار ہے کہ اس کی دعوت قبول کی جائے ۔
Sunnan Abu Dawood
No related chapter matched that.

Related Hadith

2,523
Sahih Muslim
6299
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ»
Anas b. Malik reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The excellence of 'A'isha over women is like the excellence of Tharid over all other foods.
سلیمان بن بلال نے عبد اللہ بن عبد الرحمٰن سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فر ما تے ہو ئے سنا ، " عورتوں پر عائشہ کی فضیلت ایسی ہے جیسی کھا نوں پر ثرید کی فضیلت ۔ "
Sunnan Ibn e Maja
3281
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ، ‏‏‏‏‏‏كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ .
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Abdur-Rahman that he heard Anas bin Malik say: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The superiority of ‘Aishah over other women is like the superiority of Tharid over all other foods.’”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں پر عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت ایسی ہی ہے جیسے ثرید کی باقی تمام کھانوں پر ۔
Jam e Tirmazi
282
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَا عَلِيُّ أُحِبُّ لَكَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِي وَأَكْرَهُ لَكَ مَا أَكْرَهُ لِنَفْسِي لَا تُقْعِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَلِيٍّ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ ضَعَّفَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْحَارِثَ الْأَعْوَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ يَكْرَهُونَ الْإِقْعَاءَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ.
Ali narrated: Allah's Messenger said to me: 'O Ali! I love for you what I love for myself, and I dislike for you what I dislike for myself. Do not squat between prostrations.'
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے علی! میں تمہارے لیے وہی چیز پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے کرتا ہوں، اور وہی چیز ناپسند کرتا ہوں جو اپنے لیے ناپسند کرتا ہوں۔ تم دونوں سجدوں کے درمیان اقعاء ۱؎ نہ کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم اسے علی کی حدیث سے صرف ابواسحاق سبیعی ہی کی روایت سے جانتے ہیں، انہوں نے حارث سے اور حارث نے علی سے روایت کی ہے، ۲- بعض اہل علم نے حارث الاعور کو ضعیف قرار دیا ہے ۲؎، ۳- اس باب میں عائشہ، انس اور ابوہریرہ سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- اکثر اہل علم کا عمل اسی حدیث پر ہے کہ وہ اقعاء کو مکروہ قرار دیتے ہیں۔
Jam e Tirmazi
3366
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو الْعَقَدِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا عَائِشَةُ اسْتَعِيذِي بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ هَذَا هُوَ الْغَاسِقُ إِذَا وَقَبَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Aishah narrated: “The Prophet looked at the moon and he said: ‘O Aishah! Do you seek refuge with Allah from the evil of this? For indeed this is Al-Ghasiqu Idha Waqab (The darkened one as it darkens).’”
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کی طرف دیکھ کر فرمایا: ”عائشہ! اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ یہ «غاسق» ہے جب یہ ڈوب جائے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Sahih Muslim
756
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ، - خَتَنَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ - اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ. فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذِهِ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ وَلَكِنَّ هَذَا عِرْقٌ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي» قَالَتْ عَائِشَةُ: «فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ فِي مِرْكَنٍ فِي حُجْرَةِ أُخْتِهَا زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حَتَّى تَعْلُوَ حُمْرَةُ الدَّمِ الْمَاءَ» قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَحَدَّثْتُ بِذَلِكَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، فَقَالَ: «يَرْحَمُ اللهُ هِنْدًا لَوْ سَمِعَتْ بِهَذِهِ الْفُتْيَا وَاللهِ إِنْ كَانَتْ لَتَبْكِي لِأَنَّهَا كَانَتْ لَا تُصَلِّي».
A'isha, the wife of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) reported: Umm Habiba b. Jahsh who was the sister-in-law of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and the wife of 'Abd al-Rahman b. Auf, remained mustahada for seven years, and she, therefore, asked for the verdict of Shari'ah from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) about it The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: This is not menstruation, but (blood from) a vein: so bathe yourself and offer prayer. 'A'isha said: She took a bath in the wash-tub placed in the apartment of her sister Zainab b. Jahsh, till the redness of the blood came over the water. Ibn Shihab said: I narrated it to Abu Bakr b. 'Abd al-Rahman b. al-Harith b. Hisham about it who observed: May Allah have mercy on Hinda! would that she listened to this verdict. By Lord, she wept for not offering prayer.
