TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4430 - باب: تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانا اور اسے رکھ چھوڑنا منع ہے۔ - The book of ad-dahaya (sacrifices) - Sunnan Nisai in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 3 in this chapter
باب: تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانا اور اسے رکھ چھوڑنا منع ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا عُبَيْدٍ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَاكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا لُحُومَ نُسُكِكُمْ فَوْقَ ثَلَاثٍ .
Ali bin Abi Talib Said: The Messenger of Allah has forbidden you from eating the meat of your sacrificaial animals for more than three day. (Sahih )
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں منع فرمایا ہے کہ تم تین دن سے زیادہ اپنی قربانی کا گوشت کھاؤ۔
4430
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 4425 In-book reference : Book 43, Hadith 65 English translation : Vol. 5, Book 43, Hadith 4430
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4425
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ

Related Chapters

327
1
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Eat From The Sacrificial Meat Beyond Three Days.
باب: تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About The Permission To Eat From It Beyond Three Days
باب: تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھ کر کھانے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
3
(5) CHAPTER. The statement of Allah: … And whosoever of you is ill or has an ailment in his scalp, (necessitating shaving), he must pay a Fidya (ransom), of either observing Saum (fasts) (three days), or giving Sadaqa (charity - feeding six poor persons), or offer sacrifice (one sheep) ...” (V.2:196)
اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اگر تم میں کوئی بیمار ہو یا اس کے سر میں ( جوؤں کی ) کوئی تکلیف ہو تو اسے روزے یا صدقے یا قربانی کا فدیہ دینا چاہئے یعنی اسے اختیار ہے اور اگر روزہ رکھنا چاہے تو تین دن روزہ رکھے
Sahih Bukhari
4
Chapter: The Obligation For the Pilgrim who is performing Tamattu' to offer a sacrifice; If he has no animal to sacrifice, he must fast for three days during Hajj and seven days when he goes back to his family
حج تمتع کرنے والے پر قربانی واجب ہے ‘اگروہ قربانی نہ کر سکے تو اس پر تین روزے حج کے ایام میں اور سات روزے گھر لوٹنے کے بعد رکھنے فرض ہیں
Sahih Muslim
5
Chapter: The prohibition of eating sacrificial meat for more than three days, which applied at the beginning of Islam but was then abrogated, and now it is permissible to eat it as long as one wants.
ابتدا ئے اسلام میں تین دن کے بعد قربانی کا گو شت کھانے کی ممانعت تھی پھر اسے منسوخ کر کے جب تک چا ہے اس کو کھا نا جا ئز کر دیا گیا
Sahih Muslim
6
تین دنوں سے زیادہ قربانیوں کا گوشت کھانے سے ممانعت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
7
تین ایام سے زائد تک قربانی کا گوشت کھانے کی ممانعت کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
8
(18) CHAPTER. To seize and catch flesh with the teeth (to strip the bone of its flesh) (while eating).
گوشت کے پکنے سے پہلے اسے ہانڈی سے نکال کر کھانا اور منہ سے نوچنا ۔
Sahih Bukhari
9
(27) CHAPTER. What our predecessors used to store of food, meat, etc., in their houses and carry with them while on a journey.
سلف صالحین اپنے گھروں میں اور سفروں میں جس طرح کا کھانا میسر ہوتا اور گوشت وغیرہ محفوظ رکھ لیا کرتے تھے ۔
Sahih Bukhari
10
(16) CHAPTER. What may be eaten of the meat of sacrifices and what may be taken as journey food.
قربانی کا کتنا گوشت کھایا جائے اورکتناجمع کر کے رکھا جائے ۔
Sahih Bukhari
11
Chapter: It is recommended to lick one's fingers and wipe the bowl, and to eat a piece of food that is dropped after removing any dirt on it. It is disliked to wipe one's hand before licking it, because of the possibility that the blessing of the food may be in that remaining part. The Sunnah is to eat with three fingers
انگلیاں اور کھانے کا برتن چاٹنے اور نیچے گرجانے والے لقمے کو جو ناپسند چیز لگی ہے،اسے صاف کرکے کھالینے کااستحباب اور اس کو چاٹنے سے پہلے ،کہ برکت اسی میں ہوسکتی ہے،ہاتھ پونچھنا مکروہ ہے اور سنت تین انگلیوں سے کھانا ہے
Sahih Muslim
12
CHAPTER: Storing The Meat Of The Sacrifice.
