TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3546 - باب: حاملہ عورت (جس کا شوہر مر گیا ہو) کی عدت کا بیان۔ - The book of divorce - Sunnan Nisai in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 11 of 18 in this chapter
باب: حاملہ عورت (جس کا شوہر مر گیا ہو) کی عدت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَدِّي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَسْلَمَ، ‏‏‏‏‏‏يُقَالُ لَهَا:‏‏‏‏ سُبَيْعَةُ كَانَتْ تَحْتَ زَوْجِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَتُوُفِّيَ عَنْهَا وَهِيَ حُبْلَى، ‏‏‏‏‏‏فَخَطَبَهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَبَتْ أَنْ تَنْكِحَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا يَصْلُحُ لَكِ أَنْ تَنْكِحِي حَتَّى تَعْتَدِّي آخِرَ الْأَجَلَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَمَكَثَتْ قَرِيبًا مِنْ عِشْرِينَ لَيْلَةً، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ نُفِسَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ انْكِحِي .
It was narrated from Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman that Zainab bint Abi Salamah told him, from her mother, Umm Salamah, the wife of the Prophet: That a woman from Aslam who was called Subai'ah was married to her husband, and he died while she was pregnant. Abu As-Sanabil bin Ba'kak proposed to her but she refused to marry him. He said: 'You cannot get married until you have observed 'Iddah for the longer of the two periods.' Approximately twenty days later she gave birth. She went to the Messenger of Allah and he said: 'Get married.'
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ زینب بنت ابی سلمہ نے اپنی ماں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سن کر مجھے خبر دی کہ قبیلہ اسلم کی سبیعہ نامی ایک عورت اپنے شوہر کے ساتھ رہ رہی تھی اور حاملہ تھی ( اسی دوران ) شوہر کا انتقال ہو گیا تو ابوسنابل بن بعکک رضی اللہ عنہ نے اسے شادی کا پیغام دیا جسے اس نے ٹھکرا دیا، اس نے اس سے کہا: تیرے لیے درست نہیں ہے کہ دونوں عدتوں میں سے آخری مدت کی عدت پوری کئے بغیر شادی کرے۔ پھر وہ تقریباً بیس راتیں ٹھہری رہی کہ اس کے یہاں بچہ پیدا ہوا۔ ( اس کے بعد ) وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ( اور آپ سے اسی بارے میں مسئلہ پوچھا اور صورت حال بتائی ) آپ نے فرمایا: ”تو ( جس سے چاہے ) نکاح کر لے“۔
3546
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 3516 In-book reference : Book 27, Hadith 128 English translation : Vol. 4, Book 27, Hadith 3546
صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3516
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الطلاق ۳۹ (۳۵۱۸)، (تحفة الأشراف: ۱۸۲۷۳)

Related Chapters

868
1
حاملہ عورت کا شوہر مر جائے تو اس کی عدت بچہ جننے کے ساتھ ختم ہو جائے گی اور اس کے بعد اس سے شادی جائز ہے
Sunnan Ibn e Maja
2
Chapter: What has been related about the pregnant woman who gives birth after her husband dies
باب: شوہر کی وفات کے بعد بچہ جننے والی عورت کی عدت کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What has been related about the 'Iddah of a woman whose husband dies
باب: شوہر کی موت پر عورت کی عدت کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What is reported on where the widow observes her 'Iddah
باب: شوہر کی وفات کے بعد عورت عدت کہاں گزارے؟
Jam e Tirmazi
5
(39) CHAPTER. “For those who are pregnant (whether they are divorced or their husbands are dead) their Idda (period) is until they laydown their burdens.” (V.65:4)
حاملہ عورتوں کی عدت یہ ہے کہ بچہ جنیں ۔
Sahih Bukhari
6
