TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3762 - باب: عمریٰ سے متعلق جابر رضی الله عنہ کی حدیث کے رواۃ کے الفاظ میں اختلاف کا ذکر۔ - The book of 'umra - Sunnan Nisai in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 5 of 13 in this chapter
باب: عمریٰ سے متعلق جابر رضی الله عنہ کی حدیث کے رواۃ کے الفاظ میں اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ لَا تُرْقِبُوا وَلَا تُعْمِرُوا، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ أُرْقِبَ أَوْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لَوَرَثَتِهِ .
Sufyan narrated from Ibn Juraij, from 'Ata', from Jabir that the Messenger of Allah said: Do not give things on the basis of Ruqba or 'Umra. Whoever is given something on the basis of Ruqba or 'Umra, it belongs to his heirs.
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ رقبیٰ اور عمریٰ نہ کیا کرو۔ ( جان لو ) اگر کوئی چیز کسی کو بطور رقبیٰ یا بطور عمریٰ دی گئی تو جس کو دی گئی ہے ( اس کے نہ رہنے پر ) اس کے ورثاء کی ہو جائے گی“۔
3762
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 3731 In-book reference : Book 34, Hadith 13 English translation : Vol. 4, Book 34, Hadith 3762
صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3731
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/البیوع ۸۸ (۳۵۵۶)، (تحفة الأشراف: ۲۴۵۸)

Related Chapters

331
1
باب: سحری میں تاخیر سے متعلق عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث میں سلیمان بن مہران اعمش پر راویوں اور ان کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
2
باب: ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن افطار کرنے کا بیان اور اس سلسلہ میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
3
باب: میراث کی تقسیم سے پہلے قرض کی ادائیگی کا بیان اور اس سلسلہ میں جابر رضی الله عنہ کی حدیث کے ناقلین کے اختلاف الفاظ کا ذکر۔
Sunnan Nisai
4
باب: مہینے میں دس دن کا روزہ اور اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
5
باب: عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی حدیث میں سفیان پر رواۃ کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
6
باب: سونے کے بدلے چاندی اور چاندی کے بدلے سونا لینے کا بیان اور اس سلسلے میں ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ میں اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
7
باب: دانت کاٹ لینے کا قصاص اور اس بابت عمران بن حصین رضی الله عنہ کی حدیث میں راویوں کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
8
عصر کے پہلے سنت پڑھنے کا بیان اور اس سلسلے میں ابواسحاق سبیعی سے رواۃ حدیث کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
9
اس حدیث کی روایت میں ابوحصین عثمان بن عاصم پر رواۃ کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
10
وتر کے سلسلے میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
11
باب: عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی حدیث میں عمرو بن دینار پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
12
باب: مہینہ کتنے دنوں کا ہوتا ہے؟ نیز عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث میں زہری پر (راویوں کے) اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
13
باب: اس سلسلہ میں عائشہ رضی الله عنہا کی روایت کے ناقلین کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
14
باب: روزے کی فضیلت اور اس سلسلے میں علی رضی الله عنہ کی حدیث کے بارے میں ابواسحاق سبیعی پر راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
15
باب: روزہ دار کی فضیلت کے سلسلے میں ابوامامہ رضی الله عنہ والی حدیث میں محمد بن ابی یعقوب پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
16
باب: مسافر کے روزہ نہ رکھنے کا بیان اور عمرو بن امیہ رضی الله عنہ کی حدیث میں اوزاعی پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
17
باب: سفر میں روزہ رکھنے کا بیان اور اس باب میں عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی حدیث کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
18
باب: اس حدیث میں منصور پر رواۃ کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
19
باب: حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کی حدیث میں عروہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
20