( لیث کے بجائے ) عمرو بن حارث نے ابن شہاب سے ، انہوں نے عروہ بن زبیر اورعمرہ بنت عبدالرحمن سے ، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی زوجہ عائشہ ؓ سے روایت کی کہ ام حبیبہ بنت جحش رسول اللہ ﷺ کی خواہر نسبتی کو ، جو ( ام المومنین زینب بن جحش کی بہن اور ) عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی بیوی تھیں ، سات سال تک استحاضہ کا عارضہ لاحق رہا ۔ انہو ں نے ا س کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے فتویٰ دریافت کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’یہ حیض ( کا خون ) نہیں بلکہ یہ ایک رگ ( کا خون ) ہے ، لہٰذا تم غسل کرو اور نماز پڑھو ۔ ‘ ‘ عائشہ ؓ نے کہا : وہ اپنی بہن زینب بن جحش ؓ کے حجرے میں ایک بڑے تشت ( ٹب ) میں غسل کرتیں تو پانی پر خون کی سرخی غالب آ جاتی ۔ ابن شہاب نے کہا : میں یہ حدیث ابو بکر بن عبدالرحمن بن حارث کوسنائی تو انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ ہند پر رحم فرمائے! کاش وہ بھی یہ فتویٰ سن لیتیں ۔ اللہ کی قسم ! وہ اس بات پر روتی رہتی تھیں کہ استحاضے کی وجہ سے وہ نماز نہیں پڑھ سکتی تھیں ۔
Sahih Muslim
757
وَحَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِى ابْنَ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتِ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ. بِمِثْلِ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ إِلَى قَوْلِهِ: تَعْلُوَ حُمْرَةُ الدَّمِ الْمَاءَ وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ.
This hadith has been thus reported by another chain of transmitters: Umm Habiba b. Jahsh came to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and she had been a mustahada for seven years, and the rest of the hadith was narrated like that of 'Amr b. al-Harith up to the words: There came the redness of the blood over water. and nothing was narrated beyond it.
ابراہیم ، یعنی ابن سعد نے ابن شہاب کے حوالے سے خبر دی ، انہوں نے عمرہ بنت عبد الرحمن سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، انہوں نےفرمایا : ام حبیبہ بنت جحش ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور وہ سات سال تک استحاضے کے عارضے میں مبتلا رہیں ۔ ابراہیم بن سعد کی باقی حدیث’’پانی پر خون کی سرخی غالب آ جاتی تھی ‘ ‘ تک عمرو بن حارث کی سابقہ روایت کی طرح ہے ، اس کے بعد کا حصہ انہوں نے ذکر نہیں کیا ۔
Jam e Tirmazi
25
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ،‏‏‏‏ وَبِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ أَبِي ثِفَالٍ الْمُرِّيِّ، عَنْ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حُوَيْطِبٍ، عَنْ جَدَّتِهِ، عَنْ أَبِيهَا، قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ لَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي سَعِيدٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ:‏‏‏‏ لَا أَعْلَمُ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثًا لَهُ إِسْنَادٌ جَيِّدٌ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ إِسْحَاقُ:‏‏‏‏ إِنْ تَرَكَ التَّسْمِيَةَ عَامِدًا أَعَادَ الْوُضُوءَ وَإِنْ كَانَ نَاسِيًا أَوْ مُتَأَوِّلًا أَجْزَأَهُ،‏‏‏‏ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ:‏‏‏‏ أَحْسَنُ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثُ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَرَبَاحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَدَّتِهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهَا،‏‏‏‏ وَأَبُوهَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو ثِفَالٍ الْمُرِّيُّ اسْمُهُ:‏‏‏‏ ثُمَامَةُ بْنُ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏وَرَبَاحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ أَبُو بَكْرِ بْنُ حُوَيْطِبٍ، ‏‏‏‏‏‏مِنْهُمْ مَنْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حُوَيْطِبٍ، ‏‏‏‏‏‏فَنَسَبَهُ إِلَى جَدِّهِ.