Chapter: It is permissible for a woman who is observing 'Iddah after an irrevocable divorce or the death of her husband to go out during the day if she needs to
طلاق بائن کی عدت گزرنے والی اور جس کا شوہر فوت ہوگیا ہو ‘اس کے لیے اپنی کسی ضرورت کے تحت دن کے وقت گھر سے نکلنا جائز ہے
Sahih Muslim
7
باب: شوہر کے انتقال کی خبر والے دن سے عورت کی عدت کے شمار کا بیان۔
Sunnan Nisai
8
باب: جس کا شوہر مر گیا ہو کیا وہ (دوران عدت) دن میں گھر سے باہر نکل سکتی ہے؟
Sunnan Nisai
9
Chapter: What Has Been Related About A Woman Spending From Her Husband's House
باب: عورت اپنے شوہر کے گھر سے خرچ کرے تو کیسا ہے؟
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About The Permission For The Pregnant And Breast-Feeding Women To Break The Fast
باب: حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں کو روزہ نہ رکھنے کی رخصت
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked For A Woman To Fast Except With The Permission Of Her Husband
باب: شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کے نفل روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What has been related about a slave woman who is freed but she has a husband
باب: عورت جو آزاد کر دی جائے اور وہ شوہر والی ہو
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What has been related about the husband's rights over the wife
باب: عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What has been related about a woman's rights over her husband
باب: شوہر پر عورت کے حقوق کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Have Intercourse With Pregnant Female Prisoners
باب: حاملہ قیدی عورتوں سے جماع کرنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
16
باب: شوہر کی اجازت کے بغیر ان کی عورتوں کے پاس جانے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
17
وضع حمل تک حاملہ عورت سے حد کو مؤخر کر دینے کا بیان
Musnad Ahmad
18
یہ اس بات کا بیان ہے کہ شوہر لعان والی عورت کے اخراجات کا ذمہ دار نہیںاور اس عورت پر تہمت بھی نہیں لگائی جائے گی، اگرچہ اس کی اولاد کو باپ کی نسبت سے نہیں پکارا جائے گا۔
Musnad Ahmad
19
حاملہ خاتون کی عدت وضع حمل ہے، خواہ وہ طلاق یافتہ ہو یا بیوہ، کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا: اور حاملہ خواتین کی عدت کی مدت یہ ہے کہ وہ حمل وضع کر دیں
Musnad Ahmad
20
جب غیر حاملہ خاتون کا خاوند فوت ہو گا تو اس کی عدت چار ماہ دس دن ہو گی، کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا: اور تم میں سے جو لوگ فوت ہو جاتے ہیں اور بیویاں چھوڑ جاتے ہیں تو وہ چار ماہ دس دن انتظار کیا کرے۔
Musnad Ahmad
21
(2) CHAPTER. The washing of the husband's head and the combing of his hair by a menstruating wife.
اس بارے میں کہ حائضہ عورت کا اپنے شوہر کے سر کو دھونا اور اس میں کنگھا کرنا جائز ہے
Sahih Bukhari
22
(26) CHAPTER. The reward of the lady who gives in charity, or provides somebody with food from her husband
عورت کا ثواب جب وہ اپنے شوہر کی چیز میں سے صدقہ دے یا کسی کو کھلائے اور ارادہ گھر بگاڑنے کا نہ ہو
Sahih Bukhari
23
(48) CHAPTER. The giving of Zakat to one
عورت کا خود اپنے شوہر کو یا اپنی زیر تربیت یتیم بچوں کو زکوٰۃ دینا
Sahih Bukhari
24
(64) CHAPTER. The women who present the lady to her husband and their invocations for Allah's blessings upon them.
وہ عورتیں جو دلہن کا بناؤ سنگھار کر کے اسے شوہر کے پاس لے جائیں ۔
Sahih Bukhari
25
(85) CHAPTER. A woman should not observe Saum (fast) (optional ones) except with the permission of her husband.
شوہر کی اجازت سے عورت کو نفلی روزہ رکھنا جائز ہے ۔
Sahih Bukhari
26
(86) CHAPTER. If a woman spends the night deserting her husband's bed (without a reasonable cause, she is sinful).