باب: قربانی کے گوشت کو رکھ چھوڑنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
13
CHAPTER: Regarding The Prohibition Of The Animals Being Confined (To Be Shot At), And, Being Gentle With Animal To Be Slaughtered.
باب: جانوروں کو بغیر کھانا پانی دئیے باندھ رکھنے کی ممانعت اور قربانی کے جانور کے ساتھ نرمی اور شفقت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
14
باب: قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے کی اجازت کا بیان۔
Sunnan Nisai
15
(55)Chapter: What Has Been Related About The Urine Of That Whose Meat Is Eaten
باب: جس جانور کا گوشت کھانا حلال ہو اس کے پیشاب کا حکم
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has been Related About Slaughtering After The Salat
باب: نماز عید کے بعد قربانی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About: Food For One is Sufficient For Two
باب: ایک آدمی کا کھانا تین آدمی کے لیے کافی ہوتا ہے
Jam e Tirmazi
18
حج تمتع کرنے والے کو سعی اور بال منڈوانے یا کٹوانے کے بعد احرام کھول دینے کا حکم دینے کا بیان، الّا یہ کہ وہ قربانی لے کر آیا ہو
Musnad Ahmad
19
ان امور کا بیان کہ قربانی کا ارادہ رکھنے والے ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں جن سے اجتناب کرے گا، نیز اس چیز کا بیان جو فقیر کے لیے قربانی کے قائم مقام ہوتی ہے
Musnad Ahmad
20
میت کی وصیت کی بناء پر اس کی طرف سے قربانی کرنا اور قربانی کا گوشت اچکنے کی اجازت دینے والوں کا اور اچک لینے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
21
کھڑے ہو کر اور ٹیک لگا کرکھانا کھانے کے مکروہ ہونے کا حکم
Musnad Ahmad
22
(7) CHAPTER. The performance of Umra after performing Hajj without having a Hady.
حج کے بعد عمرہ کرنا اور قربانی نہ دینا
Sahih Bukhari
23
(22) CHAPTER. The taking of an oath after the Asr prayer.
عصر کی نماز کے بعد ( جھوٹی ) قسم کھانا اور زیادہ گناہ ہے
Sahih Bukhari
24
(14) CHAPTER. (What is said regarding) roasted (meat).
بھنا ہوا گوشت کھانا اور اللہ تعالیٰ کا فرمان پھر وہ بھنا ہوا بچھڑا لے کر آئے لفظ حنیذ کے معنی بھنا ہوا ہے ۔
Sahih Bukhari
25
(19) CHAPTER. To eat the flesh of a foreleg (by stripping the bone of its meat with the teeth).
بازو کا گوشت نوچ کر کھانا درست ہے ۔
Sahih Bukhari
26
(20) CHAPTER. To cut the meat with a knife.
گوشت چھری سے کاٹ کر کھانا ۔
Sahih Bukhari
27
(51) CHAPTER. To rinse the mouth after taking meals.
کھانا کھانے کے بعد کلی کرنے کا بیان ۔
Sahih Bukhari
28
(54) CHAPTER. What one should say after finishing one's meal.
کھانا کھانے کے بعد کیا دعاپڑھنی چاہیئے ؟
Sahih Bukhari
29
(28) CHAPTER. (It is unlawful to eat) the meat of donkeys.
پالتو گدھوں کا گوشت کھانا منع ہے ۔
Sahih Bukhari
30
(4) CHAPTER. Meat is desired on the day of Nahr.