Rabah bin Abdur-Rahman bin Abi Sufyan bin Huwaitib narrated from his grandmother, from her father; she said (that he said): I heard Allah's Messenger saying: there is no Wudu for one who does not mention Allah's Name over it.
سعید بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو «بسم اللہ» کر کے وضو شروع نہ کرے اس کا وضو نہیں ہوتا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عائشہ، ابوہریرہ، ابو سعید خدری، سہل بن سعد اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- احمد بن حنبل کہتے ہیں: مجھے اس باب میں کوئی ایسی حدیث نہیں معلوم جس کی سند عمدہ ہو، ۳- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: اگر کوئی قصداً «بسم اللہ» کہنا چھوڑ دے تو وہ دوبارہ وضو کرے اور اگر بھول کر چھوڑے یا وہ اس حدیث کی تاویل کر رہا ہو تو یہ اسے کافی ہو جائے گا، ۴- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ اس باب میں سب سے اچھی یہی مذکورہ بالا حدیث رباح بن عبدالرحمٰن کی ہے، یعنی سعید بن زید بن عمرو بن نفیل کی حدیث۔
Jam e Tirmazi
41
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ . قال:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو،‏‏‏‏ وَعَائِشَةَ،‏‏‏‏ وَجَابِرٍ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ هُوَ ابْنُ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيُّ،‏‏‏‏ وَمُعَيْقِيبٍ،‏‏‏‏ وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ،‏‏‏‏ وَشُرَحْبِيلَ ابْنِ حَسَنَةَ،‏‏‏‏ وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ،‏‏‏‏ وَيَزِيدَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ. قال أبو عيسى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ وَبُطُونِ الْأَقْدَامِ مِنَ النَّارِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِقْهُ هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ لَا يَجُوزُ الْمَسْحُ عَلَى الْقَدَمَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏إِذَا لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِمَا خُفَّانِ أَوْ جَوْرَبَانِ.
Abu Hurairah narrated that : the Prophet said: Protect the heels from the Fire!
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایڑیوں کے دھونے میں کوتاہی برتنے والوں کے لیے خرابی ہے یعنی جہنم کی آگ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمر، عائشہ، جابر، عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی معیقیب، خالد بن ولید، شرحبیل بن حسنہ، عمرو بن العاص اور یزید بن ابی سفیان سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے کہ ”ان ایڑیوں اور قدم کے تلوؤں کے لیے جو وضو میں سوکھی رہ جائیں خرابی ہے یعنی جہنم کی آگ ہے“ اس حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ پیروں کا مسح جائز نہیں اگر ان پر موزے یا جراب نہ ہوں۔
Jam e Tirmazi
77
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى كُوفِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏وَهَنَّادٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ الْمَعْنَى وَاحِدٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ الْمُلَائِيُّ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ وَهُوَ سَاجِدٌ حَتَّى غَطَّ أَوْ نَفَخَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ قَدْ نِمْتَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ الْوُضُوءَ لَا يَجِبُ إِلَّا عَلَى مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ إِذَا اضْطَجَعَ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَأَبُو خَالِدٍ اسْمُهُ:‏‏‏‏ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ.
Ibn Abbas narrated that : he saw the Prophet sleeping, while in the prostration position, until he snored or snorted. Then he stoodup to pray. So I said: O Messenger of Allah! You were sleeping? He said: Wudu is not required except for sleeping while reclining. For when one reclines, joints relax.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ سجدے کی حالت میں سو گئے یہاں تک کہ آپ خرانٹے لینے لگے، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ تو سو گئے تھے؟ آپ نے فرمایا: ”وضو صرف اس پر واجب ہوتا ہے جو چت لیٹ کر سوئے اس لیے کہ جب آدمی لیٹ جاتا ہے تو اس کے جوڑ ڈھیلے ہو جاتے ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں عائشہ، ابن مسعود، اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