جو عورت غصہ ہو کر اپنے شوہر کے بستر سے الگ ہو کر رات گزارے ، اس کی برائی کا بیان ۔
Sahih Bukhari
27
(87) CHAPTER. A woman should not allow anyone to enter her husband's house except with his consent.
عورت اپنے شوہر کے گھر میں آنے کی کسی غیر مرد کو اس کی اجازت کے بغیر اجازت نہ دے ۔
Sahih Bukhari
28
(95) CHAPTER. A woman should not obey her husband if he orders her to do something sinful.
عورت گناہ کے حکم میں اپنے شوہر کا کہنا نہ مانے ۔
Sahih Bukhari
29
(96) CHAPTER. “If a woman fears cruelty or desertion on her husband's part...” (V.4:128)
اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے نفرت اور منہ موڑنے کا خوف ہو ۔
Sahih Bukhari
30
(99) CHAPTER. (What is said regarding) the woman who gives up her turn with her husband to one of his other wives, and how to divide the turns.
عورت اپنے شوہر کی باری اپنی سوکن کو دے سکتی ہے اور اس کی تقسیم کس طرح کی جائے ؟
Sahih Bukhari
31
(117) CHAPTER. The permission taken by a woman from her husband to go to the mosque.
مسجد وغیرہ میں جانے کے لئے عورت کا اپنے شوہر سے اجازت لینا ۔
Sahih Bukhari
32
(124) CHAPTER. “And not to reveal their adornments except to their husbands,…” (V.24:31)
اللہ کا سورۃ النور میں یہ فرمانا کہ ولا یبدین زینتھن ( الایۃ ) یعنی اور عورتیں اپنے زینت اپنے شوہر کے سوا کسی پر ظاہر نہ ہونے دیں ۔
Sahih Bukhari
33
(19) CHAPTER. Marrying Al-Mushrikat (pagan ladies) who had embraced Islam; and their Idda.
اسلام قبول کرنے والی مشرک عورتوں سے نکاح اور ان کی عدت کا بیان ۔
Sahih Bukhari
34
(37) CHAPTER. If a person divorces his wife thrice and she marries another man after the completion of her Idda but the second husband does not consummate his marriage with her.
جب کسی نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی اور بیوی نے عدت گزار کر دوسرے شوہر سے شادی کی لیکن دوسرے شوہر نے اس سے صحبت نہیں کی ۔
Sahih Bukhari
35
(44) CHAPTER. “And their husbands have the better right to take them (divorced ladies) back,” (V.2:228) during the period of the Idda.
اور اللہ کا سورۃ البقرہ میں یہ فرمانا کہ عدت کیاندر عورتوں کے خاندان کے زیادہ حقدار ہیں یعنی رجعت کر کے اور اس بات کا بیان کہ جب عورت کو ایک یاد و طلاق دی ہوں تو کیونکر رجعت کرے ۔
Sahih Bukhari
36
(46) CHAPTER. A widow should mourn for four months and ten days.
جس عورت کا شوہر مر جائے وہ چار مہینے دس دن تک سوگ منائے ۔
Sahih Bukhari
37
(47) CHAPTER. Can a mourning lady use kohl?
عورت عدت میں سرمہ کا استعمال نہ کرے ۔
Sahih Bukhari
38
(5) CHAPTER. The expenditure of a woman whose husband is away from her, and the expenditure of her child.
کسی عورت کا شوہر اگر غائب ہو تو اس کی عورت کیونکرخرچ کرے اور اولاد کے خرچ کا بیان ۔
Sahih Bukhari
39
(6) CHAPTER. The working of a lady in her husband's house.
عورت کا اپنے شوہر کے گھر میں کامکاج کرنا ۔
Sahih Bukhari
40
(10) CHAPTER. A woman should take care of the wealth of her husband, and also of what he gives her for expenditures.
عورت کا اپنے شوہر کے مال کی اور جو وہ خرچ کے لیے دے اس کی حفاظت کرنا ۔
Sahih Bukhari
41
(31) CHAPTER. The Rajm (stoning to death) of a married lady who has become pregnant through illegal sexual intercourse.