قربانی کے دن گوشت کی خواہش کرنا جائز ہے ۔
Sahih Bukhari
31
(8) CHAPTER. The statement of the Prophet to Abu Burda: “Slaughter a kid as a sacrifice (of Eid-ul-Adha), but it will not be sufficient for anybody else after you.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ابوبردہ رضیاللہعنہ کے لیے کہ بکری کے ایک سال سے کمعمر کے بچے ہی کی قربانی کر لے لیکن تمہارے بعد اس کی قربانی کسی اور کے لیے جائز نہیں ہو گی ۔
Sahih Bukhari
32
(11) CHAPTER. To slaughter the sacrifice after the (Eid) Salat (prayer).
قربانی کا جانور نماز عیدالاضحی کے بعد ذبح کرنا چاہیئے ۔
Sahih Bukhari
33
(12) CHAPTER. Whoever slaughters his sacrifice before the Eid prayer should repeat it (slaughter another sacrifice).
اس کے متعلق جس نے نماز سے پہلے قربانی کی اور پھر اسے لوٹایا ۔
Sahih Bukhari
34
Chapter: It is permissible to fast or not to fast during Ramadan for one who is travelling for no sinful purpose, if his journey is two stages or further. But it is better for the one who is able to fast without suffering any harm to do so, and the one for whom it is difficult may break the fast
اگر سفر گناہ کے لیے نہیں تو رمضان میں مسافر کے لیے جبکہ اس کا سفر دو یادو سے زائد منزلوں کا ہے روزہ رکھنا اور روزہ چھوڑنا دونوں جائز ہیں اور جو آدمی نقصان اٹھائے بغیر روزہ رکھ سکتا ہے ‘
Sahih Muslim
35
Chapter: The Saying of Allah Most High: ... And as for those who can fast with difficulty, they have) a choice either to fast or) to feed a Miskin (poor person) (for every day) is Abrogated by His saying: ... So whoever of you sights (the crescent on the first night of) the month (of Ramadan i.e. is present at his home), he must observe Sawm (fasts) that month ...
اللہ تعالیٰ کا فرمان :’’اور ان لوگوں پرجو اس کی طاقت رکھتے ہیں‘فدیہ ‘ایک مسکین کا کھانا ہے ‘‘اس کے فرمان :’’اور تم میں سے جو کوئی اس مہینے کو پالے وہ اس کے روزے رکھے ‘‘کی بنا پر منسوخ ہو گیا
Sahih Muslim
36
Chapter: It is recommended to pray Subh when it is still dark on the day of sacrifice in Al-Muzdalifah, and to do it very early after ascertaining that dawn has broken
قربانی کے دن مزدلفہ میں صبح کی نماز خوب اندھیرے میں پڑھنا اور طلوع فجر کا یقین ہونے کے بعد اس (کی جلدی )میں مبالغہ کرنا مستحب ہے
Sahih Muslim
37
Chapter: Giving the meat, skin and blankets of the Hadi in charity; the butcher should not be given any of it; It is permissible to delegate someone else to offer the sacrifice
قربانی کے لیے لائے گئے جانوروں کا گوشت ‘ان کی کھالیں اور جھولیں (اوپر ڈالے گئے کپڑے )وغیرہ صدقہ کرنے چاہییں ‘ان میں سے کچھ بھی قصاب کو (بطور اجرت )نہیں دیا جا سکتا ‘اور ان کی نگرانی کےلیے کسی کو نائب بنانا جائز ہے
Sahih Muslim
38
Chapter: When the first ten days of Dhul-Hijjah begin, it is forbidden for the one who wants to offer a sacrifice to remove anything from his hair, nails or skin
جب ذوالحجہ کا(پہلا) عشرہ شروع ہوجائے تو جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے،اس کے لیے بال اور ناخن کٹوانے کی ممانعت
Sahih Muslim
39
Chapter: It is permissible to eat soup, and it is recommended to eat squash, And for the people eating together to show preference to one another even if they are guests, so long as the host does not object to that
شوربہ کھانا جا ئز ہے کدو کھا نا مستحب ہے دسترخوان پر بیٹھےلو گ چاہےمہمان ہوں ایک دوسرے کے لیے ایثار کریں بشرطیکہ کھا نے (پر بلانے ) والااسے ناپسند نہ کرے
Sahih Muslim
40
Chapter: It is recommended to take the stones out of dates, and it is recommended for the guest to pray for the host and to ask a righteous guest to supplicate, and he should respond to that request
کھجور کھا تے وقت گٹھلیاں علیحدہ رکھنا مہمان کا کھانا کھلا نے والوں کے لیے دعا کرنا نیک مہمان سے دعا کی درخواست کرنا اور اس (مہمان) کی طرف سے اس درخواست کو قبول کرنا مستحب ہے
Sahih Muslim
41
Chapter: The virtue of sharing a small amount of food, and the food of two is sufficient for three, and so on.