باب: روزہ میں نیت کا بیان اور اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا والی حدیث میں طلحہ بن یحییٰ بن طلحہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
21
باب: اس باب میں حفصہ رضی الله عنہا کی حدیث کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
22
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم (میرے باپ ماں آپ پر فدا ہوں) کا روزہ اور اس سلسلہ میں ناقلین حدیث کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
23
باب: روزہ میں زیادتی و کمی کا بیان اور اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
24
باب: ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کے سلسلہ میں ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث میں ابوعثمان نہدی پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
25
باب: کسی لڑکے کے نسبت کے بارے میں جھگڑا ہو جائے تو قرعہ اندازی کی جائے گی اور زید بن ارقم رضی الله عنہ کی حدیث میں شعبی کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
26
باب: وقف کس طرح لکھا جائے گا؟ ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث ابن عون پر ان کے تلامذہ کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
27
باب: عطیہ و ہبہ (بخشش) کے سلسلہ میں نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کی حدیث کے ناقلین کے سیاق کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
28
باب: اس باب میں عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی حدیث میں اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
29
باب: اس باب میں زید بن ثابت رضی الله عنہ کی حدیث میں علی بن أبی نجیح پر اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
30
باب: اس حدیث میں ابوالزبیر (راوی) پر رواۃ اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
31
باب: اس حدیث میں زہری پر رواۃ کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
32
باب: زمین کو تہائی یا چوتھائی پر بٹائی دینے کی ممانعت کے سلسلے کی مختلف احادیث اور ان کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
33
باب: حمید کی انس بن مالک رضی الله عنہ سے مروی حدیث میں ناقلین کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
34
باب: غلام مشرکین کے علاقہ میں بھاگ جائے اس کا بیان اور جریر رضی الله عنہ کی حدیث کی روایت میں شعبی پر اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
35
باب: نافع کی حدیث کے الفاظ میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
36
باب: اس حدیث کے الفاظ میں عبداللہ بن دینار پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
37
باب: اس سلسلے میں سہل کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ میں اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
38
باب: قتل شبہ عمد کی تشریح اور اس بات کا بیان کہ بچے کی اور شبہ عمد کی دیت کس پر ہو گی اور اس بابت مغیرہ رضی الله عنہ کی حدیث میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
39
باب: (اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث کی روایت میں) تلامذہ زہری کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
40
باب: ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث اور قتادہ کے شاگردوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
41
روایت ِ حدیث میں محتاط رہنے اور الفاظ کو اسی طرح عمدگی کے ساتھ ادا کرنے کا بیان، جیسے وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے صادر ہوئے
Musnad Ahmad
42
نماز کی فرضیت اور اس سلسلے میں انس بن مالک کی حدیث کی سند میں راویوں کے اختلاف اور اس (کے متن) میں ان کے لفظی اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
43
باب: نماز جمعہ میں سورتوں کی قرأت کے متعلق نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم سے روایت کرنے میں ان کے تلامذہ کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
44
اللہ کے نبی موسیٰ علیہ السلام کی نماز کا بیان اور سلیمان التیمی سے اس حدیث کی روایت میں راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
45
وتر کے سلسلے میں سعید بن جبیر کی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی حدیث میں ابواسحاق سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
46
وتر کے سلسلے میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کی حدیث میں حبیب بن ابی ثابت پر اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
47
وتر کے سلسلے میں ابوایوب رضی اللہ عنہ کی حدیث میں زہری سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
48