زنا سے حاملہ ہونے والی عورت کو رجم کرنے کا بیان جب کہ وہ شادیشدہ ہو
Sahih Bukhari
42
(6) CHAPTER. If a woman is compelled to commit illegal sexual intercourse against her will, then no legal punishment is inflicted upon her۔
جب عورت سے زبردستی زنا کیا گیا ہو تو اس پر حد نہیں ہے
Sahih Bukhari
43
(12) CHAPTER. What is hated regarding the trick by a woman with her husband and the other wives of her husband and what was revealed to the Prophet in this respect.
عورت کا اپنے شوہر یا سوکنوں کے ساتھ حیلہ کرنے کی ممانعت
Sahih Bukhari
44
Chapter: The Command To Women Who Are Praying Behind Men Not To Raise Their Heads From Prostration Before The Men Have Done So
مردوں کے پیچھے نماز پڑھنے والی عورتوں کو حکم (دیا گیا) کہ وہ اس وقت تک سجدے سے اپنا سر نہ اٹھائیں جب تک مرد سر نہ اٹھا لیں
Sahih Muslim
45
Chapter: The prohibition of intercourse with a pregnant captive woman
قید کی جانے والی حاملہ عورت سے مباشرت کی حرمت
Sahih Muslim
46
Chapter: It is permissible to have intercourse with a female captive after it is established that she is not pregnant, and if she has a husband, then her marriage is annulled when she is captured
استبرائے رحم کے بعد جنگ میں قید ہونے والی لونڈی کے ساتھ مجامعت کرنا جائز ہے اور اگر اس کا شوہر تھا تز غلامی کی وجہ سے اس کا نکاح فسخ ہو گیا
Sahih Muslim
47
Chapter: Were it not for Hawa', no female would ever betray her husband
اگر حوا نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر سے کبھی حیانت نہ کرتی
Sahih Muslim
48
CHAPTER: Sadaqah Given By A Woman From Her Husband’s Property.
باب: عورت کا اپنے شوہر کے مال سے صدقہ دینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
49
CHAPTER: A Man That Marries A Woman And Finds Her Pregnant.
باب: آدمی کسی عورت سے شادی کرے اور اسے حاملہ پائے تو کیا کرے ؟
Sunnan Abu Dawood
50
CHAPTER: Regarding A Man Who Has Agreed To The Condition Of Living In Her Place Of Residence.
باب: شوہر یہ شرط مان لے کہ عورت اپنے گھر میں ہی رہے گی ۔
Sunnan Abu Dawood
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,190
Sunnan Nisai
3541
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي امْرَأَةٍ وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِعِشْرِينَ لَيْلَةً:‏‏‏‏ أَيَصْلُحُ لَهَا أَنْ تَزَوَّجَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا آخِرَ الْأَجَلَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى:‏‏‏‏ وَأُولاتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ سورة الطلاق آية 4، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا ذَلِكَ فِي الطَّلَاقِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَرْسَلَ غُلَامَهُ كُرَيْبًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ ائْتِ أُمَّ سَلَمَةَ فَسَلْهَا:‏‏‏‏ هَلْ كَانَ هَذَا سُنَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَجَاءَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏سُبَيْعَةُ الْأَسْلَمِيَّةُ وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِعِشْرِينَ لَيْلَةً، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَنْ تَزَوَّجَ، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَ أَبُو السَّنَابِلِ فِيمَنْ يَخْطُبُهَا .
Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman said: It was said to Ibn 'Abbas concerning a woman who gives birth one day after her husband died: 'Can she get married?' He said: 'No, not until the longer of the two periods has ended.' He said: 'Allah says: And for those who are pregnant (whether they are divorced or their husbands are dead), their 'Iddah (prescribed period) is until they lay down their burden.' He said: 'That only applies in the case of divorce.' Abu Hurairah said: 'I agree with my brother's son' --meaning, Abu Salamah. He sent his slave Kuraib and told him: 'Go to Umm Salamah and ask her: Was this the Sunnah of the Messenger of Allah?' He came back and said: 'Yes, Subai'ah Al-Aslamiyyah gave birth twenty days after her husband died, and the Messenger of Allah told her to get married, and Abu As-Sanabil was one of those who proposed marriage to her.'
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسی عورت کے متعلق پوچھا گیا جس نے اپنے شوہر کے انتقال کے بیس رات بعد بچہ جنا، کیا اس کے لیے نکاح کر لینا جائز و درست ہو گا؟ انہوں نے کہا: اس وقت تک نہیں جب تک کہ دونوں عدتوں میں سے بعد میں مکمل ہونے والی عدت کو پوری نہ کر لے۔ ابوسلمہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے: «وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن» یعنی ”جن کے پیٹ میں بچہ ہے ان کی عدت یہ ہے کہ بچہ جن دیں“۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ حکم مطلقہ ( حاملہ ) کا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اپنے بھتیجے ابوسلمہ کے ساتھ ہوں ( یعنی ابوسلمہ جو کہتے ہیں وہی میرے نزدیک بھی صحیح اور بہتر ہے ) اس گفتگو کے بعد ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام کریب کو بھیجا کہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ کیا اس سلسلے میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی سنت موجود ہے؟ کریب ان کے پاس آئے اور انہیں ( ساری بات ) بتائی، تو انہوں نے کہا: ہاں، سبیعہ اسلمی رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کے انتقال کے بعد کی بیس راتیں گزرنے کے بعد بچہ جنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے شادی کرنے کی اجازت دی، اور ابوسنابل رضی اللہ عنہ انہیں لوگوں میں سے تھے جن ہوں نے اسے شادی کا پیغام دیا تھا۔
Jam e Tirmazi
485
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ،‏‏‏‏ وَعَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ،‏‏‏‏ وَعَمَّارٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي طَلْحَةَ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ،‏‏‏‏ وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرُوِي عَنْ سفيان الثوري وَغَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ صَلَاةُ الرَّبِّ الرَّحْمَةُ وَصَلَاةُ الْمَلَائِكَةِ الِاسْتِغْفَارُ.
Abu Hurairah narrated that : Allah's Messenger said: Whoever sends Salat upon me, Allah sends Salat upon him ten times.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مجھ پر ایک بار صلاۃ ( درود ) بھیجے گا، اللہ اس کے بدلے اس پر دس بار صلاۃ ( درود ) بھیجے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبدالرحمٰن بن عوف، عامر بن ربیعہ، عمار، ابوطلحہ، انس اور ابی بن کعب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- سفیان ثوری اور دیگر کئی اہل علم سے مروی ہے کہ رب کے صلاۃ ( درود ) سے مراد اس کی رحمت ہے اور فرشتوں کے صلاۃ ( درود ) سے مراد استغفار ہے۔
Jam e Tirmazi
841
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ:‏‏‏‏ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ حَلَالٌ، ‏‏‏‏‏‏وَبَنَى بِهَا وَهُوَ حَلَالٌ، ‏‏‏‏‏‏وَكُنْتُ أَنَا الرَّسُولَ فِيمَا بَيْنَهُمَا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا أَسْنَدَهُ غَيْرَ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَبِيعَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ رَبِيعَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ حَلَالٌ رَوَاهُ مَالِكٌ مُرْسَلًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَرَوَاهُ أَيْضًا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ رَبِيعَةَ مُرْسَلًا. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَرُوِي عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ حَلَالٌ . وَيَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ هُوَ ابْنُ أُخْتِ مَيْمُونَةَ.
Abu Rafi narrated: The Messenger of Allah married Maimunah while he was Halal, and he stayed with her while he was Halal, and I was the messenger between the two of them.