کم کھانے میں بھی مہمان نوازی کرنا،دو آدمیوں کا کھانا تین کو کافی ہوجاتاہے۔اور اسی طرح (تین کا چار کو اور آگے)
Sahih Muslim
42
CHAPTER: The Meat Of Game For The Muhrim.
باب: محرم کے لیے شکار کا گوشت کھانا کیسا ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
43
CHAPTER: The prohibition of eating al Jallalah and its milk.
باب: گندگی کھانے والے جانور کے گوشت کو کھانا اور اس کے دودھ کو پینا منع ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
44
CHAPTER: Regarding eating the meat of domestic donkeys.
باب: گھریلو گدھے کا گوشت کھانا حرام ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
45
قربانی کا ارادہ رکھنے والا شخص ذی الحجہ کے پہلے عشرے میں اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔
Sunnan Ibn e Maja
46
قربانی کا گوشت کھانے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
47
قربانی کا گوشت ذخیرہ کرنے کی اجازت
Sunnan Ibn e Maja
48
جلالہ (گندگی کھانے والے جانور) کا گوشت کھانا منع ہے
Sunnan Ibn e Maja
49
خادم کھانا لے کر آئے تو اس میں سے کچھ اسے بھی دینے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
50
باب: آیت کریمہ: ”جو لوگ روزہ کی طاقت رکھتے ہوں (اور وہ روزہ نہ رکھنا چاہیں) تو ان کا فدیہ یہ ہے کہ کسی مسکین کو دو وقت کا کھانا کھلائیں“ کی تفسیر۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

353
Sunnan Nisai
2960
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا بَكْرٍ بَعَثَهُ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي أَمَّرَهُ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فِي رَهْطٍ يُؤَذِّنُ فِي النَّاسِ:‏‏‏‏ أَلَا لَا يَحُجَّنَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ .
Abu Hurairah narrated that: Abu Bakr sent him, during the Hajj that the Messenger of Allah appointed him to lead before the Farewell Pilgrimage, with a group of other to announce to the people: No idolater is to perform Hajj after this year, and no one is to circumambulate the House naked.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں اس حج میں جس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حجۃ الوداع سے پہلے امیر بنایا تھا، اس جماعت میں شامل کر کے بھیجا جو لوگوں میں اعلان کر رہی تھی: لوگو! سن لو! اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کر سکے گا اور نہ کوئی ننگا ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کرے گا۔
Sunnan Nisai
1232
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ بَلَغَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ،‏‏‏‏ فَقَالَ لَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ نَحْوَهُ،‏‏‏‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي هَذَا الْخَبَرَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ وَأَخْبَرَنِيهِ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،‏‏‏‏ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ،‏‏‏‏ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ.
Abu Bakr bin Sulaiman bin Abi Hathmah narrated that: It was conveyed to him that the Messenger of Allah (ﷺ) prayed two rak'ahs, and Dhul-Shimalain said something similar to him. (One of the narrators Ibn Shihab said: Sa'eed bin Al-Musayyab informed me of this hadith from Abu Hurairah. He said: And Abu Salamah bin 'Abdur Rahman, Abu Bakr bin 'Abdur Rahman, abu Bakr bin 'Abdur Rahman bin Al-Harith and 'Ubaidullah bin 'Abdullah informed me.
ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے روایت ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت پڑھائی، تو ذوالشمالین نے آپ سے عرض کیا، آگے حدیث اسی طرح ہے۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے یہ خبر سعید بن مسیب نے ابوہریرہ کے واسطہ سے دی ہے، وہ  ( زہری )  کہتے ہیں: نیز مجھے اس کی خبر ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث اور عبیدالرحمن بن عبداللہ نے بھی دی ہے۔
Sunnan Nisai
1394
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا أَمَرَ بِالتَّأْذِينِ الثَّالِثِ عُثْمَانُ حِينَ كَثُرَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَكُنْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ مُؤَذِّنٍ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ التَّأْذِينُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ حِينَ يَجْلِسُ الْإِمَامُ .
As-Sa'ib bin Yazid said: The third adhan was ordered by 'Uthman when the number of people in Al-Madinah increased. The Messenger of Allah (ﷺ) only had one adhan, and the adhan on Friday was when the imam sat down.
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تو تیسری اذان کا حکم عثمان رضی اللہ عنہ نے دیا تھا جب اہل مدینہ زیادہ ہو گئے تھے، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صرف ایک ہی مؤذن تھا، اور جمعہ کے دن اذان اس وقت ہوتی تھی جب امام  ( منبر پر )  بیٹھ جاتا تھا۔
Sunnan Nisai
1880
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ،‏‏‏‏ وَابْنُ الْمُسَيَّبِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُمَا، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ نَعَى لَهُمَا النَّجَاشِيَّ صَاحِبَ الْحَبَشَةِ الْيَوْمَ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَقَالَ:‏‏‏‏ اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ .
Abu Salamah and Ibn Al-Musayyab narrated that Abu Hurairah told them, that: the Messenger of Allah had told them of the death of An-Najashi, the ruler of Ethiopia, on the day that he died, and he said: Pray for forgiveness for your brother.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حبشہ کے بادشاہ نجاشی کی موت کی خبر اسی دن دی جس دن وہ مرے، اور فرمایا: اپنے بھائی کے لیے مغفرت کی دعا کرو ۔
Sunnan Nisai
2044
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ الْمُسَيَّبِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُمَا، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى لَهُمُ النَّجَاشِيَّ صَاحِبَ الْحَبَشَةِ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ .
It was narrated that Abu Hurairah: Said that the Messenger of Allah announced the death of An-Najashi, the ruler of Ethiopia, to them on the day that he died, and said Pray for forgiveness for your brother.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں شاہ حبشہ نجاشی کی موت کی خبر اسی دن دی جس دن وہ مرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے بھائی کے لیے مغفرت طلب کرو“۔
Sunnan Nisai
2199
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ .
It was narrated from Ibn Shahab that Abu Salamah told him that Abu Hurairah said: The Messenger of Allah said: 'Whoever spends the nights of Ramadan in prayer (Qiyam) out of faith and in the hope of reward, he will be forgiven his previous sins. '
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام اللیل کیا یعنی تہجد پڑھی اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔
Sunnan Nisai
2585
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ أَخْبَرَهُ،‏‏‏‏ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَأَنْ يَحْتَزِمَ أَحَدُكُمْ حُزْمَةَ حَطَبٍ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهَا، ‏‏‏‏‏‏خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ رَجُلًا فَيُعْطِيَهُ أَوْ يَمْنَعَهُ .
Abu Hurairah said: The Messenger of Allah said: 'if one of you were to carry a bundle of firewood on his back and sell it, that would be better than asking a man who may or may not give him something. '
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم میں سے کوئی لکڑیوں کا ایک گٹھا اپنی پیٹھ پر لاد کر لائے، پھر اسے بیچے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی آدمی سے مانگے، تو اسے دے یا نہ دے“۔
Sunnan Nisai
3779
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَيُّمَا رَجُلٍ أَعْمَرَ رَجُلًا عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ قَالَ قَدْ أَعْطَيْتُكَهَا وَعَقِبَكَ مَا بَقِيَ مِنْكُمْ أَحَدٌ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهَا لِمَنْ أُعْطِيَهَا وَإِنَّهَا لَا تَرْجِعُ إِلَى صَاحِبِهَا مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ أَعْطَاهَا عَطَاءً وَقَعَتْ فِيهِ الْمَوَارِيثُ .