پانچ رکعت وتر کیسے پڑھی جائے ؟ اور وتر کی حدیث کے سلسلے میں حکم سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
49
اس حدیث میں شعبہ سے روایت میں راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
50
اس حدیث میں مالک بن مغول سے روایت میں راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

856
Jam e Tirmazi
1009
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعُمَرُ يَمْشُونَ أَمَامَ الْجَنَازَةِ . قَالَ الزُّهْرِيُّ:‏‏‏‏ وَأَخْبَرَنِي سَالِمٌ، أَنَّ أَبَاهُ كَانَ يَمْشِي أَمَامَ الْجَنَازَةِ. قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ هَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، وَزِيَادُ بْنُ سَعْدٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى مَعْمَرٌ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَمَالِكٌ،‏‏‏‏ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْحُفَّاظِ، ‏‏‏‏‏‏عن الزُّهْرِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْشِي أَمَامَ الْجَنَازَةِ . وَأَهْلُ الْحَدِيثِ كُلُّهُمْ يَرَوْنَ أَنَّ الْحَدِيثَ الْمُرْسَلَ فِي ذَلِكَ أَصَحُّ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وسَمِعْت يَحْيَى بْنَ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ:‏‏‏‏ قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ:‏‏‏‏ حَدِيثُ الزُّهْرِيِّ فِي هَذَا مُرْسَلٌ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ:‏‏‏‏ وَأَرَى ابْنَ جُرَيْجٍ أَخَذَهُ عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَرَوَى هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زِيَادٍ وَهُوَ:‏‏‏‏ ابْنُ سَعْدٍ، وَمَنْصُورٍ، وَبَكْرٍ، وَسُفْيَانَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَإِنَّمَا هُوَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏رَوَى عَنْهُ هَمَّامٌ، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْمَشْيِ أَمَامَ الْجَنَازَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ:‏‏‏‏ أَنَّ الْمَشْيَ أَمَامَهَا أَفْضَلُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ الشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ أَنَسٍ فِي هَذَا الْبَابِ غَيْرُ مَحْفُوظٍ.
Az-Zuhri said: The Prophet, Abu Bakr, and Umar would walk in front of the funeral. Az-Zuhri said: Salim informed me that his father would walk in front of the funeral.
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما جنازے کے آگے آگے چلتے تھے۔ زہری یہ بھی کہتے ہیں کہ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ ان کے والد عبداللہ بن عمر جنازے کے آگے چلتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کی حدیث اسی طرح ہے، اسے ابن جریج، زیاد بن سعد اور دیگر کئی لوگوں نے زہری سے ابن عیینہ کی حدیث ہی کی طرح روایت کیا ہے، اور زہری نے سالم بن عبداللہ سے اور سالم نے اپنے والد ابن عمر سے روایت کی ہے۔ معمر، یونس بن یزید اور حفاظ میں سے اور بھی کئی لوگوں نے زہری سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنازے کے آگے چلتے تھے۔ زہری کہتے ہیں کہ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی ہے کہ ان کے والد جنازے کے آگے چلتے تھے۔ تمام محدثین کی رائے ہے کہ مرسل حدیث ہی اس باب میں زیادہ صحیح ہے، ۲- ابن مبارک کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں زہری کی حدیث مرسل ہے، اور ابن عیینہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ۳- ابن مبارک کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ ابن جریج نے یہ حدیث ابن عیینہ سے لی ہے، ۴- ہمام بن یحییٰ نے یہ حدیث زیاد بن سعد، منصور، بکر اور سفیان سے اور ان لوگوں نے زہری سے، زہری نے سالم بن عبداللہ سے اور سالم نے اپنے والد ابن عمر سے روایت کی ہے۔ اور سفیان سے مراد سفیان بن عیینہ ہیں جن سے ہمام نے روایت کی ہے، ۵- اس باب میں انس رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، انس کی حدیث اس باب میں غیر محفوظ ہے ۱؎، ۶- جنازے کے آگے چلنے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا خیال ہے کہ جنازے کے آگے چلنا افضل ہے۔ شافعی اور احمد اسی کے قائل ہیں۔
Sunnan Abu Dawood
3556
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا تُرْقِبُوا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تُعْمِرُوا، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ أُرْقِبَ شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏أَوْ أُعْمِرَهُ فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ .
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: Do not give property to go to the survivor and do not give life-tenancy. If anyone is given something to the survivor or given life-tenancy, it goes to his heirs.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رقبیٰ اور عمریٰ نہ کرو جس نے رقبیٰ اور عمریٰ کیا تو یہ جس کو دیا گیا ہے اس کا اور اس کے وارثوں کا ہو جائے گا ۱؎ ۔
Jam e Tirmazi
859
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ ابْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بِالْبَيْتِ مُضْطَبِعًا وَعَلَيْهِ بُرْدٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثُ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدُ الْحَمِيدِ هُوَ ابْنُ جُبَيْرَةَ بْنِ شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ يَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَى بْنُ أُمَيَّةَ.
Ibn Ya'la narrated from his father: The Prophet performed Tawaf of the House Mudtabi'an, and he was wearing a Burd.
یعلیٰ بن امیہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اضطباع کی حالت میں ۱؎ بیت اللہ کا طواف کیا، آپ کے جسم مبارک پر ایک چادر تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہی ثوری کی حدیث ہے جسے انہوں نے ابن جریج سے روایت کی ہے اور اسے ہم صرف کے انہی طریق سے جانتے ہیں، ۳- عبدالحمید جبیرہ بن شیبہ کے بیٹے ہیں، جنہوں نے ابن یعلیٰ سے اور ابن یعلیٰ نے اپنے والد سے روایت کی ہے اور یعلیٰ سے مراد یعلیٰ بن امیہ ہیں رضی الله عنہ۔
Jam e Tirmazi
1102
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا، ‏‏‏‏‏‏فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، ‏‏‏‏‏‏فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، ‏‏‏‏‏‏فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنِ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْحُفَّاظِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ نَحْوَ هَذَا. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ أَبِي مُوسَى حَدِيثٌ فِيهِ اخْتِلَافٌ، ‏‏‏‏‏‏رَوَاهُ إِسْرَائِيلُ، وَشَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبُو عَوَانَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ،‏‏‏‏ وَقَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَرَوَى أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَزَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَرَوَى أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ، عنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاق. وَقَدْ رُوِيَ عن يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عنْ أَبِي إِسْحَاق، عنْ أَبِي بُرْدَةَ، عنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْضًا. وَرَوَى شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ ذَكَرَ بَعْضُ أَصْحَابِ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُوسَى وَلَا يَصِحُّ، ‏‏‏‏‏‏وَرِوَايَةُ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ رَوَوْا عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ ، ‏‏‏‏‏‏عِنْدِي أَصَحُّ لِأَنَّ سَمَاعَهُمْ مِنْ أَبِي إِسْحَاق فِي أَوْقَاتٍ مُخْتَلِفَةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ كَانَ شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَالثَّوْرِيُّ أَحْفَظَ وَأَثْبَتَ مِنْ جَمِيعِ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ رَوَوْا عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ رِوَايَةَ هَؤُلَاءِ عِنْدِي أَشْبَهُ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالثَّوْرِيَّ سَمِعَا هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ أَبِي إِسْحَاق فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى ذَلِكَ مَا حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ يَسْأَلُ أَبَا إِسْحَاق:‏‏‏‏ أَسَمِعْتَ أَبَا بُرْدَةَ، يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏فَدَلَّ هَذَا الْحَدِيثُ عَلَى أَنَّ سَمَاعَ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالثَّوْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ فِي وَقْتٍ وَاحِدٍ وَإِسْرَائِيلُ هُوَ ثِقَةٌ، ‏‏‏‏‏‏ثَبْتٌ فِي أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ مَا فَاتَنِي مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق الَّذِي فَاتَنِي، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا لَمَّا اتَّكَلْتُ بِهِ عَلَى إِسْرَائِيلَ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّهُ كَانَ يَأْتِي بِهِ أَتَمَّ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ عَائِشَةَ فِي هَذَا الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ هُوَ حَدِيثٌ عِنْدِي حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَاهُ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَجَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ. وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ:‏‏‏‏ ثُمَّ لَقِيتُ الزُّهْرِيَّ فَسَأَلْتُهُ فَأَنْكَرَهُ فَضَعَّفُوا هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ أَجْلِ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَذُكِرَ عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ لَمْ يَذْكُرْ هَذَا الْحَرْفَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ إِلَّا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ:‏‏‏‏ وَسَمَاعُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ لَيْسَ بِذَاكَ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا صَحَّحَ كُتُبَهُ عَلَى كُتُبِ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، ‏‏‏‏‏‏مَا سَمِعَ مِنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏وَضَعَّفَ يَحْيَى رِوَايَةَ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ فِي هَذَا الْبَابِ عَلَى حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَغَيْرُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ بَعْضِ فُقَهَاءِ التَّابِعِينَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُمْ قَالُوا:‏‏‏‏ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏مِنْهُمْ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَشُرَيْحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ‏‏‏‏‏‏وَغَيْرُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهَذَا يَقُولُ:‏‏‏‏ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَالْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق.