ابورافع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میمونہ سے نکاح کیا اور آپ حلال تھے پھر ان کے خلوت میں گئے تب بھی آپ حلال تھے، اور میں ہی آپ دونوں کے درمیان پیغام رساں تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اور ہم حماد بن زید کے علاوہ کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس نے اسے مطر وراق کے واسطے سے ربیعہ سے مسنداً روایت کیا ہو، ۳- اور مالک بن انس نے ربیعہ سے، اور ربیعہ نے سلیمان بن یسار سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میمونہ سے شادی کی اور آپ حلال تھے۔ اسے مالک نے مرسلا روایت کیا ہے، اور سلیمان بن ہلال نے بھی اسے ربیعہ سے مرسلا روایت کیا ہے، ۴- یزید بن اصم ام المؤمنین میمونہ رضی الله عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی اور آپ حلال تھے یعنی محرم نہیں تھے۔ یزید بن اصم میمونہ کے بھانجے ہیں۔
Jam e Tirmazi
1194
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنَ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏تَذَاكَرُوا الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا الْحَامِلَ تَضَعُ عِنْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ تَعْتَدُّ آخِرَ الْأَجَلَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ:‏‏‏‏ بَلْ تَحِلُّ حِينَ تَضَعُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:‏‏‏‏ أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَرْسَلُوا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ:‏‏‏‏ قَدْ وَضَعَتْ سُبَيْعَةُ الْأَسْلَمِيَّةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِيَسِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا أَنْ تَتَزَوَّجَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Sulaiman bin Yasir narrated that : Abu Hurairah, Ibn Abbas and Abu Salamah bin Abdur-Rahman mentioned the pregnant women whose husband died and she gave birth after the death of her husband. So Ibn Abbas said: She observes Iddah until the end of the two terms. Abu Salamah said: Rather, she is allowed when she gives birth. Abu Hurairah said: I am with my nephew, meaning Abu Salamah.So he sent a message to Umm Salamah the wife of the Prophet. She said: Subai'ah Al-Aslamiyyah gave birth a short time after her husband died, so she sought the judgment of the Messenger of Allah and he ordered her to get married.
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ ابوہریرہ، ابن عباس اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رضی الله عنہم نے آپس میں اس حاملہ عورت کا ذکر کیا جس کا شوہر فوت ہو چکا ہو اور اس نے شوہر کی وفات کے بعد بچہ جنا ہو، ابن عباس رضی الله عنہما کا کہنا تھا کہ وضع حمل اور چار ماہ دس دن میں سے جو مدت بعد میں پوری ہو گی اس کے مطابق وہ عدت گزارے گی، اور ابوسلمہ کا کہنا تھا کہ جب اس نے بچہ جن دیا تو اس کی عدت پوری ہو گئی، اس پر ابوہریرہ رضی الله عنہ نے کہا: میں اپنے بھتیجے یعنی ابوسلمہ کے ساتھ ہوں۔ پھر ان لوگوں نے ( ایک شخص کو ) ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کے پاس ( مسئلہ معلوم کرنے کے لیے ) بھیجا، تو انہوں نے کہا: سبیعہ اسلمیہ نے اپنے شوہر کی وفات کے کچھ ہی دنوں بعد بچہ جنا۔ پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( شادی کے سلسلے میں ) مسئلہ پوچھا تو آپ نے اسے ( دم نفاس ختم ہوتے ہی ) شادی کرنے کی اجازت دے دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Sahih Muslim
3723
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَابْنَ عَبَّاسٍ، اجْتَمَعَا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَهُمَا يَذْكُرَانِ الْمَرْأَةَ تُنْفَسُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: عِدَّتُهَا آخِرُ الْأَجَلَيْنِ، وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ: قَدْ حَلَّتْ، فَجَعَلَا يَتَنَازَعَانِ ذَلِكَ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي - يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ - فَبَعَثُوا كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، يَسْأَلُهَا عَنْ ذَلِكَ، فَجَاءَهُمْ فَأَخْبَرَهُمْ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ قَالَتْ: «إِنَّ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ نُفِسَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ، وَإِنَّهَا ذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَتَزَوَّجَ
Abu Salama b. 'Abd al-Rahman and Ibn 'Abbas. (Allah be pleased with them) got together in the house of Abu Huraira (Allah be pleased with him) and began to discuss about the woman who gave birth to a child a few nights after the death of her husband. Ibn 'Abbas (Allah be pleased with then) ) said: Her 'Idda is that period which is longer of the two (between four months and ten days and the birth of the child, whichever is longer). AbuSalama, however said: Her period of 'Idda is over (with the birth of the child), and they were contending with each other over this issue, whereupon Abu Huraira (Allah be pleased with him) said: I subscribe (to the view) held by my nephew (i. e. Abu Salama). They sent Kuraib (the freed slave of Ibn 'Abbas) to Umm Salama to ask her about it. He came (back) to them and informed them that Umm Salama (Allah be pleased with her) said that Subai'ah al-Aslamiyya gave birth to a child after the death of her husband when the few flights (had hardly) passed and she made mention of that to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and he commanded her to marry.