Salih narrated from Ibn Shihab, that Abu Salamah informed him from Jabir, that the Messenger of Allah said: Any man who gives a lifelong gift to another man, it belongs to him (the recipient) and his descendants. He said: 'I have given it to you and to your descendants so long as any of you are still alive.' So it belongs to the one to whom it was given, and it cannot revert to the first owner, since he has given it as a gift, and as such, it becomes subject to the same ruling as the estate.
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی شخص اور اس کی اولاد کو عمریٰ کیا اور کہا کہ میں نے اسے تم کو اور تمہاری اولاد کو دے دیا ہے جب تک کہ کوئی بھی ان میں سے زندہ رہے، تو وہ چیز اسی کی ہو جائے گی جسے وہ چیز دی گئی ہے، اب وہ چیز دینے والے کو واپس نہیں ہو سکتی، اس لیے کہ اس نے اسے دیا ہی اس انداز سے ہے کہ اس میں میراث نافذ ہو گی“۔
Sunnan Nisai
4322
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ وَهِيَ خَالَتُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُدِّمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمُ ضَبٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْكُلُ شَيْئًا حَتَّى يَعْلَمَ مَا هُوَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ:‏‏‏‏ أَلَا تُخْبِرْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَأْكُلُ ؟، ‏‏‏‏‏‏فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ،‏‏‏‏ فَتَرَكَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ خَالِدٌ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَحَرَامٌ هُوَ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنَّهُ طَعَامٌ لَيْسَ فِي أَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ . قَالَ خَالِدٌ:‏‏‏‏ فَاجْتَرَرْتُهُ إِلَيَّ،‏‏‏‏ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ. وَحَدَّثَهُ ابْنُ الْأَصَمِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَيْمُونَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ فِي حِجْرِهَا.
It was narrated from Ibn ' Abbas that: Khalid bin Al-Walid said that he entered upon Maimunah bint Al-Harith, who was his maternal aunt, with the Messenger of Allah, and some meat of a mastigure was offered to the Messenger of Allah The Messenger of Allah would not eat anything until he knew what it was. One of the women said: Why don't you tell the Messenger of Allah what he is eating? So she told him that it was the meat of a mastigure, and he stopped eating. Khalid said: I asked the Messenger of Allah 'Is it Haram?' He said: No but it is a food that is no9t known in the land of my people, and I find it distasteful. Khalid said: I pulled it over toward myself and ate it, and the Messenger of Allah was watching me. And Ibn Al-Asamm narrated it from Maimunah, and he was in her apartment.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہیں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ۱؎ نے بتایا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ( یہ ان کی خالہ تھیں ) ۲؎، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ضب کا گوشت پیش کیا گیا، آپ کا معمول تھا کہ آپ کوئی چیز نہ کھاتے جب تک معلوم نہ ہو جائے کہ وہ کیا ہے، تو امہات المؤمنین رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے کہا: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں بتاؤ گی کہ آپ کیا کھا رہے ہیں؟ تو انہوں نے آپ کو بتایا کہ یہ ضب کا گوشت ہے، چنانچہ آپ نے اسے چھوڑ دیا، خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا وہ حرام ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، لیکن وہ ایسا کھانا ہے جو میری قوم کی زمین میں نہیں ہوتا، اس لیے مجھے اس سے گھن آ رہی ہے“۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں نے اسے اپنی طرف کھینچا اور اسے کھایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے۔ اس حدیث کو ابن الاصم نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، ابن الاصم آپ کی گود میں پلے تھے۔