Aishah narrated that: The Messenger of Allah said: Whichever woman married without the permission of her Wali her marriage is invalid, her marriage is invalid, her marriage is invalid. If he entered into her, then the Mahr is for her in lieu of what he enjoyed from her private part. If they disagree, then the Sultan is the Wali for one who has no Wali.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اگر اس نے اس سے دخول کر لیا ہے تو اس کی شرمگاہ حلال کر لینے کے عوض اس کے لیے مہر ہے، اور اگر اولیاء میں جھگڑا ہو جائے تو جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی حاکم ہو گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یحییٰ بن سعید انصاری، یحییٰ بن ایوب، سفیان ثوری، اور کئی حفاظ حدیث نے اسی طرح ابن جریج سے روایت کی ہے، ۳- ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کی ( پچھلی ) حدیث میں اختلاف ہے، اسے اسرائیل، شریک بن عبداللہ، ابو عوانہ، زہیر بن معاویہ اور قیس بن ربیع نے بسند «أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۴- اور اسباط بن محمد اور زید بن حباب نے بسند «يونس بن أبي إسحق عن أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۵- اور ابوعبیدہ حداد نے بسند «يونس بن أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے، اس میں انہوں نے ابواسحاق کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، ۶- نیز یہ حدیث یونس بن ابی اسحاق سے بھی روایت کی گئی ہے انہوں نے بسند «أبي إسحق عن أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۷- اور شعبہ اور سفیان ثوری بسند «أبي إسحق عن أبي بردة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے کہ ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے“، اور سفیان ثوری کے بعض تلامذہ نے بسند «سفيان عن أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى» روایت کی ہے، لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ ان لوگوں کی روایت، جنہوں نے بطریق: «أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے کہ ”ولی کے بغیر نکاح نہیں“ میرے نزدیک زیادہ صحیح ہے، کیونکہ ابواسحاق سبیعی سے ان لوگوں کا سماع مختلف اوقات میں ہے اگرچہ شعبہ اور ثوری ابواسحاق سے روایت کرنے والے تمام لوگوں سے زیادہ پختہ اور مضبوط حافظہ والے ہیں پھر بھی ان لوگوں ( یعنی شعبہ و ثوری کے علاوہ دوسرے رواۃ ) کی روایت اشبہ ( قریب تر ) ہے۔ اس لیے کہ شعبہ اور ثوری دونوں نے یہ حدیث ابواسحاق سے ایک ہی مجلس میں سنی ہے، ( اور ان کے علاوہ رواۃ نے مختلف اوقات میں ) اس کی دلیل شعبہ کا یہ بیان ہے کہ میں نے سفیان ثوری کو ابواسحاق سے پوچھتے سنا کہ کیا آپ نے ابوبردہ کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں؟“ تو انہوں نے کہا: ہاں ( سنا ہے ) ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ شعبہ اور ثوری کا مکحول سے اس حدیث کا سماع ایک ہی وقت میں ہے۔ اور ابواسحاق سبیعی سے روایت کرنے میں اسرائیل بہت ہی ثقہ راوی ہیں۔ عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں کہ مجھ سے ثوری کی روایتوں میں سے جنہیں وہ ابواسحاق سے روایت کرتے ہیں، کوئی روایت نہیں چھوٹی، مگر جو چھوٹی ہیں وہ صرف اس لیے چھوٹی ہیں کہ میں نے اس سلسلے میں اسرائیل پر بھروسہ کر لیا تھا، اس لیے کہ وہ ابواسحاق کی حدیثوں کو بطریق اتم بیان کرتے تھے۔ اور اس باب میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث: ”بغیر ولی کے نکاح نہیں“ میرے نزدیک حسن ہے۔ یہ حدیث ابن جریج نے بطریق: «سليمان بن موسى، عن الزهري، عن عروة، عن عائشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم»،‏‏‏‏ نیز اسے حجاج بن ارطاۃ اور جعفر بن ربیعہ نے بھی بطریق: «الزهري، عن عروة، عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے۔ نیز زہری نے بطریق: «هشام بن عروة، عن أبيه عروة، عن عائشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی کے مثل روایت کی ہے۔ بعض محدثین نے زہری کی روایت میں ( جسے انہوں نے بطریق: «عروة عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے ) کلام کیا ہے، ابن جریج کہتے ہیں: پھر میں زہری سے ملا اور میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے اس کا انکار کیا اس کی وجہ سے ان لوگوں نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا۔ یحییٰ بن معین کہتے ہیں کہ ابن جریج سے اس بات کو اسماعیل بن ابراہیم بن علیہ کے علاوہ کسی اور نے نہیں نقل کیا ہے، یحییٰ بن معین کہتے ہیں: اسماعیل بن ابراہیم بن علیہ کا سماع ابن جریج سے نہیں ہے، انہوں نے اپنی کتابوں کی تصحیح عبدالمجید بن عبدالعزیز بن ابی رواد کی ان کتابوں سے کی ہے جنہیں عبدالمجید نے ابن جریج سے سنی ہیں۔ یحییٰ بن معین نے اسماعیل بن ابراہیم بن علیہ کی روایت کو جسے انہوں نے ابن جریج سے روایت کی ہے ضعیف قرار دیا ہے۔ ۸- صحابہ کرام میں سے اہل علم کا عمل اس باب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث «لا نكاح إلا بولي» ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ”پر ہے جن میں عمر، علی، عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ رضی الله عنہم وغیرہ بھی شامل ہیں، اسی طرح بعض فقہائے تابعین سے مروی ہے کہ ولی کے بغیر نکاح درست نہیں۔ ان میں سعید بن مسیب، حسن بصری، شریح، ابراہیم نخعی اور عمر بن عبدالعزیز وغیرہ ہیں۔ یہی سفیان ثوری، اوزاعی، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
Jam e Tirmazi
1980
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَا دَعْوَةٌ أَسْرَعَ إِجَابَةً مِنْ دَعْوَةِ غَائِبٍ لِغَائِبٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْأَفْرِيقِيُّ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ هُوَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ.
Abudullah bin 'Amr narrated that the Messenger of Allah said: No supplication is more readily responded to, than the supplication made for someone who is absent.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی دعا اتنی جلد قبول نہیں ہوتی ہے جتنی جلد غائب آدمی کے حق میں غائب آدمی کی دعا قبول ہوتی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- راوی افریقی حدیث کے سلسلے میں ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، ان کا نام عبدالرحمٰن بن زیاد بن انعم ہے۔
Jam e Tirmazi
2710
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ كَلَدَةَ بْنَ حَنْبَلٍ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ بَعَثَهُ بِلَبَنٍ وَلِبَإٍ وَضَغَابِيسَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَعْلَى الْوَادِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ وَلَمْ أُسَلِّمْ وَلَمْ أَسْتَأْذِنْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ارْجِعْ فَقُلِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ ؟ وَذَلِكَ بَعْدَ مَا أَسْلَمَ صَفْوَانُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَمْرٌو:‏‏‏‏ وَأَخْبَرَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ أُمَيَّةُ بْنُ صَفْوَانَ وَلَمْ يَقُلْ سَمِعْتُهُ مِنْ كَلَدَةَ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَاهُ أَبُو عَاصِمٍ أَيْضًا، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ مِثْلَ هَذَا،‏‏‏‏ وَضَغَابِيسُ هُوَ:‏‏‏‏ حَشِيشٌ يُوكَلُ.