عبدالوہاب نے کہا : میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا ، ( انہوں نے کہا : ) مجھے سلیمان بن یسار نے خبر دی کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور ابن عباس رضی اللہ عنہم دونوں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ہاں اکٹھے ہوئے اور وہ دونوں اس عورت کا ذکر کرنے لگے جس کا اپنے شوہر کی وفات سے چند راتوں کے بعد نفاس شروع ہو جائے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : اس کی عدت دو وقتوں میں سے آخر والا ہے ۔ ابوسلمہ نے کہا : وہ حلال ہو چکی ہے ۔ وہ دونوں اس معاملے میں بحث کرنے لگے ، تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں اپنے بھتیجے ۔ ۔ یعنی ابوسلمہ ۔ ۔ کے ساتھ ہوں ۔ اس کے بعد انہوں نے اس مسئلے کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے ابن عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام کریب کو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا ۔ وہ ( واپس ) ان کے پاس آیا تو انہیں بتایا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہے : سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کی وفات سے چند راتوں کے بعد بچہ جنا تھا ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ نے انہیں نکاح کرنے کا حکم دیا تھا
Sahih Muslim
6493
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَرْمَلَةُ، ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ وَهُوَ ابْنُ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَ أَرْضًا يُذْكَرُ فِيهَا الْقِيرَاطُ، فَاسْتَوْصُوا بِأَهْلِهَا خَيْرًا، فَإِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَرَحِمًا، فَإِذَا رَأَيْتُمْ رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلَانِ فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ، فَاخْرُجْ مِنْهَا» قَالَ: فَمَرَّ بِرَبِيعَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ، ابْنَيْ شُرَحْبِيلَ ابْنِ حَسَنَةَ، يَتَنَازَعَانِ فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ، فَخَرَجَ مِنْهَا
Abu Dharr reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: You would soon conquer a land where people are in the habit of using foul language. They have a right of kinship upon you. And when you see two persons fighting for the space of a brick, then get out of that. He (Abu Dharr) then happened to pass by Rabila and 'Abd al-Rahman, the two sons of Shurahbil b. Hasana, and they had been disputing for the space of a brick. So he left the land.