Narrated 'Amr bin Abi Sufyan: that 'Amr bin 'Abdullah bin Safwan informed him, that Kaladah bin Hanbal had informed him, that Safwan bin Umayyah sent him to bring some milk, colostrum, and Daghabis (a type of herb) to the Prophet (ﷺ) while he was in the upper valley. (He said): I entered upon him without seeking permission nor giving Salam. The Prophet (ﷺ) said: 'Go back and say: As-Salamu Alaykum, may I enter?' And that was after Safwan had accepted Islam.
کلدہ بن حنبل رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ صفوان بن امیہ نے انہیں دودھ، پیوسی اور ککڑی کے ٹکڑے دے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور آپ اس وقت مکہ کے اونچائی والے حصہ میں تھے، میں آپ کے پاس اجازت لیے اور سلام کئے بغیر چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واپس باہر جاؤ، پھر کہو «السلام علیکم»،‏‏‏‏ کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟“ یہ اس وقت کی بات ہے جب صفوان اسلام لا چکے تھے۔ عمرو بن عبداللہ کہتے ہیں: یہ حدیث امیہ بن صفوان نے مجھ سے بیان کی ہے لیکن انہوں نے یہ نہیں کہا کہ یہ حدیث میں نے کلدہ سے سنی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اسے ہم صرف ابن جریج کی روایت ہی سے جانتے ہیں، ۳- ابوعاصم نے بھی ابن جریج سے اسی طرح روایت کی ہے۔
Jam e Tirmazi
2730
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مِنْ تَمَامِ التَّحِيَّةِ الْأَخْذُ بِالْيَدِ ،‏‏‏‏ وفي الباب عن الْبَرَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَلَمْ يَعُدَّهُ مَحْفُوظًا، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا أَرَادَ عِنْدِي حَدِيثَ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَيْثَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَمَّنْ،‏‏‏‏ سَمِعَ ابْنَ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ لَا سَمَرَ إِلَّا لِمُصَلٍّ أَوْ مُسَافِرٍ ،‏‏‏‏ قَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ وَإِنَّمَا يُرْوَى عَنْ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ،‏‏‏‏ أَوْ غَيْرِهِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ مِنْ تَمَامِ التَّحِيَّةِ الْأَخْذُ بِالْيَدِ .