ابن وہب نے کہا : ہمیں حرملہ بن عمران تحبیی نے عبدالرحمٰن بن شماسہ مہری سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" تم عنقریب ایک زمین کو فتح کرو گےجس میں قیراط کا نام لیا جاتا ہوگا ( یہ ان کے چھوٹے سکے کا نام ہوگا ) تم اس سرزمین کے رہنے والوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی بات سن رکھو ، کیونکہ ان کا ( ہم پر ) حق بھی ہے اور رشتہ بھی ، پھر جب تم دو انسانوں کو ایک اینٹ کی جگہ کے لئے قتال پر آمادہ دیکھو تو وہاں سے چلے آنا ۔ "" ( حرملہ بن عمران نے ) کہا : تو ( عبدالرحمان بن شماسہ ) حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دو بیٹوں ربیعہ اور عبدالرحمان کے قریب سے گزرے ، وہ ایک اینٹ کی جگہ پر جھگڑ رہے تھے تو وہ وہاں ( مصر ) سے نکل آئے ۔
Sunnan Abu Dawood
572
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏أن أبا هريرة، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَأْتُوهَا تَسْعَوْنَ وَأْتُوهَا تَمْشُونَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ كَذَا قَالَ الزُّبَيْدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمَعْمَرٌ، ‏‏‏‏‏‏وَشُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ،‏‏‏‏:‏‏‏‏ وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ:‏‏‏‏ عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَحْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَاقْضُوا، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو:‏‏‏‏ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَجَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَعْرَجِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتِمُّوا، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏كُلُّهُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ فَأَتِمُّوا.
Abu Hurairah said: I heard the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم say: When the iqamah is pronounced for prayer, do not come to it running, but come walking (slowly). You should observe tranquility. The part of the prayer you get (along with the imam) offer it, and the part you miss complete it (afterwards). Abu Dawud said: The version narrated by al-Zubaidi, Ibn Abi Dhi’b, Ibrahim bin Saad, Mamar, Shuaib bin Abi Hamzah on the authority of al-Zuhri has the words: “the part you miss then complete it”. Ibn ‘Uyainah alone narrated from al-Zuhri the words “then offer it afterwards”. And Muhammad bin Amr narrated from Abu Salamah on the authority of Abu Hurairah, and Jafar bin Rabiah narrated from al-A’raj on the authority of Abu Hurairah the words “then complete it”. And Ibn Masud narrated from the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم and Abu Qatadah and Anas reported from the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم the words” then complete it”.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب نماز کی تکبیر کہہ دی جائے تو نماز کے لیے دوڑتے ہوئے نہ آؤ، بلکہ اطمینان و سکون کے ساتھ چلتے ہوئے آؤ، تو اب جتنی پاؤ اسے پڑھ لو، اور جو چھوٹ جائے اسے پوری کر لو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: زبیدی، ابن ابی ذئب، ابراہیم بن سعد، معمر اور شعیب بن ابی حمزہ نے زہری سے اسی طرح: «وما فاتكم فأتموا» کے الفاظ روایت کئے ہیں، اور ابن عیینہ نے تنہا زہری سے لفظ: «فاقضوا» روایت کی ہے۔ محمد بن عمرو نے ابوسلمہ سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، اور جعفر بن ربیعہ نے اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے لفظ: «فأتموا» سے روایت کی ہے، اور اسے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اور انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور ان سب نے: «فأتموا» کہا ہے۔
Sunnan Abu Dawood
4704
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ جُعْثُمٍ الْقُرَشِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نُعَيْمِ بْنِ رَبِيعَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَحَدِيثُ مَالِكٍ أَتَمُّ.
Nuaim bin Rablah said: I was with Umar bin al-Khattab when he transmitted this tradition. The tradition of Malik is more perfect.
نعیم بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، پھر انہوں نے یہی حدیث روایت کی، مالک کی روایت زیادہ کامل ہے۔
Sunnan Nisai
181
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْجَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْأَخْنَسِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ لَهُ وَشَرِبَ سَوِيقًا:‏‏‏‏ يَا ابْنَ أُخْتِي تَوَضَّأْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ .
It was narrated from Abu Sufyan bin Sa'eed bin Al-Akhnas that Umm Habibah, the wife of the Prophet (ﷺ), said to him, when he had drunk some Sawiq: O son of my sister, perform Wudu', for I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Perform Wudu' from that which has been touched by fire.'
ابوسفیان بن سعید بن اخنس سے روایت ہے کہ ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا  ( جب انہوں نے ستو پیا )  بھانجے! وضو کر لو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے:  آگ کی پکی چیز  ( کھانے )  سے وضو کرو ۔