Narrated Ibn Mas'ud: that the Prophet (ﷺ) said: taking hold of the hand is from the completeness of the greeting.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکمل سلام ( «السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ» کہنے کے ساتھ ساتھ ) ہاتھ کو ہاتھ میں لینا یعنی ( مصافحہ کرنا ) ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف یحییٰ بن سلیم کی روایت سے جسے وہ سفیان سے روایت کرتے ہیں جانتے ہیں، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اسے محفوظ شمار نہیں کیا، اور کہا کہ میرے نزدیک یحییٰ بن سلیم نے سفیان کی وہ روایت مراد لی ہے جسے انہوں نے منصور سے روایت کی ہے، اور منصور نے خیثمہ سے اور خیثمہ نے اس سے جس نے ابن مسعود رضی الله عنہ سے سنا ہے اور ابن مسعود نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ آپ نے فرمایا: ” ( بعد نماز عشاء ) بات چیت اور قصہ گوئی نہیں کرنی چاہیئے، سوائے اس شخص کے جس کو ( ابھی کچھ دیر بعد اٹھ کر تہجد کی ) نماز پڑھنی ہے یا سفر کرنا ہے، محمد کہتے ہیں: اور منصور سے مروی ہے انہوں نے ابواسحاق سے اور ابواسحاق نے عبدالرحمٰن بن یزید سے یا ان کے سوا کسی اور سے روایت کی ہے۔ وہ کہتے ہیں: سلام کی تکمیل سے مراد ہاتھ پکڑنا ( مصافحہ کرنا ) ہے، ۳- اس باب میں براء اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Sahih Muslim
1022
وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ح، قَالَ: وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ سُفْيَانَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُسَيِّبِ الْعَابِدِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: صَلَّى لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الصُّبْحَ بِمَكَّةَ فَاسْتَفْتَحَ سُورَةَ الْمُؤْمِنِينَ حَتَّى جَاءَ ذِكْرُ مُوسَى، وَهَارُونَ أَوْ ذِكْرُ عِيسَى - مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ يَشُكُّ - أَوِ اخْتَلَفُوا عَلَيْهِ أَخَذَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْلَةٌ فَرَكَعَ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ السَّائِبِ، حَاضِرٌ ذَلِكَ وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ فَحَذَفَ فَرَكَعَ وَفِي حَدِيثِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو وَلَمْ يَقُلِ ابْنَ الْعَاصِ
Abdullah b. Sa'id reported: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) led us in the morning prayer in Mecca and began Sarat al-Mu'minin (xxiii ) but when he came to the mention of Moses and Aaron (verse. 45) or to the mention of Jesus (verse 50), a cough got the better of him, and he bowed. 'Abdullah b. Sa'ib was present there, and in the hadith narrated by Abd al-Razzaq (the words are): He cut short (the recitation) and bowed.
حجاج بن محمد نے ابن جریج سے روایت کی ، نیز عبد الرزاق نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ابن جریج نے ہمیں بتایا ، کہا : میں نے محمد بن عباد بن جعفر سے سنا ، کہہ رہے تھے : مجھے ابو سلمہ بن سفیان ، عبد اللہ بن عمرو بن عاص اور عبد اللہ بن مسیب سے عابدی نے حضرت عبد اللہ بن سائب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی ، انہوں نے کہا : نبیﷺ نے ہمیں مکہ میں صبح کی نماز پڑھائی تو سورہ مومنون کی قراءت شروع کی حتیٰ کہ موسیٰ اور ہارون علیہ السلام کا ذکر آیا یا عیسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کا ذکر آیا ( محمد بن عبادہ کو شک ہے یا راویوں نے اس کے سامنے ( بیان کرتے ہوئے ) اختلاف کیا ہے ) ( اس وقت ) رسو ل اللہﷺ کو کھانسی آنے لگی تو آپ رکوع میں چلے گئے ۔ عبد اللہ بن سائب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ بھی اس نماز میں موجود تھے ۔ عبد الرزاق کی روایت میں ہے : آپ نے قراءت قطع کر دی اور رکوع میں چلے گئے ۔ اور ان کی حدیث میں ( راوی کا نام ) عبد اللہ بن عمرو ہے ، آگے ابن عاص نہیں کہا ۔
Sahih Muslim
2796
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ غَيْرُ شُعْبَةَ وَحْدَهُ
This hadith has been narrated on the authority of 'Amr b. Dinar with the same chain of transmitters, but none of them (the narrators) made a mention that he (the Holy Prophet) was delivering address at 'Arafat except Shu'ba.
ابن عینیہ ، ہشیم ، سفیان ثوری ، ابن جریج اور ایوب ( سختیانی ) ان تمام نے عمرو بن دینار سے مذکورہ سند کےساتھ روایت کی ، ان تمام میں سے اکیلے شعبہ کے علاوہ کسی نے یہ ذکر نہیں کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں خطبہ ارشادفرمارہے تھے ۔